Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 1

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِاللہِ الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَاھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍقَلَ حَدَّثَنَاعَبْدُالْحَمِیْدِبْنُ اَبِیْ الْعِشْرِیْنَ قَالَ حَدَّثَنَاالْاوْزَاعِیُّ عَنْ قُرَّۃَ عَنِ الزُّھْرَیِّ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کُلُّ اَمْرٍذِیْ بَالٍ لَا یُبْدَاُفِیْہِ بِحَمْدِاللہِ فَھُوَ اَقْطَعُ

حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم ﷺنےارشاد فرمایا ہے: ملا علی قاری تحریر کرتے ہیں:’’ ذی بال سے مراد شان اہر اعتباروالا کام ہے‘ جس کے اختتام پر اچھے اچھے انجام کی امید ہو۔ ویسے لفظ’’بال‘‘ کا مطلب ’’حال‘‘اور’’شان‘‘ہے اور ’’امرِ ذی بال‘‘ سےمراد اشرف والا کام ہے۔(مرقا ۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح‘کتابالنکاح‘باب اعلان النکاح) ’’ ہر وہ کام جس کا آغاز اللہ تعا لیٰ کی حمد کے ساتھ نہ کیاجائے وہ نا مکمل ہوتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← قُرَّۃَ ← حَدَّثَنَاالْاوْزَاعِیُّ ← حَدَّثَنَاھِشَامُ بْنُ عَمَّارٍقَلَ حَدَّثَنَاعَبْدُالْحَمِیْدِبْنُ اَبِیْ الْعِشْرِیْنَ ← الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِاللہِ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 1

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 2

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیْدَ الْقَطَّانُ اَبُوْ عَلِیِّ بِالرِّقَّۃِ قَالَ حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارِ قَالَ حَدَّثَنَاشْعَیْبُ بْنُ اِسْحَاقَ عَنِ الْاوْزَاعِیِّ عَنْ قُرَّۃَ عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ُلُّ اَمْرِذِیْ بَالِ لَا یُبْدَاُفِیْہِ بِحَمْدِ اللہِ فَھُوَ اَقْطَعُ

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ ہر وہ کام جس کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ نہ کیا جائے ‘ وہ نا مکمل ہوتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← قُرَّۃَ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← حَدَّثَنَاشْعَیْبُ بْنُ اِسْحَاقَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَزِیْدَ الْقَطَّانُ اَبُوْ عَلِیِّ بِالرِّقَّۃِ

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 2

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 3

اَخْبَرَ نَا اَبُوْ یَعْلٰی حَدَّثَنَااَبُوْکُرَیْبِ حَدَّثَنَا اَبُوْاُسَامَۃَ حَدَّثَنَایُرَیْدٌ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ مَثَلِیْ وَمَثَلَ مَابَعَثَنِی اللہُ بِہٖ کَمَثَلِ رَجُلِ اَتَی قَوْمَہُ فَقَالَ یَا قَوْمِ اِنِّیْ رَاَیْتُ الْجَیْشَ وَاِنِّیْ اَنَا النَّذِیرُفَاطَ اعَہٗ طَائِفَۃٌ مِنْ قَوْمِہٖ فَا نْطَلَقُوْاعَلٰی مَھْلِھِمْ فَنَجَوْاوَکَذَّبَہُ طَائِفَۃٌ مِنْھُمْ فَاَصْبَحُوامَکَانَھُمْ فَصَبَّحَھُمْ الْجَیْشُ وَاَھْلَکُھْم وَاجْتَاحَھُمْ فَذٰلِکَ مَثَلُ مَنْ اَطَاعَنِیْ وَاتَّبَعَ مَاجِئتُ بِہٖ وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِیْ وَکَذَّبَ مَاجِئتُ بِہٖ مِنَ الْحَقِّ

’’ بے شک میری مثال اور جس چیز کے ہمراہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے‘اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے‘جو اپنی قوم کے پاس آتا ہے‘ اور یہ کہتا ہے :اے میری قوم ! میں نے ایک لشکر دیکھا ہے‘ اور میں ڈرانے والا ہوں (یعنی تم لوٖگوں کو خبر دار کر رہا ہوں)‘ تو اس کی قوم کا ایک گروہ اس کی اطاعت کر لیتا ہے‘ اور وہ لوگ اس دوران چپکے سے چلے جاتے ہیں اور نجات پا لیتے ہیں‘ جبکہ ایک گروہ اس کی تکذیب کرتا ہے۔ وہ لوگ اپنی جگہ رہتے ہیں اور صبح کے وقت دشمن ان پرحملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیتا ہے‘ اور انہیں تباہ و برباد کر دیتا ہے‘ تو یہ اس شخص کی مثال ہے‘ جو میری اطاعت کرتا ہے‘ اور جو میں لے کہ آیا ہوں اس کی پیروی کرتا ہے‘ اور اس شخص کی مثال ہے‘ جو میری نافرمانی کرتا ہے‘اور میں جس حق کو لے کہ آیا ہوں‘ وہ اسے جھٹلاتا ہے‘‘۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نبی اکرم ﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں:

یَا قَوْمِ اِنِّیْ رَاَیْتُ الْجَیْشَ وَاِنِّیْ ← اِنَّ مَثَلِیْ وَمَثَلَ مَابَعَثَنِی اللہُ بِہٖ کَمَثَلِ رَجُلِ اَتَی قَوْمَہُ ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← اَبُوْاُسَامَۃَ حَدَّثَنَایُرَیْدٌ ← اَبُوْ یَعْلٰی حَدَّثَنَااَبُوْکُرَیْبِ ← اَخْبَرَ

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 3

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 4

وَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ مَثَلَ مَااٰتَانِی اللہُ مِنَ الْھُدَی وَالْعِلْمِ کَمَثَلِ غَیْثٍ اَصَابَ اَرْضًافَکَانَتْ مِنْھَا طَائفَۃٌطَیّبَۃٌ قَبِلَتْ ذٰلِکَ فَاَنْبَتَتَ الْکَلَاوَالْعُشْبَ الْکَثِیْرَوَاَمْسَکَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللہُ بِھَاالنَّاسَ فَشَرِبُوامِنْھَا وَسَقَوْاوَزَرَعُواوَاَصَابَ مِنْھَا طَاِئفَۃٌ اُخْریٰ اِنَّمَاھِیَ قِیْعَانٌ لَا تُمْسِکْ مَا ًٔ وَلَاتُنْبِتُ کَلَٔاً فَذٰالِکَ مَثَلُ مَنْ فَقُہَ فِیْ دِیْنِ اللہِ وَنَفَعَہٗ مَابَعَثَنِی اللہُ بِہٖ فَعَلِمَ وَعَمِلَ وَمََثَلُ مَنْ لَمْ یَرْفَعْ بِذٰلِکَ رَاْساً وَلَمْ یَقْبَلْ ھُدَی اللہِ الَّذِیْ اُرْسِلْتُ بِہ

یہ بارش زمین کے ایک اور حصے پر بھی ہوتی ہے ‘ جو چٹیل میدان ہونا ہے ‘ وہ پانی کو روک نہیں سکتا اور گھاس اگا نہیں سکنا ‘ تو یہ اس شخص کی مثال ہے ‘ جو اللہ کے دین کا فہم حاصل کر لیتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے جس چیز کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس چیز کے ذریعے نفع دے دیتا ہے ‘وہ شخص علم حاصل کرتا ہے ‘ اور اس شخص کی مثال ہے‘ جو اس کے لئے سر نہیں اٹھاتا ( یعنی اس کی طرف توجہ نہیں کرتا) اور اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو قبول نہیں کرتا ‘ جس کے ہمراہ مجھے بھیجا گیا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم عطا کیا ہے ‘ اس کی مثال بارش کی طرح ہے ‘ جو کسی سر زمین پر ہوتی ہے ‘ اس زمین کا کچھ حصہ پاکیزہ ہوتا ہے ‘ ہو اسے قبول کر لیتا ہے ‘ اہر بہت زیادہ گھاس پھوس اور چارہ اگا دیتا ہے یا ہو پانی کو روک لیتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے لوگوں کو نفع دیتا ہے ‘ وہ لوگ اس میں سے خود بھی پیتے ہیں۔(جانوروں وغیرہ) کو بھی پلاتے ہیں اور کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں۔

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 4

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 5

اَخْبَرَنَااَحْمَدُ بْنُ مُکْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَاعَلِیُّ بْنُ الْمَدِیْنِیّ حَدَّثَنَاالولید بن مسلم حدثناثور بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ثُوْرُبْنُ یَزِیْدَ حَدَّثَنِیْ خَالِدْبْنُ مَعْدَانَ حَدَّثَنِیْ عَبْدُالَّرحْمٰنِ بْن عَمْرٍوالسُّلَمِیُّ وَحُجْرُبْنُ حُجْرٍالْکَلَاعِیُّ قَالَا اَتَیْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِیَۃَ وَھُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِیْہِ (وَلاعَلَی الَّذِیْنَ اِذَامَااَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَااَجِدُ مَا اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ) (التوبۃ :92) فَسَلَّمْنَاوَقُلْنَا اَتَیْنِاکَ زَائِرَیْنَ وَمُقْتَبِسَیْنِ فَقَالَ الْعِرْبَاضُ : صَلّٰ بِنَارَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ذَاتَ َیَوْمٍ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا َفَوَعَظَنَامَوْعِظَۃً بَلِیغَۃً ذَرَفَتْ مِنْھَا ْلْعُیُوْنُ وَوَجِلَتْ مِنْھَا الْقُلُوبُ فَقَالَ قَائلٌ یَارَسُولَ اللہِ کَاَنَّ ھٰذِہِ مَوْعِظَۃَ مُوَدِّعِ فَمَاذَاتَعْھَدُاِلَیْنَاقَالَ : اُوصَیکُمْ بِتَقْوَی اللہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَاِنْ عَبْدًا حَبَشِیًّامُجَدَّعًافَاِنَّہٗ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ فَسَیِرٰی اخْتِلَافًاکَثِیْرًا فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَا ِٔ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّبنَ فَتَمَسَّکُوابِھَاوَعَضُّواعَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِوَاِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِفَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔(3:6)

عبدالرحمٰن بن عمر و سلمی اور حجر بن حجر کلاعی بنان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت عرباض بن ساریہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے‘یہ وہ صاحب ہیں‘جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: ’’اور نہ ہی ان لوگوں پر کہ جب وہ تمہارے پاس آئے تاکہ تم ان کو سواری کے لئے جانور دو‘ تو تم نے کہا:مجھے وہ چیز نہیں ملتی جو میں تمہیں سواری کے لئے دوں‘‘۔ وم نے انہیں سلام کیا اور ہم نے یہ کہا: ہم آپ کی زیارت کرنے کے لئے اور آپ سے فیض یاب ہونے کے لئے آئے ہیں‘ تو حضرت عرباض نے فرمایا : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ہمیں بلیغ و عظ کیا جس کے نتیجے میں آنکھوں سے آنسوں جاری ہو گئے اور دل لرز گئے۔ تم میں سے جو شخص (زیادہ عرصے تک) زندہ رہے گا‘ وہ عنقریب بہت زیادہ اختلاف دیکھ لے گا۔ ایک صاحب نے عرض کی: ےارسول اللہ! یہ الوداعی و عظ محسوس ہونا ہے‘ تو آپ ہمیں کس چیز کی تلقین کرتے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی۔(حاکم وقت کی)اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی تلقین کرتا ہوںا‘ اگرچہ وہ (حاکم) کوئی ایسا حبشی غلام ہو‘ جس کے اطراف (یعنی کان یا ناک) کٹے ہوئے ہوں۔ (تو ایسی صورتحال میں) تم لوگوں پر میری سنت اور ہدایت یافتہ اور ہدایت کا مرکز خلفا ٔ کی سنت کی پیروی کرنا لازم ہے‘ تم لوگ اسے مضبوطی سے تھام لینا اور اچھی طرح پکڑ لینا اور تم نئے پیدا ہونے والے امور سے بچنا‘ کیونکہ ہر نئی پیدا ہونے والی چیز بدعت گمراہی ہے ‘اور ہر گمراہی ہے‘‘۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کے یہ الفاظ ’’تو تم پر میری سنت کو اختیار کرنا لازم ہے‘‘ یہ اس صورتحال کے بارے میں ہیں جب آپ نے اس اختلاف کا ذکر کیا، جوآپ کی امت میں پیدا ہو گا، تو یہ اس مات کا واضح بیان ہے، ھو شخص سنت پر مواطبت (یعنی باقاعدگی سے اس پر عمل ) اختیار کرے گا۔ اس ( سنت ) کے مطابق رائے دے گا۔ اس ( سنت ) کی بجائے دوسری آراء جو آگے نہیں کرے گا، تو ایسا شخص قیامت کے دن نجات پانے والے گروہ میں سے ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے تحت ہمیں بھی ان میں شامل رکھے۔

عَبْدُالَّرحْمٰنِ بْن عَمْرٍوالسُّلَمِیُّ وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍالْکَلَاعِیُّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ،

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 5

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 6

اَخْبَرَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ الْعُمَرِیُّ بِالْمَوْصِلِ حَدَّثَنَا معَلّٰی بْنُ مَھْدِیٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ اَبِیْ وَائلٍ۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَا لَ خَطَّ لَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطَّا فَقَالَ: ھٰذَا سَبِیْلُ اللہِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوْطًاعَنْ یَّمِیَنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہٖ ثُمَّ قَالَ : وَھٰذِہِ سُبُلٌ عَلٰی کُلِّ سَبِیْلِ مِّنْھَا شَیْطَانٌ یَدْعُوْ اِلَیْہِ ثُمَّ تَلَا( وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیْمًا ) الی اٰخرالآ یۃ

حضرت عبداللہ مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے ، پھر آپ ﷺ نے اس لکیر کے دائیں طرف اور بائیں طرف کچھ اور لکیریں کھینچیں ‘ پھر آپ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی:یہ مختلف راستے ہیں‘ جن میں سے ہر ایک راستے پر ایک شیطان بیٹھا ہوا ہے ‘ جو اس راستے کی طرف دعوت دیتا ہے‘‘۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ’’بے شک یہ میرا راستہ ہے‘ جو مستقیم ہے۔‘‘ یہ آیت آپ ﷺ نے آخر تک تلاوت کی۔

شِمَالِہٖ ثُمَّ ← ھٰذَا سَبِیْلُ اللہِ ثُمَّ خَطَّ خُطُوْطًاعَنْ یَّمِیَنِہٖ ← ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَا لَ خَطَّ لَنَا رَسُوْلُ اللہِ خَطَّا ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعُمَرِيُّ بِالْمَوْصِلِ

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 6

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 7

اَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِا لْفُسْطَاطِ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْن مسکین قال حدثنا بن وَھْبٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ۔عَنِ انْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ خَطَّ لَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُطُوْطًا عَنْ یَّمِیْنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہٖ وَقَالَ: ھٰذِہِ سُبُلٌ عَلٰی کُلِّ سَبِیْلٍ مّنْھَا شَیْطَانٌ یَدْعُوْلَہٗ ثُمَّ قَرَاَ ( وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیْمًا فَا تَّبِعُوْہُ وَلا تَتَّبِعُوالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہِ ) الآیۃ کلھا

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی ‘ جس کے دائیں طرف اور بائیں طرف کچھ اور لکیریں بھی کھینچی تھیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ مختلف راستے ہیں ‘ ان میں سے ہر ایک راستے پر شیطان بیٹھا ہوا ہے‘جو اس راستے کی طرف دعوت دیناہے‘‘ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ’’بے شک یہ میرا راستہ ہے‘جو مستقیم ہے۔تو تم اس کی پیروی کرو اور تم مختلف راستوں کی پیروی نہ کرو‘ورنہ تم لوگوں کو اس کے راستے سے بھٹکا دے گا‘‘۔ یہ مکمل آیت ہے۔

اَبِیْ وَائِلٍ۔عَنِ انْنِ مَسْعُوْدٍ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← بن وَهْبٍ ← الحارث بن مسكين ← عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِا لْفُسْطَاطِ

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 7

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 8

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍالْمُقَدَّمِیُّ حَدَّثَنَامُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ اَنَّ اَعْرَابِیًّا سَاَلَ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَانُوْاھُمْ اَجْدَرَاَنْ یَّسْاَلُوہُ مِنْ اَصْحَابِہٖ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ مَتَی السَّاعَۃُ ؟ قَالَ : وَمَا اَعْدَدْتَ لَھَا ؟قَالَ: مَا اَعْدَدْتُ لَھَا اِلَّا اَنِّیْ اُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ قَالَ: فَاِنَّکَ مَعَ مِنْ اَحْبَیْتَ قَالَ اَنَسٌ : فَمَارَاَیْتُ الْمُسْلِمِیْنَ فَرِحُوابِشَیْ ٍٔ بَعْدَ البِإِسْلَامُ اَشَدُّ مِنْ فَرْحِھِمْ بِقَوْلِہٖ۔(3:65)

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نےنبی اکرم ﷺ سے سوال کیا‘ حالانکہ صحابہ کرام کے لئے یہ زیادہ مناسب تھا کہ وہ نبی اکرمﷺ سے یہ سوال کرتے‘ اس دیہاتی نے عرض کی :یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا:تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ اس دیہاتی نے عرض کی: میں نے اس کے لئے تیاری تو نہیں کی ہے‘البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک تم اس کے ساتھ ہو گے‘ جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سے اس فرمان پر لوگ جتنے خوش ہوئے‘ میں نے انہیں اسلام قبول کرنے کے بعد اور کسی بات پر اتنا خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔

قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍالْمُقَدَّمِیُّ حَدَّثَنَامُعَاذُ بْنُ ھِشَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 8

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 9

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ قَالَ حدثنا بْنُ اَبِیْ السَّرِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ عُرْوَۃَ عَنْ عائشۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْھَا قَالَتْ دَخَلَتِ امْرَاَۃُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنِ وَاسْمُھَا خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمٍ عَلیٰ عَایِشَۃَ وَھِیَ بَذَّۃُ الْھَیْئَۃِ فَسَاَلَتْھَا عَائشَۃُ مَاشَاْنُکِ فَقَالَتْ زَوْجِی یَقُومُ اللَّیْلَ وَیَصُومُ النَّھَارَ فَدَ خَلَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ عَائشَۃُ لَہٗ فَلَقِیَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونِ فَقَالَ :یَا عُثْمَانُ اِنَّ الرَّھْبَانِیَّۃَ لَمْ تُکْتَبْ عَلَیْنَا اَمَا لَکَ فِیَّ اُسْوَۃٔ حَسَنَۃٔ فَوَاللہِ اِنِّیْ لَاَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَحْفَظُکُمْ لِحُدُوْدِہٖ۔(3:66)

یّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: حضرت عثمان بن مظعونؓ کی اہلیہ تشریف لائیں ان کا نام خولہ بنت حکیم تھا۔ وہ سیّدہ عائشہؓ کی خدمت میں آئیں ‘تو ان کی حالت بری تھی سیّدہ عائشہؓ نے ان سے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا: میرے شوہر رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں اور دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہیں۔ (اسی دوران) نبی اکرمﷺ سیّدہ عائشہؓ کے ہاں تشریف لے آئے۔ سیّدہ عائشہؓ نے اس با کا تذکرہ آپ کے سامنے کیا‘ پھر نبی اکرمﷺ کی ملاقات حضرت عثمان بن مظعونؓ سے ہوئی‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’’اے عثمان! ہم پر رہبانیت لازم قرار نہیں دی گئی ہے۔کیا تمہارے لئے میرے طریقے میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ اللہ کی قسم! میں تم سب لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور اس کی حدود کا تم سب سے زیادہ خیال رکھتا ہوں۔‘‘

اسْمُھَا خَوْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمٍ عَلیٰ عَایِشَۃَ وَھِیَ بَذَّۃُ الْھَیْئَۃِ فَسَاَلَتْھَا عَائشَۃُ مَاشَاْنُکِ ← دَخَلَتِ امْرَاَۃُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنِ ← عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← الزُّهْرِيِّ، عُرْوَة ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 9

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 10

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُعَلِیِّ بْنِ الْمُشَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْمَوْصِلِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَھَّابِ الثَّقَفِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُبْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَیْنَاہُ وَعَلَا صَوْتُہٗ وَاشْتَدَّغَضَبُہٗ حَتّٰی کَاَنَّہٗ نَذِیرُ جَیْشٍ یَقُوْلُ :صَبَّحَکُمْ وَیَقُولُ :بُعِشْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃِ کَھَاتَیْنِ یُفَرِّقُ بَیْنَ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی وَیَقُوْلُ :اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللہِ وَخَیْرَ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ وَاِنَّشَرَّالْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُھَا وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ ثُمَّ یَقُوْلُ :اَنَا اَوْلٰی بِکُلِّ مُؤمِنٍ مِّنْ نَّفْسَہٖ مِنْ تَرَکَ مَالًا فَلِاَھْلِہٖ وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا اَوْضَیْعَۃٍ، فَإلَیَّ وَعَلَیَّ۔(3:66)

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ خطبہ دیتے تھے‘ تو آپﷺ کی آنکھیں سرخ ہو جاتی تھیں۔ آپﷺ کی آواز بلند ہو جاتی تھی۔ آپﷺ کا جوش زیادہ ہو جاتا تھا‘ یہاں تک کہ یوں لگتا تھا‘ جیسے کسی لشکر (کے حملے ) سے ڈرا رہے ہیں۔ آپﷺ یہ فرماتے تھے : وہ صبح یا شام کے وقت ( تم پر حملہ کر دے گا ) آپﷺ یہ فرماتے تھے : مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے۔ آپ اپنی شہادت کی اانگلی اور درمیان والی انگلی کے درمیان فرق کرتے تھے اور آپ یہ ارشاد فرماتے تھے : اما بعد! سب سے بہترین کلام‘ اللہ کی کتاب ہے‘ اور سب سے بہترین ہدایت ‘ حضرت محمدﷺ ( کی لائی ہوئی ) ہدایت ہے‘‘۔ بے شک سب سے بر ا کام نیا پیدا شدہ کام ہے‘اور ہر بدعت گراہی ہے۔ نبی اکرمﷺ یہ ارشاد فرماتے تھے: ’’ میں ہر مومن کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں‘ جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا‘ وہ اس کے اہل خانہ کو ملے گا اور و شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا‘ تو وہ میری طرف آئیں گے اور ان کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← أحمد بن إبراهيم الموصلي ← اَحْمَدُعَلِیِّ بْنِ الْمُشَنّٰی

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 10

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 11

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُبْنُ عَلِیِّ بْنُ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْخَیْثَمَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا ھَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعبَۃُ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِحْمٰنِ عَنْ مُجَاھِدٍ۔ عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍوقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؛ اِنَّ لِکُلِّ عَمَلٍ شِرَّۃً وَاِنَّ لِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃً فَمَنْ کَانَتْ شِرَّتُہٗ اِلٰی سُنَّتِیْ فَقَدْ اَفْلَحَ وَمَنْ کَانَتْ شِرَّتُہٗ إلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ فَقَدْ ھَلَکَ۔ (1:89)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ بے شک ہر عمل کی ایک رغبت ہوتی ہے ‘ اور ہر رغبت کی ایک فطرت ہوتی ہے‘ جس شخص کی رغبت میری سنت کی طرف ہو کی وہ کامیاب ہو گیا اور جس شخص کی رغبت اس کی بجائے کسی اور طرف ہو گہ وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا‘‘۔

عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍوقَالَ ← مُجَاهِدٍ ← حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِحْمٰنِ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم ← اَبُوْخَیْثَمَۃَ ← اَحْمَدُبْنُ عَلِیِّ بْنُ الْمُثَنّٰی

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 11

صیح ابن حبان · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 12

اِخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ الْفَضْلِ الْکَلَاعِیُّ بِحِمْصَ حَدَّثَنَا کَثِیْرُبْنُ عُبَیْدٍ الْمَذُحِجِیُّ (حَدَّثَنَا) مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنِ الزُّبَیْدِیِّ عَنْ مَّرْوَانَ بْنِ رُؤْبَۃَ عَنِ بن اَبِیْ عَوْفٍ عِنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یکَرِبَ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ اِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَمَا یَعْدِلُہٗ یوشک شعبان عَلٰی اَرِیْکَتِہٖ اِنْ یَّقُوْلَ بَیْنِیْ وَبَیْنکُمْ ھٰذَا الْکِتَابُ فَمَا کَانَ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ اَحْلَلْنَاہُ وَمَا کَانَ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاہُ اَلَا وَإنَّہٗ لَیْسَ کَذٰلِکَ۔(2:1)

حضرت مقدام بن معدیکربؓ‘ بنی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’مجھے کتاب عطا کی گئی ہے اور وہ چیز (عطا کی گئی ہے ) جو اس کے برابر ہے۔ عنقریب ایسا وقت آئے گا‘ جب ایک سیر (بھرے ہوئے پیٹ والا ) شخص اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر یہ کہے گا: میرے اور تم لوگوں کے درمیان یہ کتاب ( یعنی قرآن مجید ) موجود ہے‘ جو چیز اس میں حلال ہو گی‘ ہم اسے حلال قرار دیں گے اور جو چیز اس میں حرام ہو گی‘ ہم اسے حرام قرار دیں گے۔(نبی اکرمﷺ نے فرمایا ) خبر دار ایسا نہیں ہے۔

اِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَمَا یَعْدِلُہٗ یوشک شعبان عَلٰی اَرِیْکَتِہٖ اِنْ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يکَرِبَ ← بن أبي عوف ← مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← کَثِيْرُبْنُ عُبَيْدٍ الْمَذُحِجِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty › Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty · Hadith 12

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr