Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2036

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْشَمَۃَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ عَامِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَادَاوٗدُ بْنُ قَیْسٍ، عَنْ سَعْدُ بْنُ اِسْحَا قَ ، قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبُوْ ثُمَامَۃَ الْحَنَّاطُ، اَنَّ کَعْبَ بْنَ عُجْرَۃَ ، اَدْرَکَہُ وَھُوَ یُزِیْدُ الْمَسْجِدَ، قَالَ: فَوَجَدَنِیْ وَاَنَا مُشَبِّکٌ یَدَیَّ اِحْدَاھُمَا بِالْاُخْرٰی ، قَالَ: فَفَتَقَ یَدَیَّ وَنَھَانِیْ عَنْ ذٰلِکَ ، وَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَاتَوَضَّا اَحَدُکُمْ ، فَاَحْسَنَ وُضُوْئَہُ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا اِلَی الْمَسْجِدِ ، فَلَا یُشَبِّکَنَّ یَدَہٗ فِیْ صَلَاۃٍ

ابو ثمامہ حناظ بیان کرتے ہیں: حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے ان کی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ مسجد میں جا رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: انہوں نے مجھے ایسی حالت میں پایا میں نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے میں پھنسائے ہوئے تھے۔ انہوں نے میرے ہاتھ کھلوادیئے اور مجھے ایسا کرنے سے منع کیا۔ انہوں نے یہ بات بتائی ، نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ جب کوئی شخص وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے اور پھر مسجد کی طرف جانے کے ارادے سے نکلے ، تو وہ اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے میں داخل نہ کرے کیونکہ وہ شخص نماز کی حالت میں شمار ہوتا ہے۔

ذٰلِکَ وَقَالَ: ← فَفَتَقَ یَدَیَّ وَنَھَانِیْ ← فَوَجَدَنِیْ وَاَنَا مُشَبِّکٌ یَدَیَّ اِحْدَاھُمَا بِالْاُخْرٰی ← اَبُوْ ثُمَامَۃَ الْحَنَّاطُ، اَنَّ کَعْبَ بْنَ عُجْرَۃَ اَدْرَکَہُ وَھُوَ یُزِیْدُ الْمَسْجِدَ، ← سَعْدُ بْنُ اِسْحَا قَ ← حَدَّثَنَادَاوٗدُ بْنُ قَیْسٍ، ← أَبُو عَامِرٍ ← اَبُوْ خَیْشَمَۃَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2036

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2037

اَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَیْمَۃَ، حَدَّثَنَا عَبْدَ ۃُ بْنُ عَبْدِ اللہِ، حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ھَارُوْنَ اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ غَدَا اِلَی الْمَسْجِدِ ، اَوْ رَاحَ، اَعَدَّ لَہٗ نُزُلًا فِی الْجَنَّۃِ کُلَّمَا غَدَا اَوْ رَاحَ

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں:نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جوشخص صبح کے وقت یا اور شام کے وقت مسجد جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں مہمانی تیار کرتا ہے، جب بھی وہ صبح کے وقت یا شام کے وقت جاتاہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدَ ۃُ بْنُ عَبْدِ اللہِ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 2037

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2038

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، اَنَّ اَبَا عُشَّاثَہُ اَنَّہُ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ، یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْقَاعِدُ عَلَی الصَّلَاۃِ کَالْقَانِتِ ، وَیُکْتَبُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ مَنْ حِیْنِ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہٖ حَتّٰی یَرْجِعَ اِلٰی بَیْتِہٖ۔

حضرت عقبہ بن عمرو ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: نماز کا بیٹھ کر انتظار کرنے والا شخص نماز پرھنے والے کی مانند ہے اور نمازی جب اپنے گھر سے نکلتا ہے، تو اس کے گھر واپس آنے تک اس کے لئے ثواب نوٹ کیا جاتاہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ اَنَّ اَبَا عُشَّاثَہُ اَنَّہُ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 2038

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2039

اَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَیْبَۃَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ، حَدَّثَنِیْ حُیَیُّ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْمَعَافِرِیُّ، عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیِّ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ رَاحَ اِلٰی مَسْجِدِ جَمَاعَۃٍ، فَخُطْوَتَاہُ خُطْوَۃٌ تَمْحُو سَیِّئَۃً ، وَخَطْوَۃٌ تکْتُبُ حَسَنَۃً، ذَاھِبًاوَرَاجِعًا

حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: جو شخص نماز باجماعت کے ساتھ والی مسجد میں جاتاہے ، تو اس کے دوقدموں میں سے ایک قدم کسی گناہ کو مٹاتاہے اور ایک قدم نیکی کو نوٹ کرتاہے۔ اس شخص کے جاتے ہوئے بھی اور واپس آتے ہوئے بھی ایسا ہوتاہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حُیَیُّ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْمَعَافِرِیُّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 2039

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2040

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیْفَۃَ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدٍ، عَنْ یَّحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ، عَنِ التَّیْمِیِّ، عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ ، عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، قَالَ: کَانَ رَجُلٌ لَا اَعْلَمُ اَحَدًا مَنْ اَھْلِ الْمَدِینَۃِ مِمَّنْ یُصَلِّیْ الْقِبْلَۃَ یَشْھَدُ الصَّلَاۃَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَبْعَدَ جِوَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْہُ ، فَقِیلَ: لَوِ ابْتَعْتَ حِمَارًا تَرْکَبُہُ فِی الرَّمْضَاءِ ، اَوِ الظَّلْمَاءِ، فَقَالَ: مَا یَسُرُّنِیْ اَنَّ مَنْزِلِی بِلِزْقِ الْمَسْجِدِ ، فَذُکِرَ ذٰلِکَ للنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَنْطَاکَ اللہُ ذٰلِکَ کُلَّہُ، اَوْ اَعْطَاکَ اللہُ مَا احْتَسَبْتَ

حضرت ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص تھا میرے علم کے مطابق اہل مدینہ میں سے، قبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرنے والوں میں سے ، جو لوگ نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں شامل ہوتے تھے۔ ان میں سے اس شخص سے زیادہ کسی اور کا گھر مسجد سے زیادہ دور نہیں تھا۔ اسے یہ کہا گیا اگر تم ایک گدھا خرید لو جس پر تم سوار ہو کر سردی اور گرمی کے موسم میں (مسجد) آیا کرو (تو یہ مناسب ہوگا) اس نے کہا : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے، میرا گھر مسجد کے بالکل ساتھ ہو۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا گیا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ سب تمہیں عطا کرے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جس ثواب کی تم نے امید رکھی ہے اللہ تعالیٰ وہ تمہیں عطا کرے گا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← التَّيْمِيِّ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 2040

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2041

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ، حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ ، عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ، عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ، عَنْ اُبِیِّ بْنِ کَعْبِ ، قَالَ: کَانَ رَجُلٌ اَعْلَمُ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ مِنْ اَھْلِ الْمَدِینَۃِ مِمَّنْ یُصَلِّیْ الْقِبْلَۃَ جِوَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذٰلِکَ الرَّجُلِ، قَالَ: قُلُتُ: لَوْ اَنَّکَ اشْتَرَیْتَ حِمَارًا تَرْکَبُہُ فِی الظَّلْمَاءِ ، اَوِ الرَّمْضَاءِ؟ فَقَالَ: فَنَمَاالْحَدِیْثُ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَسَالَہٗ ، فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللہِ اَرَدْتُ اَنْ یُکْتَبَ لِی اِقْبَالِی اِذَا اَقْبَلْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ وَرُجُوْعِی اِذَا رَجَعْتُ قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَعْطَاکَ اللہُ ذٰلِکَ اَجْمَعَ اَنْطَاکَ اللہُ مَا احْتَسَبْتَ اَجْمَعَ

حضرت ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں: ایک ایسا شخص تھا میرے علم کے مطابق قبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرنے والوں میں سے اور کسی شخص کا گھر مسجد سے اس شخص کے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا۔حضرت ابی ؓ کہتے ہیں میں نے اس کو کہا: تم ایک گدھا خرید لو جس پر سوار ہو کر تم تاریک رات میں، یا گرمی کے موسم میں آیا کرو(تو یہ مناسب ہوگا) راوی کہتے ہیں:یہ بات نبی اکرمﷺ تک پہنچی ۔ آپ نے اس شخص سے اس بارے میں دریافت کیا: تو اس نے عر ض کیا: اے اللہ کے نبی ! میں یہ چاہتا ہوں، جب میں مسجد کی طرف آؤں ، تو میرا آنا اور جب میں واپس جاؤں ، تو میرا واپس جانا نوٹ کیاجائے۔(یعنی اس کا اجر و ثواب مجھے ملے) تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ ساری چیز تمہیں عطا کرے گا تم نے جو ثواب کی امید رکھی ہے، یہ سب اجروثواب اللہ تعالیٰ تمہیں عطا کرےگا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2041

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2042

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانَ، اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ ، اَخْبَرَنَا الْجُرَیْرِیُّ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: اَرَدْنَا النُّقْلَۃَ اِلَی الْمَسْجِدِ ، وَالْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ خَالِیَۃٌ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَتَانَا فَقَال : یَابَنِیْ سَلِمَۃَ، بَلَغَنِیْ اَنَّکُمْ تُرِیْدُوْنَ النُّقْلَۃَ اِلَی الْمَسْجِدِ، فَقَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللہِ ، بَعْدَ عَلَیْنَا الْمَسْجِدُ وَالْبِقَاعُ حَوْلَہٗ خَالِیَۃٌ فَقَالَ: یَا بَنِیْ سَلِمَۃَ، دِیَارَ کُمْ دِیَارَکُمْ تُکْتَبْ آثَارْکُمْ قَالَ: فَمَا وَدِدْنَا اَنَّا بِحَضْرَۃِ الْمَسْجِدِ لَمَّا قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں۔ ہم نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا کیونکہ مسجد کے اردگرد کچھ جگہ خالی ہوئی تھی۔ اس کی اطلاع نبی اکرمﷺ کو ملی، نبی اکرمﷺ ہمارے محلے میں تشریف لائے اور آپ نے ارشاد فرمایا: اے بنو سلمہ ! مجھ تک یہ اطلاع پہنچی ہے، تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم مسجد سے خاصے دور ہیں اور مسجد کے آس پاس کی جگہ خالی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے بنو سلمہ ! تم اپنے علاقے میں رہو تم اپنے علاقے میں رہو تمہارے قدم نوٹ کئے جائیں گے۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: پھر ہم نے یہ آرزو نہیں کی، ہم مسجد کے قریب رہیں کیونکہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔

بِحَضْرَۃِ الْمَسْجِدِ لَمَّا ← فَمَا وَدِدْنَا ← یَا بَنِیْ سَلِمَۃَ، دِیَارَ کُمْ دِیَارَکُمْ تُکْتَبْ آثَارْکُمْ ← یَارَسُوْلَ اللہِ بَعْدَ عَلَیْنَا الْمَسْجِدُ وَالْبِقَاعُ حَوْلَہٗ خَالِیَۃٌ ← یَابَنِیْ سَلِمَۃَ، بَلَغَنِیْ اَنَّکُمْ تُرِیْدُوْنَ النُّقْلَۃَ اِلَی الْمَسْجِدِ، ← اَرَدْنَا النُّقْلَۃَ اِلَی الْمَسْجِدِ وَالْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ خَالِیَۃٌ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ فَاَتَانَا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2042

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2043

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیْفَۃَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدِ بْنِ مُسَرْبَلِ بْنِ مُغَرْبَلٍ، حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِِیَۃَ، عَنِ الْاَعْمَشِ ، عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِیْ جَمَاعَۃٍ تَزِیدُ عَلٰی صَلَاتِہٖ بَیْتِہٖ، وَصَلَاتِہٖ فِیْ سُوقِہِ خَمْسًا وَعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً، وَذٰلِکَ اَنَّ اَحَدَھُمْ اِذَا تَوَضَّاَ فَاَحْسَنَ الْوُضُوْءَ ، ثُمَّ اَتَی الْمَسْجِدَ لَا یُرِیْدُ اِلَّا الصَّلَاۃَ لَمْ یَخْطُ خُطْوَۃً اِلَّا رَفَعَ اللہُ لَہٗ بِھَا دَرَجَۃً، وَحَطَّ عَنْہُ بِھَا خَطِیئَۃً حَتّٰی یَدْخُلَ الْجسْجِدَ ، فَاِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِیْ صَلَاۃٍ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ تَحْبِسُہُ

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: آدمی کا با جماعت نماز ادا کرنا اس کا اپنے گھر میں نماز ادا کرنے یا اس کے بازار میں نماز ادا کرنے پر پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ اس کی صورت یوں ہے، جب کوئی شخص وضو کرے تو اچھی طرح وضو کرے پھر وہ مسجد میں آئے اس کا ارادہ صرف نماز ادا کرنے کا ہو، تو وہ شخص جو بھی قدم اٹھاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے عوض میں اس کے درجے کو بلند کرتا ہے۔ اسے کی وجہ سے اس کے گناہ کو معاف کرتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص مسجد میں داخل ہوجاتاہے، تو جب وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے، تو وہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتاہے۔ جب تک وہ نماز کی وجہ سے مسجد میں رہتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْھَدِ بْنِ مُسَرْبَلِ بْنِ مُغَرْبَلٍ، ← اَبُوْ خَلِیْفَۃَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 2043

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2044

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّیُّ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ ، عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَطَھَّرَ فِیْ بَیْتِہٖ، ثُمَّ مَشَی اِلٰی بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِ اللہِ لِیَقْضِیَ فَرِیضَۃً مِنْ فَرَائضِ اللہِ کَانَ خَطْوَتَاہُ اِحْدَاھُمَا تَحُطُّ خَطِیئَۃً وَالْاُخْریٰ تَرْفَعُ دَرَجَۃً

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے پھر وہ اللہ کے کسی گھر کی طرف چل کر جائے اللہ تعالیٰ کے فرائض میں سے کوئی فرض ادا کرے تو اس کے دونوں قدموں میں سے ایک (قدم) گناہ کو مٹا تا ہے۔ دوسرا(قدم ) درجے کو بلند کرتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2044

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2045

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمِ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبِ، اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، اَنَّ اَبَا عُشَّانَۃَ، حَدَّثَۃَ، اَنَّہٗ سَمِعَ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ، یُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْل، اللہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ: اِذَا تَطَھَّرَ الرَّجُلُ ثُمَّ اَتَی الْمَسْجِدَ یَرْعَی الصَّلَاۃَ کَتَبَ لَہٗ کَاتِبَاہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوھَا اِلَی الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ

حضرت عقبہ بن عمروؓ نبی اکرمﷺ کا فرمان کرتے ہیں: جب کوئی شخص وضو کرے پھر وہ نماز کی حفاظت کے لیے مسجد کی طرف آئے، تو اس کے دونوں کا تب فرشتے مسجد کی طرف جانے والے ہر قدم کے بدلے میں دس نیکیاں نوٹ کرتے ہیں۔

لَہٗ کَاتِبَاہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوھَا اِلَی الْمَسْجِدِ عَشْرَ حَسَنَاتٍ ← اِذَا تَطَھَّرَ الرَّجُلُ ثُمَّ اَتَی الْمَسْجِدَ یَرْعَی الصَّلَاۃَ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، اَنَّ اَبَا عُشَّانَۃَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 2045

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2046

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ مَعْشَرٍ اَبُوْ عَرُوبَۃَ، بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ زَیْدٍ الْخَطَّابِیُّ، وَاَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَیْدِ بْنِ اَبِیْ اُنَیْسَۃَ، عَنْ جُنَادَۃَ بْنِ اَبِیْ اُمَیَّۃَ، عَنْ مَکْحُولٍ، عَنْ اَبِیْ اِدْرِیسَ الْخَوْلَانِیِّ ، عَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ: مَنْ مَشَی فِیْ ظُلْمَۃِ اللَّیْلِ اِلَی الْمَسَاجِدِ، آتَاہُ اللہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ

حضرت ابودرداء ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص تاریک رات میں مسجد کی طرف پیدل چل کر جاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے نور عطا فرمائے گا۔

مَنْ مَشَی فِیْ ظُلْمَۃِ اللَّیْلِ اِلَی الْمَسَاجِدِ، آتَاہُ اللہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← اِسْحَاقُ بْنُ زَیْدٍ الْخَطَّابِیُّ، وَاَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، ← الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ مَعْشَرٍ اَبُوْ عَرُوبَۃَ، بِحَرَّانَ،

Hadith 2046

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْاِ مَامَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ · حديث 2047

اَخْبَرَنَا عَبْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ، اَخْبَرَنَا اَبُوْ بَکْرِ الْحَنَفِیُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا دَخَلَ اَحَدُکُمُ الْمَسْجِدَ فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلْیَقُلِ: اللھُمَّ افْتَحْ لِی اَبْوابَ رَحْمَتِکَ، وَاِذَا خَرَجَ فَلْیْسَلِّمْ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلْیَقُلِ اللھُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ

حضرت ابو ہریرہ ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو وہ نبی اکرمﷺ پر درود بھیجے اور یہ پڑھے۔ اے اللہ! میرے لئے اپنے رحمت کے دروازے کھول دے۔ اور جب وہ شخص مسجد سے باہر آئے ، تو نبی اکرمﷺ پر درود بھیجے اور وہ یہ کلمہ پڑھے۔ اے اللہ! تو مجھے شیطان مردود سے پناہ میں رکھ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ

Hadith 2047

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr