Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2868

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وفي الخوف ركعة1. [34:5]

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبانی نماز کا حکم فرض قراردیا ہے‘ جو حضر میں چار رکعات ہوں گی سفر میں دو رکعات ہوں گی اور خوف کےعالم میں ایک رکعت ہو گی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← بُکَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 2868

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2869

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَصَفٌّ خَلْفَهُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ وَجَاءَ أولئك حتى قاموا فقام هؤلاء صَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم ركعتان ولهم ركعة واحدة1. [34:5]

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتےہیں: نبی اکرمﷺ نے لوگوں کو نماز خوف پڑھائی ایک صف آپﷺ کے آگے کھڑی ہو گئی اور ایک صف آپﷺ کے پیچھے کھڑی ہو گئی آپﷺ نے لوگوں کو ایک رکعت اور دو سجدے پڑھائے پھر وہ لوگ آئے اور آکر کھڑے ہو گئے اور یہ لوگ کھڑے رہے نبی اکرمﷺ نےانہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے یعنی ایک رکعت پڑھائی تو نبی اکرمﷺ کی دو رکعات ہوئیں اور ان میں سے ہر ایک کی ایک رکعت ہوئی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← يَزِيدَ الْفَقِيرِ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2869

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2870

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا1 بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ: أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ فَقَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفٌّ خَلْفَهُ وَصَفٌّ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا إِلَى مَصَافِّ إِخْوَانِهِمْ وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ2 وَلِكُلِّ طائفة ركعة3. [34:5]

قاسم بن حسان بیان کرتےہیں: میں حضرت زید بن ثابتؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے نماز خوف کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ نے نماز پڑھائی ایک صف آپﷺ کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور ایک صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی آپﷺ نے ان لوگوں کی ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ اپنے بھائیوں کی جگہ پر جا کر کھڑے ہو گئے اور دوسرے لوگ آگئے آپﷺ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپﷺ نے سلام پھیر دیا‘ تو نبی اکرمﷺ کی دو رکعات ہوئیں اور ہر ایک گروہ کی ایک رکعت ہوئی۔

صَلاَةِ الخَوْفِ ← أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ ← الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← سُفْيَانَ، ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2870

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2871

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم صَلَّى بِذِي قَرَدٍ1 فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ: صَفٌّ خَلْفَهُ وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً ثُمَّ رَجَعَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ فصلى بهم ركعة ولم يقضوا2. [34:5]

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ’’ ذی قرد ‘‘ کے مقام پر نماز پڑھائی لوگوں نے آپﷺ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں ایک صف آپﷺ کے پیچھے رہی اور دوسری صف دشمن کےمدمقابل رہی جو صف آپﷺ کے قریب تھی آپﷺ نےاسے ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر چلے گئے وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آگئے نبی اکرمﷺ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور ان لوگوں نے نماز کی قضا نہیں کی ( یعنی دوسری رکعت ادا نہیں کی )

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2871

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2872

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيُّ1 قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ2 ضُجْنَانَ وَعُسْفَانَ فَحَاصَرَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ: فَقَالُوا: إِنَّ لِهَؤُلَاءِ صَلَاةً هِيَ أحب إليهم من أبناءهم وَأَبْكَارِهِمْ يَعْنُونَ الْعَصْرَ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ ثُمَّ مِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً قَالَ فَجَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ وَيُصَلِّيَ بِالطَّائِفَةِ الْأُولَى رَكْعَةً وَيَأْخُذُ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً تَأَخَّرُوا وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَأَخَذَ هَؤُلَاءِ الْآخَرُونَ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ، فَکَانَتْ لِکُلِّ طَائفَۃٍ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ وَسَلَّمَ ، رَکْعَۃُ رَکْعَۃُ

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ کیا آپﷺ نے مشرکین کا محاصرہ کیا ہوا تھا راوی کہتے ہیں: ان مشرکین نے یہ کہا: ان لوگوں کے نزدیک یہ نماز ان کے بیٹوں او رکنواریوں سے زیادہ محبوب ہے ان کی مراد عصر کی نماز تھی‘ تو تم لوگ تیاری رکھو اور ان پر ایک ہی حملہ کر دینا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت جبرائیلؑ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ کو یہ کہا‘ آپﷺ اپنے ساتھیوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں آپﷺ پہلے گروہ کو ایک رکعت پڑھائیں اور دوسرا گروہ اپنے ہتھیار تیار رکھے جب آپﷺ انہیں ایک رکعت پڑھا دیں‘ تو وہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں اور دوسرا گروہ آگے آجائے‘ تو انہیں بھی ایک رکعت پڑھائیں یہ لوگ اپنے ہتھیار اور سازوسامان تیار رکھیں‘ تو اس طرح ہر ایک گروہ نے نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں ایک‘ ایک رکعت ادا کی۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2872

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2873

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي عن بن إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَتْ فَصَدَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ صَدْعَيْنِ فَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ وَقَامَتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ قَالَتْ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا خَلْفَهُ ثُمَّ رَكَعُوا وَرَكَعُوا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا ثُمَّ مَكَثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمِ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فكبروا ، ثُمَّ رَکَعُوْا لِاَنْفُسِھِمْ ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، السَّجْدَۃَ الثَّانِیَۃَ فَسَجَدُوْا مَعَہٗ ، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِنْ رَکْعَتِہٖ وَسَجَدُوا لِاَنْفُسِھِمِ السَّجْدَۃَ الثَّانِیَۃَ ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِیْعًا ، ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہٗ فَرَفَعُوْا مَعَہٗ ، کَلُّ ذٰلِکَ مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، سَرِیْعًا جِدًّا ، لَا یَاْلُو اَنْ یُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ ، ثّمَّ سَلَّمَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا ، ثّمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَدْ شَرَکَہُ النَّاسُ فِیْ صَلَاتِہٖ کُلِّھَا

حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ذات رقاع کےمقام پر نماز خوف ادا کی تھی سیّدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا ایک گروہ آپﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا‘ اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہو گیا۔ سیّدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے تکبیر کہی تو جس گروہ نے آپﷺ کے پیچھے صف بنائی ہوئی تھی ان لوگوں نے بھی تکبیر کہی آپﷺ رکوع میں گئے تو وہ لوگ بھی رکوع میں گئے پھر آپﷺ سجدے میں گئے‘ تو وہ لوگ بھی سجدے میں گئے پھر آپﷺ نے سر اٹھایا‘ تو وہ لوگ بھی اٹھ گئے نبی اکرمﷺ اپنی جگہ بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے خود ہی دوسری مرتبہ سجدہ کیا‘ اور پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اپنی ایڑیوں کے بل چلتے ہوئے پیچھے چلے گئے یہاں تک کہ وہ پیچھے جا کے کھڑے ہو گئے اور دوسرا گروہ آگے آگیا انہوں نے نبی اکرمﷺ کےپیچھے صف بنالی ان لوگوں نےتکبیر کہی پھر ان لوگوں نے بذات خود ایک رکعت ادا کی پھر نبی اکرمﷺ نے دوسرا سجدہ کیا‘ تو انہوں نے نبی اکرمﷺ کےہمراہ سجدہ کیا‘ پھر نبی اکرمﷺ اس رکعت سے کھڑے ہو گئے ان لوگوں نےدوسرا سجدہ بذات خود کیا‘ پھر دونوں گروہ کھڑے ہو گئے ان لوگوں نےنبی اکرمﷺ کےپیچھے صف بنالی پھر نبی اکرمﷺ رکوع میں گئے‘ تو وہ سب بھی رکوع میں چلے گئے پھر آپﷺ سجدے میں گئے تو وہ سب بھی سجدے میں چلے گئے پھر آپﷺ نے سر اٹھایا تو ان لوگوں نے بھی سر اٹھالیا ان میں سے ہر ایک عمل کو نبی اکرمﷺ نے انتہائی تیزی سے کیا آپﷺ نےاس حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی‘ جہاں تک ہو سکے مختصر طور پر ( رکوع اور سجدہ کی) پھر نبی اکرمﷺ نے سلام پھیرا تو ان لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا‘ پھر نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے تو تمام لوگوں نے آپﷺ کے ساتھ نماز میں شرکت کی تھی۔

فَصَدَعَ رَسُولَ اللَّهِ النَّاسُ صَدْعَيْنِ فَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ وَقَامَتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ ← صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2873

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2874

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَرَكَعَ بِهِمَا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلُونَهُ ، وَالْاٰخَرُوْنَ قِیَامٌ حَتّٰی نَھَضَ ، ثُمَّ سَجَدَ اُولٰٓئِکَ بِاَنْفُسِھِمْ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ تَاَخَّرَ الصَّفُّ الْمُتَقَدِّمُ فَرَکَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَجَدَتْ لَاَنْفُسِھِمْ سَجْدَتَیْنِ وَکَانَ الْعَدُوُّ مِمَّا یَلِی الْقِبْلَۃَ

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اپنے اصحاب کو نماز خوف پڑھائی آپﷺ نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا نبی اکرمﷺ سجدے میں گئے‘ تو وہ سب بھی سجدے میں گئے جو آپﷺ کے قریب موجود تھے جب دوسرے لوگ کھڑے رہے‘ پھر جب نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے‘ تو ان لوگوں نے بذات خود دو مرتبہ سجدہ کیا‘ پھر آگے والی صف پیچھے ہٹ گئی پھر نبی اکرمﷺ رکوع میں گئے ‘ تو وہ صف بھی رکوع میں گئی جو آپﷺ کے قریب کھڑی ہوئی تھی ان لوگوں نے اپنا سر اٹھایا اور ان لوگوں نے دو سجدے کیے تو ان سب نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ رکوع کیا ان سب لوگوں نے بذات خود دو سجدے کیے اس وقت دشمن قبلہ کی سمت میں موجود تھا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 2874

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2875

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ وَالْمُشْرِكُونَ بِضُجْنَانَ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظهر متن حدیث: رَآَہُ الْمُشْرِکُوْنَ یَرْکَعُ وَیَسْجُدُ ، فَاْتَمَوْا عَلٰی اَنْ یُغِیرُوْا عَلَیْہِ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُصَفَّ النَّاسُ خَلْفَہٗ صَفَّیْنِ ، فَتَبَّرَ وَکَبَّرُوْا جَمِیْعًا ، وَرَکَعَ وَرَکَعُوْا جَمِیْعًا ، وَسَجَدْ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِیْنَ یَلُونَہٗ، وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِیْ بِسِلَاحِھِمْ مُقْبِلِیْنَ عَلَی الْعَدُوِّ بِوُجُوْھِھِمْ ، فَلَمَّا رَفَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاْسَہٗ ، سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِیْ فَلَمَّا رَفَعُوْا رُءُ وْسَھْمْ رَکَعَ وَرَکَعُوْا جَمِیْعًا ، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہٗ ، وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِیْ بِسِلَاحِھِمْ فُقْبِلِیْنَ عَلَی الْعَدُوّبِوُجُوْھِھِمْ ، فَلَمَّا رَفَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، رَاْسَہٗ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِی۔

حضرت ابو عیاش زرقیؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ عسفان کے مقام پر موجود تھے‘ جبکہ مشرکین ضجنان کے مقام پر موجود تھے جب نبی اکرمﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی تو مشرکین نے آپﷺ کو رکوع اور سجدہ کرتے دیکھا تو انہوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا‘ وہ آپﷺ پر حملہ کر دیں گے جب عصر کی نماز کا وقت ہوا‘ تو لوگوں نے آپﷺ کے پیچھے دو صفیں بنا لیں نبی اکرمﷺ نے تکبیر کہی تو سب لوگوں نے بھی تکبیر کہی نبی اکرمﷺ نے رکوع کیا تو سب لوگوں نے رکوع کیا‘ پھر نبی اکرمﷺ سجدے میں گئے‘ تو وہ صف سجدے میں گئی جو آپﷺ کے قریب کھڑی ہوئی تھی اور دوسری صف اپنے ہتھیار لے کر دشمن کی طرف رُخ کرکے کھڑی رہی جب نبی اکرمﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو دوسری صف نے بھی سجدہ کر لیا جب ان لوگوں نے اپنا سر اٹھالیا تو نبی اکرمﷺ نے رکوع کیا‘ تو ان سب لوگوں نے رکوع کیا نبی اکرمﷺ نے سجدہ کیا‘ تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپﷺ کے قیرب کھڑی ہوئی تھی اور دوسری صف اپنے ہتھیار لے کر دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑی رہی جب نبی اکرمﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو دوسری صف نے بھی سجدہ کیا۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں:) ابو عیاش زرقی نامی راوی کےنام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ان کا نام زید بن نعمان ہے اور بعض حضرات کےیہ کہا ہے کہ زید بن صامت ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے عبید بن معاویہ بن صامت ہے جبکہ بعض نے یہ کہا ہے عبید بن معاذ بن صامت ہے۔

أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2875

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2876

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ: فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لَقَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَرَدْنَا لَأَصَبْنَاهُمْ غِرَّةً أَوْ لَأَصَبْنَاهُمْ غَفْلَةً قَالَ: فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَأَخَذَ النَّاسُ السِّلَاحَ وَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّيْنِ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ وَالْمُشْرِكُونَ مُسْتَقْبِلَوهُمْ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا وَرَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الْأَخَرُ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا فَرَغَ هَؤُلَاءِ مِنْ سُجُودِهِمْ سَجَدَ هَؤُلَاءِ ثُمَّ نَكَصَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الْآخَرُونَ یَحْرُسُو نَھُمْ فَلَمَّا فَرَغَ ھٰؤْلَاءِ مِنْ سُجُوْدِھِمْ سَجَدَ الْاٰخَرُوْنَ ، ثُمَّ اسْتَوُوا مَعَہُ فَقَعَدُوا جَمِیعًا ، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَیْھِمْ جَمِیعًا صَلَّاھَا بِعُسْفَانَ ، وَصَلَّا ھَا یَوْمَ بَنِیْ سُلَیْمٍ

حضرت ابو عیاش زرقیؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کےہمراہ عسفان کے مقام پر موجود تھے مشرکین کے سالار خالد بن ولید تھے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ظہر کی نماز ادا کی مشرکین نے یہ کہا‘ یہ لوگ ایسی حالت میں تھے اگر ہم چاہتے تو ان پر حملہ کر سکتے تھے( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ان کی غفلت میں ان پر حملہ کر سکتے تھے راوی کہتے ہیں: ظہر اور عصر کے درمیان قصر نماز کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گئی لوگوں نے اپنے ہتھیار پکڑ لئے اور نبی اکرم ﷺ کے پیچھے صف بنا لی انہوں نے دو صفیں بنا ئیں ان کا رخ دشمن کی طرف تھا اور مشرکین کا رُخ ان کی طر ف تھا نبی اکرمﷺ نے تکبیر کہی ان سب لوگوں نے تکبیر کہی نبی اکرمﷺ نے رکوع کیا ان سب لوگوں نے رکوع کیا پھر نبی اکرمﷺ نےاپنا سر اٹھایا تو ان سب نے سر اٹھایا‘ پھر نبی اکرمﷺ نے سجدہ کیا‘ تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپﷺ کےقریب موجود تھی اور دوسرے لوگ ان کی حفاظت کرتے رہے‘ جب یہ لوگ سجدہ کر کے فارغ ہوئے‘ تو ان لوگوں نے سجدہ کیا‘ پھر وہ والی صف پیچھے ہٹ گئی جو نبی اکرمﷺ کے قریب موجود تھی دوسرے لوگ آگے آگئے ان لوگوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے نبی اکرمﷺ نے رکوع کیا تو ان سب لوگوں نے رکوع کیا نبی اکرمﷺ نےسر اٹھایا‘ تو ان سب نے سر اٹھایا پھر نبی اکرمﷺ نےسجدہ کیا‘ تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپﷺ کےقریب موجود تھی اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے‘ جب یہ لوگ سجدہ کر کے فارغ ہوئے‘ تو دوسرے لوگوں نےسجدہ کیا‘ پھر یہ لوگ نبی اکرمﷺ کےہمراہ سیدھے ہوئے اور یہ سب لوگ بیٹھ گئے پھر نبی اکرمﷺ نےان سب سمیت سلام پھرا نبی اکرمﷺ نے عسفان کےمقام پر یہ نماز پڑھائی تھی آپﷺ نے بنو سلیم کےساتھ مقابلے کےدن یہ نماز پڑھائی تھی۔

الْمُشْرِكُونَ لَقَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَرَدْنَا لَأَصَبْنَاهُمْ غِرَّةً أَوْ لَأَصَبْنَاهُمْ غَفْلَةً ← فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ بِعُسْفَانَ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2876

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2877

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَاتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا فَلَمَّا صلينا الظُّھْرَ قَالُوْا ، لَوْ مِلْنَا عَلَھِمْ مَیْلَۃً قَطَعْنَاھُمْ ، فَاَخْبَرَ جِبْرِیلُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بِذٰلِکَ فَذَکَرَلَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ذٰلِکَ ، فَقَالَ : قَالُوْا: بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ صَلَاۃٌ ھِیَ اَحَبُّ اِلَیْھِمْ مِنَ الْاُولٰی ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ ، صَفَُنَا صَفَّیْنِ وَالْمُشْرِکُوْنَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ ، فَکَبَّرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَبَّرْنَا مَعَہٗ ، فَرَکَعَ وَرَکَعْنَا مَعَہٗ ، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الْاَوْلُ مَعَہٗ ، فَلَمَّا قَامَ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِی ، ثُمَّ تَقَدَّمُوْا فَقَامُوْا مَقَامَ الصَّفِّ الْاَوْلِ وَتَاَخَّرَ الصَّفُّ الْاَوْلُ ، فَکَبَّرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَکَبَّرْنَا مَعَہٗ ، ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعْنَا مَعَہٗ ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الْاَوْلُ مَعَہٗ ، ثُمَّ قَعَدَ فَسَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِی ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِیعًا ، فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَبُو الزُّبَیْرِ: عَنْ جَابِرٍ کَمَا یُصَلِّیْ اُمَرَاؤُکُمْ ھٰؤُلَاءِ

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرمﷺ کےہمراہ جہینہ قبیلے کے گروہ کےخلاف جنگ میں حصہ لیا انہوں نے انتہائی شدید لڑائی کی جب ہم ظہر کی نماز ادا کرنے لگے‘ تو انہوں نے کہا: اگر ہم ایک ہی مرتبہ ان پر حملہ کر دیں‘ تو ہم انہیں ختم کر دیں گے حضرت جبرائیلؑ نے نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں بتا دیا: نبی اکرمﷺ نے ہمارے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا آپﷺ نے بتایا: وہ لوگ کہہ رہے ہیں‘ ہمارے اور ان کے درمیان یہ نماز ہے‘ جو ان کے نزدیک ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے‘ جب نماز کا وقت ہوا‘ تو ہم دو صفیں بنا لیں مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ نبی اکرمﷺ نے تکبیر کہی ہم نے بھی آپﷺ کی اقتداء میں تکبیر کہی آپﷺ رکوع میں گئے آپﷺ کے ہمراہ ہم بھی رکوع میں گئے آپﷺ نے سجدہ کیا‘ تو پہلی صف نے آپﷺ کے ہمراہ سجدہ کیا جب آپﷺ کھڑے ہو گئے ‘ تو دوسری صف نے سجدہ کیا‘ پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور پہلی صف والوں کی جگہ آکر کھڑے ہو گئے پہلی صف والے پیچھے ہٹ گئےپھر نبی اکرمﷺ نے تکبیر کہی آپﷺ کے ہمراہ ہم نے بھی تکبیر کہی پھر نبی اکرمﷺ نےرکوع کیا آپﷺ کے ہمراہ ہم نے بھی رکوع کیا نبی اکرمﷺ نے سجدہ کیا‘ تو آپﷺ کے ہمراہ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا‘ پھر آپﷺ بیٹھ گئے پھر دوسری صف والوں نےسجدہ کیا‘ پھر یہ سب لوگ بیٹھ گئے اور پھر نبی اکرمﷺ نے ان سب سمیت سلام پھیرا۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں:) ابوزبیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں جس طرح تمہارے یہ امراء نماز ادا کرتے ہیں۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2877

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2878

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حدثنا أبي عن بن إِسْحَاقَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ عُرْوَةِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ قَالَ: فَصَدَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ صَدْعَيْنِ قَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مِمَّا يَلِي الْعَدُوَّ وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبَّرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَکَبَّرُوْا جَمِیعًا الَّذِیْنَ مَعَہٗ وَالْذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ الْعَدُوَّ ، ثُمَّ رَکَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَکْعَۃً وَاحِدَۃً فَرَکَعَ مَعَہُ الطَّائِفَۃُ الَّتِیْ تَلِیہِ ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِیْ تَلِیہِ ، وَالْاٰخَرُوْنَ قِیَامٌ مُقَابِلِی الْعَدُوْ ، ثُمَّ قَیَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَاَخَذْتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِیْ صَلَّتْ مَعَہٗ اَسْلِحَتَھُمْ ، ثُم مَشَوَا الْقَھْقَریٰ عَلٰی اَدْبَارِھِمْ حَتّٰی قَامُوْا مِمَّا یَلِی الْعَدُوَّ ، وَاَقْبَلَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِیْ کَانَتْ مُقَابَلَۃَ الْعَدْوِّ ، فَرَکَعُوْا وَسَجَدُوا وَرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ کَمَا ھُوَ ، ثُمَّ قَامُوا ، فَرَکَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، رَکْعَۃً اُخْریٰ فَرَکَعُوْا مَعَہٗ ، وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَہٗ ، ثُمَّ اَقْبَلَتِ الطَّائِفَۃُ الَّتِیْ کَانَتْ تُقَابِلُ الْعَدُوَّ فَرَکَعُوْا وَسَجَدُوا وَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَہٗ ثُمَّ کَانَ السَّلَامُ، فَسَلَّمَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَلَّمُوْا جَمِیعًا ، فَقَامَ الْقَوْمُ وَقَدْ شَرَکُوہُ فِی الصَّلَاۃِ

عمروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت ابوہریرہؓ کو سنا مروان بن حکم نے ان سے خوف کے بارے میں دریافت کیا: تو حضرت ابوہریرہؓ نے بتایا: میں اس جنگ میں نبی اکرمﷺ ساتھ موجود تھا نبی اکرمﷺ نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ایک گروہ آپﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل کھڑا ہو گیا ان لوگوں کی پشت قبلہ کی طرف تھی۔ نبی اکرمﷺ نے تکبیر کہی تو ان سب لوگوں نے تکبیر کہی وہ بھی جو آپﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے اور وہ بھی جو دشمن کے مدمقابل کھڑے ہوئے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے رکوع کیا‘ تو جو گروہ آپﷺ کے ساتھ تھا انہوں نے آپﷺکے ہمراہ رکوع کیا‘ نبی اکرمﷺ سجدے میں گئے‘ تو آپﷺ کے ہمراہ پاس والا گروہ بھی سجدے میں چلا گیا‘ جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل کھڑا رہا پھر آپﷺ کھڑے ہوئے‘ تو جس گروہ نے آپﷺ کے ہمراہ ایک رکعت ادا کی تھی انہوں نے اپنا اسلحہ لیا اور الٹےقدمون چلتے ہوئے دشمن کے مدمقابل آکے کھڑے ہو گئے اور وہ گروہ جو دشمن کے مدمقابل کھڑا ہوا تھا وہ آگے آگیا ان لوگوں نے رکوع کیا‘ اور سجدہ کیا نبی اکرمﷺ پہلی حالت میں ہی کھڑے رہے‘ پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے‘ تو نبی اکرمﷺ نے ایک مرتبہ رکوع کیا ان لوگوں نے بھی آپﷺ کےہمراہ رکوع کیا‘ آپ نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی آپﷺ کے ہمراہ سجدہ کیا‘ پھر وہ گروہ آگیا جو دشمن کےمدمقابل تھا‘ پھر انہوں نے رکوع اور سجدہ کیا نبی اکرمﷺ اور آپﷺ کے ساتھ والے افراد بیٹھے رہے‘ پھر سلام کا وقت آیا‘ تو نبی اکرمﷺ نے سلام پھیرا اور ان سب لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا‘ تو ان سب نے نبی اکرمﷺ کےہمراہ نماز ادا کی تھی۔

صَلاَةِ الخَوْفِ ← أبَا هُرَيْرَةَ، وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَم يَسْألُهُ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← كَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ -وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ- ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Hadith 2878

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2879

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ بن عُمَرَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَقَامُوا مَقَامَ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ وَجَاءَ أولئك فصلى بهم النبي صلى الله عليه وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَضَى هَؤُلَاءِ فَقَامُوا مَقَامَ أصحابهم مقبلين على العدو وجاء أولئك فصلى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم وقضى1 هؤلاء ركعة وهؤلاء ركعة2. [34:5]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں: نبی اکرمﷺ نےہمیں نماز خوف پڑھائی آپﷺ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل موجود رہا پھر وہ لوگ واپس آگئے اور آکر دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو گئے وہ لوگ آئے‘ تو نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔ نبی اکرمﷺ نےان سب سمیت سلام پھیر دیا‘ پھر یہ لوگ چلے گئے اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کی طرف رُخ کر کے کھڑے ہو گئے پھر وہ آئے نبی اکرمﷺ نےان لوگوں کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔ نبی اکرمﷺ نےان سب سمیت سلام پھر دیا‘ تو ان لوگوں نے بھی ایک‘ ایک رکعت ادا کی۔

بن عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2879

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr