صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 521
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ قُرَّةَ بْنِ مُوسَى الْهُجَيْمِيِّ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جابر الْهُجَيْمِيِّ [عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الهُجَيْمي] 1قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْتَبٌ فِي بُرْدَةٍ لَهُ وَإِنَّ هُدْبَهَا لَعَلَى قَدَمَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ "عَلَيْكَ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَقِي وَتُكَلِّمَ أَخَاكَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَلَا يُحِبُّهَا اللَّهُ وَإِنِ امْرُؤٌ عَيَّرَكَ بِشَيْءٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِشَيْءٍ تَعْلَمُهُ مِنْهُ دَعْهُ يَكُونُ وَبَالُهُ عَلَيْهِ وَأَجْرُهُ لَكَ وَلَا تَسُبَّنَّ شَيْئًا قَالَ فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ دَابَّةً ولا إنسانا 2 ".
حضرت سلیم بن جابر ہجیمی ؓ بیان کرتے ہیں :میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ اس وقت اپنی چادر کو احتباء کے طور پر لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کا پلو آپ کے پاؤں پر تھا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور تم کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو ( خواہ وہ نیکی یہ ہو ) کہ تم اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے کے برتن میں انڈیل دو‘ یا اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے مل لو اور تم تہبند لٹکانے سے بچو ‘ کیونکہ یہ تکبر کی علامات میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا اور اگر کوئی شخص تمہیں کسی ایسی خامی کے حوالے سے عارد لائے جس کے بارے میں اسے یہ علم ہو کہ یہ خامی تمہارے اندر موجود ہے ‘ تو تم اسے کسی ایسی چیز کے حوالے سے عارنہ دلاؤ جس کے بارے میں تم یہ جانتے ہو کہ یہ چیز اس میں ہے ‘ تو وہ جو کرتا ہے تم اسے کرنے دو ‘ اس کا وبال اس کے ذمے ہو گا اور تمہیں تمہارا اجر مل جائے گا اور تم کسی کو برا ہرگز نہ کہنا‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد میں نے کبھی کسی جانور یا انسان کو برا نہیں کہا۔ ( امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’تم پر اللہ تعالیٰ سے ڈرنا لازم ہے ‘‘۔ یہ ایک ایسا حکم ہے ‘ جو تمام مخاطب لوگوں پر فرض ہے کہ وہ تمام حالتوں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں‘ جبکہ اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے شخص کے ڈول میں پانی انڈیل دینا یا اپنے مسلمان بھائی سے بات چیت کرتے وقت اسے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ایسے فعل ہیں‘ جن کا حکم دینے کا مقصد استحباب ہے ‘ اور مقصد ثواب کا حصول ہے۔
سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الْهُجَيْمِيِّ ← سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الْهُجَيْمِيِّ ← قُرَّةُ بْنُ مُوسَى الْهُجَيْمِيُّ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ، بِالْبَصْرَةِ،
Hadith 521
