Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 554

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ "لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يأكل طعامك إلا تقي" 1. [1: 63]

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ تم صرف مومن کی مصاحبت اختیار کرنا اور تمہارا کھانا صرف پرہیز گا ر لوگ کھائیں‘‘۔

"لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يأكل طعامك إلا تقي" ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 554

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 555

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا بن الْمُبَارَكِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ2 عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "لَا تَصْحَبْ إِلَّا مؤمنا ولا يأكل طعامك إلا تقي" 3.] 2: 23]

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے: ’’ تم صرف مومن کی مصاحبت اختیار کرنا اور تمہارا کھانا صرف پرہیز گار لوگ کھائیں ‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← الْوَلِيدِ بْنِ قَيْسٍ2 ← سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← بن الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 555

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 556

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن الصامتذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ مَحَبَّةَ الْمَرْءِ الصَّالِحِينَ وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي اللُّحُوقِ بِأَعْمَالِهِمْ يَبْلُغُهُ فِي الْجَنَّةِ أَنْ يَكُونَ مَعَهُمْ [556] أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ اَنَّہٗ قَالَ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ یَحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَّعْمَلَ کَعَمَلِھِمْ قَالَ اِنَّکَ یَا اَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ قَالَ فَاِنِّیْ اُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ قَالَ اَنْتَ یَا اَبَا ذَرٍّ مَعَ من أحْبَبْتَ ۔(65:3)

حضرت ابوذر غفاریؓ ‘ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص کسی قوم سے محبت رکھتا ہے ‘ لیکن وہ ان کے عمل کی طرح عمل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! تم اس کے ساتھ ہو گے‘ جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ حضرت ابوذرؓ نے عرض کی: میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے ابو ذر ! تم جس سے محبت رکھتے ہو‘ تم اس کے ساتھ ہو گے‘‘۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 556

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 557

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رجل فقال: ذِكْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ خِطَابَ هَذَا الْخَبَرَ قُصِدَ بِهِ التَّخْصِيصُ دُونَ الْعُمُومِ [557] أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فقَالَ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللہِ اَرَاَیْتَ رَجُلًا یُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا بَلْحَقْ بِھِمْ قَالَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ۔(65:3)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی : ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ‘ جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے ‘ لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہو پوتا ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’آدمی اس کے ساتھ ہو گا‘ جس سے وہ محبت رکھتا ہے ‘‘۔

أتى النبي رجل ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 557

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 558

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلًا بِالْجِعْرَانَةِ، بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَتَى [ص:318] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ، فقَالَ: أَلَا تُنْجِزُ لِي يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي؟، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْشِرْ»، فقَالَ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ: لَقَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنَ الْبُشْرَى، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلَالٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ، فقَالَ: «إِنَّ هَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَى، فَاقْبَلَا أَنْتُمَا» فَقَالَا: قَبْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ثُمَّ، قَالَ لَهُمَا: «اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا أَوْ نُحُورِكُمَا» فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلَا مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ: أَنْ أَفْضِلَا لِأُمِّكُمَا فِي إِنَائِكُمَا، فَأَفْضَلَا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً. [5: 9]

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا۔ آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان ’’جعرانہ ‘‘ کے مقام پر نیچے کی طرف اتر رہے تھے۔ آپ کے ساتھ حضرت بلال ؓ بھی تھے۔ ایک دیہاتی شخص نبی اکرمﷺ کے سامنے آیا اس نے عرض کی : اے حضرت محمد ﷺ آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا وہ پورا نہیں کریں گے ؟ نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا : تم خوشخبری قبول کرو دیہاتی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ پہلے ہی مجھے بہت ساری خوشخبریاں دے چکے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرمﷺ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اور حضرت بلال ؓ کی طرف غصے کے عالم میں متوجہ ہوئے اور فرمایا : اس شخص نے خوشخبری کو مسترد کر دیا ہے ‘ تو تم دونوں اسے قبول کر لو‘ تو ان دونوں صاحبان نے عرض کی : یا رسول اللہ! ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ پھر نبی اکرمﷺ نے ایک پیالہ منگوایا جس میں پانی موجود تھا۔ پھر آپ نے ان دونوں سے فرمایا : تم دونوں اس میں اس سےپی لو اور اسے اپنے سینے اور چہرے کے اوپر بھی انڈیل لو ‘ ان دونوں حضرات نے پیالہ لیا او ر ایسا ہی کیا ‘جس طرح بنی اکرمﷺ نے انہیں ہدایت کی تھی۔ پردے کےپیچھے سے سیّدہ اُم سلمہ ؓ نے انہیں پکار کر کہا : اپنے برتن میں سے اپنی والدہ کے لئے بھی کچھ بچا لینا ‘ تو ان دونوں نے اس میں سےتھوڑا سا ( پانی ) ان کے لیے بھی بچا لیا‘‘۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 558

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 559

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا بن الْمُبَارَكِ بِدَرْبِ الرُّومِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عكرمة عن بن عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال "البركة مع أكابركم" 1.

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ برکت تمہارے بڑو کے ساتھ ہے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) عبد اللہ بن مبارک نے یہ حدیث خراسان میں بیان نہیں کی تھی۔ یہ حدیث انہوں نے درب ( روم) میں بیان کی ‘ تو اہل شام نے ان سے اس حدیث کو سن لیا اور یہ حدیث ابن مبارک کی کتابوں میں مرفوع حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← بن الْمُبَارَكِ بِدَرْبِ الرُّومِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 559

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 560

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قال حدثنا بن وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ حَيْوَةَ بْنَ شُرَيْحٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يأكل طعامك إلا تقي" 1. [1: 2]

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سناہے : ’’تم صرف مومن کی مصاحبت اختیار کرنا اور تمہارا کھانا صرف پرہیز گا ر شخص کھائے‘‘۔

"لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يأكل طعامك إلا تقي" ← النَّبِيِّ ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَنَّهُ ← أَنَّهُ ← سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 560

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 561

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بردةذكر الْأَمْرِ بِمُجَالَسَةِ الصَّالِحِينَ وَأَهْلِ الدِّينِ دُونَ أَضْدَادِهِمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ [561] أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَثَلُ الْجَلِیسِ الصَّالِحِ وَمَثَلُ جَلِیسِ السُّوْءِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ اکْکِیرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ وَاِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیحًا طَیَبَۃً وَنَافِخُ الْکِیرِ اِمَّا اَنْ یُّحْرِقَ ثِیَابَکَ وَاِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیحًا خَبِیثَۃً

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’نیک ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال اسی طرح ہے ‘ جیسے کسی نے مشک اٹھایا ہوا ہو اور کوئی بھٹی جھونکتا ہو ‘ تو مشک اٹھانے والے شخص سے ‘ یا تو تم اسے خرید لو گے یا پھر تم اس سے خوشبو حاصل کر لو گے اور بھٹی جھونکنے والا شخص یا تو تمہارے کپڑے کو جلا دے گا یا پھر تمہیں اس سے بدبو آئے گی‘‘۔ ( اما م ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ دینی معاملات میں قیاس کرنا مباح ہے ۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، ← أَبِي بردةذكر الْأَمْرِ بِمُجَالَسَةِ الصَّالِحِينَ وَأَهْلِ الدِّينِ دُونَ أَضْدَادِهِمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 561

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 562

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: يَا مُحَمَّدُ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْوَرِيٍّ، فَقُلْنَا: وَيْلَكَ اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ، فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ هَذَا، قَالَ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى أَسْمَعَهُ، فقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ: «هَاؤُمُ»، فقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا، وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ؟، قَالَ: «ذَلِكَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»

حضرت صفوان بن عسال مرادی ؓ بیان کرتےہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : اے حضرت محمد ﷺ ہم نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو۔ تم اپنی آواز کو پست رکھو‘ کیونکہ تمہیں اس بات سے منع کیا گیا ہے : وہ بولا : نہیں ۔ اللہ کی قسم! جب تک میں انہیں سنا نہیں لیتا ( میں اپنی آواز نیچی نہیں کروں گا ) نبی اکرمﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے اشارہ کیا کیہ آگے آ جاؤ ۔ اس شخص نے کہا : ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ‘جو کیسی قوم سے محبت رکھتا ہے ‘ لیکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہو پاتا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن سے محبت رکھتا ہے۔ روایت کے یہ الفاظ ’’ ھاؤم ‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ دیہاتی کی آواز سے زیادہ بلند آواز میں یہ لفظ کہا تاکہ وہ دیہاتی نبی اکرمﷺ کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے کے حوالے سے گنہگار نہ ہو۔ یہ بات شیخ سے بیان کی ہے۔

صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 562

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 563

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟، قَالَ: «مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ »، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: «فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ». [1: 2]

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم نے اس کے لئے تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم اس کے ساتھ ہو گے‘ جس سے محبت رکھتے ہو۔

رَجُلٌ: ← أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 563

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 564

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟، قَالَ: «أَمَا إِنَّهَا قَائِمَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ »، قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَثِيرَ عَمَلٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ، وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی: اے اللہ تعالیٰ کے نبی !ْ قیامت کب قائم ہو گی؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نے تو قائم ہو ہی جانا ہے ۔ تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے۔ اس نے عرض کی : میں نے اس کے لئے زیادہ عمل کی تیاری نہیں کی ہے ‘ البتہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم جس سے محبت رکھتےہو‘ تو اس کے ساتھ ہو گےاور تم نے جس ثواب کی امید رکھی ہے وہ تمہیں مل جائے گا۔

مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَثِيرَ عَمَلٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، ← «أَمَا إِنَّهَا قَائِمَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟، ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَجُلًا ← الْحَسَنِ، ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 564

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ ۔بَابُ الصُّحْبَۃِ وَالْمُجَالَسَۃِ · حديث 565

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟ » قَالَ: هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «إِنَّهَا قَائِمَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ »، قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ عَمَلٍ غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ»، قَالَ: وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ، فقَالَ: «إِنْ يَعِشْ هَذَا، فَلَا يُدْرِكُهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ» [ص:325] زَادَ هُدْبَةُ: قَالَ: أَنَسٌ: فَنَحْنُ نُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْأَلْفَاظِ الَّتِي أُطْلِقَتْ بِتَعْيِينِ خِطَابٍ مُرَادُهُ التَّحْذِيرُ، وَذَاكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ تَحْذِيرَ النَّاسِ عَنِ الرُّكُونِ إِلَى هَذِهِ الدُّنْيَا، بِتَعْرِيفِهِمُ الشَّيْءَ الَّذِي يَكُونُ بِخَلَدِهِمْ تَقَبُّلُ حَقِيقَتِهِ مِنْ قُرْبِ السَّاعَةِ عَلَيْهِمْ، دُونَ اعْتِمَادِهِمْ عَلَى مَا يَسْمَعُونَ. [3: 42]

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہو گی؟ اسی دوران نماز کھڑی ہو گئی۔ جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کر لی‘ تو آپ نے دریافت کیا :قیامت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! میں یہاں ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس نے تو قائم ہو ہی جانا ہے ‘ تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی: میں نے اس کے لئے زیادہ عمل کی صورت میں تیاری نہیں کی ہے ‘ البتہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اس کے ساتھ ہوگے‘ جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس وقت نبی اکرمﷺ کے پاس انصار کا ایک شخص موجود تھا جس کا نام محمد تھا ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر یہ زندہ رہ گیا ‘تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے قیامت قائم ہو جائےگی۔ یہاں ہدبہ نامی راوی نے یہ الفاظ ذائد نقل کئے ہیں۔ حضرت انس ؓ فرماتےہیں: ہم اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتے ہیں۔ ( امام ابن حبا نؒ فرماتےہیں: ) یہ روایت ان الفاظ سے تعلق رکھتی ہے ‘ جس میں خطاب کی تعین مطلق رکھی گئی ہے ‘ اور اس سے مراد منع کرنا ہے وہ یہ کہ نبی اکرمﷺ نے لوگوں کو اس چیز سے منع کرنا مراد لیا ہے کہ وہ اس دنیا کی طرف راغب ہوں اور ان کے سامنے ایسی چیز کی تعریف بیان کی ہے ‘ جو ان کے ہمیشہ رہنے کے حوالے سے ہے کہ اس کی حقیقت اس بات کو قبول کرتی ہے کہ ان لوگوں کےلئے قیامت کا وقت قریب ہے‘ اور انہیں اس چیز پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے ‘ جو وہ سن رہے ہیں۔

أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter of companionship and encounters · Hadith 565

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr