Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْحَدَثِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 2235

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ1 أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَبَّرَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمًا ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ2 ثُمَّ انْطَلَقَ فَاغْتَسَلَ فجاء ورأسه يقطر فصلى بهم"3

حضرت ابوبکرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک دن فجر کی نماز میں تکبیر کہی پھر آپ نے لوگوں کی طرف اشارہ کیا ( کہ وہ ٹھہرے رہیں ) پھر آپ تشریف لے گئے۔ آپ نے غسل کیا۔ آپ تشریف لائے‘ تو آپ کے سر سے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) حضرت ابوبکرؓ کا یہ کہنا کہ نبی اکرمﷺ نے انہیں نماز پڑھائی اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نئے سرے سے تکبیر کہہ کر ایسا کیا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے واپس تشریف لا کر پہلے والی نماز پر بناء قائم ی کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ نبی اکرمﷺ تشریف لے جا کر غسل کریں۔ اور لوگ سارے کے سارے اپنی حالت میں کسی امام کے بغیر قیام کی حالت میں کھڑے رہیں یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ واپس آجائیں۔ جس شخص نے اس روایت کے ذریعے یہ استدلال کیا کہ نماز پر بناء قائم کرنا مباح ہے۔ اس کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ وہ امام کے بغیر مقتدی کے کھڑے ہونے کو فاسد قرار نہ دے۔ جس کی مقدار اتنی ہو۔ جتنی دیر میں نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے تھے آپ نے گسل کیا تھا۔ یہاں تک کہ آپ واپس تشریف لے آئے تھےا ور اس دوران مقتدیوں نے قرأت بھی نہ کی ہو۔ تو جب اس کا ہماری ذکر کردہ چیز کے جائز ہونے کی نفی کرنا درست ہو گا تو یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ نماز کے دوران بناء قائم کرنا جائز نہیں ہے۔ اور ان لوگوں پر نئے سرے سے یہ بات لازم ہوگی کہ وہ امام کے پیچھے قرأت کو لازم قرار دیں۔ کیونکہ ان دونوں میں سے کوئی ایک معاملہ ضروری ہو گا۔ یا تو وہ مقتدیوں کے نماز کے دوران کسی قرأت اور امام کے بغیر کھڑے رہنے کو جائز قرار دیں گے۔ جس کی مدت اتنی ہو۔ جتنی ہم نے ذکر کی ہے۔ یا پھر ایسا ہے کہ ان مقتدیوں کو وہ اس طرف لے کر جائیں گے۔ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ انہیں امام کے پیچھے قرأت کرنی پڑے گی۔ اگرچہ ان کے آگے امام کھڑا نہ ہو۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The chapter on the event in prayer · Hadith 2235

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْحَدَثِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 2236

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ1 قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: "خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَانْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ انْصَرَفَ وَقَالَ "عَلَى مَكَانِكُمْ" وَدَخَلَ بَيْتَهُ وَمَكَثْنَا عَلَى هَيْئَتِنَا حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا يَنْطِفُ رأسه وقد اغتسل2.

حضرت ابوہرہؓ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرمﷺ تشریف لائے نماز کےلئے اقامت کہی جا چکی تھی۔ صفیں درست ہو چکی تھیں‘ یہاں تک کہ جب نبی اکرمﷺ اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوئے اور ہم آپ کے تکبیر کہنے کے منتظر تھے‘ تو آپ واپس تشریف لے گئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو پھر آپ گھر میں تشریف لے گئے کچھ دیر وہیں ٹھہرے رہے‘ پھر آپ ہمارے پاس تشریف لائے‘ تو آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ نے غسل کیا تھا۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) یہ دونوں فعل دو مختلف مواقع پر سر انجام پائے تھے۔ ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے تھے۔ آپ نے تکبیر کہہ دی تھی۔ پھر آپ کو یہ یاد آیا کہ آپ جنابت کی حالت میں ہیں۔پھر آپ باہر چلے گئے پھر آپ نے غسل کیا۔ پھر آپ آپ تشریف لائے ۔ اور آپ نے نئے سرے سے ان کو نماز پڑھائی۔ جبکہ دوسری مرتبہ آپ تشریف لائے۔ جب آپ تکبیر کہنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ تو آپ کو یہ بات یاد آئی کہ آپ جنابت کی حالت میں ہیں یہ آپ کو تکبیر کہنے سے پہلے یاد آیا تھا آپ تشریف لے گئے تھے۔ آپ نے غسل کیا۔ پھر آپ واپس تشریف لائے۔ اور آپ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس صورت میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور کوئی اختلاف باقی نہیں رہےگا۔

أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The chapter on the event in prayer · Hadith 2236

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْحَدَثِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 2237

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ ثُمَّ لِيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدْ صلاتهذكر الْأَمْرِ لِمَنْ أَحْدَثَ فِي صَلَاتِهِ مُتَعَمِّدًا أَوْ سَاهِيًا بِإِعَادَةِ الْوُضُوءِ وَاسْتِقْبَالِ الصَّلَاةِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ عَلَيْهِ [2237] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "إِذَا فَسَا أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ ثُمَّ لِيَتَوَضَّأْ وَلْيُعِدْ صَلَاتَهُ وَلَا تَاُْوا النِّسَاءَ فِیْ اَدْبَارِ ھِنَّ ۔

حضرت علی بن طلق حنفیؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب کسی شخص کی نماز کے دوران ہوا خارج ہو جائے‘ تو وہ واپس جائے پھر وضو کرے اور دوبارہ نماز ادا کرے اور تم خواتین کے ساتھ ان کی پچھلی شرم گاہ میں صحبت نہ کرو۔‘‘ راوی نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے کہ ’’ پھر وہ اپنی نماز کو دہرائے‘‘ صرف جلیل نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ یہ بات امام ابو حاتم نے بیان کی ہے۔ اور اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ بے وضو ہونے والے شخص کے لئے نماز پر بناء قائم کرنا جائز نہیں ہے۔

عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ الْحَنَفِيِّ ← مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ ← عِيسَى بْنِ حِطَّانَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The chapter on the event in prayer · Hadith 2237

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْحَدَثِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 2238

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِنَصِيبِينَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ عن هشام بن عروة عن أبيهذكر وَصْفِ انْصِرَافِ الْمُحْدِثِ عَنْ صَلَاتِهِ إِذَا كَانَ إِمَامًا أَوْ مَأْمُومًا [2238] أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِنَصِيبِينَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عِنْ عَائِشَۃَ ، اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا اَحْدَتَ اَحَدُکُمْ وَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ ، فَلْیَاْخُذْ عَلٰی اَنْفِہِ ، ثُمَّ لِیَنْصَرِفْ ۔ (78:1)

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب کسی شخص کا وضو نماز کے دوران ٹوٹ جائے‘ تو اسے اپنی ناک کو پکڑ لینا چاہئے اور پلٹ آنا چاہئے۔‘‘

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ← عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ← عَمْرُو بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِنَصِيبِينَ ← صَلَاتِهِ إِذَا كَانَ إِمَامًا أَوْ مَأْمُومًا ← أبيهذكر وَصْفِ انْصِرَافِ الْمُحْدِثِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ← عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ← عَمْرُو بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِنَصِيبِينَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The chapter on the event in prayer · Hadith 2238

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْحَدَثِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 2239

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ "إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَأْخُذْ عَلَى أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ" 1 [1: 87]

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ’’ جب کسی شخص کا وضو نماز کے دوران ٹوٹ جائے تو اسے اپنی ناک پکڑ لینی چاہئے اور پھر واپس جانا چاہئے۔‘‘

"إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَأْخُذْ عَلَى أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْصَرِفْ" ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The chapter on the event in prayer · Hadith 2239

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr