Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2857

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْمَوَاشِي وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقال: "اللهم على رؤوس الْجِبَالِ وَالْآكَامِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ", قَالَ: فانجابت عن المدينة انجياب الثوب1. [8:5]

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں سفر کرنا ممکن نہیں رہا آپﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے ۔ نبی اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی راوی کہتے ہیں : ایک جمعے سے لے کر اگلے جمعے تک ہم پر بارش ہوتی رہی راوی کہتے ہیں : پھر ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ گھر گر رہے ہیں مویشی ہلاکت کا شکا ر ہو رہے ہیں نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپﷺ نے دعا کی۔ ’’ اے اللہ ! پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور نشیبی علاقوں میں اور جنگلات میں بارش ہو ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : مدینہ منورہ سے بادل یوں چھٹ کیا جس طر ح کپڑا پھٹ جاتا ہے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 2857

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2858

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَحِطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا فَقَالَ :اللَّھُمَّ اسْقِنَا قَالَ : وَایْمُ اللہِ مَا نَریٰ فِی السَّمَاءِ قَزَعَۃُ مِنْ سَحَابٍ ، قَالَ: فَنَشَاتْ سَحَبَابَۃٌ، فَانْتَشَرَتْ ، ثُمَّ اِنَّھَا مَطَرَتْ ، فَنَزَلَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَصَلّٰی ، وَانْصَرَفَ فَلَمْ تَزَلْ تُمْطِرُ اِلَی الْجُمُعَۃِ الْاُخْریٰ ، فَلَمَّا قَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَخْطُبُ ، صَاحُوا وَقَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللہِ ، تَھَدَّمَتِ الْبُیُوتُ ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ ، فَادْعُ اللہَ یَحْبِسْھَا عَنَّا ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : اللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا ، وَلَا عَلَیْنَا قَالَ: فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِینَۃِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوْلَھَا، وَمَا تَقْطُرُ بِالْمَدِینَۃِ قَطْرَۃٌ ، قَالَ :فَنَظَرْتُ اِلَی الْمَدِینَۃِ ، وَاِنَّھَا لَفِیْ مِثْلِ الْاِکْلِیْلِ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کچھ لوگ آپﷺ کے سامنےکھڑے ہوئے انہوں نے بلند آواز سے کہا: اے اللہ کے نبی ! بارش کا قحط پڑ گیا ہے درخت سیاہ ہو گئے ہیں جانور ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں آپﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے ‘ وہ ہم پر بارش نازل کر دے تو نبی اکرمﷺ نے دعا کی: اے اللہ! ہم پر بارش نازل کر دے۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم! ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی بھی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں : اسی دوران ایک ٹکڑا نمو دار ہوا اور وہ پھیلنا شروع ہوا پھر بارش شروع ہو گئی ۔ نبی اکرمﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے آپﷺ نے نماز ادا کی پھر آپﷺ نے نماز مکمل کی اس کے بعد اگلے جمعے تک بارش ہوتی رہی پھر جب نبی اکرمﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ‘ تو لوگوں نے بلند آواز میں عرض کی : اے اللہ کے نبی ! گھر گر رہے ہیں سفر کرنا ممکن نہیں رہا آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے ‘ وہ ہم سے بارش کو روک دے۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرمﷺ مسکرا دیئے پھر فرمایا : اے اللہ ! ہمارے آس پاس ہو ہم پر نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں : مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گیا ‘ اور مدینہ منورہ کے ارد گرد بارش ہوتی رہی اور مدینہ منورہ پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں پڑا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے مدینہ منورہ کو دیکھا تو وہ تاج کی مانند تھا۔ ( یعنی اس سے بادل چھٹ چکا تھا)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 2858

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2859

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَحِطَ الْمَطَرُ عَامًا فَقَامَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحِطَ الْمَطَرُ وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ وَهَلَكَ الْمَالُ قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً فَمَدَّ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ يَسْتَسْقِي اللَّهَ فَمَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ حَتَّى أَهَمَّ الشَّابَّ الْقَرِيبَ الدَّارِ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ فَدَامَتْ جُمُعَةً فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ قَالَ: فَتَبَسَّمَ صلى الله عليه وسلم لسرعة ملالة بن آدَمَ وَقَالَ بِيَدَيْهِ: "اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا" قال: فتكشفت عن المدينة1. [3:5]

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک سال تک بارش نہیں ہوئی تو بعض مسلمان نبی اکرمﷺ کی بارگاہ میں کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ بارش نہیں ہوئی زمین خشک ہو گئی ہے کھیتیاں ہلاکت کا شکار ہو رہی ہیں۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہمیں آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا نبی اکرمﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے یہاں تک کہ ہمیں آپﷺ کی بغلوں کی کی سفیدی نظر آ گئی آپﷺ نے اللہ تعالیٰ سے بارش کے لئے دعا کی ابھی ہم نے جمعہ ادا نہیں کیا تھا ‘ ( کہ اتنی تیز بارش ہو گئی ) کہ وہ نوجوان جس کا گھر مسجد کے قریب تھا اس نے یہ ارادہ کیا ‘ وہ اپنے گھر چلا جائے پھر پورا ہفتہ بارش ہوتی رہی جب اس کے بعد والا جمعہ آیا ‘ تو ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ گھر گر رہے ہیں سفر کرنا ممکن نہیں رہا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرمﷺ ابن آدم کے جلدی ملال پر مسکرا دیئے آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کی: اے اللہ! ہمارے آس پاس ہو ہم پر نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں : مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گیا۔

قَحِطَ الْمَطَرُ عَامًا فَقَامَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 2859

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2860

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ الْأَيْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَحْطَ الْمَطَرِ فَأَمَرَ بِالْمِنْبَرِ فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ جِنَانِكُمْ وَاحْتِبَاسَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ 1 عَنْكُمْ وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدَعُوهُ وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى خَيْرٍ" ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابًا فَرَعَدَتْ وَأَبْرَقَتْ وَأَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ فَلَمْ نَلْبَثْ فِي مَسْجِدِهِ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَثَقَ الثِّیَابِ عَلَی النَّاسِ، ضَحِکَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ ، وَقَالَ: اَشْھَدُ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شِیْءٍ قَدِیْرٌ ، وَاِنِّیْ عَبْدُ اللہِ وَرَسُوْلُہُ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : کچھ لوگوں نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپﷺ نے منبر کے بارے میں حکم دیا اسے عید گاہ میں رکھا گیا نبی اکرمﷺ نے لوگوں کے ساتھ ایک دن کا وعدہ کیا ‘ اس د ن وہ لوگ آئیں ‘ تو سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : جیسے ہی سورج نکلا نبی اکرمﷺ روانہ ہوئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا ء بیان کی پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے اپنے باغات کے خشک ہونے کی شکایت کی اور ایک طویل عرصے سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا ہے ‘ تم لوگ اس سے دعا مانگو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے ‘ وہ تمہاری دعا کو قبول کرے گا پھر آپﷺ نے یہ پڑھا۔ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ‘ جو بڑا مہربان ہے نہایت رحم کرنے والا ہے قیامت کے دن کا مالک ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ‘ تو جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اسے اللہ ! تو ہی وہ اللہ ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ تو بے نیاز ہے اور ہم تیرے محتاج ہیں‘ تو ہم پر بارش نازل کر اور جو تو نے ہم پر نازل کیا ہے اسے قوت بنا دے اور بھلائی کی طرف پہنچانے والا بنا دے۔ پھر نبی اکرمﷺ نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی پھر نبی اکرمﷺ نے اپنی پشت کو لوگوں کی طرف کیا ‘ اور اپنی چادر کو الٹا دیا آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے ‘ پھر آپﷺ نے لوگوں کی طرف رخ کیا آپﷺ منبر سے نیچے اتر آئے پھر آپﷺ نے دو رکعات نماز ادا کی تو اللہ تعالیٰ نے بادل کو پیدا کیا ‘ اور وہ کڑکا بجلی چمکی اور بارش شروع ہو گئی یہ اللہ کے حکم سے ہوا ابھی ہم مسجد میں ہی تھے ‘ نالیاں بہنی شروع ہو گئیں جب نبی اکرمﷺ نے دیکھا ‘ لوگوں نے کپڑے اپنے اوپر کر لیے ہیں ‘ تو آپﷺ مسکرا دئیے یہاں تک کہ آپﷺ کے دانت نظر آنے لگے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں بے شک اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ ← أَبِي ← طاهر بن خالد بن نزار الأيلي ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Hadith 2860

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2861

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ثُمَامَةَ عَنِ أَنَسٍ قَالَ: كَانُوا إِذَا قَحَطُوا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَوْا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْتَسْقِي لَهُمْ فَيُسْقَوْنَ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِمَارَةِ عُمَرَ قَحَطُوا فَخَرَجَ عُمَرُ بِالْعَبَّاسِ يَسْتَسْقِي بِهِ فَقَالَ:اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا إِذَا قَحَطْنَا عَلَى عَهْدِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَسْقُينَا قَالَ : فَسُقُوا

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کےزمانہ اقدس میں جب قحط پڑجاتا تھا تو لوگ نبی اکرمﷺ کے وسیلے سے بارش کی دعا کرتے تھے۔ نبی اکرمﷺ بھی ان لوگوں کےلئے بارش کی دعا کرتے تھے‘ تو ان لوگوں کو بارش عطا ہو جاتی تھی۔ نبی اکرمﷺ کے وصال کے بعد حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں قحط آیا‘ تو عمرؓ حضرت عباسؓ کو ساتھ لے کر نکلے تاکہ ان کے وسیلے سے بارش کی دعا کریں انہوں نے یہ کہا: ’’ الے اللہ! پہلے تیرے نبی اکرمﷺکے زمانے میں جب ہم قحط کا شکار ہوتے تھے‘ تو نبی اکرمﷺ کےوسیلے سے بارش کی دعا کرتے تھے‘ تو تو ہمیں سیراب کر دیتا تھا اب ہم تیرے نبی کے چچا کے وسیلے سے تیری بارگاہ میں دعا کرتے ہیں‘ تو ہمیں سیراب کر دے‘‘۔ راوی کہتے ہیں: ان لوگوں کو سیراب کر دیا گیا۔

أَنَسٍ، ← ثُمَامَةَ ← أَبِي ← الْأَنْصَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2861

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2862

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ1 بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الأمراء إلى بن عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ فَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَمَسْكِنًا مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا2 وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ فصلى ركعتين كما يصلي في العيد3. [4:5]

ہشام بن اسحاق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک بزرگ نے مجھے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے نماز استسقاء کے بارے میں دریافت کروں‘ تو انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ معمولی کپڑوں میں عاجزی و انکساری تواضع کا اظہار کرتے ہوئےنکلے آپؓ نے تم لوگوں کی طرح خطبہ نہیں دیا آپؓ نے دو رکعات نماز ادا کی جیسے عید کے موقع پر نماز ادا کرتے تھے۔

صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ ← أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الأمراء إلى بن عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ ← أَبِيهِ ← هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2862

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2863

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يرى بياض إبطيه1. [4:5]

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ دعا مانگتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے‘ البتہ بارش کی دعا مانگتے ہوئے آپﷺ نےایسا کیا ہے آپﷺ نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کیے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2863

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2864

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ الزَّاهِدُ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا سفيان عن بن أَبِي ذِئْبٍ1 عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ2. [1:4]

عباس بن تمیم اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نے نماز استسقاء ادا کرتے ہوئے دو رکعات ادا کی تھیں اور بلند آواز میں قرأت کی تھی۔

عَمِّہٖ ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ الزَّاهِدُ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2864

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2865

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ولى ظَهْرَهُ النَّاسَ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فيهما بالقراء1. [4:5]

عباس بن تمیم اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نماز استسقاء ادا کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔ آپﷺ نےقبلہ کی طرف رُخ کیا‘ اور پشت لوگوں کی طرف کر لی آپﷺ نے چادر کو اتار دیا اور دو رکعات ادا کیں جن میں آپﷺ نے بلند آواز میں قرأت کی۔

عَمِّہٖ ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2865

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2866

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وهب قال: أخبرنا يونس عن بن شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وحول رداءه وصلى ركعتين1. [4:5]

عباد بن تمیم بیان کرتے ہیں: انہوں نے اپنے چچا کو سنا جو نبی اکرمﷺ کے صحابی ہیں وہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرمﷺ نماز استقاء ادا کرنے کےلیے تشریف لے گئے اور آپﷺ نے لوگوں کی طرف پشت کر لی اور قبلہ کی طرف رُخ کیا‘ اور پھر چادر کو الٹایا اور دو رکعات ادا کیں۔

عَمَّهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ أَنَّهُ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Hadith 2866

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ اِلاسْتِسْقَاءِ · حديث 2867

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ بِأَسْفَلِهَا فَيَجْعَلُهُ أَعْلَاهَا فَلَمَّا ثَقُلَتْ عَلَيْهِ قَلْبِهَا على عاتقه1. [4:5]

عباد بن تمیم اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نے بارش کی دعا مانگتے ہوئے سیاہ چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے اس کے نیچے والے حصے کو اوپر کرنا چاہا جب ایسا کرنا آپﷺ کےلیے دشوار ہوا‘ تو آپﷺ نے اپنے کندھے پر ہی اسے الٹ دیا۔

عَمِّہٖ ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2867

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr