Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ كِتَابُ الصَّلَاةِ · حديث 1446

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ (2) عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَلَا تَغْزُو؟ فَقَالَ: (3) إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ الْبَيْتِ» (4) . [3: 66]

عکرمہ بن خالد مخزومی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا آپ جنگوں میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ا س بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← إِنِّي ← لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَلَا تَغْزُو؟ ← إِنَّ رَجُلًا ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1446

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ كِتَابُ الصَّلَاةِ · حديث 1447

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِمْرَانَ الْجُرْجَانِيُّ بِحَلَبَ قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمِ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ مِنَ الصَّلَاةِ؟ قَالَ: "خَمْسُ صَلَوَاتٍ" قَالَ: هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْءٌ قَالَ: "افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ" فَقَالَ هَلْ قَبْلَهُنَّ أَوْ بَعْدَهُنَّ شَيْءٌ؟ قَالَ: "افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ" قَالَ: فَحَلَفَ الرَّجُلُ بِاللَّهِ لَا1 يَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا يَنْقُصُ مِنْهُنَّ فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ صدق دخل الجنة" 2.

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانچ نمازیں اس نے دریافت کیا: ان سے پہلے یا ان کے بعد کوئی اور چیز (یعنی مزید کوئی نماز) بھی لازم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اس نے عرض کی: ان سے پہلے یا ان کے بعد کچھ اور بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس شخص نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ وہ ان پر کوئی اضافہ نہیں کرے گا، اور ان میں کوئی کمی نہیں کرے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اگر اس نے سچ کہا ہے، تو یہ جنت میں داخل ہوجائے گا"۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے کہ انہوں نے یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ حضرت مالک بن معصعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے اور اس واقعہ کا کچھ حصہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے، تو اس کے تینوں طرق مستند ہیں۔

أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا ← قَتَادَةَ ← خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عِمْرَانَ الْجُرْجَانِيُّ بِحَلَبَ

Hadith 1447

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ كِتَابُ الصَّلَاةِ · حديث 1448

أخبرنا بن قُتَيْبَةَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عن بن شِهَابٍ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى بَابِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ وَمَعَهُ عُرْوَةُ فَأَخَّرَ عُمَرُ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ: أَعْلَمُ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ:سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: نَزَلَ جِبْرِیْلُ فَصَلّی فَصَلَّیْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلّیْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلّیْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَیْتُ مَعَہُ فَحَسَبَ بِاَصَابِعِہٖ خَمْسَ صَلَوَاتٍ۔

۔ ابن شہاب کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ عمر بن عبد العزیز کے مدینہ منورہ کا گورنر ہونے کے زمانے میں ان کے دروازے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ عروہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ عمر بن عبد العزیز نے عصر کی نماز میں کچھ تاخیر کردی تو عروہ نے ان سے کہا: حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نماز ادا کی، تو عمر بن عبد العزیز نے کہا: اے عروہ! آپ دھیان کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، تو عروہ نے کہا میں نے بشیربن ابو مسعود کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ میں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہون نے نماز ادا کی میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر میں نے ان کی اقتداء میں نماز اداکی"۔

بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Hadith 1448

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ كِتَابُ الصَّلَاةِ · حديث 1449

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ شَيْئًا، فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ، فَقَالَ عُرْوَةُ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ»، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، «وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلَاةِ، فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ، وَرُبَّمَا أَخَّرَهُ حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ، وَصَلَّى الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ، وَصَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ كَانَتْ صَلَاتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغَلَسِ حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ». [5: 7]

اسامہ بن زید نامی راوی بیان کرتے ہیں: ابن شہاب نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ عمر بن العزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے نماز میں کچھ تاخیر کردی تو عروہ بن زبیر نے کہا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کے اوقات کے بارے میں بتایا ہے، عمر بن عبد العزیز نے ان سے کہا: آپ غور کریں کہ آپ کیاکہہ رہے ہیں،تو عروہ نے کہا میں نے بشیر بن ابو مسعود کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہےوہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سان ہے وہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جبرائیل نازل ہوئے انہوں نے مجھے نماز کے وقت کے بارے میں بتایا تو میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہاں نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی"۔ راوی نے اپنی انگلیوں پر حساب کرکے پانچ نمازوں کے بارے میں بتایا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج ڈھل گیا تھا جب گرمی شدید ہوئی تھی، تو آپ بعض اوقات اس نماز کو تاخیر سے بھی ادا کرتے تھے اور میں نے آپ کو دیکھا ہے آپ عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج بلند اور چمک دار ہوتا تھا۔ ابھی اس میں زردی شامل نہیں ہوئی ہوتی تھی، اور کوئی شخص نماز سے فارغ ہونے کے بعد سورج غروب ہونے سے ذوالحلیفہ جا سکتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہوجانے کے بعد مغرب کی نماز ادا کرلیتے تھے اور آپ عشاء کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب اُفق سیاہ ہوجاتا تھا۔ بعض اوقات آپ اس نماز کو تاخیر سے ادا کرتے تھے، یہاں تک کہ لوگ اکٹھے ہوجاتے تھے۔ صبح کی نماز آپ کبھی اندھیرے میں ادا کر لیتے تھے اور کبھی روشنی میں اداکرتے تھے پھر اس کے بعد آپ صبح کی نماز اندھیرے میں ہی اداکرنے لگے، یہاں تک کہ (اسی معمول کے مطابق) آپ کا انتقال ہوگیا۔ آپ نے دوبارہ روشنی میں یہ نماز ادا نہیں کی۔

«نَزَلَ جِبْرِيلُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ← عُرْوَةَ ← لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، ← أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ شَيْئًا، ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ كِتَابِهِ،

Hadith 1449

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ كِتَابُ الصَّلَاةِ · حديث 1450

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مالك عن بن شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فِي إِمْرَتِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا مُغِيرَةُ مَا هَذَا أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى1 رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلّٰی فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلّٰی فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلّٰی فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: بِھٰذَا اُمِرْتُ قَالَ اَعْلَمْ مَاتُحَدِّثُ یَا عُرْوَۃُ اَوْ اِنَّ جِبْرِیْلَ اَقَامَ لِرَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاۃِ قَالَ کَذٰلِکَ کَانَ بَشِیرُ بْنُ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ ۔ قَالَ عُرْوَۃُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِیْ عَائِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِیْ حُجْرَتِھَا قبل أن تظھر۔

۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: ایک دن عمر بن عبد العزیز نے اپنے عہد خلافت میں (یا گورنری کے زمانے میں) ایک نماز میں تاخیر کردی۔ عروہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور انہوں نے یہ بتایا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن ایک نماز کو تاخیر سے ادا کیا۔ وہ اس وقت کوفہ میں (گورنر تھے) تو حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس آئے اور بولے: اے مغیرہ! یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، تو انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے نماز ادا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز ادا کی پھر انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا حکم دیا گیا ہے۔ تو عمر بن عبد العزیز نے کہا: اے عروہ! آپ غور کریں کہ آپ کیا بیان کررہے ہیں۔ کیا حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نماز کا وقت قائم کریں گے۔ تو عروہ نے کہا: بشیربن ابو مسعود نے اپنے والد کے حوالے سے اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔ عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کرلیتے تھے جبکہ دھوپ ابھی سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے میں ہی ہوتی تھی، اور بلند نہیں ہوئی ہوتی تھی۔

بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1450

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ كِتَابُ الصَّلَاةِ · حديث 1451

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سعد عن بن شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ1 بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِنَّا نَجْدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجْدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ يَا بن أَخِي إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَاهُ يفعل2.

۔ اُمیہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا: حضر کی نماز اور خوف کے عالم والی نماز کا ذکر ہم قرآن میں پاتے ہیں لیکن ہمیں سفر کی نماز کا ذکر قرآن میں نہیں ملتا تو حضرت عبد اللہ نے ان سے کہا: اے میرے بھیجتے! بیشک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف مبعوث کیا۔ ہمیں کسی چیز کا علم نہیں تھا ہم اسی طرح کرتے ہیں جس طرح ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: ← أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 1451

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ كِتَابُ الصَّلَاةِ · حديث 1452

أخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ1،عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ قَالَ كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ2 بِطَبَرِسْتَانَ فَقَالَ أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَالَ حُذَيْفَةُ أَنَا قَالَ فَقَامَ حُذَيْفَةُ فَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ صِفِّينَ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِيًا لِلْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَہُرَکْعَۃً ثُمَّ انْصَرَفَ ھَؤُلَاءِ مَکَانَ ھٰؤُلَاءِ وَجَاءَ اُولٰٓئِکَ فَصَلّٰی بِھِمْ رَکْعَۃٌ وَلَمْ یَقْضُوا۔

ثعلبہ بن زہدم بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سعید بن العاص کے ساتھ طبرستان میں موجود تھے۔ انہوں نے دریافت کیا: آپ لوگوں میں سے کس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز خوف ادا کی ہے، تو حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: میں نے ، راوی بیان کرتے ہیں: پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے اپنے پیچھے لوگوں کی دو صفیں بنا لیں۔ ایک ان کے پیچھے کھڑی ہوگئی اور دوسری صف دشمن کے مد مقابل کھڑی ہوگئی۔ انہوں نے اپنے پیچھے موجود لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی پھر یہ لوگ جاکر ان کی جگہ کھڑے ہوگئے اور وہ لوگ آگئے، تو انہوں نے انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائی، ان لوگوں نے نماز کی قضا نہیں کی (نماز مکمل نہیں کی یعنی صرف ایک ہی رکعت پڑھی)۔

حُذَيْفَةَ ← أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ ← كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، ← ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ ← الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ1،عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1452

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr