Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2931

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ جَبَلَةَ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي عَنْ رَبِّهِ قَالَ: "إِذَا سَلَبْتُ مِنْ عَبْدِي كَرِيمَتَيْهِ وَهُوَ بِهِمَا ضَنِينٌ لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الجنة إذا حمدني عليهما" 1. [2:1]

حضرت عر باض بن ساریہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنے پروردگار کا یہ فرمان نقل کیا ہے: "جب میں اپنے بندے کی دو پسندیدہ چیزوں (یعنی دونوں آنکھوں کی بینائی) کو سلب کر لیتا ہوں اور وہ ان دونوں کا خواہش مند ہوتا ہے، تو جب وہ اس پر میری حمد بیان کرتا ہے، تو میں اس کے لیے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا۔"

رَبِّهِ ← النَّبِيِّ يَعْنِي ← الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← سُوَيْدِ بْنِ جَبَلَةَ، ← لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إسحاق بن إبراهيم بن العلاء ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2931

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2932

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فَرُّوخٍ الْبَغْدَادِيُّ بِالرَّافِقَةِ1 قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ قال: حدثنا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ، عَنِ الْاَعْمَشِ ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا یَذْھَبُ اللہُ بِحَبِیبَتَیْ عَبْدٍ فَیَصْبِرُ وَیَحْتَسِبُ اِلَّا اَدْخَلَہُ اللہُ الْجَنَّۃَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب بھی اللہ تعالیٰ کسے بندے کی دو محبوب چیزوں (یعنی بینائی) کو رخصت کر دیتا ہے اور وہ بندہ صبر سے کام لیتا ہے اور ثواب کی امید رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمِ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فَرُّوخٍ الْبَغْدَادِيُّ بِالرَّافِقَةِ1

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2932

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2933

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَالْحَوْضِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ أَنَّهُمَا بَلَغَهُمَا أَنَّ رَجُلًا مَاتَ بِبَطْنٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَلَمْ يَبْلُغْكُمْ أَنَّ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم قال: "من قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ" قَالَ الآخر: صدقت, وقال الحوضي: بلى1. [2:1]

سیلمان صرد اور خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں: انہیں یہ بات پتہ چلی ہے کہ ایک شخص کا پیٹ کی بیماری کی وجہ سے انتقال ہو گیا ، تو ان دونوں میں سے ایک شخص نے کہا: آپ لوگوں تک یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ " جو شخص پیٹ کی بیماری کی وجہ سے انتقال کر جائے اس قبر میں عذاب نہیں ہوتا۔" تو دوسرے صاحب نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے، تو حوضی نامی راوی نے کہا: جی ہاں۔

أَحَدُهُمَا: أَلَمْ يَبْلُغْكُمْ ← سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ أَنَّهُمَا بَلَغَهُمَا أَنَّ رَجُلًا مَاتَ بِبَطْنٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَالْحَوْضِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2933

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2934

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ", فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إلى منقطع أثره في الجنة" 1. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عمرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: مدینہ منورہ میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کاش اس کا انتقال اپنے جائے پیدائش کی بجائے کسی اور جگہ پر ہوا ہوتا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! وہ کیوں؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کسی شخص کا انتقال اپنی جائے پیدائش کی بجائے کسی اور جگہ پر ہوتا ہے، تو اس کے لیے اس کی جائے پیدائش سے لے کر (انتقال کی جگہ تک) زمین کی پیمائش کر دی جاتی ہے اور اسے جنت میں اتنی جگہ دی جاتی ہے۔

رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: لِمَ ← "يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ", ← تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيَّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حُیَیُّ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْمَعَافِرِیُّ، ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2934

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2935

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَتِ الْحُمَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: "مَنْ أَنْتِ؟ " فَقَالَتْ: أَنَا أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ: "انْهَدِي 1 إِلَى قُبَاءَ فَأْتِيهِمْ" قَالَ: فَأَتَتْهُمْ فَحُمُّوا أَوْ لَقُوا مِنْهَا شِدَّةً فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى مَا لَقِينَا مِنَ الْحُمَّى قَالَ: "إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ كَانَتْ طَهُورًا" قَالُوا: بَلْ تَكُونُ طهورا2. [2:1]

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: بخار نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے جوا ب دیا: میں اُم ّ ملدم ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم قباء کی طرف جاؤ اور وہاں چلے جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: وہ وہاں چلا گیا ان لوگوں کو بخار رہنے لگ پڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان لوگوں کو اس کی وجہ سے شدت کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! کیا آپ ﷺ نے یہ بات ملاحظہ کی ہے کہ ہمیں کتنا بخار رہنے لگا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم لو گ چاہو، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کردیتا ہوں و ہ اسے تم سے دور کر دے گا اور گر تم چاہو، تو یہ تمہارے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ بن جائے گا، تو ان لو گوں نے عرض کی: اسے طہارت کے حصول کا ذریعہ رہنے دیں۔

فَأَتَتْهُمْ فَحُمُّوا أَوْ لَقُوا مِنْهَا شِدَّةً فَقَالُوا: ← "انْهَدِي إِلَى قُبَاءَ فَأْتِيهِمْ" ← أُمُّ مِلْدَمٍ؟ ← أَتَتِ الْحُمَّى النَّبِيَّ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: "مَنْ أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2935

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2936

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا بن أبي فديك قال: حدثنا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا اشْتَكَى الْمُؤْمِنُ أَخْلَصَهُ ذَلِكَ كَمَا يخلص الكير خبث الحديد" 1. [2:1]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: " جو کوئی مومن بیمار ہوتا ہے (تو وہ بیماری) اسے یوں نکھار دیتی ہے، جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکھار دیتی ہے۔"

"إِذَا اشْتَكَى الْمُؤْمِنُ أَخْلَصَهُ ذَلِكَ كَمَا يخلص الكير خبث الحديد" ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن أبي فديك ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2936

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2937

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سويد عن بن مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسِسْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا فَقَالَ: "أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ مَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ" قُلْتُ: إِنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَجَلْ" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خطاياه كما تحط الشجرة ورقها" 1. [2:1]

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو چھوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو ، تو انتہائی تیز بخار ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی ہاں مجھے اس طرح بخار ہوتا ہے، جس طرح تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے۔ میں نےعرض کی: اس کی وجہ سے آپ کو دو اجر ملتے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی ہاں! پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے روئے زمین پر موجود جس بھی مسلمان کو بیماری یا اس کے علاوہ کوئی اور تکلیف لاحق ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہوں کو یوں ختم کر دیتا ہے، جس طرح درخت اپنے پتے گراتا ہے۔

دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ فَمَسِسْتُهُ فَقُلْتُ: ← بن مَسْعُودٍ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2937

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2938

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ وَهِيَ تُرَفْرِفُ فَقَالَ: "مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تَرَفْرِفِينَ1؟ " قَالَتِ: الْحُمَّى لَا بَارِكَ اللَّهُ فِيهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَسُبِّي 2 الْحُمَّى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا ابْنِ آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ" 3. [2:1]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اُمّ سائب (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اُمّ مسیّب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ کپکپا رہی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: اے اُمّ سائب (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) اے اُمّ مسیّب تمہیں کیا ہوا ہے تم کیوں کپکپا رہی ہو؟ اس نے عرض کی : بخار ہے اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ رکھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بخار کو برانا کہو کیوں کہ یہ انسانوں کے گناہوں کو یوں ختم کر دیتا ہے ، جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو ختم کر دیتی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2938

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2939

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وهب، قال:حدثنا يونس، عن بن شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَيْهَا امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْتَطْعِمُ، قَالَتْ: فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي إِلَّا تَمْرَةً وَاحِدَةً، فأعطيتها إياها فأخذتها فشقها بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَتْ: ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنِ ابْتُلِيَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ كُنَّ لَهُ سترا من النار" 1. [2:1]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون ان کے ہاں آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں اس عورت نے کھانے کے لیے کچھ مانگا سیّد ہ عائشہ ر ضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرے پاس اسے صرف ایک کھجور ملی وہ میں نے اسے دے دی اس نے اس کھجور کو لیا اور اسے دوحصوں میں تقسیم کر کے اپنی بیٹیوں کو دے دیا اس نے خود کچھ نہیں کھایا پھر وہ اٹھی اور چلی گئی نبی اکرم ﷺ میرے ہا ں تشریف لائے میں نے آپ کو اس عورت کے بارے میں بتیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو ان بیٹیوں کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کیا جائے اور وہ شخص ان کےساتھ اچھا سلوک کرے، تو یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وهب، قال: ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2939

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2940

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ:حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: قَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَمُّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍ بِالرَّبَذَةِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ مَا مَالُكَ؟ فَقَالَ: مَالِي عَمَلِي، قُلْتُ: حَدِّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إياهم" 1. [2:1]

صعصعہ بن معاویہ بیان کرتے ہیں: میں ربذہ کے مقام پر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کہا: اے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہہ آپ کا مال کیا ہے انہوں نے جواب دیا: میرا مال میرا عمل ہے میں نے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ "جس بھی مسلمان کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو جائیں، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں ( یعنی بچے کے ماں باپ) کو ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا"۔

الْحَسَنِ، ← جرير بن حازم،قال: ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2940

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2941

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نِسْوَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ قُلْنَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيكَ مَعَ الرِّجَالِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلَانَةَ" فَجَاءَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُنَّ، ثُمَّ قَالَ: "لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبُهُ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ" فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: وَاثْنَتَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "واثنتين" 1. [2:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: کچھ انصاری خواتین نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی ہم مردوں کے ہمراہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتی ہیں( آپ ﷺ ہمیں واعظ و نصیحت کیا کیجئے)، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: فلاں خاتون کے گھر میں تم سے ملاقات ہوگی پھر نبی اکرم ﷺ وہاں تشریف لائے آپ ﷺ خواتین کے ساتھ بات چیت کرتے رہے پھر نبی اکر مﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی کے بھی تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ اس پر ثواب کی امید رکھے تو وہ جنت میں داخل ہو گی ان میں سے ایک خاتون نے عرض کی: جس کے دوہوں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس کے دو (بچے فوت) ہوں؟ (اسے بھی یہ اجرو ثواب حاصل ہو گا)

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ نِسْوَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ قُلْنَ لَهُ: ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2941

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2942

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عن بن شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا یَمُوتُ لِاَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمیْنَ ثَلَاثَۃٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّہُ النَّارُ اِلَّا تَحِلَّۃَ الْقَسَمِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جس بھی مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں، تو آگ اسے قسم پوری کرنے کے لیے چھوئے گی۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2942

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr