صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ · حديث 1754
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قَالَ: "إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ النِّدَاءَ فَإِذَا قُضِيَ2 النِّدَاءُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرْ حَتَّى يُصَلِّيَ الرَّجُلُ لا يدري كم صلى" 3. [3: 66]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب نماز کیلئے اذان دی جاتی ہے، تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اس کی ہوا خارج ہورہی ہوتی ہے (وہ اتنی دور چلا جاتا ہے) یہاں تک کہ اسے اذان کی آواز نہیں آتی ہے۔ جب اذان مکمل ہوجاتی ہے، تو پھر وہ آجاتا ہے، پھر جب نماز کے لیے اقامت کیلئے آتی ہے وہ پھر پیٹھ کر چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اقامت مکمل ہوجاتی ہے، تو وہ پھر آجاتا ہے۔ آدمی کے ذہن میں خیالات پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے تم فلاں چیز کو یاد کرو۔ تم اس چیز کو یاد کرو وہ چیز جو ویسے اسے یاد نہیں آتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آدمی نماز ادا کر رہا ہوتا ہے (تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے) کہ اسے پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the description of prayer · Hadith 1754
