Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 720

أَخْبَرَنَا بن قتيبة حدثنا بن أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا فَوَجَدَ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةَ ذَهَبٍ فقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ خُذْ ذَهَبَكَ عَنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ أَرْضًا وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ ذَهَبًا وَقَالَ الَّذِي بَاعَ الْأَرْضَ إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا قَالَ فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ فقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ أَلَكُمَا وَلَدٌ فقَالَ أَحَدُهُمَا غُلَامٌ وقَالَ الْآخَرُ جَارِيَةٌ فقَالَ أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا وَتَصَدَّقَا" 1. [1: 6]

حضرت ابو ہریرہ ؓ ‘ روایت کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ ایک شخص نے دوسرے شخص سے ایک زمین خریدی اس نے جو زمین خریدی تھی اس زمین میں اس نے سونےکا ایک مٹکا پایا ‘ تو اس نے اس شخص سے یہ کہا ‘ جس سے اس نے ی زمین خردی تھی کہ تم اپنا یہ سونا مجھ سے لے لو میں نے تم سے زمین خریدی تھی میں نے تم سے سونا نہیں خریدا جس شخص نے زمین فروخت کی تھی اس نے یہ کہا کہ میں نے تمہیں زمین اور اس میں موجود ساری چیزیں فروخت کر دی تھیں۔ نبی اکرم فرماتے ہیں ان دونوں نےایک تیسرے شخص کو اپنا ثالث مقرر کیا ‘ تو جس شخص کی ثالث مقرر کیا تھا اس نے دریافت کیا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سےایک نے کہا : میرا بیٹا ہے ۔ دوسرے نے کہا : میری بیٹی ہے اس شخص نے کہا : تم اس لڑکے کا نکاح اس لڑکی کے ساتھ کر دو اور اس ( دولت ) کو اپنے اوپر بھی خرچ کرو اورصدقہ بھی کرو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← بن قتيبة

Hadith 720

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 721

أخبرنا محمد بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يزيد بن زريع حدثنا بن عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيَّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ وَرُبَّمَا قَالَ مُتَشَابِهَةٌ وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلًا إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمَهُ وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى وَرُبَّمَا قَالَ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يَرْتَعَ وَإِنَّ مَنْ خَالَطَ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أن يجسر" 1. [3: 28]

حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ حلال واضح ہے اور حرام بھی وا ضح ہے اور ان کےد رمیان کچھ مشتبہ امور ہیں۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) میں تمہارے سامنے اس کی مثال بیان کرتا ہوں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ کی چراگاہ ہی چراگاہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں ‘ تو جو شخص چراگاہ کے ادر گرد جانور چرانے کی کوشش کرتا ہے ‘ تو ہو سکتا ہے وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جائیں( بعض اوقات راوی نے یہ الفاظ استعمال کئے) جو شخص چراگاہ کےارد گرد جانور چراتا ہے ‘ توآ گے جا کر وہ چراگاہ کے اندر چرنے لگ پڑتے ہیں ‘ تو جو شخص مشکوک چیزوں کے ساتھ ملاپ اختیار کرتا ہے وہگے چل کر اسے عبور بھی کر لیتا ہے‘‘۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← بن عون ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← محمد بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 721

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 722

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَدِّثْكَ بِهِ أَحَدٌ قَالَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ "دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يريبك" قال " الخير طمأنينة والشر ريبة".ذِكْرُ الزَّجْرِ عَمَّا يُرِيبُ الْمَرْءَ مِنْ أَسْبَابِ هَذِهِ الدُّنْيَا الْفَانِيَةِ الزَّائِلَةِ [722] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَدِّثْكَ بِهِ أَحَدٌ قَالَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ "دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ" قَالَ " الْخَيْرُ طُمَأْنِينَةٌ وَالشَّرُّ رِيبَةٌ". وَاُتِیَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَیْءٍ مِّنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَاَخَذْتُ تَمْرَۃً فَاَلْقَیْتُھَا فِیْ فِیْ فَاَخَذَھَا بِلْعَابِھَا حَتّٰی اَعَادَھَا فِی التَّمْرِ فَقِیْلَ لَہٗ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا کَانَ عَلَیْکَ مِنْ ھٰذِہِ التَّمْرَۃِ مِنْ ھٰذَا الصَّبِیِّ فقَالَ: اِنَّا اٰلَ مُحَمَّدٍ لَا یَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ وَسَمِعقتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُوْ بِھٰذَا الدُّعَاءِ: اَللہُمَّ اھْدِنَا فِیمَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنَا فِیمَنْ عَافِیْتَ وَتَوَلَّنَا فِیمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لَنَا فِیمَا اَعْطَیْتَ وَقِنَا شَرَّمَا قَضَیْتَ اِنَّکَ تَقْضِی وَلَا یُقْضَی عَلَیْکَ اِنَّہٗ لا یذل من والیت تبارکت وتعالیت۔(23:2)

ابو حوراء سعدی بیان کرتےہیں: میں نے حضرت امام حسن ؓ سے کہا : آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سن کر یار رکھی ہو ‘ وہ کسی اور نے آپ کو نہ سنائی ہو‘ تو حضرت امام حسن ؓ نے بتایا : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ تم اس چیز کو چھوڑ دو ‘ جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہے اور اس چیز کی طرف جاؤ جو تمہیں شک میں مبتلانہیں کرتی ہے ‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے یہ بار ت ارشاد فرمائی ہے: ’’ بھلائی اطمینان ہوتا ہے اور برائی مشکوک ہوتی ہے ‘‘۔ ( حضرت امام حسنؓ نے یہ بھی بتایا ) ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں صدقے کی کچھ کھجوریں پیش کی گئیں میں نے ان میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس کھجور کو پکڑا اس کا لعاب لیا اور واپس اس کھجور میں ڈال دیا۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ! اس بچے نے جو کھجور لی تھی اس کے حوالے سے آپ کو ‘ تو کوئی نقصان نہیں ہوتا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ہمارے ‘ آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔ (حضرت امام حسنؓ نے یہ بات بھی بتائی) میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے اللہ ! جنہیں ‘ تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی ہدایت پر ثابت قدم رکھ ! جنہیں ‘ تو نے عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی عافیت عطا کر ‘ جب کو تونگران بنا ہے ان میں سے ہمارا بھی نگران بن ‘ ہمیں تو نے جو کچھ عطا کیا ہے ان میں ہمارے لئے برکت رکھ د ے اور جو تونے فیصلہ کیا ہے ‘ اس کے شر سے ہمیں بچا لے۔ بیشک تو فیصلہ دیتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں دیا جاسکتا ‘ جس کا تو نگران ہو ‘ وہ رسوا نہیں ہو سکتا ‘ تو برکت والا اور بلند وبرتر ہے‘‘۔

أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← شُعْبَةُ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 722

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 723

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا محمد بن يزيد1 الرفاعي حدثنا بن فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو2 عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيًّا فَأَكْرَمَهُ فقَالَ لَهُ ائْتِنَا فَأَتَاهُ فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "سَلْ حَاجَتَكَ" قَالَ نَاقَةٌ نَرْكَبُهَا وَأَعْنُزٌ يَحْلِبُهَا أَهْلِي فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ" قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ "إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا سَارَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ مِصْرَ ضَلُّوا الطَّرِيقَ فقَالَ مَا هَذَا فقَالَ عُلَمَاؤُهُمْ إِنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لَا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا قَالَ فَمَنْ يَعْلَمُ مَوْضِعَ قبره قال عَجُوْزٌ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیلَ فَبَعَتْ اِلَیْھَا فَاَتَتْہُ فقَالَ دُلِّینِیْ عَلٰی قَبْرِ یُوْسُفَ قَالَتْ حَتّٰی تُعْطِیَنِیْ حُکْمِی قَالَ وَمَا حُکْمُکِ قَالَتْ اَکُونُ مَعَکَ فِی الْجَنَّۃِ فَکَرِہَ اَنْ یُّعْطِیَھَا ذٰلِکَ فَاَوْحَی اللہُ اِلَیْہِ اَنْ اَعْطِھَا حُکْمُھَا فَانْطَلَقَتْ بِھِمْ اِلٰی بُحَیْرَۃٍ مَوْضِعِ مُسْتَنْقَعِ مَاءٍ فَقَالَتْ اَنْضِبُوا ھٰذَا الْمَاءَ فَاَنْضَبُوہُ فَقَالَتْ احْتَفِرُوْا فَاحْتَفَرُوْا فَاسْتَخْرَجُوا عِظَامَ یُوْسُفَ فَلَمَّا اَقَلُّو ھَا اِلَی الْاَرْضِ وإذا الطریق مثل ضوء النھار۔(6:3)

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتےہی : نبی اکرمﷺ ایک دیہاتی کے پاس تشریف لائے اس نے آپ کی عزت افزائی کی ‘ نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا : اسے ہمارے پاس لے کےآؤ وہ آپ کی خدمت میں آیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس سے دریافت کیا : اپنی حاجت طلب کرو ۔ اس نے عرض کی : ایک اونٹنی چاہئے جس پہ ہم سور ہو سکیں اور کچھ بکریاں چاہئیں جن کا دودھ میرے گھر والے دوہ لیا کریں ‘ تو نبی ارکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اتنے عاجز ہو گئے ہو کہ تم بنی اسرائیل کی بوڑھیوں کی مانند بھی نہیں ہو سکتے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بنی اسرائیل کی بوڑھیوں کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی ارکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جب موسیٰ ؑبنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے روانہ ہوئے ‘ تو وہ لوگ راستہ بھول گئے۔ حضرت موسیٰ نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ‘ تو ان کے علماء نے بتایا : حضرت یوسفؑ کے انتقال کا وقت جب قریب آیا تھا ‘ تو انہوں نے اللہ کی طرف سے ہم سے یہ پختہ عہد لیا تھا کہ جب ہم لوگ مصر سے نکلیں گے‘ تو اپنے ساتھ ان کی میت بھی ساتھ لے کے جائیں گے۔ حضرت موسیٰ ؒ نے دریافت کیا: ان کی قبر کی جگہ کو کون جانتا ہے‘ تو اس شخص نے بتایا بھی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی ایک بوڑھی عورت حضرت موسیٰؑ نے اس عورت کو بلوایا وہ عورت آپ کے پاس آئی حضرت موسیٰ ؑ نے کہا : تم حضرت یوسف ؑ کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو۔ اس عورت نے کہا :جب تک آپ مجھے میرا معاوضہ نہیں دیں دے گے۔ ( میں ایسا نہیں کروں گی)حضرت موسیٰ ؑ نے دریافت کیا : تمہارا معاضہ کیا ہے۔ اس نے جواب دیا : یہ کہ میں جنت میں آپﷺ کے ساتھ ہوں ‘ تو حضرت موسیٰؑؑ کو یہ بات اچھی نہیں گلی کہ اسے یہ بات کہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کی طرف یہ وحی کی کہ وہ جو مانگ رہی ہے وہ اسے دیو‘ پھر وہ عورت ان لوگوں کو لے کر ایک جگہ پر آئی جہاں سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ عورت نے کہا : اس پانی کو بند کر دو ‘ ان لوگوں نے پانی کو بند کر دیا۔ اس عورت نے کہا : اب اسے کھولو ان لوگوں نے اسے کھلولا‘تو وہاں سے حضرت یوسف ؑ کی ہڈیاں نکل آئیں جب وہ اس سر زمین کی طرف واپس آئے ‘ تو راستہ یوں تھا جیسے دن کی روشنی ہوتی ہے۔

نَاقَةٌ نَرْكَبُهَا وَأَعْنُزٌ يَحْلِبُهَا أَهْلِي ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ "سَلْ حَاجَتَكَ" ← لَهُ ائْتِنَا فَأَتَاهُ ← أَتَى النَّبِيُّ أَعْرَابِيًّا فَأَكْرَمَهُ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يُونُسَ بْنِ عَمْرِو ← بن فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 723

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 724

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قال حدثنا المقرىء قَالَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِي الصَّلَاةِ لِمَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ وَهُمْ أَصْحَابُ الصُّفَّةِ حَتَّى يَقُولَ الْأَعْرَابُ إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمَجَانِينَ فَإِذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: "لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ لَأَحْبَبْتُمْ أَنْ تَزْدَادُوا فَاقَةً وَحَاجَةً" 2. قَالَ فَضَالَةُ وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يومئذ.

حضرت فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ جب لوگوں کونماز پڑھا دہے ہوتےتھے ‘ تو بعض لوگ بھوک کی شدت کی وجہ سے نماز کے دوران گر پڑا کرتے تھے ‘ یہااہل صفہ تھے ‘جہاں تک کہ دیہاتی یہ کہا کرتےتھے : یہ لوگ پاگل ہیں جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم لوگوں کو ی بات پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارا کیا اجر وثواب ہے ‘ تو تم لوگ اس بات کو پسند کرو گے کہ تمہارے فاقہ اور بھوک میں اضافہ ہو جائے ‘‘۔ حضرت فضالہؓ بیان کرتے ہیں:اس دن میں بھی نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھا۔

أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← المقرىء ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 724

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 725

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حدثنا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَّاءُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ وَالْيَدُ الْأُخْرَى الْقَبْضُ يرفع ويخفض وعرشه على الماء" 1.

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اور دن میں مسلسل خرچ کرنا اس میں کوئی کمی نہیں کرتا کیا تم نے یہ بات بوٹ نہیں کی ہے کہ جس دن سے اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس دن سے خرچ کر رہا ہے اور اس چیز نے اس کے ہاتھ میں موجود چیز میں کوئی کمی نہیں کی ہے ‘ جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ قبض کرنے والا ہے وہ بلندی اور پستی عطا کرتا ہے اور اس کا عرش پانی پر ہے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ان روایات کو اس قسم میں مطلق طور پر ذکر کیا گیا ہے ‘ جو شخص علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا وہ اس غلط فہمی کا شکار ہوا کہ محدثین عظام مشبہہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں حالانکہ ہم اس بات سےاللہ کی پناہ مانگتے ہیں ‘ کہ محدثین میں سے کسی ایک کے ذہن میں بھی اس کے حوالے سے خیال آیا ہو۔ لیکن یہ روایات اللہ تعالیٰ کی صفات کے لئے مثالی الفاظ کے ہمراہ اسی طرح مطلق طور پر منقول ہیں ‘ جو لوگوں کے آپس کے محاورے کے مطابق ہیں ۔ ان میں اللہ تعالیٰ کی صفات کی کیفیت بیان نہیں کی گئی ہے۔ ہمارا پروردگار اس بات سے بلند و برتر ہے کہ اسے مخلوق میں سے کسی چیز کے مشابہ قرار دیا جائے ‘ یا اس کی صفات میں سے کسی صفت کی کیفیت بیان کی جائے ‘ کیونکہ اس کی مانند اور کوئی چیز نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 725

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 726

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الْأَشْعَثِ بِسَمَرْقَنْدَ وَيَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بِبُخَارَى قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حَيَّانَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "دَخَلَتْ أُمَّةٌ الْجَنَّةَ بِقَضِّها وَقَضِيضِهَا كَانُوا لَا يكتوون ولا يسترقون وعلى ربهم يتوكلون" 1. [3: 6]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ ایک امت ساری کی ساری اس وجہ سے جنت میں داخل ہو گئی وہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے ‘جھاڑ پھونک نہیں کرتے تھے اور اپنے پروردگار پر توکل رکھتے تھے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ وَاقِدٍ ← شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حَيَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الْأَشْعَثِ بِسَمَرْقَنْدَ وَيَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بِبُخَارَى

Hadith 726

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 727

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عن وهب بن خالد عن بن الديلمي قال: ذِكْرُ الْإِخْبَارِ عَمَّا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ تَسْلِيمِ الْأَشْيَاءِ إِلَى بَارِئِهِ جَلَّ وَعَلَا [727] أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عن وهب بن خالد عن بن الديلمي قال: اَتَیْتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبِ فَقُلْتُ لَہٗ وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ شَیْءٌ مِنَ الْقَدَرِ فَحَدِّثْنِیْ بِشَیْءٍ لَعَلَّہُ اَنْ یَّذْھَبَ مَنْ قَلْبِیْ فقَالَ اِنَّ اللہَ لَوْ عَذَّبَ اَھْلَ سَمَاوَاتِہٖ وَاَھْلَ اَرْضِہِ عَذَّبَھُمْ غَیْرَ ظَالِمٍ لَھُمْ وَلَوْ رَحِمَھُمْ کَانَتْ اَنَّ مَا اَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لَیُخْطِئَکَ وَاَنَّ مَا أخطئک لَمْ یَکُنْ یِیُصِیْبَکَ وَلَوْمُتَّ عَلٰی غَیْرِ ھٰذَا لَدَخَلْتَ النَّارَ قِالَ ثُمَّ اَتَیْتُ عَبْدَ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فقَالَ مِثْلَ قَوْلِہٖ ثُمَّ اَتَیْتُ حُزَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ فقَالَ مِثْلَ قَوْلِہٖ ثُمَّ اَتَیْتُ زَیْدَبْنَ ثَابِتٍ فَحَدَّثَنِیْ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذٰلِکَ۔(66:3)

ابن دیلمی بیان کرتے ہیں :میں حضرت ابی بن کعبؓ کی خٰدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے کہا: میرے ذہن میں تقدیر کے حوالے سےکچھ الجھن ہے ‘ تو آپ مجھے کوئی حدیث بیان کیجئے تاکہ اس کے ذریعے سے میرے ذہن کی یہ الجھن ختم ہو جائے ‘ تو حضرت ابی بن کعب ؓ نے فرمایا : ’’اگر اللہ تعالیٰ آسمانوں کے رہنے والے اور زمین کے رہنے والے تمام لوگوں کو عذاب دیدے ‘ تو وہ انہیں عذاب دیتے ہوئے ان کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں ہو گا اور اگر وہ ان سب پر رحم کر دے‘تو اس کی رحمت ان لوگوں کے لئے ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے ‘ اگر تم اللہ کی راہ میں اُحد پہاڑ جتنا خرچ کرو ‘ تو بھی اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے اسے اس وقت تک قبول نہیں کرے گا ‘ جب تک تم تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے اور تم یہ بات جان نہیں لیتے کہ جو صورت حال تمہیں لاحق ہوئی وہ تمہیں لاحق ہو کے رہنی تھی اور جو صورتحال تمہیں لا حق نہیں ہوئی ہے وہ تمہیں کبھی لا حق نہیں ہونی تھی اگر تم اس کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مرو گے ‘ تو تم جہنم میں جاؤ گے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہٰیں :پھر میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو انہوں نے بھی اس کی مانند الفاظ بن ثابت ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ تو انہوں نے نبی اکرمﷺ کے حولاے سے اسی کی مانند حدیث مجھے بیان کی۔

بن الديلمي ← وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبِي سِنَانٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 727

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 728

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ لَا يَقْضِي اللَّهُ لَهُ شَيْئًا إلا كان خيرا له" 1. [3: 66]

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا : ’’ مجھے مومن کے معاملے پر حیرت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں جو بھی فیصلہ دیتا ہے ‘ وہاس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَعْلَبَةَ بْنِ عَاصِمٍ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 728

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 729

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ لَقَدْ کَانَ اٰلُ مُحَمَّدٍ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرَوْفَ ثَلَاثَۃَ اَشْھُرٍ مَا یَسْتَوْقِدُوْنَ فِیْہِ بِنَارٍ مَا ھُوَ اِلَّا الْمَاءُ وَالتَّمْرُ وَکَانَ حَوْلَنَا اَھْلُ دُورٍ مِّنْ الْاَنْصَارِ لَھُمْ دَوَاجِنُ فِیْ حَوَائِطِھِمْ فَکَانَ اَھْلُ کُلِّ دَارٍ یَبْعَثُونَ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِغَزِیرِ شَاتِھِمْ فَکَانَ لِرَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ ذٰلِکَ اللبن۔(27:5)

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : حضرت محمد ﷺ کے گھر والوں کو تین مہینے بعض اوقات ایسے گز ر جاتے تھے کہ اس دوران وہ آگ نہیں جلا پاتے تھے۔۔ ان کی خوراک صرف پانی اور کھجور ہوتی تھی۔ ہمارے ارد گرد انصار کے کچھ گھرانے تھے جن کے باغات میں ان کی بکریاں ہوتی تھیں ‘ تو بعض اوقات ان میں سے کسی گھرانے کے لوگ اپنی بکریوں کا تازہ دودھ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں بھجوا دیا کرتے تھے ‘ تو نبی اکرمﷺ اس دودھ کو پہ لیا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 729

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 730

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا المقرىء عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَوْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمُ اللَّهُ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خماصا وتعود بطانا" 1. [3: 66]

حضرت عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں :میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اس طرح توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے ‘ تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے گا‘ جس طرح پرندوں کو رزق دیتا ہے ‘ جو صبح کے وقت خالی پیٹ جاتے ہیں اور پیٹ بھر کر واپس آ جاتے ہیں ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ← عبد الله بن هبيرة ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← المقرىء ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 730

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 731

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرْسِلُ نَاقَتِي وَأَتَوَكَّلُ؟ قال: "اعقلها وتوكل" 1.

جعفر بن عمروبن امیہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی کیا میں اپنی اونٹنی کو کھول کر توکل کروں ‘ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اسے باندھ کر توکل کرو۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) یعقوب نامی یہ راوی یعقوب بن عمرو بن عبد اللہ بن عمرو بن امیہ ضمری ہے ۔ یہ اہل حجاز سے تعلق رکھتےہیں ۔ مشہور اور مامون ہیں۔

"اعقلها وتوكل" ← رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ أُرْسِلُ نَاقَتِي وَأَتَوَكَّلُ؟ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 731

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr