Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1870

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحمٰنِ بْنِ مُحِمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمّرُو بْنُ عَبْدِ اللّٰۃِ الْاِ وّ دِ یُّ، حَدَّثَنَا اَبُوْ اُسامَۃَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمَیْدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا حُمَیْدٍ السَّاعِدِ یَّ، یَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ اسْتَقْبَلَ، وَرَفَعَ یَدَیْہَ حَتّٰی یُحَاذِیَ بَھِمَا مَنکِبَیہِ، ثُمَ قَالَ: اللہُ اَکْبَرُ، وَاِذَا رَکَعَ کَبَّرَ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حِیْنَ رَکَعَ، ثُمَّ عَدَلَ صُلْبَہٗ، وَلَمْ یُصَوِّبْ رَاْسَہٗ وَلَمْ یُقَنّعْہُ، ثُمَّ قَالَ:سَمِعَ اللّٰہْ لِمَنْ حَمِدَہٗ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذَیَ بِھِمَا مَنْکِبَیْہِ، ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتّٰی رَجَعَ کُلُّ عَظْمٍ اِلٰی مَوْضِعَہ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ ھویٰ اِلَی الْاَرْضِ، فَقَالَ:اللّٰہُ اَکْبَرُ، وَسَجَدَ وَجَافٰی عَضْدَیْہِ عَنْ جَنْبَیْہِ، وَاسْتَقْبَلَ بَاَطْرَافِ اَصَابِعِ رِجْلَیْہِ الْقِبْلَۃَ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہٗ، وَقَالَ:اللّٰہُ اَکْبَرُ، وَثَنٰی رِجْلَہُ الْیُسْریٰ وَقَعَدَ عَلَیْھا، وَاعْتَدَلَ حَتّٰی رَجَعَ کُلُّ عَظْمٍ اِلٰی مَوْضِعَہ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ قَالَ:اللّٰہُ اَکْبَرُ، ثُمَّ عَادَ فَسَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہٗ وَقَالَ:اللّٰہُ اَکْبَرُ، ثُمَّ ثَنّٰی رِجْلَہُ الْیُسْریٰ ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَیْھَا حَتّٰی رَجَعَ کُلُّ عَظْمٍ اِلٰی مَوْضِعِہ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ فَی الْاُخْریٰ مِثْلَ ذٰلِکَ، حَتّٰی اِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ، کَبَّرَ وَصَنَعَ کَمَا صَنَعَ فَیْ ابْتِدَاءِ الصَّلَاۃِ، حَتّٰی اِذَا کَانَتِ السَّجْدَۃُ الَّتَیْ تَکُنْونُ خَاتِمَۃَ الصَّلَاۃِ، رَفَعَ راْسَہٗ مِنْھُمَا، وَاَخَّرَ رِجْلَہٗ، وَقَعَدَ مُتَوَرِّکًا عَلٰی ر،جْلِہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوحمید ساعدی ؓ کویہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم ﷺ جب نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے،تو آ پ قبلہ کی طرف رُخ کرتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے، پھر آپ اللہ اکبر کہتے تھے ۔ جب آپ رکوع میں جاتے ،تو تکبیر کہتے تھے جب آپ رکوع میں جاتے تھے ، تو رفع یدین کرتے تھے ، پھر آپ اپنی پشت کو سیدھا کرلیتے تھے۔ آپ اپنے سر کو اٹھاتے بھی نہیں تھے اور جھکاتے بھی نہیں تھے ، پھر آپ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حمِدَہٗ کہتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے انہیں کندھوں کے برابر تک لے آتے تھے ، پھر آپ سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں آجاتی تھی ، پھر آپ زمین کی طرف جھکتے تھے اور اللہ اکبر کہتے تھے جب آپ سجدے میں جاتے تھے ، تو اپنے دونوں بازو پہلو سے الگ رکھتے تھے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے کناروں کا رُخ قبلہ کی طرف رکھتے تھے ، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے ۔ اور اللہ اکبر کہتے تھے۔ آپ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا کر اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے ، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں آجاتی تھی ، پھر آپ اللہ اکبر کہتے ہوئے دوبارہ سجدے میں چلے جاتے تھے ، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے اور اللہ اکبر کہتے تھے، پھر ٹانگ کو بچھادیتے تھے اور اس پر تشریف فرماہوجاتے تھے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر آجاتی تھی ، پھر آپ کھڑے ہوتے تھے اور دوسری (رکعت) میں بھی اسی طرح کرتے تھے ، یہاں تک کہ جب آپ دورکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے ، تو تکبیر کہنے کے بعد اسی طرح کرتے تھے جس طرح آپ نے نماز کے آغاز میں کیا تھا (یعنی رفع یدین کرتے تھے ) یہاں تک کہ جب وہ سجدہ آتا جس پر نماز ختم ہورہی ہوتی (یعنی آخری سجدہ آتا) تو آپ دوسجدوں کے بعد اپنے سر کو اٹھاتے تھے اور اپنی ٹانگ کو پیچھے کرکے اپنی ٹانگ پر تورک کے طور بیٹھ جاتے تھے

اَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِ يَّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَمّرُو بْنُ عَبْدِ اللّٰۃِ الْاِ وّ دِ یُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Hadith 1870

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1871

اَخْبَرَبَا اَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْعَامِرٍ الْعَقَدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَیْحُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عَبَّا سُ بْنُ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیُّ، قَالَ: اجْتَمَعَ اَبُوْ حُمَیْدٍ السَّاعِدِیُّ، وَاَبُوْ اُسَیْدٍ السَّاعِدِیُّ، وَسَھْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ، فَذَکَرُوْا صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّہِ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ اَبُوْ حُمَیْدٍ: اَنَا اَعْلَمُکُمْ بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّہِ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَامَ فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ، ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حِیْنَ کَبَّرَلِلرُّکُوْعِ، فَوَضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ کَالْقَابِضِ عَلَیْھِمَا فَوَتَرَ یَدَیْہِ فَنَحَّاھُمَا عَنْ جَنْبَیْہِ، وَلَمْ یُصَوِّبْ رَاْسَہٗ وَلَمْ یُقَنِّعْہُ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ فَاسْتَوٰی حَتّٰی رَجَعَ کُلُّ عُضْوٍ اِلٰی مَوْضِعِہِ، ثُمَّ سَجَدَ اَمْکَنَ اَنْفَہُ وَجَبْھَتَہُ، وَنَحَّی یَدَیْہِ عَنْ جَنْبَیْہِ، وَوَضَعَ کَفَّیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ، ثُمَّ رَفَعَ رَاسَہٗ حَتّٰی رَجَعَ کُلُّ عُضْوٍ فِیْ موْضِعِہِ حَتّٰی فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الیُسْرٰی وَاَقْبَلَ بِصَدْرِ الْیُمْنٰی عَلٰی قِبْلَتِہِ، وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُمْنٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُمْنَی، رَکَفَّہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فُکْبَتِہِ الْیُسْرٰی، وَاَشَارَ بِاُصْبُعِہِ السَّبَّابَۃِ

عباس بن سہل ساعدی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت ابو حمید ساعدیؓ حضرت ابواسیدساعدیؓ حضرت سہل بن سعد ساعدیؓ اور حضرت محمد بن مسلمہؓ اکٹھے ہوئے۔ ان حضرات نے نبی اکرمﷺ کی نماز کا تذکرہ کیا،تو حضرت ابو حمید ساعدیؓ نے فرمایا: نبی اکرمﷺ کی نماز کے بارے میں، میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں(پھر انہوں نے بیان کیا) نبی اکرمﷺ جب کھڑے ہوتے تھے، تو آپ تکبیر کہتے ہوئے رفع یدین کرتے تھے جب آپ رکوع میں جانے کے لئے تکبیر کہتے تھے، پھر رفع یدین کرتے تھے،پھر آپ رکوع میں چلے جاتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر یوں رکھ لیتے تھے جس طرح انہیں پکڑے ہوئے ہیں۔ آپ اپنے دونوں بازو سیدھے رکھتے تھے اور انہیں پہلو سے الگ رکھتے تھے۔ آپ اپنےسر کو اٹھا کر بھی نہیں رکھتے تھے اور جھکا کر بھی نہیں رکھتے تھے۔ پھر آپ کھڑے ہو جاتے اور رفع یدین کرتے، یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور آپ کا ہر ایک عضو اپنی مخصوص جگہ پر آجاتا پھر آپ سجدے میں جاتے تو اپنی ناک اور پیشانی کو جما کر رکھتے۔ آپ اپنے دونوں بازو اپنے پہلو سے الگ رکھتے تھے۔ آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے کندھوں کے برابر رکھتے تھے، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے یہاں تک کہ ہر عضو اپنی مخصوص جگہ پر آجاتا، یہاں تک کہ جب آپ ( نماز کی رکعات ادا کر کے ) فارغ ہوتے تو آپ تشریف فرما ہوتے آپ اپنی بائیں ٹانگ بچھا لیتے تھے۔ آپ اپنے دائیں ( پاؤں کی انگلیوں) کو قبلہ کی طرف رکھتے تھے۔ آپ اپنی دائیں ہتھیلی کو دائیں زانو پر رکھتے تھے اور بائیں ہتھیلی کو بائیں زانو پر رکھتے تھے اور اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے۔

أعلمكم بصلاة رسول الله ← أَبُو حُمَيْدٍ: ← مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ، فَذَکَرُوْا صَلَاۃَ رَسُوْلِ اللّہِ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← اَبُوْ اُسَیْدٍ السَّاعِدِیُّ، ← اجْتَمَعَ اَبُوْ حُمَیْدٍ السَّاعِدِیُّ، ← عَبَّا سُ بْنُ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیُّ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أبوعامرٍ العقديُّ: ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← اَخْبَرَبَا اَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ،

Hadith 1871

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1872

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ، قَالَ: حَدَثَنَا مُسَسَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، عَنْ اِسْماَعِیْلَ بْنِ عِلِیْہِ، عَنْ اَیُّوْبَ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُعَیْرِثِ، قَالَ: اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّہِ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَۃُ مُتَقَارِبُوْنَ، فَاَقَمْنَا عِنْدَہُ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً فَظَنَّ اَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا اَھْلِیْنَا، سَاَلْنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا مِنْ اَھْلِیْنَا، فَاَخْبَرْنَاہُ، وَکَانَ رَسُوْلَ اللّہِ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَحِیْمًا رَفِیْقًا، فَقَالَ: ارْجِعُوْا اِلٰی اَھْلِیْکُمْ، فَعَلِّمُوْھُمْ، وَمُرُوْھُم، وَصَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُنُوْنِیْ اُصَلِّیْ، فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ، فَلْیُئَوذِّنْ اَحَدُکُمْ، وَلْیَئُومَّکُمْ اَکْبَرُکُمْ۔

حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نوجوان ہم عمر لوگ تھے۔ ہم نے آپ کے ہاں بیس دن قیام کیا جب آپ کو یہ اندازہ ہوا، ہمیں اپنے اہل خانہ ( سے دور رہنے میں) دشواری ہو رہی ہے، تو آپ نے ہم سے دریافت کیا: ہم نے اپنے اہل خانہ کے لئے کیا چھوڑا ہے۔ ہم نے آپ کو اس بارے میں بتایا: نبی اکرمﷺ بڑے مہربان اور نرم دل تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھر والوں کی طرف واپس چلے جاؤ تم انہیں تعلیم دو تم انہیں حکم دو اور اس طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جو شخص تم میں سے عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔

وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ رَحِيمًا رَفِيقًا1 ← قَدِ اشْتَقْنَا اَھْلِیْنَا، سَاَلْنَا عَمَّنْ تَرَکْنَا مِنْ اَھْلِیْنَا، ← أَتَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً فَظَنَّ ← مَالِکِ بْنِ الْحُعَیْرِثِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَسَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 1872

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1873

اَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالَحٍ، بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ، عِنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ: اَنَّہٗ رَاَی مَالِکَ بْسنَ الْحُوَیْرِثِ: اِذَا صَلّٰی کَبَّرَ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ، وَاِذَا اَرَادَ اَنْ یَّرکَعَ رَفَعَ یَدَیْہِ، وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ مِنَالرُّکُوْعِ، رَفَعَ یَدَیْہِ، وَحَدَتَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّہِ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَفْعَلُ ھٰکَذَا

ابو قلابہ بیان کرتے ہیں:انہوں نے حضرت مالک بن حویرثؓ کو دیکھا، جب انہوں نےنماز ادا کی توتکبیرکہی اور رفع یدین کیا جب انہوں نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا،تو رفع یدین کیا۔ جب رکوع سے سر اٹھایا،تو رفع یدین کیا۔ انہوں نے یہ بات بیان کی نبی اکرمﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔

خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ،

Hadith 1873

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1874

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنِ الْاَسْوَدِ، قَالَ دَخَلْتُ اَنَا وَعَلْقَمَۃُ عَلٰی ابْنِ مَسْعُوْدٍ، فَقَالَ لَنَا : اَصَلّٰی ھٰؤُلَا ِٔ؟ فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: فَقُوْمُوْافَصَلُّوا، فَذَھَبْنَا لِنَقُوْمَ خَلْفَہٗ، فَجَعَلَ اَحَدَنَا عَنْ یَّمِیْنِہٖ، وَالْاٰخَرَ عَنْ شِمَالِہِ، فَصَلّٰی بِغَیْرِ اَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ، فَجَعَلَ اِذَا رَکَعَ شَبَّکَ بَیْنَ اَصَابِعِہٖ فِی الصَّلَاۃِ، فَجَعَلَھَا بَیْنَ رُکْبَتَیْہِ، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ھٰکَذَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّہِ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی، وَقَالَ: یَا اَیُّھَا النَّاسُ، اِنَّھَا سَتکُوْنُ عَلَیْکُمْ اُمَرَا ُٔ یُمِیْتُونَ الصَّلَاۃَ یَخْنُقُوْنَھَا اِلٰی شَرَقِ الْمَوْتَی، فَمَنْ اَدْرَکَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ، فَلْیُصَلِّ الصَّلَاۃَ لِوَقْتِھَا، وَلْیَجْعَلْ صَلَاتَہٗ مَعَھُمْ سُبْحَۃً

اسود بیان کرتے ہیں:میں اور علقمہ حضرت عبدللہ بن مسعودؓ کی خدمات میں حاضر ہوئے۔ انہوں نےہم سے دریافت کیا:کیا ان لوگوں نے نماز ادا کرلی ہے۔ ہم نے جواب دیا: جی نہیں،تو انہوں نے فرمایا: تم لوگ کھڑے ہوکر نماز ادا کرو ہم اٹھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے،تو انہوں نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے دا ئیں طرف کھڑا کرلیا اور دوسرے کو با ئیں طرف کھڑا کرلیا۔ پھر انہوں نے اذان دیٔے بغیر اور اقامت کہے بغیرنماز اداکی۔ نماز کے دوران جب وہ رکوع میں گئے، تو انہوں نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں اور انہیں دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا جب انہوں نے نماز ادا کرلی،تو یہ بات بیان کی۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔آپ نے ارشاد فرمایا تھا: "اے لوگو! عنقریب تم پر ایسےحکمران مسلّط ہوں گے،جو نماز کو فوت کردیں گے وہ اس کا گلا یوں گھونٹیں گے جس طرح قریب المرگ شخص ہوتا ہے۔ تم میں سے جو شخص یہ صورت حال پاۓ وہ نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کرلے اور ان لوگوں کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنالے

يَمِينِهِ وَالآَخَر ← فَقُوْمُوْافَصَلُّوا، فَذَھَبْنَا لِنَقُوْمَ خَلْفَہٗ، فَجَعَلَ اَحَدَنَا ← لَنَا اَصَلّٰی ھٰؤُلَا فَقُلْنَا: لَا، ← وَعَلْقَمَۃُ عَلٰی ابْنِ مَسْعُوْدٍ، ← دَخَلْتُ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ

Hadith 1874

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1875

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللٰہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ، حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ، عَنِ الْاَسْوَدِ، قَالَ دَخَلْتُ اَنَا وَعَلْقَمَۃُ عَلٰی ابْنِ مَسْعُوْدٍ، فَقَالَ لَنَا : قُوْمُوْافَصَلُّوا، فَذَھَبْنَا لِنَقُوْمَ خَلْفَہٗ، فَاَقَامَ اَحَدَنَا عَنْ یَّمِیْنِہٖ، وَالْاٰخَرَ عَنْ شِمَالِہِ، فَصَلّٰی بِنَا بِغَیْرِ اَذَان وَلَا اِقَامَۃٍ، فَجَعَلَ اِذَا رَکَعَ طَبَّقَ بَیْنَ اَصَابِعِہٖ، وَجَعَلَھَا بَیْنَ رُکْبَتَیْہِ، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: ھٰکَذَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّہِ صَلَّی اللّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَعَلَ۔(

اسود بیان کرتے ہیں:میں اور علقمہ حضرت عبدللہ بن مسعودؓ کی خدمات میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ہم سے فرمایا تم لوگ اٹھو اور نماز ادا کرلو۔ ہم اٹھ کر ان کے پیچھے کھڑے ہونے لگے، تو انہوں نے ہم میں سے ایک کو اپنے دا ئیں طرف کھڑا کرلیا اور دوسرے کو اپنے با ئیں طرف کھڑا کرلیا۔ انہوں نے اذان دیٔے بغیر اور اقامت کہے بغیر ہمیں نماز پڑھائی جب وہ رکوع میں گئے، تو انہوں نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں اور انہیں دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا۔ جب انہوں نے نماز ادا کرلی ،تو یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرمﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

يَمِينِهِ وَالآَخَر ← لَنَا قُوْمُوْافَصَلُّوا، فَذَھَبْنَا لِنَقُوْمَ خَلْفَہٗ، فَاَقَامَ اَحَدَنَا ← وَعَلْقَمَۃُ عَلٰی ابْنِ مَسْعُوْدٍ، ← دَخَلْتُ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ

Hadith 1875

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1876

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ، مَوْلٰی ثَقِیْفٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُبْنُ یَحْیٰی الْازْدِیُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبُوْ عَا صِمٍ، قَالَ : اَخْبَرَنَا عَبْدُالْحَمِیْدِبْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُبْنُ عَمْرِوبْنِ عَطَا ٍٔ ، قَالَ سَمِعْتُ اَبَا حُمَیْدٍ السَّاعِدِیَّ، فِیْ عَشْرَۃٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اَحَدُھُمْ اَبُوْ قَتَادَۃَ، قَالَ اَبُوْ حُمَیْدٍ : اَنَا اَعْلَمُکُمْ بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالُوْالَہُ : وَلِمَ ؟ فَوَاللّٰہِ مَا کُنْتَ اَکْثَرَنَا لَہ‘ تَبَعَۃً ، وَلَا اَقْدَمَنَا لَہ‘ صُحْبَۃً، قَالَ : بَلٰی، قَالُوْا : فَاعْرِضْ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ کَبَّرَ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ بَھِمَا مَنْکِبَیْہِ، وَیَقِرَّکُلُّ عَظْمٍ فِیْ مَوْضِعِہِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ یَقْرَاُ، ثُمَّ یُکَبِّرُ، وَیَرْفَعُ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ بِھِمَا مَنْکِبَیْہِ، وَیَرْکَعُ، وَیَضَعُ رَاحَتَیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ، ثُمَّ یَعْتَدِلُ فَلَا یُصَوِّبُ رَاْسَہ‘ وَلَا یَرْفَعُہُ، ثُمَّ یَرْفَعُ رَاْسَہ‘ وَیَقُوْلُ : سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘ وَیَرْفَعُ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ بِھِمَا مَنْکِبَیْہِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ یَقُوْلُ : اللّٰہُ اَکْبَرُ، ثُمَّ یَھْوِی اِلَی الْارْضِ، وَیُجَافِیْ یَدَیْہِ عَنْ جَنْبَیْہِ، ثُمَّ یَرْفَعُ رَاْسَہ‘ فَیَشْنِیْ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی، فَیَقْعُدُ عَلَیْھَا وَیَفْتَحُ اَصَابِعَ رِجْلَیْہِ اِذَا سَجَدَ، ثُمَّ یَعُوْدُ فَیَسْجُدُ، وَیَرْفَعُ رَاْسَہ‘ وَیَقُوْلُ: اللّٰہُ اَکْبَرُ، وَیَثْنِیْ رِضجْلَہُ الْیُسْرٰی، فَیَقْعُدُ عَلَیھَا حَتّٰی یَعُوْدَ کُلُّ عَظْمٍ اِلٰی مَوْضِعِہِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ یَصْنَعُ فِی الرَّکْعَۃِ الْاُخْرٰی مِثْلَ ذٰلِکَ، وَاِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَیْنِ کَبَّرَ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّیٰ یُحَاذِیَ بِھِمَا مَنْکِبَیْہِ، کَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ، ثُمَّ صَنَعَ مِثْلَ ذٰلِکَ فِیْ بَقِیَّۃِ صَلَاتِہِ، حَتّٰی اِذَا کَانَتْ قَعْدَۃُ السَّجْدَۃِالَّتَیْ فِیْھَا التَّسلِیْمُ، اَخَّرَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی، وَقَعَدَ مُتَوَرِّکًا عَلٰی شِقِّہِ الْایْسَرِ قَالُوْا جَمِیعًا : ھٰکَذَا کَانَ رَسُوْلُ اللٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابو حمید ساعدیؓ کو دس صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں جن میں سے ایک حضرت ابوقتادہؓ بھی تھے۔ یہ بیان کرتے ہوئے سنا حضرت ابوحمیدؓ نے فرمایا: میں نبی اکرمﷺ کی نماز کے بارے میں آپ سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ ان حضرات نے ان سے کہا: وہ کیوں؟ اللہ کی قسم ! آپ نہ تو ہم سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کے پیروکار ہیں اور نہ ہم سے زیادہ پرانے صحابی ہیں۔ حضرت ابو حمید ؓ نے کہا: جی ہاں ان حضرات نے کہا: پھر آپ پیش کیجئے، تو حضرت ابو حمیدؓ نے بتایا: جب نبی اکرم ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوتے، تو آپ تکبیر کہتے تھے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کر لیتے تھے۔ آپ اپنی ہڈی کو اس کی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں رکھتے تھے، پھر آپ تلاوت کرتے تھے۔ پھر آپ تکبیر کہتے تھے، پھرآپ رفع یدین کرتے ہوئے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے تھے اور رکوع میں چلے جاتے تھے۔ آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں دونوں گھٹنوں پر رکھتے تھے، پھر آپ اعتدال کی حالت میں رہتے تھے۔ آپ اپنے سر کو نہ تو جھکاتے تھے اور نہ ہی اٹھاتے تھے، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے اور سَمِعَ اللّہُ لِمَنْ حَمِدَہ پڑھتے تھے آپ دونوں کندھوں تک اعتدال کی حالت میں اپنا سر اٹھاتے تھے آپ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا لیتے تھے اور اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے جب آپ سجدے میں جاتے تھے ، تو آپ اپنے پا ؤں کی انگلیوں کو کشادہ رکھتے تھے، پھر آپ دوبارہ سجدے میں چلے جاتے تھے، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے اور اللہ اکبر کہتے تھے۔آپ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا کر اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے،یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں آجاتی تھی، پھر آپ دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کرتے تھے۔ جب آپ دو رکعت ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو تکبیر کہتے تھے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے جس طرح آپ نے نماز کے آغاز میں کیا تھا، پھر آپ بقیہ نماز اسی طریقے سے ادا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب اس سجدے کے بعد والا قعدہ آتا جس میں سلام پھیرنا ہوتا تو آپ اپنی بائیں ٹانگ کو پیچھےکر لیتے تھے اور بائیں پہلو کے بل تو رک کے طور پر تشریف فرما ہو جاتے تھے۔

أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَا ← عَبْدُالْحَمِیْدِ بْنُ جَعْفَرٍ، ← اَبُوْ عَا صِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 1876

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1877

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِبْنِ بُجَیْرٍ ، وَمُحَمَّدُ نْنُ اِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ ، قَالُوْا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَ الْاَ عْلَی الصَّنْعَانِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا دَخَلَ فِی الصَّلَاۃِ، وَاِذَا اَرَادَ یَّرْکَعَ ، وَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ ، وَاِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ رَفَعَ یَدَیْہِ فِیْ ذٰلِکَ کُلِّہِ حَذْوَ الْمَنْکِبَیْنِ

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: جب آپ نماز شروع کرتے تھے، تو آپ رفع یدین کرتے تھے جب آپ رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تھے جب دو رکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے، تو آپ ان تمام مقامات پر دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَ الْاَ عْلَی الصَّنْعَانِیُّ، ← مُحَمَّدُ نْنُ اِسْحَاقَ الثَّقَفِیُّ ← عمر بن محمد بن بجیر ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1877

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1878

اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَرُوبَۃَ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَوْدُودٍ بِحَرَّانَ، قَالَ:حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُھَیْرُبْنُ مُعَاوَیَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَعْمَشُ، عَنِ الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ دَخَلَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاِذَاالنَّاسُ رَافِعُو اَیْدِیھِمْ فِی الصَّلَاۃِ، فَقَالَ: مَالِی اَرَاکُمْ رَافِعِی اَیْدِیکُمْ کَاَنَّھَا اَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ ؟ اسْکُنُوا فِی الصَّلَاۃِ

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اس دوران کچھ لوگوں نے نماز کے دوران رفع یدین کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے میں تمہیں دیکھ رہاہوں ، تم اپنے ہاتھ یوں بلند کر رہے ہو، جس طرح وہ سر کش گھوڑوں کی دُمیں ہوتی ہیں تم لوگ نماز کے دوران سکون کی حالت میں رہا کرو۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← الْاَعْمَشِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← اَبُوْ عَرُوبَۃَ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَوْدُودٍ بِحَرَّانَ، قَالَ:

Hadith 1878

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1879

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْکَرِیُّ، قَالَ:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ سُلَیْمَانَ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُسَیِّبَ بْنَ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سِمُرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّۃٗ دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَاَبْصَرَ قَوْمًا قَدْ رَفَعُوْا اَیْدِیھِمْ، فَقَالَ: قَدْ رَفَعُوْھَا کَاَنَّھَا اَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ، اسْکُنُوا فِی الصَّلَاۃِ۔(

حضرت جابر بن سمرہ ؓ نبی اکرمﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ آپ مسجد میں تشریف لائے،تو آپ نے کچھ لوگوں کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ان لوگوں نے ہاتھ یوں اٹھائے ہیں جس طرح وہ سر کش گھوڑوں کی دُمیں ہوتی ہیں تم لوگ نماز کے دوران سکون کی حالت میں رہا کرو۔

النَّبِیِّ اَنَّۃٗ دَخَلَ الْمَسْجِدَ قَاَبْصَرَ قَوْمًا قَدْ رَفَعُوْا اَیْدِیھِمْ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْکَرِیُّ، قَالَ:حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 1879

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1880

اَخْبَرَنَا مُحمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ اَسْحَاقَ بْنِ سَعِیْدٍ السَّعْدِیُّ، قَالَا:حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: اَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ یُوْنُسَ، عَنْ مَسْعَرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ الْقِبْطِیَّۃِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ کُنَّا اِذَا صَلَّیْنَا خَلْفَ البَّبِیِّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا بِاَیْدِینَا: السَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَمَیْنًا وَشِمَالًا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَالِی اَریٰ اَیْدِیَکُمْ کَاَنَّھَا اَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ، اِنَّمَایَکْفِیْ اَحَدَکُمْ اَنْ یَّضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی فَخِذِہِ ثُمَّ یُسَلِّمُ عَنْ یَّمِیْنِہ وَعَنْ شِمَالِہ

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں : ہم جب نبی اکرمﷺ کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے، تو ہم اپنے ہاتھ کے ذریعے (اشارہ کرتے ہوئے) دائیں طرف اور بائیں طرف السلام وعلیکم کہتے تھے ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے، میں دیکھ رہاہوں، تمہارے ہاتھ سر کش گھوڑوں کی دُم کی مانند ہیں تم میں سے ہر ایک کے لئے اتنا کافی ہے، وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے زانوں پر رکھے اور پھر دائیں طرف اور بائیں طر ف سلام پھیردے

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، ← مِسْعَرٍ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ اَسْحَاقَ بْنِ سَعِیْدٍ السَّعْدِیُّ، قَالَا: ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1880

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1881

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، قَالَ: اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرُبْنُ کِدَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ عُبَیْدُ اللہِ بْنُ الْقِبْطِیَّۃِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ، قَالَ: کُنَّا اِذَا کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، رَفَعَ اَحَدُنَا یَدَہٗ یُمْنَۃً وَیُسْرَۃً ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَالِی اَرَاکُمْ رَافِعِی اَیْدِیکُمْ کَاَنَّھَا اَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ، اَوَلَا یَکْفِیْ اَحَدَکُمْ اَنْ یَّضَعَ یَدَہٗ عَلٰی فَخِذِہِ ، ثُمَّ یُسَلِّمُ عَلٰی مَنْ عَنْ یَّمِیْنِہ، وَمَنْ عَنْ یَّسَارِہِ

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں: ہم پہلے، جب نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے، تو ہم میں سے کوئی ایک شخص دائیں طرف اور بائیں طرف (سلام پھیرتے ہوئے ) اپنا ہاتھ بلند کرتا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے، میں تمہیں یوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھتا ہوں ، جس طرح وہ سر کش گھوڑوں کی دُم ہوتے ہیں کیا تم میں سے کسی ایک کے لئے یہ کافی نہیں ہے ، وہ اپنا ہاتھ اپنے زانو پر رکھے اور پھر اپنے دائیں طرف موجود شخص اور بائیں طرف موجود شخص کو سلام کرے۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1881

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr