صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ کِتَابُ الصَّلوٰۃِ · حديث 1870
اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحمٰنِ بْنِ مُحِمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمّرُو بْنُ عَبْدِ اللّٰۃِ الْاِ وّ دِ یُّ، حَدَّثَنَا اَبُوْ اُسامَۃَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمَیْدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا حُمَیْدٍ السَّاعِدِ یَّ، یَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ اسْتَقْبَلَ، وَرَفَعَ یَدَیْہَ حَتّٰی یُحَاذِیَ بَھِمَا مَنکِبَیہِ، ثُمَ قَالَ: اللہُ اَکْبَرُ، وَاِذَا رَکَعَ کَبَّرَ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حِیْنَ رَکَعَ، ثُمَّ عَدَلَ صُلْبَہٗ، وَلَمْ یُصَوِّبْ رَاْسَہٗ وَلَمْ یُقَنّعْہُ، ثُمَّ قَالَ:سَمِعَ اللّٰہْ لِمَنْ حَمِدَہٗ، وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذَیَ بِھِمَا مَنْکِبَیْہِ، ثُمَّ اعْتَدَلَ حَتّٰی رَجَعَ کُلُّ عَظْمٍ اِلٰی مَوْضِعَہ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ ھویٰ اِلَی الْاَرْضِ، فَقَالَ:اللّٰہُ اَکْبَرُ، وَسَجَدَ وَجَافٰی عَضْدَیْہِ عَنْ جَنْبَیْہِ، وَاسْتَقْبَلَ بَاَطْرَافِ اَصَابِعِ رِجْلَیْہِ الْقِبْلَۃَ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہٗ، وَقَالَ:اللّٰہُ اَکْبَرُ، وَثَنٰی رِجْلَہُ الْیُسْریٰ وَقَعَدَ عَلَیْھا، وَاعْتَدَلَ حَتّٰی رَجَعَ کُلُّ عَظْمٍ اِلٰی مَوْضِعَہ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ قَالَ:اللّٰہُ اَکْبَرُ، ثُمَّ عَادَ فَسَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہٗ وَقَالَ:اللّٰہُ اَکْبَرُ، ثُمَّ ثَنّٰی رِجْلَہُ الْیُسْریٰ ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَیْھَا حَتّٰی رَجَعَ کُلُّ عَظْمٍ اِلٰی مَوْضِعِہ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ فَی الْاُخْریٰ مِثْلَ ذٰلِکَ، حَتّٰی اِذَا قَامَ مِنَ الرَّکْعَتَیْنِ، کَبَّرَ وَصَنَعَ کَمَا صَنَعَ فَیْ ابْتِدَاءِ الصَّلَاۃِ، حَتّٰی اِذَا کَانَتِ السَّجْدَۃُ الَّتَیْ تَکُنْونُ خَاتِمَۃَ الصَّلَاۃِ، رَفَعَ راْسَہٗ مِنْھُمَا، وَاَخَّرَ رِجْلَہٗ، وَقَعَدَ مُتَوَرِّکًا عَلٰی ر،جْلِہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوحمید ساعدی ؓ کویہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم ﷺ جب نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے،تو آ پ قبلہ کی طرف رُخ کرتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں کندھوں کے برابر لے آتے تھے، پھر آپ اللہ اکبر کہتے تھے ۔ جب آپ رکوع میں جاتے ،تو تکبیر کہتے تھے جب آپ رکوع میں جاتے تھے ، تو رفع یدین کرتے تھے ، پھر آپ اپنی پشت کو سیدھا کرلیتے تھے۔ آپ اپنے سر کو اٹھاتے بھی نہیں تھے اور جھکاتے بھی نہیں تھے ، پھر آپ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حمِدَہٗ کہتے تھے اور دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے انہیں کندھوں کے برابر تک لے آتے تھے ، پھر آپ سیدھے کھڑے ہو جاتے تھے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں آجاتی تھی ، پھر آپ زمین کی طرف جھکتے تھے اور اللہ اکبر کہتے تھے جب آپ سجدے میں جاتے تھے ، تو اپنے دونوں بازو پہلو سے الگ رکھتے تھے اور اپنے پاؤں کی انگلیوں کے کناروں کا رُخ قبلہ کی طرف رکھتے تھے ، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے ۔ اور اللہ اکبر کہتے تھے۔ آپ اپنی بائیں ٹانگ کو بچھا کر اس پر تشریف فرما ہو جاتے تھے ، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر اعتدال کی حالت میں آجاتی تھی ، پھر آپ اللہ اکبر کہتے ہوئے دوبارہ سجدے میں چلے جاتے تھے ، پھر آپ اپنا سر اٹھاتے تھے اور اللہ اکبر کہتے تھے، پھر ٹانگ کو بچھادیتے تھے اور اس پر تشریف فرماہوجاتے تھے، یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی مخصوص جگہ پر آجاتی تھی ، پھر آپ کھڑے ہوتے تھے اور دوسری (رکعت) میں بھی اسی طرح کرتے تھے ، یہاں تک کہ جب آپ دورکعات ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوتے تھے ، تو تکبیر کہنے کے بعد اسی طرح کرتے تھے جس طرح آپ نے نماز کے آغاز میں کیا تھا (یعنی رفع یدین کرتے تھے ) یہاں تک کہ جب وہ سجدہ آتا جس پر نماز ختم ہورہی ہوتی (یعنی آخری سجدہ آتا) تو آپ دوسجدوں کے بعد اپنے سر کو اٹھاتے تھے اور اپنی ٹانگ کو پیچھے کرکے اپنی ٹانگ پر تورک کے طور بیٹھ جاتے تھے
اَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِ يَّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَمّرُو بْنُ عَبْدِ اللّٰۃِ الْاِ وّ دِ یُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ،
Hadith 1870
