Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 33

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا بن اَبِیْ السَّرِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّھْرِیِّ اَخْبَرَنِیْ عُرْوَۃٌ بْنُ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائشَۃَ قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِیَء بِرَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّادِقَۃُ یَرَاھَا فِی النَّوْمِ فَکَانَ لَا یَرٰی رُؤْیَا اِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْح ثُمَّ حُبِّبَ لَہُ الْخَلَاءُ فَکَانَ یَاْتِیْ حراء فَیَتَحَنَّتُ فَیْہِ وَھُوَ التَّعَبُّدُ اللَّبَالِیَ ذَوَاتِ الْعِدَّۃِ وَیَتَزَوَّدُ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلٰی خَدِیجَۃَ فَتْزَوِّدُہُ لِمِثْلِھَا حَتٰی فَجِئَہُ الْحَقُّ وَھُوَ فِیْ غَارِ حِرَاءَ فَجَاءَہُ الْمَلَکُ فِیْہِ فَقَالَ : اقْرَاْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا اَنَا بقاریء قَالَ : فَاَخَذَنِیْ فَعَطَّنِیْ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدَ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ لِی: اقْرَاْ فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیِء فَاَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدَ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اقْرَاْفَقُلْتُ: مَا اَنَا بِقَارِیِء فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِیَ الثَّالِثَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدَ ثُمَّ اَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: (اقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) حَتّٰی بَلَغَ (مَالَمْ یَعْلَمْ قَالَ): فَرَجَعَ بِھَا تَرْجُفُ بَوَادِرُہُ حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَۃَ فَقَالَ: زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوہُ حَتّٰی ذَھَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ ثُمَّ قَالَ: یَا خَدِیْجَۃُ مَالِی وَاَخْبَرَھَا الْخَبَرَھَا الْخَبَرَ وَقَالَ: قَدْ خَشِیتُہٗ عَلَیَّ فَقَالَتْ: کَلَّا اَبْشِرْ فَوَ اللہِ لَا یُخْزِیکَ اللہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِینُ عَلٰی نَوَائبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِہٖ خَدِیجَۃُ حَتّٰی اَتَتْ بِہٖ وَرَقَۃَ بْنَ وَوْفَلٍ وَکَانَ اَخَا اَبِیْھَا وَکَانَ امْرَأً تَنَصَّرَفِی الْجَھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیَّ فَیَکْتُبُ بِالْعَرَبِیَّۃِ مِنَ الْاِنْجِیلِ مَا شَاءَ اَنْ یَّکْتُبَ وَکَانَ شَیْخًا کَبِیرًا قَدْ عَمِیَ فَقَالَتْ لَہٗ خَدِیجَۃُ: اَیْ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ اَخِیکَ فَقَالَ وَرَقَۃُ: ابْنَ اَخِی مَاتَرَی؟ فَاَخْبَرَہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا رَاَی فَقَالَ وَرَقَۃُ: ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ اُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی یَا لَیْتَنِیْ اَکُوْنُ فِیْھَا جَذَعًا اَکُوْنُ حَیًّا حِیْنَ یُحْرِجُکَ قۃوْمُکَ‘فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَمُخْرِجِیَّ ھُمْ قَالَ: نَعَمْ لَمْ یَاْتِ اُحد قَطُّ بِمَا جِنْتَ بِہٖ اِلَّا عُوْدِیَ وَاُوذِیَ وَاِنْ یُّدْرِکْنِیْ یُوْمُکَ اَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ اَنْ تُوُفِّیَ وَفَتَرَ الْوَحْیُ فَتْرَۃً حَتّٰی حَزِنَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (فِیمَا بَلَغَنَا) حُزْنًا غَدَا مِنْہُ مرارا لکی یتردی من رؤوس شَوَاھِقِ الْجِبَالِ فَکُلَّمَ اُوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ کَیْ یُلْقِیَ نَفْسَہٗ مِنْھَا تَبَدّٰی لَہٗ جَبْرِیْلُ فَقَالَ لَہٗ: یَا مُحَمَّدُ اِنَّکَ رَسُوْلُ اللہِ حَقًّا فَیَسْکُنُ لِذٰلِکَ جَاْشُہُ وتَقَرُّ نَفْسُہُ فَیَرْجِعُ فَاِذَا طَالَ عَلَیْہِ فَتْرَۃُ الْوَحْیِ غَدَا لِمِثْلِ ذٰلِکَ فَاِذَا اَوْفٰی بِذِرْوَۃِ الْجَبَلِ تَبَدّٰی لَہٗ جِبْرِیْلُ فَیَقُوْلُ لَہٗ مِثْلَ ذٰلِکَ ۔(3:1)

یّدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں : وحی کے آغاز میں نبی اکرمﷺ کو سچے خواب دکھائی دینے لگے‘ جو آپ نیند کی حالت میں دیکھتے تھے۔ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے‘ وہ صبح کے نمودار ہونے کی مانند پورا ہو جاتا تھا‘ پھر آپ کی طبیعت خلوت کی طرف مائل کرد ی گئی۔ آپ غارِ حرا تشریف لے جاتے تھےوہاں ’’تحنث‘‘ کرتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں ) یعنی آپ وہاں متعدد راتوں تک عبادت کرتے رہتے تھے۔ (سیّدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں:نبی اکرمﷺ اپنا زادِراہ ساتھ لے جایا کرتے تھے‘ پھر واپس سیدہ خدیجہؓ کے پاس آتے تھے۔ وہ اسی کی مانند مزید زادِراہ تیار کر دیتی تھیں۔ یہاں تک کہ اچانک ایک دن حق آپ کے پاس آ گیا۔آپ اس وقت غارِ حرا میں موجود تھے۔وہاں فرشتہ آپ کے پاس آیا اور بولا : آپ پڑھئے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : میں نے جواب دیا : میں نہیں پڑھوں گا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : اس نے مجھے پکڑ لیا۔ اس نے مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے وقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا‘ پھر اس نے مجھ سے کہا : آپ پڑھئے۔ میں نے کہا : میں نہیں پڑھوں گا۔ اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دوسری مرتبہ مجھے بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے وقت کا سامنا کرنا پڑا پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا : آپ پڑھئے ! میں نے کہا : میں نہیں پڑھوں گا۔ پھر اس نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے تیسری مرتبہ بھینچ لیا۔ یہاں تک کہ مجھے وقت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا : ’’آپ اپنے پروردگارکے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے پرھئے‘ جس نے پیدا کیا ہے‘‘۔ یہ آیات یہاں تک ہیں : ’’جو وہ نہیں جانتا‘‘۔ نبی اکرمﷺ ( یا راوی کہتے ہیں) پھر نبی اکرمﷺ سیدہ خدیجہؓ کے پاس واپس تشریف لائے‘ تو آپ کے جسم پر کپکپی طاری تھی۔ آپ سیدہ خدیجہؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : مجھے اوڑھنے کے لئے کچھ دو ! انہوں نے آپ کو اوڑھنے کے لئے کوئی چیز دے دی۔ یہاں تک کہ جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے خدیجہ ! میرے ساتھ کیا ہوا ہے؟ پھر آپ نے انہیں پوری بات بتائی ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ ہے ‘ تو سیدہ خدیجہؓ نے کہا : ہرگز نہیں۔ آپ کے لئے خوشخبری ہے ‘ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ بے شک آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ‘ سچ بولتے ہیں ‘ بوجھ اٹھاتے ہیں ‘ مہمان نوازی کرتے ہیں ، حق کے کاموں میں مدد کرتے ہیں‘‘۔ پھر سیدہ خدیجہؓ نبی اکرمﷺ کو ساتھ لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں ‘ جو ان کے چچا تھے ‘یہ صاحب زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عربی میں تحریر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے انجیل کا کچھ حصہ عربی میں نوٹ کیا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی عمر کے صاحب تھے‘ جو نابینا ہو چکے تھے۔ سیدہ خدیجہؓ نے ان سے کہا : اے میرتے چچا! آپ اپنے بھتیجے کی بات سنئے ‘ ورقہ نے کہا : اے میرے بھتیجے ! تم نے کیا دیکھا ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے جو بات دیکھی تھی اس کے بارے میں انہیں بتایا توورقہ نے کہا : یہ وہ ناموس (فرشتہ ) ہے ‘ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہواتھا۔ اے کاش کہ میں اس وقت موجود ہوتا‘ یا اس وقت زندہ ہوتا جت آپ کی قوم آپ کو (مکہ سے ) نکال دیتی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا وہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا : جی ہاں۔ آپ جو چیز لے کر آئے ہیں‘ اس طرح کی چیز جو بھی ( نبی ) لے کر آیا‘ تو اس سے دشمنی کی گئی اور اسے اذیت پہنچائی گئی۔ اگر مجھے وہ دن دیکھنے کو ملا‘ تو میں ( اس موقع پر ) آپ کی پھر پور مدد کروں گا۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے کچھ عرصے کے بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا۔ پھر وحی کے نزول کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ غمگین ہو گئے۔ آپ کی یہ کیفیت اتنی شدید ہوئی کہ آپ کئی مرتبہ پہاڑ سے چھلانگ لگانے کے ارادے سے تشریف لے گئے۔ جب بھی آپ پہاڑ کی چوٹی سے خود کو نیچے گرانے کا ارادہ کرتے ‘ تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آ جاتے اور آپ سے یہ کہتے : اے حضرت محمدﷺ! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس وجہ سے آپ کی بے چینی کو سکون آ جاتا اور آپ کی جان کو قرار آ جاتا۔ اور آپ واپس تشریف لے آتے‘ جب وحی کے انقطاع کا سلسلہ طویل ہو گیا‘ تو ایک مرتبہ آپ اسی کی مانند تشریف لے گئے۔ جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے ‘ تو حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے سامنے آئے اور انہوں نے آپ کے سامنے اسی کی مانند بات کہی۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 33

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 34

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی حَدَّثَنَا ھُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا اَبَانُ بْنُ یَزِیْدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَبِیْ کَثِیْرٍ قَالَ: سَاَلْتُ اَبَا سَلَمَۃَ اَیُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ قَالَ: (یَا اَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ)قُلْتُ: اِنِّیْ نُبِئْتُ اَنَّ اَوَّلَ سُورَۃٍ اُنْزِلَتْ مَنَ الْقُرْآنِ: (اقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) قَالَ اَبُوْ سَلَمَۃَ: جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللہِ اَیُّ الْقُرْآنِ اُنْزِلَ اَوَّلَ قَالَ: (یَا اَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ) فَقُلْتُ لَہٗ: اِنِّیْ نُبِّئْتُ انَّ اَوَّلَ سُورَۃٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ: (اِقْرَاْبِسْمِ رَبِّکَ) قَالَ جَابِرٌ: لاَ اُحَدِّثُکَ اِلَّا مَا حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ وعَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاوَرْتُ فِیْ حِرَاءَ فَلَمَّا قَضَیْتُ جِوَارِیْ نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ الْوَادِیَ فَنُوْدِیتُ فَنَظَرْتُ اَمَامِی وَخَلْفِیْ وَعَنْ یَّم،یْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ فَلَمْ اَرَشَیْئًا فَنُوْد،یتُ فَنَظَرْتُ فَوْقِی فَاِذَاَنَا بِہٖ قَاعِدٌ عَلٰی عَرْشٍ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ فَجُئثْتُ مِنْہُ فَانْطَلَقْتُ اِلٰی خَدِیجَۃَ فَقُلْتُ دَثِّرُوْنِیْ دَثِّرُوْنِیْ وَصَبُّوا عَلَیَّ مَاءً بَارِدًا فَاُنْزِلَتْ عَلَیَّ یَا (اَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ) ۔(3:1)

یحیٰ بن ابو کثیر بیان کرتے ہیں : میں نے ابو سلمہ سے دریافت کیا : سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھاَ؟ انہوں نے جواب دیا : ’’ یا ایھا المدثر‘‘ میں نے کہا : مجھے ‘ تو پتہ چلا ہے‘ سب سے پہلے قرآن میں سے یہ سورت نازل ہوئی تھی: ’’تم اپنے پروردگار کے نام سے برکت حاصل کرتےہوئے پڑھو‘ جس نے پیدا کیا ہے‘‘۔ تو ابو سلمہ نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے دریافت کیا : سب سے پہلے قرآن کا کون سا حصہ نازل ہوا تھا؟انہوں نے جواب دیا ’’ یا یھا المدثر‘‘ میں نے ان سے کہا : مجھے تو یہ پتہ چلا ہے‘ سب سے پہلے قرآن میں سے یہ آیت نازل ہوئی تھی: ’’تم اپنے پروردگار کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے‘ یہ پڑھو‘‘۔ تو حضرت جابرؓ نے فرمایا : میں تمہیں وہی بات بتاؤں گا‘ جو نبی اکرمﷺ نے ہمیں بتائی تھی‘ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: ’’میں نے غارِ حرا میں اعتکاف کیا ہوا تھا‘ جب میرا یہ اعتکاف مکمل ہوا‘ تو میں نماز سے نیچے اترا‘ اور وادی کے نشیبی حصے میں آ گیا‘ تو مجھے پکار کر بلایا گیا‘ میں نے اپنے سامنے‘ اپنے پیچھے‘ اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف دیکھا‘ لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی‘‘۔ پھر مجھے پکارا گیا‘ میں نے اپنے اوپر دیکھا ‘ تو میرے سامنے فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک تخت پر بیٹھا ہوا تھا‘ تو میں اس سے گھبرا گیا اور میں خدیجہ کے پاس آ گیا۔ میں نے کہا : تم مجھے اوڑھنے کے لئے کچھ دو‘ تم مجھے اوڑھنے کے لئےکچھ دو ‘ تم مجھ پر ٹھنڈا پانی بہاؤ۔ پھر مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اے چادر اوڑھنے والے! تم اٹھو اور ڈراؤ اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کرو‘‘۔ ( امام اابن حبانؓ فرماتے ہیں:) حضرت جابرؓ سے منقول اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ قرآن میں سب سے پہلے یا ایھا المدثر نازل ہوئی جبکہ سیّدہ عائشہؓ سے منقول روایت میں یہ مذکور ہے۔ اقرأ با سم ربک سب سے پہلےنازل ہوئی۔ ان دونوں روایات میں تضاد نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر اقرأ باسم ربک اس وقت نازل کہ جب آپ غارِ حرا میں تھے۔ پھر آپ واپس گھر تشریف لے آئے اور سیّدہ خدیجہؓ نے آپ کو چادر اوڑھنے کے لئے دی اور آپ پر ٹھنڈا پانی ڈالا‘ تو سیّدہ خدیجہؓ ک گھر میں آپﷺ پر یا ایھا المدثر نازل ہو گئی‘تو ان دو روایات کے درمیان کوئی اختلاف یا تضاد نہیں ہے۔

سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ: أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ؟، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 34

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 35

اِحْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمِ حَدَّثَنَا الْوَالِیْدُ بْنُ مُسْلِمِ حَدَّثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ اَبِیْ کَثِیْرِ قَالَ: سَاَلْتُ اَبَا سَلَمَۃَ: اَیُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ أَوَّلُ ؟ قَالَ: یَاَیُّھَا الْمُدَثِّرُ قُلْتُ : أَوْ اِقْرَا؟ فَقَالَ اَبُوْ سَلَمَۃَ: سَاَلْتُ جَابِرُ بْنَ عَبْدِاللہِ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ: یَا اَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ فَقُلْتُ أَوْ اِقْرَأْ؟ فَقَالَ : اِنِّیْ اُحَدِّثُکُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ قال : جَاوَرْتُ بِحِرَاءَ شَھْرًا فَلَمَّا قَضَیْتُ جِوَارِیْ نَزَلْتُ فَاسْتَیْطَنْتُ الْوَادِیَ فَنُوْدِیتُ فَنَظَرْتُ اَمَامِی وَخَلْفِیْ وَعَنْ یَّمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ فَلَمْ اَرَاَحَدًا ثُمَّ نُوْدِیتُ فَنَظَرْتُ اِلَی السَّمَاءِ فَاِذَا ھُوَ عَلَی الْعَرْشِ فِی الْھَوَاءِ فَاَخَذَتْنِیْ رَجْفَۃٌ شَدِیدَۃٌ فَاَتَیْتُ خَدِیجَۃَ فَاَمَرْ تُھُمْ فَدَثَّرُوْنِیْ ثُمَّا صَبُّوا عَلَیَّ الْمَاءَ وَاَنْزَلَ اللہِ عَلَیَّ (یَا اَیُّھَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ) ۔ (3:1)

حیٰ بن ابو کثیر بیان کرتے ہیں : میں نے ابو سلمہ سے دریافت کیا : قرآن کا کون سا حصہ پہلے نازل ہوا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : ’’یا ایھا المدثر‘‘ میں نے کہا : ( یہ پہلے نازل ہوا تھا ) یا اقراء ( پہلے نازل ہوا تھا) تو ابو سلمہ نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : (یا ایھا المدثر)پہلے نازل ہوئی تھی‘ تو میں نے کہا : (یہ پہلے نازل ہوئی تھی) یا اقراء ( پہلے نازل ہوئی تھی) تو انہوں نے کہا : میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں گا‘ جو نبی اکرمﷺ نے ہمیں بیان کی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ’’میں نے غارِحرا میں ایک مہینے تک اعتکاف کیا‘ جب میں نے اپنی یہ اعتکاف مکمل کر لیا‘ تو میں پہاڑ سے نیچے آیا۔ میں وادی کے نشیبی حصے میں پہنچا‘تو آواز دے کر پکارا گیا۔ میں نے اپنے سامنے‘ اپنے پیچھے‘ اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں طرف دیکھا‘ لیکن مجھے کوئی نظر نہیں آیا‘ پھر مجھے پکارا گیا۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا‘ تو وہ (ایک فرشتہ) خلا میں ایک تخت پر تھا۔ اس کی وجہ سے مجھ پر یہ شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ میں خدیجہ کے پاس آیا اور میری ہدایت پر انہوں نے مجھے اوڑھنے کے لئے چادر دی اور پھر مجھ پر پانی بہایا‘ تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت نازل کی۔ ’’ ا چادراوڑھنے والے ! تم اٹھو اور ڈراؤ اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو‘‘۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَالِیْدُ بْنُ مُسْلِمِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← اِحْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمِ

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 35

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 36

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ یَشَّارِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارِ عَنِ عکرمۃ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ یَبْلُغُ بِہٖ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا قَضَی اللہُ الْاَمْرَ فِی السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائکَۃُ بِاَجْنِحَتِھَا خُضْعَانًا لِقَوْلِہٖ کَاَنَّہٗ سِلْسِلَۃٌ عَلٰی صَفْوَانِ حَتّٰی اِذَا فُزِّعَ عن قلوبھم قَالُوْا: مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: قَالَ الْحَقَّ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ فَیَسْتَنِعُھَا مُسْتَرِقُ السَّمْعِ فَرُبَّمَا اَدْرَکَہُ الشِّھَابُ قَبْلَ اَنْ یَّرْمِیَ بِھَا اِلَی الَّذِیْ ھُوَ اَسْفَلُ مِنْہُ وَرُبَّمَا لِمْ یُدْرِکْہُ الشِّھَابُ حَتّٰی یَرْمِیَ بِھَا اِلَی الَّذِیْ ھُوَ اَسْفَلُ مِنْہُ قَالَ وَھُمْ ھٰکَذَا بَعْضُھُمْ اَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ وَوَصَفَ ذٰلِکَ سُفْیَانُ بِیَدِہٖ فَیَرْمِی بِھَا ھٰذَا ِلٰی ھٰذَا وَھٰذَا اِلٰی ھٰذَا حَتّٰی تَصِلَ اِلَی الْاَرْضِ فَتُلْقٰی عَلٰی فَمِ الْکَافِرِ وَالسَّاحِرِ فَیَکْذِبُ مَعَھَا مِائَۃَ کِذْبَۃٍ فَیُصَدَّقُ وَیُقَالُ اَلَیْسَ قَدْ قَالَ فِیْ یَوْمِ کَذَا وَکَذَا کَذَا وَکَذَا فَصَدَقَ۔(3:1)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : انہیں نبی اکرمﷺ کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ ’’جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی معاملے کے بارے میں فیصلہ دیتا ہے‘ تو فرشتے اس کے فرمان ک سامنے سر جھکاتے ہوئے اپنے پریوں مارتے ہیں‘ جس طرح پتھر پر زنجیر ماری جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ کم ہوتی ہے‘ تو وہ دریافت کرتے ہیں : تمہارے پروردگار نے کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ تو وہ یہ کہتے ہیں : اس حق ارشاد فرمایا ہے‘ وہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے‘‘۔ (نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں) پھر چوری چھپے سننے والا کوئی ( جن) اس بات کو سن لیتا ہے‘ تو بعض اوقات اس ( جن) کے اسے نیچے پہنچانے سے پہلے شہاب ثاقب اس تک پہنچ جاتا ہے‘ اور بعض اوقات شہاب ثاقب اس تک نہیں پہنچ پاتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے سے نیچے والے کو وہ بات بتا دیتا ہے۔ نبی اکرمﷺ (یا شاید راوی) کہتے ہیں : وہ لوگ اس طرح ایک دوسرے کے اوپر نیچے ہوتے ہیں۔ سفیان نامی راوی نے اپنے ساتھ کے ساتھ یہ کر کے دکھایا کہ وہ اس طرح ایک دوسرے کہ یہ بات بتاتے ہیں‘ یہاں تک کہ وہ بات زمین تک پہنچ جاتی ہے‘ اور کافر یا جادوگر کے منہ میں ڈال دی جاتی ہے۔ تو (کبھی ایسا ہوتا ہے‘ اصل بات) کی تصدیق کر دی جاتی ہے۔ (یا وہ سچ ثابت ہوتی ہے) تو یہ کہا جاتا ہے‘ کیا فلاں دن اس نے یہ بات نہیں کہی تھی‘ تو اس نے سچ کہا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← اِبْرَاھِیْمُ بْنُ یَشَّارِ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 36

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 37

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَبَّبِ بْنِ اِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ اِشْکَابِ حَدَّثَنَا اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ اِنَّ اللہَ اِذَا تَکَلَّمَ بِالْوَحْیِ سَمِعَ اَھْلُ السَّمَاءِ لِلسَّمَاءِ صَلْصَلَۃُ کَجَرِّ السِّلْسَلَۃِ عَلَی الصَّفَا فَیُصْعَقُونَ فَلَا یَزَالُوْنَ کَذٰلِکَ حَتّٰی یَاْتِیَھُمْ جِبْرِیْلُ فَاِذَا جَاءَ ھُمْ فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِھِمْ فَیَقُوْلُوْنَ یَا جِبْرِیْلُ مَاذَا قَالَ رَبُّکَ فَیَقُوْلُ الْحَقُّ فَیُنَادُوْنَ الْحَقُّ الْحَقُّ۔(3:1)

حضرت عبد اللہؓ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے: ’’جب اللہ تعالیٰ کسی وحی کے بارے میں کلام کرتا ہے‘ تو آسمان پر رہنے والے دوسرے آسمان کے رہنے والوں سے اس بات یوں سنتے ہیں‘ جس طرح گھنٹی کی آواز ہوتی ہے۔ جیسے کسی زنجیر کو پتھر پر مارا جاتا ہے۔ پھر وہ بے ہوش ہو جاتے ہیں‘ پھر ان کی یہی کیفیت رہتی ہے۔ یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آتے ہیں‘ جب وہ ان کے پاس آتے ہیں ‘ تو ان کے دلوں سے گھبراہٹ کم ہوتی ہی‘ تو ہو کہتے ہیں : اے جبرائیل علیہ السلام تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں : حق فرمایا ہے‘تو وہ فرشتے بھی یہ کہتے ہیں : حق فرمایا ہے‘ حق فرمایا ہے‘‘۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ اِشْکَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَبَّبِ بْنِ اِسْحَاقَ

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 37

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 38

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانِ اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ َبِیْ بَکُرٍ عَنْ مَّالِکٍ عَنْ ھَشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائشَۃَ اَنَّ الْحَارِثَ بْنَ ھِشَامٍ سَاَلَ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللہِ کَیْفَ یَاْتِیْکَ الْوَحْیُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَحْیَانًا یَاْتِیْنِیْ فِیْ مِثْلِ صَلْصَلَۃِ الْجَرَسِ وَھُوَ اَشَدُّہُ عَلَیَّ فَیَنْفَصِمُ عَنِّیْ وَقَدْ وَعَیْتُ مَا قَالَ وَاَھْیَانًا یَتَمَثَّلُ لِیَ الْمَلَکُ رَجُلًا فَیُکَلِّمنِیْ فَاَعِیَ مَا یَقُوْلُ قَالَتْ عَائِشَۃُ: وَلَقَدْ رَاَیْتُہٗ یَنْزِلُ عَلَیْہِ فِی الْیَوْمِ الشَّاتِی الشَّدِیدِ الْبَرْدِ فَیَنْفَصِمُ عَنْہُ وَاِنَّ جَبِیْنَہٗ لَیَتَفَصَّدُ عَرْقًا۔(3:1)

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ‘ بیان کرتی ہیں: حارث بن ہشام نے نبی اکرمﷺ نے سوال کیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : بعض اوقات وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز میں آتی ہے‘ اور یہ میرے لئے سب سے زیادہ شیدید ہوتی ہے۔ جب میری یہ کیفیت ختم ہوتی ہے‘ تو فرشتے نے جو کہا ہوتا ہے‘ میں اسے محفوظ کر لیتا ہوں۔ بعض اوقات فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے‘ اور میرے ساتھ بات چیت کرتا ہے‘ تو اس کی کہی ہوئی بات کو میں محفوظ کر لیتا ہوں۔ سیّدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا ہے‘ ایک مرتبہ شدید سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوئی جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی‘ تو آپ کی مبارک پیشانی سے پسینہ پھوٹ رہا تھا۔

عَائشَۃَ اَنَّ الْحَارِثَ بْنَ ھِشَامٍ سَاَلَ رَسُوْلَ اللہِ فَقَالَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ َبِیْ بَکُرٍ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 38

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 39

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْجُنَیْدِ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ حَدَّثَنَا اَبُوْ عَوَانَۃَ عَنْ مُوْسَی بْنِ اَبِیْ عَائِشَۃَ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہٖ: (لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَاتَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ ) قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِیلِ شِدَّۃً کَانَ یُحَرِّکُ شَفَتَیْہِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اَنَا اُحَرِّ کُھُمَا کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحَرِّکُھُمَا فَاَنْزَلَ اللہُ ( لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاَنَہُ) قَالَ: جَمْعُہٗ فِیْ صَدْرِکَ ثُمَّا تَقْرَؤُہٗ (فَاِذَا قَرَاْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ ) قَالَ فَاسْتَمِعْ لَہٗ وَاَنْصِتْ ( ثُمَّا اِنَّ عِلَینَا بَیَانَہُ) ثُمَّا اِنَّ عَلَیْنَا اَنْ تَقُرَاَہُ قَالَ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا أتاہُ جِبْرِیْلُ اسْتَمَعَ فَاِذَا اتْطَلَقَ جِبْرِیْلُ قَرَاَہُ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمَا کَانَ اَقْرَاَہُ۔ (3:1)

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اللہ تعالیٰ کے اس کے فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’تم اس کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو‘ تاکہ تم اسے جلدی حاصل کر لو‘‘۔ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ وحی کے نزول کے وقت شدت کا سامنا کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ حضڑت عبد اللہ بن عباسؓ کہتے ہیں : میں ان ہونٹوں کو حرکت دے کر دکھاتا ہوں جس طرح نبی اکرمﷺ حرکت دیتے تھے‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی۔ ’’تم اس کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو‘ تاکہ تم اس کو جلدی حاصل کر لو‘ بے شک اس کی جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہمارے ذمے ہے‘‘۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں : اس کے جمع کرنے سے مراد ’’ تمہارے سینے میں اسے جمع کرنا ہے‘‘۔ پھر تم اس آیت کو تلاوت کرو۔ ’’ ہم اسے پڑھتےہیں : تم اس پڑھے ہوئے کی پیروی کرو‘‘۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں یعنی تم اسے غور سے سنو اور خاموش رہو۔ ’’ پھر اس کا بیان ہمارے ذمے ہے‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے‘ پھر تمہارے تلاوت کرنا ہمارے ذمے ہے۔ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں ا: پھر جب جبرئیل علیہ السلام نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے‘ تو نبی اکرمﷺ اسے غور سے سنتے تھے‘ جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے تھے‘ تو نبی اکرمﷺ اس آیت کو اسی طرح تلاوت کر لیتےتھے ۔ جس طرح حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کے سامنے اسے پڑھا ہوتا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كَانَ النَّبِيُّ «يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِہٖ: (لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَاتَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 39

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 40

اَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ الْھَرَوِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوْسٰی عَنْ اِسْرَائیلَ عَنْ اَبِیْ ا،سْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ( لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ) قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ادْعُ لِیْ زَیْدًا وَیَجِیءُ معَہٗ بِاللَّوْحِ وَالدَّوَاۃِ اَوْ بِالْکَتِفِ وَالدَّدَاۃِ ثُمَّ قَالَ : اکْتُبْ لَا یَسْتْوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ قَالَ: وَخَلْفَ ظَھْرِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَمْرُو بْنُ اُمِّ مِکْتُوْمٍ الْاَعْمَی قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ فَمَا تَاْمُرُنِیْ فَاِنِّیْ رَجُلٌ ضَرِیْرُ الْبَصَرِ؟ قَالَ الْبَرَاءُ: فَاُنْزِلَتْ مَکَالَھَا: (غِیْرُ اُولِی الضَّرَرِ) ۔(4:24)

حضرت براءؓ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ’’ اہل ایمان میں سے بیٹھے رہنے والے لوگ برابر نہیں ہیں‘‘۔ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے پاس زید کو بلا کر لاؤ ‘ وہ اپنے ساتھ لوح اور دوات ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) شانے کی ہڈی اور دوات لے کر آئے ‘ پھر آپﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : تم یہ لکھو۔ ’’ اہل ایمان میں بیٹھے رہ جانے والے لوگ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ برابر نہیں ہیں‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس وقت نبی اکرمﷺ ک پیچھے حضرت عمروبن اُم مکتوم جو نابینا ہیں ۔ وہ موجود ہے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟ کیونکہ میں‘ تو نابینا شخص ہوں۔ حضرت براءؓ بیان کرتے ہیں‘ تو اسی جگہ آیت ( کےالفاظ ) نازل ہوئے۔ ’’جنہیں کوئی ضررلاحق نہ ہو‘‘َ۔

لَمَّا نَزَلَتْ لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ← الْبَرَاءِ، ← اَبِیْ ا،سْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ الْھَرَوِیُّ

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 40

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 41

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوْسُفَ بِنَسَا قَالَ حَدَّثَنَا تَصْرُ بْنُ عَلِیِّ الْجَھْضَمِیُّ قَالَ خبرنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِیتُونِیْ بِالْکَتِفِ اَوِ الدَّوْح فَکَتَبَ (لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ) وَعَمْرُو بْنُ اُمِّ مَکْتُوْمِ خَلْفَ ظَھْرِہٖ فَقَالَ ھَلْ لِیْ مِنْ رُخْصَۃٍ فَنَزَلَتْ (عَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ) ۔(4:24)

حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے پاس کندھے کی ہڈی یا لوح لے کر آو‘ پھر آپ نے یہ آیت املاء کروائی۔ ’’اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے لوگ برابر نہیں ہیں‘‘۔ تو نبی اکرمﷺ نے حضرت زیدؓ کو بلایا ‘ وہ شانے کی ہڈی لے کر آئے‘ انہوں نے اس پر یہ آیت تحریر کی‘ جب حضرت ابن مکتوم ن اپنی معذوری کی شکایت کی تو یہ الفاظ نازل ہوئے : جنہیں کوئی ضرر نہ ہو‘‘َ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← خبرنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ← تَصْرُ بْنُ عَلِیِّ الْجَھْضَمِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 41

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 42

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیفَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ اِسْحَاقَ قَالَ : سَمِیْتُ الْبَرَاءَ یَقُوْلُ: لَمَّا تَزَلَتْ ھٰذِہِ الآیۃ (لا یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ) دَعَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ زَیْدًا فَجَاءَ بِکَتِفٍ فَکَتَبَھَا فِیْہِ فَشَکَا ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ ضَرَارَتَہٗ فَنَزَلَتْ ( غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ)۔(4:24)

حضرت براءؓ بیان کرتےہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’اہل ایمان میں سے بیٹھے ہوئے لوگ برابر نہیں ہیں‘‘ تو نبی اکرمﷺ نے حضرت زیدؓ کو بلوایا۔ وہ کندھے (کی ہڈی) لے کر آئے اور انہوں نے اس پر یہ آیت تحریر کر دی۔ حضرت ابن اُم مکتومؓ نے اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو وہ آیت نازل ہوئی : ’’جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو‘‘۔

سَمِیْتُ الْبَرَاءَ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 42

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 43

اَخْبَرَنَ اَبُوْ خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْھَیْثَمِ الْمُؤَذِّنُ حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ اَبِیْ جَمِیلَۃَ عَنْ یَّزِیْدَ الْفَارِسِیِّ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی اَنْ قَرَتْتُمْ بَیْنَ الْاَنْفَالِ وَبَرَاءِۃٍ وَبَرَاءَہٌ مِنَ الْمِئنَ وَالْاَنْفَالُ مِنَ الْمَثَانِیْ فَقَرَنْتُمْ بَیْنَھُمَا فَقَالَ عُثْمَانُ: کَانَ اِذَا نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ الْاٰیَۃُ دَعَا النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْضَ مَنْ یَّکْتُبُ فَیَقُوْلُ لَہٗ: ضَعْہُ فِی السُّورَۃِ الَّتِیْ یُذْکَرُ فِیْھَا کَذَا وَاُنْزِلَتِ الْاَنْفَالُ بَالْمَدِیْنَۃِ وَبَراءَۃُ بِالْمَدِیْنَۃِ مِنْ اٰخِرِ الْقُرْآنِ فَتُوْفِّیَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَمْ یُخْبِرْنَا اَیْنَ نَضَعُھَا فَوَکَدْتُ قِصَّتَھَا شَبِیْھًا بِقِصَّۃِ الْاَنْفَالِ فَقَرَلْتُ بَیْنَھُمَا وَلَمْ نَکْتُبْ بَیْنَھُمَا سَطْرَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ فَوَضَعْتُھَا فِی الطُّوَلِ ۔ (3:1)

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عثمان غنیؓ سے کہا : آپ نے کس وجہ سے سورہ اتفال اور سورہ توبہ کو ایک ساتھ ملا دیا ہے؟ حالانکہ سورہ توبہ دو سو آیات والی سورت ہے‘ اور سورہ انفال مثانی میں سے ہے۔ آپ نے دونوں کو ملا دیا؟ تو حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا : جب بھی قرآن کی کوئی آیت نازل ہوتی تھی‘ تو نبی اکرمﷺ کسی لکھنے والے کو بلا لیتے تھے اور پھر آپ ان سے یہ فرماتے تھے‘ تم ان کو اس سورت میں شامل کر دو‘ جس میں فلاں چیز کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ تو سورہ انفال بھی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور سورہ توبہ بھی مدینہ منورہ میں نزول کے اعتبار سے آخری زمانے میں نازل ہوئی۔ جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہوا‘ تو آپ نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ہم انہیں کہاں رکھیں ‘ تو میں نے یہ بات پائی کہ اس کا واقع سورہ انفال کے واقعہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ اس لئے میں نے ان دونوں کو ملا دیا ہے‘ اور ہم نے ان دونوں کے درمیان ’’بسم اللہ الرحمٰن‘‘ کی سطر نہیں لکھی ہے۔ میں نے انہیں سات طویل سورتوں میں شامل کر دیا ہے۔

ابْنُ عَبَّاسٍ قُلْتُ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: مَا حَمَلَکُمْ عَلٰی ← يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمُؤَذِّنُ، ← اَخْبَرَنَ اَبُوْ خَلِیفَۃَ

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 43

صیح ابن حبان · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الْوَحْیِ · حديث 44

حَدَّثَنَا اَبُوْ یَعْلٰی حَدَّثَنَا وَھْبُ بْنُ بَقِیَّۃَ اَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اِسْحَاقَ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ اَتَاہُ رَجُلٌ وَاَنَا اَسْمَعُ فَقَالَ یَا اَبَا بَکْرٍ کَمِ انْقَطَعَ الْوَحْیُ عَنْ نَبِیِّ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِہٖ فَقَالَ مَا سَاَلَنِیْ عَنْ ھٰذَا اَحَدٌمُذْ وَعَیْتُھَا مِنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: لَقَدْ قُبِضَ مِنَ الدُّنْیَا وَھُوَ أَکْثَرَ مِمَّا کَانَ۔(5:480)

عبدالرحمٰن بن اسحاق بیان کرتے ہیٰں : ایک شخص زہری کے پاس آیا میں اس وقت سن رہا تھا‘ اس نےکہا : اے ابو بکر ! (یعنی ابن شہاب زہری) نبی اکرمﷺ کے وصال سے پہلے وحی کا سلسلہ کتنا عرصہ پہلےمنقطع ہواتھا؟ تو زہری نے جواب دیا : جب سے میں نے حضرت انس بن مالکؓ کی زبانی یہ بات سنی ہے‘ اس کے بعد کسی نے مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا۔ حضرت انسؓ نے یہ بات بتائی تھیی کہ جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہوا‘ تو ( وصال سےکچھ عرصہ پہلے) آپ پر زیادہ وحی نازل ہوتی رہی۔

اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: لَقَدْ قُبِضَ مِنَ الدُّنْیَا وَھُوَ أَکْثَرَ مِمَّا کَانَ۔(5:480) ← ھٰذَا اَحَدٌمُذْ وَعَیْتُھَا مِنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ← نَبِیِّ اللہِ قَبْلَ مَوْتِہٖ فَقَالَ مَا سَاَلَنِیْ ← اَتَاہُ رَجُلٌ وَاَنَا اَسْمَعُ فَقَالَ یَا اَبَا بَکْرٍ کَمِ انْقَطَعَ الْوَحْیُ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Revelation · Hadith 44

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr