Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2526

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: «لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ سَفَرٍ» (1) . [5: 15]

عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ ؓ سے دریافت کیا: نبی اکرمﷺ چاشت کے وقت نماز ادا کیا کرتے تھے تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں البتہ اگر آپ سفر سے آتے تھے(تو اس موقع پر اس وقت میں نماز ادا کر لیتے تھے)

«لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ سَفَرٍ» ← قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي الضُّحَى؟ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← کهمس بن الحسن ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2526

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2527

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَتْ: «لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ» قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا؟ قَالَتْ: «نَعَمْ، بَعْدَمَا حَطَمَهُ السِّنُّ» قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّوَرِ؟ قَالَتْ: «نَعَمْ، مِنَ الْمُفَصَّلِ» قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَتْ: «وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» (1) . [5: 15]

عبداللہ بن شقیق ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ ؓ سے دریافت کیا: نبی اکرمﷺ چاشت کے وقت نماز ادا کیا کرتے تھے تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں البتہ اگر آپ سفر سے آتے تھے (تو اس موقع پر اس وقت نماز ادا کرلیتے تھے) میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ بیٹھ کر نماز ادا کرتے تھے انہوں نے فرمایا: جی ہاں! جب آپ کی عمر زیادہ ہوگئی (تو آپ بیٹھ کر نماز ادا کرلیتے تھے) میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ سورتیں ملا کر پڑھتے تھے انہوں نے جواب دیا: جی ہاں !آپ مفصل سورتیں (ملاکر) پڑھتے تھے میں نے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ رمضان کے مہینے کے علاوہ کسی اور متعین مہینے میں روزے رکھتے تھے ۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم ! نبی اکرمﷺ رمضان کے علاوہ کسی بھی متعین مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور نہ ہی آپ نے کبھی کسی مہینے کے روزے چھوڑے ہیں یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

قلت لعائشة هل كان رسول الله يصلي الضحى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2527

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2528

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَقْدُمَ مِنْ غَيْبَةٍ» (1) . [5: 15] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «نَفْيُ ابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَقْدُمَ مِنْ سَفَرٍ أَوْ مَغِيبِهِ، أَرَادَ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ بِحَضْرَةِ النَّاسِ دُونَ الْبَيْتِ، وَذَاكَ أَنَّ مِنْ خُلُقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ، فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، فَكَانَ أَكْثَرُ قُدُومِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ مِنَ الْأَسْفَارِ وَالْغَزَوَاتِ كَانَ ضُحًى مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، وَنَهَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ چاشت کی نماز صرف اس وقت ادا کرتے تھے جب آپ سفر سے تشریف لاتے تھے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے نبی اکرمﷺ کے چاشت کی نماز ادا کرنے کی نفی کی ہے ۔ البتہ جب آپ سفر سے واپس لاتے تھےیا(شہر سے ) غیر حاضری کے بعد واپس تشریف لاتے تھے (تو اس کا حکم مختلف ہے) آپ کا مقصد یہ ہوتاتھا کہ آپ لوگوں کو مسجد میں مل لیں نہ کہ گھر پر ملیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کے اخلاق میں یہ بات شامل تھی کہ جب آپ سفر سے واپس تشریف لاتے تھے ۔ تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے تھے۔ وہاں دورکعات ادا کرتے تھے۔ تو نبی اکرمﷺ اکثر کسی سفر سے یا غزوہ سے چاشت کے وقت تشریف لاتے تھے جو دن کا ابتدائی حصہ ہوتا تھا۔ اور نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے۔ کہ کوئی شخص رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس (طویل غیر حاضری کے بعد) چلا جائے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2528

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2529

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، وَابْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ الرِّشْكُ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: «نَعَمْ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ (1) وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ» (2) . [5: 15] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِثْبَاتُ عَائِشَةَ صَلَاةَ الضُّحَى لِلْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَتْ بِهِ فِي الْبَيْتِ دُونَ مَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ، لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَفْضَلُ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ» (3) .

معاذہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ ؓ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ چاشت کی نماز ادا کرتے تھے ۔ انہوں نے فرمایا: جی ہاں ! آپ چار رکعات ادا کرتے تھے اور جو اللہ کو منظور ہوتا تھا مزید ادا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) سیّدہ عائشہ ؓ نے نبی اکرمﷺ کے چاشت کی نماز ادا کرنے کے اثبات کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے ان کی مراد گھر ہے۔ باجماعت نماز والی مسجد مراد نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ تمہاری نمازوں میں سب سے افضل نماز وہ ہے جو تم اپنے گھر میں ادا کرو۔ البتہ فرض نماز کا حکم مختلف ہے۔

سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللهِ يُصَلِّي الضُّحَى؟ ← مُعَاذَةَ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← اَبُو الْوَلِیْدِ وَابْنُ کَثِیْرِ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2529

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2530

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ حَتَّى كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَامٍ وَاحِدٍ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَيُرَتِّلُ السُّورَةَ حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا» (1) . [5: 15]

نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ سیّدہ حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو کبھی بھی بیٹھ کر نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کے وصال سے ایک سال پہلے میں نے آپ کو دیکھا آپ بیٹھ کر نوافل ادا کررہے تھے آپ سورۃ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے سے لمبی سورۃ سے بھی زیادہ طویل محسوس ہوتی تھی۔

الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2530

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2531

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي، فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ» (2) . [5: 15]

سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف لائے آپ نے چاشت کے وقت آٹھ رکعات ادا کی۔

«دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ بَيْتِي، فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ» ← عَائِشَةَ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2531

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2532

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ: «مَا (1) كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى» ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُسَبِّحُهَا، وَكَانَتْ تَقُولُ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ كَثِيرًا مِنَ الْعَمَلِ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ» (2) . [5: 15]

سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ چاشت کی نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ سیّدہ عائشہ ؓ یہ نماز ادا کیا کرتی تھیں وہ یہ بیان کرتی تھیں نبی اکرمﷺ نے بہت سے عمل اس لئے چھوڑدیئے تھے آپ کو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں لوگ ان کو سنت کے طور پر اختیار نہ کرلیں اور پھر وہ ان پر فرض نہ ہوجائیں۔

الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2532

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2533

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ بُرْدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ: «يَا ابْنَ آدَمَ، صَلِّ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ» (1) . [1: 2]

حضرت نعیم بن ہمار غطفانی ؓ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اے آدم کے بیٹے ! تم دن کے ابتدائی حصے میں میرے لئے چار رکعات ادا کرو میں اس کے آخری حصے میں تمہاری کفایت کروں گا۔

«يَا ابْنَ آدَمَ، صَلِّ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ» ← رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ، ← قَيْسٍ الْجُذَامِيِّ، ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← بُرْدًا، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2533

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2534

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنَا دُحَيْمٌ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ قَالَ: «يَا ابْنَ آدَمَ، صَلِّ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوَّلَ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ» (1) . [1: 2]

حضرت نعیم بن ہمار غطفانی ؓ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اے آدم کے بیٹے! تم دن کے ابتدائی حصے میں میرے لئے چار رکعات ادا کرو میں اس کے آخری حصے میں تمہاری کفایت کروگا۔

«يَا ابْنَ آدَمَ، صَلِّ لِي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوَّلَ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ» ← رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنَّهُ ← النَّبِيِّ ← نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ الْغَطَفَانِيِّ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← دُحَيْمٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2534

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2535

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَأَعْظَمُوا الْغَنِيمَةَ وَأَسْرَعُوا الْكَرَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَأَيْنَا بَعْثَ قَوْمٍ أَسْرَعَ كَرَّةً، وَلَا أَعْظَمَ غَنِيمَةً، مِنْ هَذَا الْبَعْثِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَسْرَعَ كَرَّةً وَأَعْظَمَ غَنِيمَةً مِنْ هَذَا الْبَعْثِ؟ رَجُلٌ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ تَحَمَّلَ (2) إِلَى الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ، ثُمَّ عَقَّبَ بِصَلَاةِ الضُّحَى، فَقَدْ أَسْرَعَ الْكَرَّةَ، وَأَعْظَمَ الْغَنِيمَةَ» (3) . [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک مہم روانہ کی انہیں بہت سا مال غنیمت ملا اور وہ لوگ جلدی بھی واپس آگئے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں نے کبھی بھی کوئی ایسی مہم نہیں دیکھی جو اتنی جلدی واپس آگئی ہو، جسےاتنا زیادہ مال غنیمت ملا ہو جتنا اس مہم کو ملا ہے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اس مہم سے زیادہ تیزی سے واپس آنے اور زیادہ مال غنیمت حاصل کرنے کے بارے میں بتاؤں؟ ایک شخص اپنے گھر میں اچھی طرح وضو کرے پھر وہ مسجد جائے وہاں صبح کی نماز ادا کرے پھر اس کے بعد(وہ وہیں بیٹھا رہے اور پھر) چاشت کی نماز ادا کرے تو وہ شخص جلدی بھی واپس آجاتا ہے اور اسے زیادہ مال غنیمت بھی حاصل ہوتاہے۔

بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ بَعْثًا فَأَعْظَمُوا الْغَنِيمَةَ وَأَسْرَعُوا الْكَرَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2535

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2536

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: «الْوِتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصَلَاةُ الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ، وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ» (1) . [1: 2]

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان رتے ہیں: میرے خلیل حضرت ابو القاسم ﷺ نے مجھے تین چیزوں کی تلقین کی تھی سونے سے پہلے وتر ادا کرنے کی چاشت کے وقت دو رکعات ادا کرنے کی اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2536

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِیْ صَلَاۃِ الضُّحَی · حديث 2537

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ (1) بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُرَّةَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَ أُمَّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجَرْتُ حَمَوَيَّ، فَزَعَمَ ابْنُ أُمِّي، تَعْنِي عَلِيًّا، أَنَّهُ قَاتِلُهُ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ» ، قَالَتْ: وَصَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبٍ عَلَيْهِ، وَخَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ (2) . [1: 2]

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: میں نے ابومرہ کو دیکھا ہے وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھے انہیں سیّدہ اُمّ ہانی ؓ کی زیارت کا شرف حاصل تھا وہ سیّدہ اُمّ ہانی ؓ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، وہ بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے اپنے دو دیوروں کو پناہ دی ہے اور میرے بھائی یعنی حضرت علی ؓ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں سیّدہ اُمّ ہانی ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ام ہانی جسےتم نے پناہ دی ہے ہم بھی اسے پناہ دیتے ہیں۔ سیّدہ اُمّ ہانی ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے پانی انڈیلا اور غسل کیا، پھر کپڑے کو لحاف کے طور پر لپیٹ لیا اس کے کنارے مخالف سمت میں (کندھوں) پر ڈال لئے پھر آپ نے چاشت کے وقت آٹھ رکعات ادا کی۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَامَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: ← أُمِّ هَانِئٍ ← كَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَ أُمَّ هَانِئٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُرَّةَ، ← أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › A chapter in the sacrifice’s prayer · Hadith 2537

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr