صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 33
اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا بن اَبِیْ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃٌ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائشَۃَ قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِیَء بِرَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّادِقَۃُ یَرَاھَا فِی النَّوْمِ فَکَانَ لَا یَرٰی رُؤْیَا اِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْح ثُمَّ حُبِّبَ لَہُ الْخَلَاءُ فَکَانَ یَاْتِیْ حراء فَیَتَحَنَّتُ فَیْہِ وَھُوَ التَّعَبُّدُ اللَّبَالِیَ ذَوَاتِ الْعِدَّۃِ وَیَتَزَوَّدُ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلٰی خَدِیجَۃَ فَتْزَوِّدُہُ لِمِثْلِھَا حَتٰی فَجِئَہُ الْحَقُّ وَھُوَ فِیْ غَارِ حِرَاءَ فَجَاءَہُ الْمَلَکُ فِیْہِ فَقَالَ : اقْرَاْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا اَنَا بقاریء قَالَ : فَاَخَذَنِیْ فَعَطَّنِیْ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدَ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ لِی: اقْرَاْ فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیِء فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدَ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اقْرَاْفَقُلْتُ: مَا اَنَا بِقَارِیِء فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِیَ الثَّالِثَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدَ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: (اقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) حَتّٰی بَلَغَ (مَالَمْ یَعْلَمْ قَالَ): فَرَجَعَ بِھَا تَرْجُفُ بَوَادِرُہُ حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَۃَ فَقَالَ: زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوہُ حَتّٰی ذَھَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ ثُمَّ قَالَ: یَا خَدِیْجَۃُ مَالِی وَاَخْبَرَھَا الْخَبَرَھَا الْخَبَرَ وَقَالَ: قَدْ خَشِیتُہٗ عَلَیَّ فَقَالَتْ: کَلَّا اَبْشِرْ فَوَ اللہِ لَا یُخْزِیکَ اللہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِینُ عَلٰی نَوَائبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِہٖ خَدِیجَۃُ حَتّٰی اَتَتْ بِہٖ وَرَقَۃَ بْنَ وَوْفَلٍ وَکَانَ اَخَا اَبِیْھَا وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَفِی الْجَھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیَّ فَیَکْتُبُ بِالْعَرَبِیَّۃِ مِنَ الْاِنْجِیلِ مَا شَاءَ اَنْ یَّکْتُبَ وَکَانَ شَیْخًا کَبِیرًا قَدْ عَمِیَ فَقَالَتْ لَہٗ خَدِیجَۃُ: اَیْ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ اَخِیکَ فَقَالَ وَرَقَۃُ: ابْنَ اَخِی مَاتَرَی؟ فَاَخْبَرَہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا رَاَی فَقَالَ وَرَقَۃُ: ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ اُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی یَا لَیْتَنِیْ اَکُوْنُ فِیْھَا جَذَعًا اَکُوْنُ حَیًّا حِیْنَ یُحْرِجُکَ قۃوْمُکَ‘فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَمُخْرِجِیَّ ھُمْ قَالَ: نَعَمْ لَمْ یَاْتِ اُحد قَطُّ بِمَا جِنْتَ بِہٖ اِلَّا عُوْدِیَ وَاُوذِیَ وَاِنْ یُّدْرِکْنِیْ یُوْمُکَ اَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ اَنْ تُوُفِّیَ وَفَتَرَ الْوَحْیُ فَتْرَۃً حَتّٰی حَزِنَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (فِیمَا بَلَغَنَا) حُزْنًا غَدَا مِنْہُ مرارا لکی یتردی من رؤوس شَوَاھِقِ الْجِبَالِ فَکُلَّمَ اُوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ کَیْ یُلْقِیَ نَفْسَہٗ مِنْھَا تَبَدّٰی لَہٗ جَبْرِیْلُ فَقَالَ لَہٗ: یَا مُحَمَّدُ اِنَّکَ رَسُوْلُ اللہِ حَقًّا فَیَسْکُنُ لِذٰلِکَ جَاْشُہُ وتَقَرُّ نَفْسُہُ فَیَرْجِعُ فَاِذَا طَالَ عَلَیْہِ فَتْرَۃُ الْوَحْیِ غَدَا لِمِثْلِ ذٰلِکَ فَاِذَا اَوْفٰی بِذِرْوَۃِ الْجَبَلِ تَبَدّٰی لَہٗ جِبْرِیْلُ فَیَقُوْلُ لَہٗ مِثْلَ ذٰلِکَ ۔(3:1)
یّدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں : وحی کے آغاز میں نبی اکرمﷺ کو سچے خواب دکھائی دینے لگے‘ جو آپ نیند کی حالت میں دیکھتے تھے۔ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے‘ وہ صبح کے نمودار ہونے کی مانند پورا ہو جاتا تھا‘ پھر آپ کی طبیعت خلوت کی طرف مائل کرد ی گئی۔ آپ غارِ حرا تشریف لے جاتے تھےوہاں ’’تحنث‘‘ کرتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں ) یعنی آپ وہاں متعدد راتوں تک عبادت کرتے رہتے تھے۔ (سیّدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں:نبی اکرمﷺ اپنا زادِراہ ساتھ لے جایا کرتے تھے‘ پھر واپس سیدہ خدیجہؓ کے پاس آتے تھے۔ وہ اسی کی مانند مزید زادِراہ تیار کر دیتی تھیں۔ یہاں تک کہ اچانک ایک دن حق آپ کے پاس آ گیا۔آپ اس وقت غارِ حرا میں موجود تھے۔وہاں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور بولا : آپ پڑھئے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : میں نے جواب دیا : میں نہیں پڑھوں گا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : اس نے مجھے پکڑ لیا۔ اس نے مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے وقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا‘ پھر اس نے مجھ سے کہا : آپ پڑھئے۔ میں نے کہا : میں نہیں پڑھوں گا۔ اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دوسری مرتبہ مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے وقت کا سامنا کرنا پڑا پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا : آپ پڑھئے ! میں نے کہا : میں نہیں پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے تیسری مرتبہ بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے وقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا : ’’آپ اپنے پروردگارکے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے پرھئے‘ جس نے پیدا کیا ہے‘‘۔ یہ آیات یہاں تک ہیں : ’’جو وہ نہیں جانتا‘‘۔ نبی اکرمﷺ ( یا راوی کہتے ہیں) پھر نبی اکرمﷺ سیدہ خدیجہؓ کے پاس واپس تشریف لائے‘ تو آپ کے جسم پر کپکپی طاری تھی۔ آپ سیدہ خدیجہؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : مجھے اوڑھنے کے لئے کچھ دو ! انہوں نے آپ کو اوڑھنے کے لئے کوئی چیز دے دی۔ یہاں تک کہ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے خدیجہ ! میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ پھر آپ نے انہیں پوری بات بتائی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہے ‘ تو سیدہ خدیجہؓ نے کہا : ہرگز نہیں۔ آپ کے لئے خوشخبری ہے ‘ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ بے شک آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ‘ سچ بولتے ہیں ‘ بوجھ اٹھاتے ہیں ‘ مہمان نوازی کرتے ہیں ، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہیں‘‘۔ پھر سیدہ خدیجہؓ نبی اکرمﷺ کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں ‘ جو ان کے چچا تھے ‘یہ صاحب زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی میں تحریر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے انجیل کا کچھ حصہ عربی میں نوٹ کیا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی عمر کے صاحب تھے‘ جو نابینا ہو چکے تھے۔ سیدہ خدیجہؓ نے ان سے کہا : اے میرتے چچا! آپ اپنے بھتیجے کی بات سنئے ‘ ورقہ نے کہا : اے میرے بھتیجے ! تم نے کیا دیکھا ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے جو بات دیکھی تھی اس کے بارے میں انہیں بتایا توورقہ نے کہا : یہ وہ ناموس (فرشتہ ) ہے ‘ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہواتھا۔ اے کاش کہ میں اس وقت موجود ہوتا‘ یا اس وقت زندہ ہوتا جت آپ کی قوم آپ کو (مکہ سے ) نکال دیتی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا وہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا : جی ہاں۔ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں‘ اس طرح کی چیز جو بھی ( نبی ) لے کر آیا‘ تو اس سے دشمنی کی گئی اور اسے اذیت پہنچائی گئی۔ اگر مجھے وہ دن دیکھنے کو ملا‘ تو میں ( اس موقع پر ) آپ کی پھر پور مدد کروں گا۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے کچھ عرصے کے بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا۔ پھر وحی کے نزول کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ غمگین ہو گئے۔ آپ کی یہ کیفیت اتنی شدید ہوئی کہ آپ کئی مرتبہ پہاڑ سے چھلانگ لگانے کے ارادے سے تشریف لے گئے۔ جب بھی آپ پہاڑ کی چوٹی سے خود کو نیچے گرانے کا ارادہ کرتے ‘ تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آ جاتے اور آپ سے یہ کہتے : اے حضرت محمدﷺ! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس وجہ سے آپ کی بے چینی کو سکون آ جاتا اور آپ کی جان کو قرار آ جاتا۔ اور آپ واپس تشریف لے آتے‘ جب وحی کے انقطاع کا سلسلہ طویل ہو گیا‘ تو ایک مرتبہ آپ اسی کی مانند تشریف لے گئے۔ جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آئے اور انہوں نے آپ کے سامنے اسی کی مانند بات کہی۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،
Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 33
