Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 521

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ قُرَّةَ بْنِ مُوسَى الْهُجَيْمِيِّ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جابر الْهُجَيْمِيِّ [عَنْ سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الهُجَيْمي] 1قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْتَبٌ فِي بُرْدَةٍ لَهُ وَإِنَّ هُدْبَهَا لَعَلَى قَدَمَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ "عَلَيْكَ بِاتِّقَاءِ اللَّهِ وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَقِي وَتُكَلِّمَ أَخَاكَ وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ وَلَا يُحِبُّهَا اللَّهُ وَإِنِ امْرُؤٌ عَيَّرَكَ بِشَيْءٍ يَعْلَمُهُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِشَيْءٍ تَعْلَمُهُ مِنْهُ دَعْهُ يَكُونُ وَبَالُهُ عَلَيْهِ وَأَجْرُهُ لَكَ وَلَا تَسُبَّنَّ شَيْئًا قَالَ فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ دَابَّةً ولا إنسانا 2 ".

حضرت سلیم بن جابر ہجیمی ؓ بیان کرتے ہیں :میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ اس وقت اپنی چادر کو احتباء کے طور پر لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کا پلو آپ کے پاؤں پر تھا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کچھ نصیحت کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور تم کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو ( خواہ وہ نیکی یہ ہو ) کہ تم اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے کے برتن میں انڈیل دو‘ یا اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے مل لو اور تم تہبند لٹکانے سے بچو ‘ کیونکہ یہ تکبر کی علامات میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا اور اگر کوئی شخص تمہیں کسی ایسی خامی کے حوالے سے عارد لائے جس کے بارے میں اسے یہ علم ہو کہ یہ خامی تمہارے اندر موجود ہے ‘ تو تم اسے کسی ایسی چیز کے حوالے سے عارنہ دلاؤ جس کے بارے میں تم یہ جانتے ہو کہ یہ چیز اس میں ہے ‘ تو وہ جو کرتا ہے تم اسے کرنے دو ‘ اس کا وبال اس کے ذمے ہو گا اور تمہیں تمہارا اجر مل جائے گا اور تم کسی کو برا ہرگز نہ کہنا‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد میں نے کبھی کسی جانور یا انسان کو برا نہیں کہا۔ ( امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’تم پر اللہ تعالیٰ سے ڈرنا لازم ہے ‘‘۔ یہ ایک ایسا حکم ہے ‘ جو تمام مخاطب لوگوں پر فرض ہے کہ وہ تمام حالتوں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں‘ جبکہ اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے شخص کے ڈول میں پانی انڈیل دینا یا اپنے مسلمان بھائی سے بات چیت کرتے وقت اسے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنا ایسے فعل ہیں‘ جن کا حکم دینے کا مقصد استحباب ہے ‘ اور مقصد ثواب کا حصول ہے۔

سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الْهُجَيْمِيِّ ← سُلَيْمِ بْنِ جَابِرٍ الْهُجَيْمِيِّ ← قُرَّةُ بْنُ مُوسَى الْهُجَيْمِيُّ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الطَّاحِيُّ الْعَابِدُ، بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 521

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 522

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَعَلِّمْنَا شَيْئًا يَنْفَعُنَا اللَّهُ بِهِ، فقَالَ: «لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَلَوْ أَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ، وَوَجْهُكَ إِلَيْهِ مُنْبَسِطٌ وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ، فَإِنَّهُ مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَلَا يُحِبُّهَا اللَّهُ وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ، فَلَا تَشْتُمْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّ أَجْرَهُ لَكَ، وَوَبَالَهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْأَمْرُ بِتَرْكِ اسْتِحْقَارِ الْمَعْرُوفِ أَمْرٌ قُصِدَ بِهِ الْإِرْشَادُ وَالزَّجْرُ عَنْ إِسْبَالِ الْإِزَارِ زَجْرُ حَتْمٍ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ وَهِيَ الْخُيَلَاءُ، فَمَتَى عُدِمَتِ الْخُيَلَاءُ، لَمْ يَكُنْ بِإسْبَالِ الْإِزَارِ بَأْسٌ وَالزَّجْرُ عَنِ الشَّتِيمَةِ إِذَا شُوتِمَ الْمَرْءُ، زَجْرٌ عَنْهُ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ، وَقَبْلَهُ، وَبَعْدَهُ، وَإِنْ لَمْ يُشْتَمْ. [2: 2]

حضرت ابو جری ہجیمی ؓ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں دیہات کا رہنے والا شخص ہوں۔ آپ ہمیں ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں نفع دے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم کسی بھی نیکی کو حقیر ہرگز نہ سمجھنا ‘ خواہ وہ نیکی یہ ہو کہ تم اپنے ڈول میں سے پانی مانگنے والے کے برتن میں پانی انڈیل دو ۔ خواہ وہ نیکی یہ ہو کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے مل لو او ر مت تہبند کو لٹکانے سے بچنا ‘ کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا اور اگر کوئی شخص کسی ایسی چیز کے حوالے سے تمہیں برا کہے ‘ جس کے بارے میں وہ یہ جانتا ہے کہ یہ خامی تمہارے اندرہے ‘ تو تم ایسی چیز کے حوالے سے اس کو برا نہ کہنا جس کے بارے میں تم یہ جانتے ہو کہ یہ خامی اس کے اندر ہے ۔تمہارا اجر تمہیں مل جائے گا اور اس کا وبال اس شخص پر ہو گا‘ جس نے وہ بات کہی ہے‘‘۔ (امان ابن حبان فرماتے ہیں: ) نیکی کو حقیر نہ سمجھنے کا حکم ہونا ییہ ایک ایسا امر ہے ‘ جس کے ذریعے رہنمائی کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے ‘ اور تہبند کو لٹکانے سے ممانعت کا حکم ایک لازم حکم ہے ‘ جو ایک متعین علت کی وجہ سے ہے ‘ اور وہ تکبر کرنا ہے ‘ تو جب تکبر کرنے کے علت معدوم ہو ‘ تو تہبند کو لٹکانے میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ اور جب آدمی کو برا کہا جائے ‘‘ تو اس وقت برا کہنے سے ممانعت کا حکم ایسا ہے ‘ جو اس وقت کے لئے بھی ہے اس سے پہلے کے لئے بھی ہے ‘ اور اس کے بعد کے لئے بھی ہے ‘ اگرچہ آدمی کو برا نہ کہا گیا ہو۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← أَبُو جُرَيٍّ الْهُجَيْمِيُّ، ← عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 522

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 523

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ بِالْأَهْوَازِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَوْذَةَ بْنِ خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ فَإِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا وَاغْرِفْ لجيرانك منها" 2. [1: 2]

حضرت ابو ذر غفاری ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’تم کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھنا ‘ خواہ وہ نیکی یہ ہو کہ تم اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملو اور جب تم شوربا بناؤ ‘ تو اس میںپانی زیادہ ڈال دو اور اس میں سے اپنے پڑوسیوں کو بھی ( شوربا بھجوا دو) ‘‘۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَوْذَةَ بْنِ خَلِيفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ بِالْأَهْوَازِ

Hadith 523

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 524

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ حدثنا بن وَهْبٍ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ. عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَرَادَ سَفَرًا فقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ "اعْبُدِ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ زِدْنِي قَالَ إِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي قَالَ اسْتَقِمْ وليحسن خلقك" 1.

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل ؓ نے سفر پر جانے کا ارادہ کیا ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ﷺ ! آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! مزید عطا کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم استقامت اختیار کرو اور تمہارے اخلاق اچھے ہونے چاہئیں۔

إِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ زِدْنِي ← "اعْبُدِ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوْصِنِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَرَادَ سَفَرًا ← أَبِيهِ ← حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ ← بن وَهْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 524

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 525

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قُدَيْدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى أَكُونُ مُحْسِنًا قَالَ "إِذَا قَالَ جِيرَانُكَ أَنْتَ مُحْسِنٌ فَأَنْتَ مُحْسِنٌ وَإِذَا قَالُوا إنك مسيء فأنت مسيء" 1. [3: 66]

حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اچھائی کرنے والا کب شمار ہوں گا؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جب تمہارا پڑوسی یہ کہے کہ تم اچھے ہو‘ تو تم اچھے ہو گے اور لوگ یہ کہیں گے کہ تم برے ہو ‘ تو تم برے ہو۔

رَجُلٌ: ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبُو قُدَيْدٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 525

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 526

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ قَالَ "إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أسأت" 1. [3: 65]

حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتےہیں : ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ بات کیسے جان سکتا ہوں کہ میں نے اچھائی کی ہے یا میں نے برائی کی ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جب تم اپنے پڑوسی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھائی کی ہے ‘ تو اس کا مطلب ہے تم نے اچھائی کی ہے اور جب تم ان لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے برائی کی ہے‘ تو اس کامطلب ہے تم نے برائی کی ہے۔

«إِذَا ← رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ، بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 526

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 527

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ فقَالَ رَجُلٌ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يؤمن شره" 2. [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ سے سنا: ’’ کیا میں تم لوگوں کو تمہارے بروں کے مقابلے میں تمہارے اچھے لوگوں کے بارے میں بتاؤں ؟ ایک شخص نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا تم میں زیادہ بہتر لوگ وہ ہیں ‘جن سے بھلائی کی امید کی جاتی ہے اور جن کی برائی سے محفوظ رہا جاتا ہے اور تمہارے برے لوگ وہ ہیں ‘جن سے بھلائی کی امید نہیں کی جاتی اور جن کی برائی سے محفوظ نہیں رہا جاتا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 527

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 528

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ فقَالَ "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ قَالَ فَسَكَتُوا قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فقَالَ رَجُلٌ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا قَالَ خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يرجى خيره ولا يؤمن شره" 1. [3: 66]

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتےہیں: نبی اکرمﷺ کچھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس رک کے اور ارشاد فرمایا : میں تمہیں تمہارے اچھے یا برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ۔ راوی بیان کرتےہیں : وہ کچھ دیر خاموش رہے، نبی اکرمﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ تو ایک صاحب نے عرض کی : جی ہاں‘ یا رسول اللہ ! آپ ہمیں ہمارے برے اوراچھوں کے بارے میں بتائیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں ‘ جن سے بھلائی کی امید کی جاتی ہے اور جن کی برائی سے محفوظ رہا جاتا اور تم میں سے برے لوگ وہ ہیں ‘جن سے بھلائی کی امید نہیں کی جاتی اور جن کی برائی سے محفوظ نہیں رہا جاتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 528

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 529

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ نَوْفَلٍ بِمَرْوَ بِقَرْيَةِ سِنْجَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ أبيهذكر بَيَانِ الصَّدَقَةِ لِلْمَرْءِ بِإرْشَادِ الضَّالِّ وَهِدَايَةِ غَيْرِ الْبَصِيرِ [529] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ نَوْفَلٍ بِمَرْوَ بِقَرْيَةِ سِنْجَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ اَبِیْ ذَرِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَبَسُّمُکَ فِیْ وَجْہِ اَخِیکَ صَدَقَۃٌ لَکَ رَاَمْرُکَ بِالْمعرُوفِ وَنَھْیُکَ عَنِ الْمُنْکِرِ صَدَقَۃٌ وَاِرْشَادُکَ الرَّجُلَ فِیْ اَرْضِ الصَّلَالَۃِ لَکَ صَدَقَۃٌ وَبَصَرُکَ لِلرَّجُلِ الرَّدِیءِ الْبَصَرِلَکَ صَدَقَۃٌ وَاِمَا طَتُکَ الْحَجَرَ َالشَّوْکَۃَ وَالْعَظْمَ عَنِ الطِّرِیْقِ لَکَ صَدَقَۃٌ وَاِفْرَغُکَ مِنْ دَلْوِکَ فِیْ دَلْوِ أخیک لک صدقۃ

حضرت ابو ذر غفاری ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’تمہارا اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا تمہارے لئے صدقہ ہے ۔ تمہارا نیکی کا حکم دینا تمہارا برائی سے منع کرنا صدقہ ہے۔ تمہارا اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا تمہارے لئے صدقہ ہے یا جس شخص کی نگاہ کمزور ہو تمہارا اسے راستہ دکھا دینا ، تمہارے لئے صدقہ ہے اور تمہارا راستے سے کانٹے یا پتھر یا ہڈی کو ہٹا دینا تمہارے لئے صدقہ ہے اور تمہارا پنے ڈول میں سے اپنے بھائی کے ڈول میں ( پانی ڈال دینا تمہارے لئے صدقہ ہے ) ‘‘

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ نَوْفَلٍ بِمَرْوَ بِقَرْيَةِ سِنْجَ ← أبيهذكر بَيَانِ الصَّدَقَةِ لِلْمَرْءِ بِإرْشَادِ الضَّالِّ وَهِدَايَةِ غَيْرِ الْبَصِيرِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ نَوْفَلٍ بِمَرْوَ بِقَرْيَةِ سِنْجَ

Hadith 529

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 530

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ وَجَمَاعَةٌ قَالُوا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامٍ الْغَسَّانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنْ كَانَ وُصْلَةً لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ فِي مَبْلَغِ بِرٍّ أَوْ تَيْسِيرِ عُسْرٍ أَجَازَهُ اللَّهُ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةَ عِنْدَ دَحْضِ الْأَقْدَامِ" 2. لَفْظُ الْخَبَرِ لِابْنِ قُتَيْبَةَ قاله الشيخ.

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’جو شخص کسی حاکم کےسامنے ‘ اپنے کسی مسلمان بھائی تک بھلائی پہنچائے یا تنگی کو آسان کرنے‘ کا ذریعہ بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے پل صراط سے پار کروا دے گا‘ جس دن قدم ڈگمگا جائیں گے‘‘۔ روایت کے یہ الفاظ ابن قتیبہ کے نقل کردہ ہیں ۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامٍ الْغَسَّانَيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ وَجَمَاعَةٌ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Hadith 530

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 531

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عن بن أبي بردة عن أبيه عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّیْ اُوتَی فَاُسْاَلُ وَیُطْلَبُ اِلَیَّ الْحَاجَۃُ وَاَنْتُمْ عِنْدِیْ فَاشْفَعُوا فَلْتُؤْ جَرُوْا وَیَقْضِی اللہُ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّہِ مَا اَحَبَّ أوماشاء قَالَ الشَّیْخُ بْنُ اَبِیْ بُرْدَۃَ فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ اَرَادَ بِہٖ بِن بن اَبِیْ بُرْدَۃَ

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ بیشک مجھے ( مال و دولت ) عطا کیا گیا ہے اس لئے مجھ سے مانگا جاتا ہے اور مجھ سے حاجت طلب کی جاتی ہے اور تم لوگ میرے پاس ہوتے ہو‘ تم لوگ سفارش کیا کرو تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے زبانی جو چیز پسند کرتا ہے اور جوچاہتا ہے فیصلہ سنا دیتا ہے‘‘۔ شیخ کہتے ہیں: ابن ابو بردہ نامی راوی ‘جو اس روایت میں مذکور ہیں اس سے مراد ابن ابو بردہ کے صاحبزادے ہیں۔ا مام ابو حاتم فرماتے ہیں یہ برید بن عبد اللہ بن ابو بردہ بن حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ہیں۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِيهِ ← بن أبي بردة ← الثَّوْرِيُّ ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ أَبُو عَمْرٍو

Hadith 531

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ فَصْلٌؒ مِنَ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ · حديث 532

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أبو عاصم عن بن جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ "لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْقِيهِ فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ" 1. [3: 65]

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتےہیں : ہم میں سے ایک شخص کو بچھو نےکاٹ لیا ۔ ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے۔ ایک صاحب نے عرض کی : میں اسے دم کر دوں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو جو نفع پہنچا سکتا ہو‘ اسے وہ کر لینا چاہئے‘‘۔

"لَدَغَتْ رَجُلًا مِنَّا عَقْرَبٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فقَالَ رَجُلٌ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Hadith 532

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr