Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3183

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ فِي قَتْلَى أُحُدٍ حَمَلُوا قَتْلَاهُمْ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أن ردوا القتلى إلى مصارعهم1. [78:1]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما احد کے مقتولین کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے اپنے مقتو لین کو وہاں سے منتقل کر دیا، تو نبی اکرم ﷺ کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا: مقتو لین کو ان کی قتل گاہ کی طرف واپس لے آئیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3183

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3184

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ1 بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ فَقَالَ لِي أَبِي عَبْدِ اللَّهِ: يَا جَابِرُ لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نُظَّارِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ فَبَيْنَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ إذ جاء بن عَمَّتِي2 بِأَبِي وَخَالِي عَادَلَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ فَدَخَلَ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِيَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي أَلَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى فَتَدْفِنُوهَا فِي مَصَارِعِهَا حَيْثُ قُتِلَتْ3. قَالَ: فَرَجَعْنَاهُمَا مَعَ الْقَتْلَى حَيْثُ قُتِلَتْ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فَرَجَعْنَاهُمَا اضمر في فدفناهما. [78:1]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ سے مشرکین کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوئے، تا کہ ان کے ساتھ جنگ کریں، تو میرے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! تم پر کوئی حرج نہیں ہوگا اگر تم مدینہ میں رک جانے والے لوگوں میں شامل رہو، یہاں تک کہ تمہیں پتہ چل جائے ہمارا کیا بنا، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر میں اپنے بعد بیٹیاں نہ چھوڑتا، تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ تم میرے سامنے شہید ہو جاتے ( حضرت جابر رضی اللہ عنہہ کہتے ہیں)، تو میں مدینہ منورہ میں ہی رک گیا اسی دوران میری پھوپھو کا بیٹا میرے والد اور میرے ماموں کی لاش لے کر آیا وہ اونٹ پر رکھ کر انہیں لایا تھا وہ انہیں لے کر مدینہ منورہ آگیا تھا تا کہ ان دونوں کو ہمارے قبرستان میں دفن کرے اسی دوران ایک شخص نے یہ اعلان کیا خبردار بےشک نبی اکرم ﷺ تم لوگوں کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم مقتو لین کو واپس لے جاو اور انہیں میدان میں اسی جگہ دفن کرو جہاں وہ شہید کئے گئے تھے۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم نے ان دونوں صاحبان کو بھی مقتولین کے ہمراہ وہیں لٹا دیا جہاں وہ شہید ہوئے تھے۔ ( امام اب حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ کہ " ہم ان دونوں کو واپس لے آئے ، اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے انہیں وہاں دفن کیا۔

خَرَجَ النَّبِيُّ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3184

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3185

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَھْمٍ الْاَنْطَاکِیُّ ، حَدَّثَنَا اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسیٰ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَالِکِ بْنِ یَخَامِرَ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ جُرِحُ جُرْحًا فِیْ سَبِیلِ اللہِ ، جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَدْمَی ، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ ، وَالرِّیحُ رِیحِ مِسْکٍ ، وَمَنْ جُرِجَ سَبِیلِ اللہِ اللہِ طُبِعَ بِطَابَعِ الشُّھْدَاءِ

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہو جائے ، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا، تو اس کا خون بہہ رہا ہو گا، جس کا رنگ خون جیسا ہوگا اور خوشبو مشک کی خوشبو جیسی ہو گی اور جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہو جائے اس پر شہدا ء کی مہر لگا دی جاتی ہے۔"

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ مَالِکِ بْنِ یَخَامِرَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3185

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3186

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حدثنا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ،ع َنْ اَبِیْہِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ،قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعُدُّونَ الشُّھَدَاءَ فِیکُمْ ؟ قَالُوْا : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَنْ قُتِلَ فِیْ سَبِیلِ اللہِ فَھُوَ شَھِیدٌ قَالَ : اِنَّ شُھَدَاءَ اُمَّتِی اِذًا لَقَلِیْلٌ قَالُوْا : مَنْ یَّا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : مَنْ قُتِلَ فِیْ سَبِیلِ اللہِ ، فَھُوَ شَھِیدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِیْ سَبِیلِ اللہِ ، فَھُوَ شَھِیدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِی الطَّاعُونَ فَھُوَ شَھِیدٌ ، وَمَنْ مَاتَ فِیْ بَطْن ، فَھُوَ شَھِیدٌ۔ قَالَ سُھَیْلٌ : وَاَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مِقْسَمٍ ،قَالَ : اَشْھَدُ عَلٰ اَبِیکَ ، اَنَّہٗ زَادَ فِی الْحَدِیثِ الْخَامِسَ وَمَنْ غَرِقَ فَھُوَ شَھِیدٌ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تم لوگ اپنے درمیان کسے شہید شمار کرتے ہو؟ لوگو ں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! جو شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس صورت میں میری امت کے شہدا ء تھوڑے ہوں گے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! پھر کون(شہید ہیں؟) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے و ہ شہید ہے ، جو اللہ کی راہ میں مر جائے وہ شہید ہے، جو شخص طاعون کی وجہ سے مر جائے وہ شہید ہے ، جو شخص پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مر جائے وہ شہید ہے۔" سہیل نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے عبیداللہ بن مقسم نے مجھے بتایا میں تمہارے والد کے حوالے سے گواہی دے کر یہ بات بیا ن کرتا ہوں کہ انہوں نے حدیث میں پانچویں شخص کا بھی تذکرہ کیا تھا، جو شخص ڈوب کر مرجائے وہ شہید ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ،ع َنْ اَبِیْہِ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3186

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3187

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ تَعُدُّونَ الشُّهَدَاءَ فِيكُمْ؟ " قَالُوا: مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ, قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي طَاعُونٍ فَهُوَ شَهِيدٌ". قَالَ: وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ أَنَّهُ قَالَ: وَأَشْهَدُ عَلَى أَبِيكَ أَنَّهُ زاد: "ومن غرق فهو شهيد" 2. [32:3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم اپنے درمیا ن کسے شہید قرار دیتے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: وہ شخص جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ کی راہ میں ( جہاد یا حج کے لیے جاتے ہوئے) مر جائے وہ شہید ہے ، جو شخص طاعو ن کی وجہ سے مر جائے وہ شہید ہے۔ راوی بیان کرت ہیں: عبید اللہ بن مقسم نے مجھے یہ حدیث بیا ن کی ہے وہ یہ کہتے ہیں: میں تمہارے والد کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ انہوں نے حدیث میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں۔ ( جو شخص ڈوب ) کر مر جائے وہ شہید ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3187

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3188

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الشَّهِيدُ خَمْسَةٌ الْمَبْطُونُ وَالْمَطْعُونُ وَالْغَرِقُ وصاحب الهدم والشهيد" 1. [32:3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " شہید پانچ قسم کے ہیں پیٹ کی بیماری سے مر نے والا، طاعون کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، ملبے کے نیچے آکر مرنے والا اور اللہ کی راہ میں ( جنگ کے دوران قتل ) ہوکر شہید ہونے والا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3188

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3189

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: "غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ" فَصَاحَ النِّسْوَةُ وبكين وجعل بن عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دعهن فإذا وجب فلا تبكين بَاكِيَةٌ" فَقَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِذَا مَاتَ" قَالَتِ ابْنَتُهُ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟ " قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الشَّھَادَۃ سَبْعٌ سِوٰی الْقَتْلِ فِیْ سَبِیلِ اللہِ : الْمَبْطُونُ شَھِیْدٌ ، وَالْغَرِیْقُ شَھِیْدٌ ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَھِیْدٌ ، وَالْمَطْوُونْ شَھِیدٌ ، وَالْحَرِیْقُ شَھِدٌ ، وَالَّذِیْ یَمُوتُ تَحْتَ الھَدْمِ شَھِیْدٌ ، وَالْمَرْاَۃُ تَمُوتُ بِجَعْعٍ شَھِیْدٌ

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہہ کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے، تو آپ ﷺ نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ وہ مغلوب ہو چکے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں بلند آواز میں پکارا، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور فرمایا: اے ابو ربیع تمہارا معاملہ ہمارے بس سے باہر ہے ، تو خواتین نے بلند آواز سے رونا شروع کر دیا۔ حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہہ انہیں خاموش کروانے لگے۔ نبی اکرم ﷺ! نے ارشاد فر مایا: انہیں کرنے دو جب وہ واجب ہو جائے ، تو پھر کوئی رونے والی نہ روئے۔ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ! واجب ہونے سے مراد کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب ان کا انتقال ہو جائے، ان کی صاحب زادی نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ آپ شہید ہوں گے، کیونکہ آپ نے اپنی تیاری مکمل کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اس کی نیت کے مطابق اس کا اجر عطا کرے تم لوگ کسے شہادت شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاو ہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے ، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیے کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، ملبے کے نیچے آنے والا شہید ہے، زچگی کے وقت مرنے والی عورت شہید ہے۔

عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3189

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3190

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: "غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ" فَصَاحَتِ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ وَجَعَلَ بن عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دعهن فإذا وجب فلا تبكين بَاكِيَةٌ" قَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِذَا مَاتَ" قَالَتِ ابْنَتُهُ: وَاللَّهِ إِنِّي كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا فَإِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّھَادَۃَ ؟ قَالُوْا : الْقَتْلُ فِیْ سَبِیلِ اللہِ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الشَّھَادَۃُ سَبْعٌ سِوٰی الْقَتْلِ فِیْ سَبِیلِ اللہِ : الْمَبْطُونُ شَھِیدٌ ، وَالْغَرِیْقُ شَھِیْدٌ ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَھِیدٌ ، وَالْمَطْعُونُ شَھِیْدٌ ، وَصَاحِبُ الْحَرِیْقِ شَھِیدٌ ، وَالَّذِیْ یَمُونُ تَحْتَ الْھَدْمِ شَھِیدُ ، وَالْمَرْاَۃُ تَمُوتُ بِجَمْعٍ شَھِیدٌ

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہہ کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے، تو آپ ﷺ نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ انہیں اپنا ہوش نہیں تھا۔ نبی اکر مﷺ نے انہیں بلند آواز میں پکارا، تو انہو ں نے کوئی جواب نہیں دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور ارشاد فرمایا: اے ابو ربیع تمہارا معاملہ ہمارے بس سے باہر ہے، تو خواتین نے بلند آواز سے رونا شروع کر دیا۔ حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہہ نے انہیں خاموش کروانے کی کوشش کی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انہیں رونے دو جب وہ واجب ہو جائے، تو پھر کوئی نہ روئے۔ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ﷺ! واجب ہونے سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب اس کا انتقال ہو جائے۔ ان کی صاحب زادی نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے یہ امید ہے کہ یہ شہید ہوں گے، کیونکہ انہوں نے اپنی تیاری مکمل کر لی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی نیت کے مطابق اسے اجر عطا کرے گا تم لوگ کسے شہادت شمارکرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کے علاوہ بھی سات قسمیں ہیں پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیے کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے۔ طاعون سے مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، ملبے کے نیچے آ کر مرنے والا شہید ہے اور زچگی کے وقت فوت ہونے والی عورت شہید ہے۔

عبد الله بن عبد الله بن جابر بن عتيك، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3190

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3191

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا بن ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رِيحُهُ كَرِيحِ الْمِسْكِ لَوْنُهُ لَوْنَ الزَّعْفَرَانِ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ مُخْلِصًا أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ شَهِيدٍ وَإِنَّ مَاتَ عَلَى فراشه" 1. [2:1]

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جس شخص کو اللہ کی راہ میں زخمی کر دیا جائے ، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کی خوشبو مشک کی خوشبو کی مانند ہو گی اور اس کا رنگ زعفران کے رنگ کی مانند ہو گا اس پر شہدا ء کی مہر لگی ہوئی ہو گی اور جو شخص خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے شہادت کا سوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے شہید کا اجر عطا کرتا ہے ، اگرچہ وہ شخص اپنے بستر پر فوت ہو۔"

مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← بن ثَوْبَانَ، ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3191

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3192

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ المنذر حدثنا بن وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشهداء وإن مات على فراشه" 1. [2:1]

سہل ابن ابوامہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ " جو شخص صدق دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے پر فائز کرے گا اگر چہ وہ شخص اپنے بستر پر فوت ہو۔"

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، ← بن وَهْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3192

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3193

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ1 عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَتْنَا اُمُّ سَلَمَۃَ، اَنَّ الَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَا ھُوَ فِیْ بَیْتِھَا وَعِنْدَہُ نَفَرٌ مِنْ اَصْحَابِہٖ اِذْ جَائَہٗ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمْ صَدَقَۃُ کَذَا وَکَذَا مِنَ التَّمْرِ ؟ قَالَ : کَذَا وَکَذَا قَالَ الرَّجُلُ : فَاِنَّ فُلَانًا تَعَدَّی عَلَیَّ ، وَاَخَذَ مِنِّیْ کَذَا وَکَذَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَکَیْفَ اِذَا سَعَی عَلَیْکُمْ مَنْ یَّتَعَدَّی عَلَیْکُمْ اَشَدَّ مِنْ ھٰذَا التَّعِدِّی ، فَخَاضَ الْقَوْمُ فِیْ ذٰلِکَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْھُمْ ،فَکَیفَ بِنَا یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا کَانَ الرَّجُلُ مِنَّا غَائِبًا فِیْ اِبِلِہٖ وَمَاشِیَتِہٖ وَزَرِْعِہٖ وَنَخْلِہِ ، فَاَدَّی زَکَاۃَ مَالِہِ ، فَتَعَدَّی عَلَیْہِ الْحَقََ ، فَکَیْفَ یَصنَعُ یَا رَسُوْلَ اللہِ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ اَدَّی زَکَاۃَ مَالِہٖ طَیْبَۃً بِھَا نَفْسُہُ یُرَیْدُ بِھَا وَجْہَ اللہِ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ ، ثُمَّ لَمْ یُغَیِّبُ مِنْھَا شَیْئًا ، وَاَقَامَ الصَّلَاۃَ ، وَآتَی الزَّکَاہَ فَتَعَدَّی عَلَیْہِ الْحَقَّ ، فَاَخَذَ سِلَاحَہُ ، فَقَاتَلَ فَقُتِلَ ، فَھُوَ شَھِیْدٌ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : مَعْنٰی ھٰذَا الْخَبَرِ ، اِذَا تَعَدَّی عَلَی الْمَرْءِ فِیْ اَخَذِ صَدَقَتِہٖ ، اَوْ مَایُشْبِہُ ھٰذِہِ الْحَالَۃَ ، وَکَانَ مَعَہ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ الَّذِی یُوَاطِئُونَہٗ عَلٰی ذٰلِکَ ، وَفِیْھِمْ کِفَایَۃٌ بَعْدَ اَنْ لَّا یَکُوْنَ قَصْدُھُمُ الدُّنْیَا ، وَلَا شَیْئًا مِنْھَا دُونَ اِلْقَاءِ الْمَرْءِ نَفْسَہٗ اِلَی التَّھْلُکَۃِ اِذِ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِاَبِیْ ذَرٍ : اسْمَعْ وَاَطِعْ وَلَوْ عَبْدًا حَبَشِیًّا مُجَدَّعًا وَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السِّلَاحَ فَلَیْسَ مِنَّا

امام زین العابدین رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے آپ ﷺ کے پاس آپ ﷺ کے کچھ اصحاب بھی موجود تھے اسی دوران ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اتنی کھجوروں کا صدقہ (یعنی زکوٰۃ) کتنا ہو گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اتنا۔ اس نے عرض کی: فلاں صاحب نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے انہوں نے مجھ سے اتنی، اتنی وصو لی کر لی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس وقت کیا عالم ہو گا، جب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو تمہارے ساتھ اس سے زیادہ زیادتی کریں گے، تو لوگ اس بات پر پریشان ہو گئے ان میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اس وقت ہمارا کیا بنے گا، جب کوئی شخص اپنے اونٹوں میں یا جانوروں میں یا کھیت میں یا باغ میں موجود نہیں ہو گا اور وہ اپنے مال کی زکوٰۃ اد ا کرے گا اس کے ساتھ زیادتی ہو جائے گی، یا رسول اللہﷺ ! تو اسے کیا کرنا چاہئے؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو، آخرت کا حصول ہو اور وہ اس میں سے کوئی چیز غائب نہ کرے اور وہ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور پھر اس کے ساتھ زیادتی ہو، تو وہ اپنا اسلحہ پکڑے اور لڑائی کرتے ہوئے مارا جائے، تو وہ شہید ہو گا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : اس روایت کا مطلب یہ ہے: جب زکوٰۃ وصولی یا ا س جیسی کسی اور صورتحال میں کسی شخص کے خلاف زیادتی کی جائے اور پھر اس شخص کے ہمراہ مسلمان موجود ہوں جو اس بارے میں اس کا ساتھ دیں اور اس میں کفایت بھی موجود ہو اور ان کا مقصد دنیاوی فائدے کا حصول نہ ہو۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ہلاکت کا شکار کر لے کیونکہ نبی کرمﷺ نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہہ سے یہ فرمایا تھا: "تم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو۔ اگرچہ ناک کان کٹا ہوا حبشی (حکمران ہو)" اور نبی اکرم ﷺ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے" جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھاتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" اس شخص کے لیے جنت واجب ہونے اور شہادت کے اثبات کا تذکرہ جو اپنےمال کی وجہ سے قتل ہو جاتا ہے خواہ وہ مقابلہ کرے یا مقابلہ نہ کرے

عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3193

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3194

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ بِجُرْجَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَالَ من قتل دون ماله فهو شهيد" 1. [2:1]

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔"

سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ بِجُرْجَانَ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3194

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr