صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْحَدَثِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 2235
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ1 أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَبَّرَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمًا ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ2 ثُمَّ انْطَلَقَ فَاغْتَسَلَ فجاء ورأسه يقطر فصلى بهم"3
حضرت ابوبکرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک دن فجر کی نماز میں تکبیر کہی پھر آپ نے لوگوں کی طرف اشارہ کیا ( کہ وہ ٹھہرے رہیں ) پھر آپ تشریف لے گئے۔ آپ نے غسل کیا۔ آپ تشریف لائے‘ تو آپ کے سر سے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) حضرت ابوبکرؓ کا یہ کہنا کہ نبی اکرمﷺ نے انہیں نماز پڑھائی اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نئے سرے سے تکبیر کہہ کر ایسا کیا۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے واپس تشریف لا کر پہلے والی نماز پر بناء قائم ی کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ نبی اکرمﷺ تشریف لے جا کر غسل کریں۔ اور لوگ سارے کے سارے اپنی حالت میں کسی امام کے بغیر قیام کی حالت میں کھڑے رہیں یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ واپس آجائیں۔ جس شخص نے اس روایت کے ذریعے یہ استدلال کیا کہ نماز پر بناء قائم کرنا مباح ہے۔ اس کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ وہ امام کے بغیر مقتدی کے کھڑے ہونے کو فاسد قرار نہ دے۔ جس کی مقدار اتنی ہو۔ جتنی دیر میں نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے تھے آپ نے گسل کیا تھا۔ یہاں تک کہ آپ واپس تشریف لے آئے تھےا ور اس دوران مقتدیوں نے قرأت بھی نہ کی ہو۔ تو جب اس کا ہماری ذکر کردہ چیز کے جائز ہونے کی نفی کرنا درست ہو گا تو یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ نماز کے دوران بناء قائم کرنا جائز نہیں ہے۔ اور ان لوگوں پر نئے سرے سے یہ بات لازم ہوگی کہ وہ امام کے پیچھے قرأت کو لازم قرار دیں۔ کیونکہ ان دونوں میں سے کوئی ایک معاملہ ضروری ہو گا۔ یا تو وہ مقتدیوں کے نماز کے دوران کسی قرأت اور امام کے بغیر کھڑے رہنے کو جائز قرار دیں گے۔ جس کی مدت اتنی ہو۔ جتنی ہم نے ذکر کی ہے۔ یا پھر ایسا ہے کہ ان مقتدیوں کو وہ اس طرف لے کر جائیں گے۔ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ انہیں امام کے پیچھے قرأت کرنی پڑے گی۔ اگرچہ ان کے آگے امام کھڑا نہ ہو۔
أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The chapter on the event in prayer · Hadith 2235
