Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 61

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا وُعْبَۃُ عَنْ مُعَاوِیَۃُ بْنِ قُرَّاۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاتَزَالُ طَائفَۃٌ مَنْ اُمَّتِیْ مَنْصُوْرِبْنَ لَا یَضُرُّھُمْ خِذَ لَانُ مَنْ خَذَلَھُمْ حَتّٰی تَقُوْمَ السَاعَۃُ۔ (1:2)

معاویہ بن قرہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ’’امیر اُمت کے ایک گروہ کی ہمیشہ مدد ہوتی رہے گی اور جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا‘ اس کی یہ کوشش انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی‘‘۔ (یعنی قیامت تک ان لوگوں کی مدد ہوتی رہے گی)

أَبِيهِ ← مُعَاوِیَۃُ بْنِ قُرَّاۃَ ← وُعْبَۃُ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 61

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 62

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَاعَبْدُ اللہِ بْنُ جَعْفَرِ الْبَرْ مَکِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوْسیٰ عَنْ شَیْبَانَ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ تَسْمَعُوْنَ وَیُسْمَعُ مِنْکُمْ وَیُسْمَعُ مِمَّنْ یَّسْمَعُ مِنْکُمْ۔ (3:69) عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ الرَّازِیُّ ثَقْۃٌ کُوْفِیٌّ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’تم لوگ مجھ سے ( احادیث) سنتے ہو ( آگے آنے والے وقت میں یہ احایث تم سے سنی جائیں گی ) اور پھر ان لوگو ں سے سنی جائیں گی ‘ جنہوں نے تم سے سنی تھیں‘‘۔ عبد اللہ بن عبد اللہ رازی نامی راوی ثقہ ہے ‘ اور کوفہ کا رہنے والا ہے۔

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِاللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← الْاَعْمَشِ ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← حَدَّثَنَاعَبْدُ اللہِ بْنُ جَعْفَرِ الْبَرْ مَکِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 62

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 63

اِخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلیٰ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ حَیْثَمَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلَالٍٍ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعَیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ اَبِیْ حُمَیْدٍ وَاَبِیْ اُسَیْدٍ اَنَّ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِذَا سَمِعْتُمُ الْحَدِیْثَ عَنِّیْ تَعْرِفُہُ قُلُو بُکُمْ وَتَلِینُ لَہٗ اَشْعَارُ کُمْ وَاَبْشَارُکُمْ وَتَرَوْنَ اَنَّہٗ مِنْکُمْ قَرِیبٌ فَاَنَا اَوْلَا کُمْ بِہٖ وَاِذَا سَمِعْتُمْ الْحَدِیْثُ عَنِّیْ تُتْکِرُہٗ قُلُوبُکُمْ وَتَنْفِرُ عَنْہُ اَشْعَارُکُمْ وَاَبْشَارُکُمْ وَتَرَوْنَ اَنَّہٗ مِنْکُمْ بَعِیْدٌ فَأَنَا أَبْعَدُ کُمْ مِّنْہُ۔ (3:66)

حضرت ابو حمیدؓ اور حضرت ابو اُسیدؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’جب تم میرے حوالے سے کوئی بات سنو‘ جو تمہاری عقل میں آئے اور تمہارے بال اور تمہاری جلد اس کے لئے نرم ہو جائیں اور تم یہ سمجھو کہ یہ بات تمہارے قریب ہے‘ تو میں اس کے بارے میں تم سب سے زیادہ حق رکھتا ہوں اور جب تم میرے حوالے سے کوئی اسی بات سنو‘ جس با تمہارا ذہن انکار کرے اور تمہارے بال اور تمہاری جلد اس سے محسوس کریں‘ اور تم یہ سمجھو کہ تم اس سے دور ہو ‘ تو میں اس بات سے تم سب سے زیادہ دورہو ں گا‘‘۔

اَبِیْ حُمَیْدٍ وَاَبِیْ اُسَیْدٍ ← عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعَیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← اَبُوْ حَیْثَمَۃَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 63

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 64

اِخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا کَثِیْرُ بْنُ یَحْیَی صَاحِبْ الْبَصْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا ھَمَّامٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَکْتُبُوا عَنِّیْ اِلَّا الْرُرْآنَ فَمَنْ کَتَبَ عَنِّیْ شَیْئًا فَلْیُمْحِہٗ۔(2:56)

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’میرے حوالے سے صرف قرآن کو نوٹ کیا کرو۔ جس شخص نے میری کوئی بات نوٹ کی ہو ‘ وہ اسے مٹا دے ‘‘۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں :) نبی اکرمﷺ کا قرآن کے علاوہ کسی بھی چیز کو نوٹ کرنے سے منع کرنا ‘ اس سے مراد یہ ہے : آپ ﷺ احادیث کو یاد رکھنے کی ترغیب دیں ‘ ایسا نہ ہو کہ احادیث نوٹ کر لیں اور انہیں یاد نہ کریں اور ان میں غوروفکر نہ کریں ۔ اس مؤقف کے درست ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو شاہ یمنی کو حجتہ الوداع کا حطبہ نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی ‘ جو حطبہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنا تھا۔ اسی طرح نبی اکرمﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ کو بھی احدیث نوٹ کرنے کی اجازت دی تھی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هَمَّامٌ، ← کَثِیْرُ بْنُ یَحْیَی صَاحِبْ الْبَصْرِیِّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 64

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 65

اِخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ بَالْاُبُلَّۃِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَنْدِ اللہِ بْنِ یَزِیْدَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ فِطْرِ عَنْ اَبِیْ الطُّفَیْلِ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ : تَرَکَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَا طَائرٌ مَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلَّا عِنْدَنَا مِنْہُ عِلْمٌ۔ (1:78)

حضرت ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں : ’’جب نبی اکرمﷺ ہم سے رخصت ہوئے ‘ تو پروں کے ساتھ اڑنے والے ہر پرندے ‘ کے بارے میں بھی ہمارے پاس کوی نہ کوئی علم تھا‘‘۔ (امام ابن حبانؓ فرماتے ہیں : ) روایت کے یہ الفاظ ’’کے بارے میں بھی ہمارے پاس کوئی نہ کوئی علم تھا ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کے اوامر‘ نواہی ‘ اطلاعات ‘ فعال اور مباح قرار دینے کے حوالے سے ( ہمیں علم مل چکا تھا )۔

تَرَکَنَا رَسُوْلُ اللہِ وَمَا طَائرٌ مَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ اِلَّا عِنْدَنَا مِنْہُ عِلْمٌ۔ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← فِطْرٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَنْدِ اللہِ بْنِ یَزِیْدَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأُبُلَّةِ،

Hadith 65

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 66

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوْسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیِّ الْجَھْضَمِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَنْدُ اللہِ بْنُ دَاوٗدَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَصَّرَ اللہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَبَلَّغَہُ کَمَا سَمِعَہٗ فَرُبَّ مُبَلَّغِ اَوْعَی مِنْ سَامِعِ ۔ (5:12)

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ‘ جو ہم سے بات کوئی بات سنے اور پھر اسی طرح آگے پہنچا دے ‘ جس طرح اسے سنا تھا ‘ کیونکہ بعض اوقات ( براہ راست ) سننے والے کے مقابلے میں ‘ وہ شخص اس کو زیادہ بہتر محسوس کرتا ہے ‘ جس تک وہ بات پہنچائی گئی ہے ‘‘۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ← عَنْدُ اللہِ بْنُ دَاوٗدَ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 66

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 67

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیفَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ شُعُبَۃَ قَالَ حَدَّثَنِیْ عُمَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ھُوَبن عَاصِمٍ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبَانَ ھُوَبْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ خَرَجَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ مِّنْ عِنْدِ مَرْوَانَ قَرِیبًا مِنْ نِصْفِ لنَّھَارِ فَقُلْتُ مَا بَعَتَ اِلَیْہِ اِلَّا لِشَیْءٍ سَاَلَہٗ فَقُمْتُ اِلَیْہِ فَسَاَلْتُہٗ فَقَالَ اَجَلْ سَاَلَنَا عَنْ اَشْیَاءَ سَمِعْنَا ھَا مِنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللہُ امْرَأً سَمِعَ مِنِّیْ حَدِیْثًا فَحَفِظَہُ حَتّٰی یُبَلِّغَہُ غَیْرَہُ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ اِلٰی مَنْ ھُوَ اَفْقَہُ مِنْہُ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہٍ لَیْسَ بِفَقِیہٍ ثَلَاتُ خِصَالٍ لَا یَغِلُّ عَلَیْھِنَّ قَلْبُ مُسْلَمٍ اخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلہِ وَمُنَا صَحَۃُ اُلَاۃِ الْاَمْرِ وَلُزُومُ الْجَمَاعَۃِ فَاِنَّ دَعْوَتَھُمْ تُحِیطُ مِنْ وَّرَائھِمْ۔(1:2)

عبد الرحمٰن بن ابان ( اپنے واد ‘ جو حضرت عثمان غنی ؓ کے صاحبزادے ہیں ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت ؓ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے باہر نکلے ‘ تو میں نے سوچا اس وقت مروان نے انہیں کسی چیز کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے ہی بلوایا ہو گا۔ میں حضرت زیدؓ کے پاس آیا اور ان سے اس بارےے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : ایسا ہی ہے۔ اس نے ہم سے کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کیا تھا : جو ہم نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہیں۔ (نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ اللہ تعالٰٰ اس شخص پر رحم کرے جو مجھ سے کوئی بات سنے اور اسے محفوظ کر لے۔ یہاں تک کہ دوسرے تک اسے پہنچا دے ۔ کیونکہ بعض اوقات فقہ ( یعنی دینی علم ) کی کوئی بات سننے والا شخص ‘ اس شخص تک منتقل کر دیتا ہے ‘ جو اس سے زیادہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے ‘‘۔ بعض اوقات دینی بات کا علم حاصل کرنے والے شخص عالم نہیں ہوتا۔ بعض خصوصیات ایسی ہیں ‘ جب کے بارے میں کسی مسلمان کا دل خیانت کا شکار نہیں ہوتا۔ عمل کا اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہونا ‘ حکمرانوں کے لئے خیرخواہی رکھنا اور ( مسلمانوں کی ) جماعت کے ساتھ رہنا۔ کیونکہ ان لوگوں کی دعا غیر موجود افراد تک بھی پہنچی ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبَانَ ھُوَبْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ← عُمَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ھُوَبن عَاصِمٍ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 67

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 68

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ قَالَ حَدَّثَنِیْ سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ أبیہ بْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَحِمَ اللہُ مَنْ سَمِعَ مِنِّیْ حَدِیْثًا فَبَلَّغَہُ کَمَا سَمِعْہٗ فَرُبَّ مُبَلَّغِ اَوْعٰی لَہٗ مِنْ سَامِعِ ۔ (1:2)

عبد الرحمٰن بن عبد اللہ اپنے والد حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ‘ جو مجھ سے کوئی بات سنے اور پھر اسے آگے پہنچا دے۔ اسی طرح جیسے اس نے اسے سنا تھا ‘ کیونکہ بعض اوقات ( براہ راست ) سننے والے کے مقابلے میں ‘ وہ شخص اسے زیادہ بہتر طور پر محفوظ کرتا ہے ‘ جس تک وہ بات پہنچائی گئی ہو ‘‘۔

أبیہ بْنِ مَسْعُوْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شَيْبَانَ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 68

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 69

اَخْبَرَنَا بْنِ خُزَیْمَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِیُّ قَالَ حَدَّثَنا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوْسٰی عَنْ اِسْرَائیلَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مسعود عن اَبِیْہِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ تَضَّرَ اللہُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثًا فَبَلَّغَہُ کَمَا سَمِعَہٗ فَرُبَّ مُبَلَّغِ اَوْعٰی مِنْ سَامِعِ ۔ (1:2)

عبد الرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے‘ جو ہم سے کوئی بات سنے اور جس طرح اسے سنا تھا ‘ اسی طرح آگے پہنچا دے ‘ کیونکہ بعض اوقات ( براہ راست ) سننے والے کے مقابلے میں وہ شخص زیادہ بہتر طور پر محسوس کر سکتا ہے ‘ جس تک وہ بات پہنچائی گئی ہو ‘‘۔

مِنَّا حَدِیْثًا فَبَلَّغَہُ کَمَا سَمِعَہٗ فَرُبَّ مُبَلَّغِ اَوْعٰی مِنْ سَامِعِ ← تَضَّرَ اللہُ امْرَأً ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مسعود ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 69

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 70

اَکْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَھِیْمَ مَوْلٰی ثقِیْفٍ حَدَّثَنَا اَبُوْ عُمَرَ الدُّورِیُّ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَفَاتِیحُ الْغَیْبِ حَمْسُ لَا یَعلَمُ مَاتَضَعُ الْاَرْحَامُ اَحَدٌ اِلَّا اللہُ وَلَا یَعْلَمُ مَافِیْ غَدٍ اِلَّا اللہُ وَلَا یَعْلَمُ مَتَی تَاْتِی الْمَطَرُ اِلَّا للہُ وَلَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوتُ وَلَا یَعْلَمُ مَتٰی تَقُوْمُ السَّاعَۃُ ۔ (3:30)

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’غیب کی کنجیاں پانچ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی اس بات کا علم نہیں رکھتا کہ رحم کس چیز کو جنم دے گا ( یعنی لڑکا پیدا ہو گا یا لڑکی پیدا ہو گی ) اور اللہ تعالیٰ کےعلاوہ کوئی اس بات کا علم نہیں رکھتا کہ کل کیا ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی اس بات کا علم نہیں رکھتا کہ بارش کب ہو گی ؟ اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کون سی سر زمین پر مرے گا ؟اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہو گی؟ ‘‘

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← اَبُوْ عُمَرَ الدُّورِیُّ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ← اَکْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَھِیْمَ مَوْلٰی ثقِیْفٍ

Hadith 70

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 71

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السَّمِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَبُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ وَاَخْبَرَنِیٌ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِیْنَارٍ اَنَّہٗ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَفَاتِیحُ الْغَیْبِ خَمْسٌ لَا یَعْلَمُھَا اِلَّا اللہُ لَا یَعْلَمُ مَاتَغِیضُ الْاَرْحَامُ اَحَدٌ اِلَّا اللہُ وَلَا مَافِیْ غَدٍ اِلَّا اللہُ وَلَا یَعْلَمُ مَتَی یَاْتِی الْمَطَرُ اِلَّا اللہُ وَلَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوتُ وَلَا یَعْلَمُ مَتَی تَقُومُ السَّاعَۃُ اَحَدٌ اِلَّا اللہُ۔ (3:30)

عبد اللہ بن دینار بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں ۔ ان کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا کہ رحم کس چیز کو جنم دے گا؟ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور یہ بات جانتا ہے ‘ کل کیا ہو گا ؟‘‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی یہ بات نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی ؟ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کو سی جگہ پر فوت ہو گا ؟ اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی یہ نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی؟

ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ اَنَّہٗ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَبُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السَّمِیُّ

Hadith 71

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 72

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُبْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ قَالَ اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اللہَ یُبْغِضُ کُلَّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ سَخَّاب بِالْاَسْوَاقِ جِیفَۃٍ بِاللَّیْلِ حِمَارٍ بِالنَّھَارِ عَالِمٍ بَاَمْرِ الدُّنْیَا جَاھِلٍ بِاَمْرِ الْاٰخِرَۃِ ۔(2:76)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر سخت مزاج،متکبر، کنجوس اور بازاروں میں چیخ کر بولنے والے شخص کو نا پسند کرتا ہے ‘ جو رات کو مردار ( کی طرح ) سوتا ہے ‘ اور دن کے وقت گدھے ( کی طرح وقت گزارتا ہے )۔ وہ دنیاوی امور کے بارے میں واقفیت رکھتا ہے ‘ لیکن آخرت کے بارے میں جاہل ہوتا ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← اَحْمَدُبْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ

Hadith 72

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr