Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1164

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ قَالَ: "إذا أنزلت المرأة، فلتغتسل" 1. 57:3

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں ۔ سیدہ ام سلمہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جو خواب میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتے ہیں ( یعنی اسے خواب میں احتلام ہو جاتا ہے ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب عورت کو انزال ہو جائے تو اسے غسل کرنا چاہئے۔

"إذا أنزلت المرأة، فلتغتسل" ← الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ ← أَنَسٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1164

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1165

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ1، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ2 قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ؟ قال: "نعم، إذا رأت الماء" 3. 57:3

سیدہ ام سلمہ ؓکی صاحبزادی سیدہ زینب ؓ ( اپنی والدہ ) سیدہ ام سلمہ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : ابو طلحہ کی اہلیہ ام سلیم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں کرتا اگر عورت کو احتلام ہو جائے ، تو کیا س پر غسل لازم ہو گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہان جبکہ وہ پانی یعنی منی کو دیکھے ( یعنی جب اس کی منی خٓتج ہوئی ہو )

جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَتْ: ← أُمِّ سَلَمَةَ ← زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 1165

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1166

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وهب، قال: أخبرنا يونس، عن بن شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ زَوْجِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ الْأَنْصَارِيَّةَ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فِي النَّوْمِ مَا يَرَى الرَّجُلُ، أَتَغْتَسِلُ أَمْ لَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَغْتَسِلُ"، فَقَالَتْ زَوْجُ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا فَقُلْتُ: أُفٍّ لَكِ، وَهَلْ تَرَى ذَلِكَ الْمَرْأَةُ؟ قَالَتْ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: تربت یمینک فمن أین یکون الشبہ ؟ ۔1:65

عروہ بن زبیر نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں سیدہ ام سلیم انصاریہ ؓ جو حضرت انس بن مالک کی والدہ ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں کرتا ۔ کیا کسی عورت پر ایسی صورت میں غسل واجب ہو گا جب وہ نیند کے دوران پانی دیکھ لیتی ہے ، جس طرح مرد دیکھتا ہے۔ ( اس عورت کو احتلام ہو جاتا ہے ) تو کیا وہ حسل کرے گی یا نہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ غسل کرے گی ۔ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ بیان کرتی ہیں ۔ میں اس عورت کی طرف متوجہ ہوئی میں نے کہا تم پر افسوس ہے۔ کیا کوئی عورت بھی اس طرح کا خواب دیکھتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی زوجہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اس زوجہ طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں پھر ( بچے کی ماں ) کے ساتھ مشابہت کس وجہ سے ہوتی ہے۔

زَوْجِ النَّبِيِّ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ الْأَنْصَارِيَّةَ، وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Hadith 1166

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1167

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَتْ اُمُّ سُلَیْمِ امْرَاَۃُ اَبِیْ طَلْحَۃَ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمِ ، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّ اللہَ لَا یَسْتَحْیِیْ مِنَ الْحَقِّ ، ھَلْ عَلَی الْمَرْاَۃِ مِنْ غُسْلٍ اِذَا ھِیَ احْتَلَمَتْ ؟ قَالَ: نَعَمْ ، اِذَا رَاَتِ الماء۔3:65

سیدہ ام سلمہ ؓ کی صاحب زادی سیدہ زینب ؓ اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ ؓ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : سیدہ ام سلیم ؓ جو حضرت ابو طلحہ انصاری کہ اہلیہ ہیں ۔ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاحر ہوئیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیا نہیں کرتا اگر عورت کو احتلام ہوجائے تو کیا اس پر غسل لازم ہو گا ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ جی ہاں جب کہ وہ پانی دیکھے ( یعنی اس کی منی خارج ہو)

جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ امْرَأَةُ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَتْ: ← أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا ← زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1167

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1168

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بن شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: "الماء من الماء" 2. 57:3

حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " پانی ( یعنی منی کے خروج کی وجہ سے پانی ) پر غسل لازم ہو جاتا ہے ۔"

"الماء من الماء" ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بن شِهَابٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1168

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1169

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَأْتِي الْمَرْأَةَ فَلَا يُنْزِلُ؟ قَالَ: "يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ منه ويتوضأ ويصلي" 1. 57:3

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت ابی بن کعب ؓ نے مجھے یہ بات بتائی ہے وہ کہتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص اپنی بیوی کے پاس آتا ہے ( یعنی اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے ) اور اس شخص کو انزال نہیں ہوتا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عورت کی جو رطوبت اسے لگی ہے وہ دھو لے اور وضو کر کے نماز ادا کر لے۔

قُلْتُ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبُو أَيُّوبَ، ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1169

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1170

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ أَحَدَنَا إِذَا جَامَعَ الْمَرْأَةَ فَأَكْسَلَ وَلَمْ يُمْنِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ليغسل ذكره وأنثييه، وليتوضأ ثم ليصل" 1. 32:4

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ حضرت ابی بن کعب ب کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں ۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نے عرض کی : اس مسئلے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے ، اور اسے انزال نہیں ہوتا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے چاہئے کہ اپنی شرم گاہ اور اپنی خصیوں کو دھو لے اور وضو کر کے نماز ادا کر لے۔

رَسُولُ اللَّهِ ليغسل ذكره وأنثييه، وليتوضأ ثم ليصل" ← قُلْتُ: أَرَأَيْتَ أَحَدَنَا إِذَا جَامَعَ الْمَرْأَةَ فَأَكْسَلَ وَلَمْ يُمْنِ؟ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Hadith 1170

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1171

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمًا حَتَّى مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيْنَ فُلَانٌ؟ " فَدَعَاهُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ مُسْتَعْجِلًا، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: لَعَلَّنَا اَعْجَلْنَاکَ عَنْ حَاجَتِکَ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: اَجَلْ وَاللہِ یَا رُسُوْلَ اللہِ لَقَدْ اُعْجِلْتُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا عَجِلَ اَحَدُکُمْ ، اَوْ اُقْحِطَ ، فَلَا غُسْلَ عَلَیْہِ ، اِنَّمَا علیہ أن یتوضأ۔3:57

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : ایک دن ہم نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ جارہے تھے آپ کا گزر ایک انصاری کے گھر کے پاس سے ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فلاں شخص کہاں ہے؟ راوی کہتے ہیں ہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے اس کو بلوایا وہ شخص جلدی سے اندر باہر آیا اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ ب نے ارشاد فرمایا: شاید ہم نے تمہاری ضرورت کے حوالے سے تمہیں جلدی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس شخص نے عرض کی : جی ہاں ، اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ مجھے جلدی کرنی پڑیتو نبی اکرم ﷺ نے ادشاد فرمایا: کسی کو جلدی سے کوئی کام کرنا ہو تو اسے ( وقت کی ) تنگی ہو ، تو اس پر غسل لازم نہیں ہوتا ۔ اس پر وضو کرنا لازم ہوتا ہے۔

الرَّجُلُ: اَجَلْ وَاللہِ ← حاجتك ← النَّبِيُّ لَعَلَّنَا اَعْجَلْنَاکَ ← النَّبِيُّ "أَيْنَ فُلَانٌ؟ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ مُسْتَعْجِلًا، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، ← خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ، يَوْمًا حَتَّى مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Hadith 1171

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1172

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ فَلَا يُنْزِلُ، فَقَالَ: «لَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ»، ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَأَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ. ، [ص:447] قَالَ أَبُو سَلَمَةَ، وَحَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [4: 32]

حضرت زید بن خالد بیان کرتے ہیں ۔ انہوں نے حضرت عثمان غنی سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو صحبت کرتا ہے اور اسے انزال نہیں ہوتا ، تو حضرت عثمان ؓ نے بتایا ایسے شخص پر غسل لازم نہیں ہوتا پھر حضرت عثامن ؓ نے یہ بات بتائی کہ میں نے یہ بات نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: بعد میں ، میں نے حضرت علی بن ابو طالب ، حضرت زبیر بن عوام ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حجرت ابی بن کعب ؓ سے دریافت کیا ، تو ان حضرات نے بھی اس کی مانند جواب دیا : ابو سلمہ نامی راوی بیان کرتے ہین : عروہ بن زبیر نے یہ بات بتائی ہے ، انہوں نے حضرت ابو ایوب انصاری ؓسے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بھی نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس کی مانند بات بیان کی ۔

مِثْلَ ذَلِکَ۔ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مِثْلَ ذَلِکَ۔ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ← فَسَأَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← عُثْمَانَ، ← «لَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ»، ثُمَّ ← الرَّجُلِ يُجَامِعُ، فَلَا يُنْزِلُ، ← أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ← أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ← أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ← يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1172

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1173

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أول الإسلام، ثم نهي عنها2. 57:3

حضرت ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ؛ پانی کے نتیجے میں پانی ( یعنی منی کے خروج کی صورت میں غسل لازم ہونے کا حکم ) ابتدائے اسلام میں رخصت تھی ، پھر اسے منع کر دیا گیا۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) یہ روایت معمر نے زہری کے حوالے سے بیان کی ہے ، جسے غندر نے نقل کیا ہے۔ وہ یہ کہتے ہیں ، حضرت سہل بن سعد ؓ نے مجھے حدیث بیان کی ہے۔ یہی روایت عمرو بن خضالد نے زہری کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس میں وہ یہ کہتے ہیں ۔ مجھے اس شخص نے وہ حدیث بیان کی ہے جس سے میں راضی ہوں اور اس نے حضرت سہل بن سعد کے حوالے سے یہ روایے نقل کی ہے ۔ تو اس بات کا مکان موجود ہے ، زہری نے یہ روایت حضرت سہل بن سعد سے خود سنی ہو جیسا کہ غندر نے یہ بات بیان کی ہے، اور زہری نے یہ رواکیت کسی ایسے شخص سے سنی ہو ، جس سے وہ راجی تھے اور اس شخص کے حوالے سے حضرت سہل بن سعد سے سنی ہو ۔تو ایک مرتبہ انہوں نے حضرت سہل بن سعد کے حوعالے سے اسے نقل کر دی ہو اور دوسری مرتبہ اس شخص کے حوالے سے حضرت سہل بن سعد سے نقل کیا جس سے وہ راضی تھے۔ میں نے اس روایے کے طرق کی تحقیق کی کہ مجھے کوئین ایسا شخص مل جائے جس نے اس روایت کو حضرت سہل بن سعد کے حوالے سے روایت کیا ہو تو مجھے دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں ملا صرف ابو حازم ایسا شخص ہے ، تو اس بات کا امکان موجود ہے وہ شخص جس کے بارےمیں زہری نے کہا تھا ، مجھے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی ہے، جس سے میں راضی ہوں ۔ اس نے حضرت سہل بن سعد کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے، تو یہ شخص ابو حازم ہو، جس نے حضرت سہل کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہو ۔

إِنَّمَا كَانَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ رُخْصَةً فِي أول الإسلام، ثم نهي عنها2. ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1173

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1174

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إبراهيم، قال: و، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ وَمَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا قَعَدَ قَعَدَ بَیْنَ شُعَبِھَا الْاَرْبَعِ ، ثُمَّ جَھَدَ فَعَلَیْہِ الْغُسْلُ۔

حضرت ابو ہریرہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جب کوئی شخص عورت کے چار شعبوں کے درمیان بیٹھ جائے اور پھر وہ صحبت کرے ، تو اس پر غسل لازم ہو گا ۔"

"إِذَا قَعَدَ قَعَدَ بَیْنَ شُعَبِھَا الْاَرْبَعِ ثُمَّ جَھَدَ فَعَلَیْہِ الْغُسْلُ۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ وَمَطَرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← و، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1174

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْغُسْلِ؎ · حديث 1175

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عبد الله بن كثير القارىء الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عائشة: أنها سُئِلَتْ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ، فَلَا يُنْزِلُ الْمَاءَ، قَالَتْ: فَعَلْتُ ذَلِكَ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى الله عليه وسلم، فاغتسلنا منه جميعاً1. 57:3

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو صحبت کرتا ہے، لیکن اسے انزال نہیں ہوتا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا: میں اور نبی اکرم ﷺ بھی اس طرح کیا کرتے تھے ہم دونوں اس صورت میں غسل کرتے تھے۔

وَرَسُولُ اللَّهِ، فاغتسلنا منه جميعاً1. ← فَعَلْتُ ذَلِكَ ← الرَّجُلِ يُجَامِعُ، فَلَا يُنْزِلُ الْمَاءَ، ← عائشة: أنها سُئِلَتْ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عبد الله بن كثير القارىء الدِّمَشْقِيُّ، ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1175

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr