Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 973

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ» (1) . [5: 12] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَعْنِي هَذَا الدُّعَاءُ أَنَّهُ، قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ لَمَّا شُجَّ وَجْهُهُ، قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي» ذَنْبَهُمْ بِي مِنَ الشَّجِّ لِوَجْهِي، لَا أَنَّهُ دُعَاءٌ لِلْكُفَّارِ بِالْمَغْفِرَةِ، وَلَوْ دَعَا لَهُمْ بِالْمَغْفِرَةِ لَأَسْلَمُوا فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ لَا مَحَالَةَ (1) .

حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اے اللہ ! تو میری قوم کی مغفرت کر دے کیونکہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے۔" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) اس سے مراد یہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا احد کے دن مانگی تھی۔ جب آپ کا چہرہ زخمی ہو گیا تھا ۔ آپ نے یہ فرمایا تھا: " اے پروردگار! تو میری قوم کی مغفرت کر دے ۔"یعنی ان کے اس ھناہ کی مغفرت کر دے جو انہوں نے میرے چہرے کو زخمی کیا ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ کفار کے لئے مغفرت کی دعا مانگی جارہی ہے، کیونکہ اگر آپ اس وقت ان کے لئے مغٖرت کی دعا مانگ لیتے تو وہ لازمی طور پر اسی عقت مسلمان ہو جاتے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 973

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 974

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اللَّهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلًا، وَأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ سَهْلًا إِذَا شِئْتَ» (2) . [5: 12]

حضرت انس ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " اے اللہ! صرف وہی چیز آسان ہے، جسے تو آسان کر دے اور اگر تو چاہے " تو " تو غم کو بھی آسان کر سکتا ہے۔"

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 974

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 975

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعَجَلْ فَيَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي» (1) . [2: 43]

حضرت ابو ہریرہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 975

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 976

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ، قَالَ: «لَا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ (1) مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ» , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الِاسْتِعْجَالُ؟، قَالَ: «يَقُولُ: يَا رَبِّ قَدْ دَعَوْتُ، وَقَدْ دَعَوْتُ، فَمَا أَرَاكَ تَسْتَجِيبُ لِي، فَيَدَعُ الدُّعَاءَ» (2) . [2: 43]

حضرت ابو ہریرہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " بندے کی دعا مسلسل مستجاب ہوتی رہتی ہے جب تک کہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہیں کرتا اور جب تک وہ جلد بازی کا مظاہری نہیں کرتا۔" عرض کی گئی یا رسول اللہ! جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ یہ کہتا ہے ، اے میرے پروردگار ! میںن نے دعا کی، پھر میں نے دعا کی، لیکن میرا خیال ہے تو نے میری دعا قبول نہیں کی۔" پھر وہ شخص دعا کرنا ترک کر دیتا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 976

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 977

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَقُلْ (3) أَحَدُكُمُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّهُ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ، وَلَكِنْ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ» (1) . [2: 43]

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کوئی شخص یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے، تو میری مدد کر! کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔ آدمی کو پورے اعتماد کے ساتھ مانگنا چاہئے۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 977

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 978

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ (2) الْمَدِينَةِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «قُصَّ فِي الْجُمُعَةِ مَرَّةً، فَإِنْ أَبِيتَ فَمَرَّتَيْنِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا، وَلَا أَلْفِيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثِهِمْ فَتَقْطَعَهُ عَلَيْهِمْ، وَلَكِنْ إِنِ اسْتَمَعُوا حَدِيثَكَ فَحَدِّثْهُمْ، وَاجْتَنِبِ السَّجْعَ فِي الدُّعَاءِ، فَإِنِّي عَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ» (1) . [2: 110]

عامر شعبی، مدینہ منورہ کے واعظ ابن ابو سائب کا یہ بیان نول کرتے ہیں: سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: تم ہفتے میں ایک مرتبہ وعظ کیا کرو اگر یہ بات نہیں مانتے تو دو مرتبہ کر لیا کرو اور اگر یہ بھی نہیں مانتے تو تین مرتبہ کر لیا کرو ۔میں تمہیں ایسی حالت میں یہ پاو کہ تم لوگوں کے پاس آواور وہ اپنی بات چیت میں مگن ہوں ، اور پھر تم ان کی بات کو منقطع کر دو۔

ابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ الْمَدِينَةِ، ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 978

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 979

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ» (1) . [5: 12]

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : حجرت طفیل بن عمر دوسی ؓ نبی اکرمم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دوس قبیلے کے افراد نا فرمانی کر رہے ہیں اور ( اسلام قبول کرنے کی ) بات نہیں مان رہے۔ آپ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، تو نبی اکرم ﷺ نے دعا کی:

جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 979

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 980

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ دَوْسًا، فَقَالَ: إِنَّهُمْ ... فَذَكَرَ رِجَالَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، هَلَكَتْ دَوْسٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا» (2) . [5: 12]

حضرت ابو ہریرہ ؓ باین کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کین خدمت میں حاضر ہوا اس نے دوس قبیلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: یہ لوگ پھر اس نے ان کے مردوں اور خواتین کا ذکر کیا کہ (وہ مسلمان نہیں ہو رہے)تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہا تھ بلند کر دئے، تو وہ شخص بولا۔ بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ۔ اور بے شک ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ رب کعبہ کی وسم! دوس ہلاکت کا شکار ہو گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے اور دعا کی ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہا تھ بلند کر دئے، تو وہ شخص بولا۔ بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ۔ اور بے شک ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ رب کعبہ کی وسم! دوس ہلاکت کا شکار ہو گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے اور دعا کی ۔ "اے اللہ! دوس قبیلے کو ہدایت عطا کر۔"

«اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا» ← إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، هَلَكَتْ دَوْسٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَرَفَعَ النَّبِيُّ يَدَيْهِ ← لِلَّهِ ← الرَجُلِ ← رِجَالَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ يَدَيْهِ، ← أَنَّهُمْ ← دَوْسًا، ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُسْلِمِ بْنِ بُدَيْلٍ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 980

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 981

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا , فَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَقَابِرِ، فَأَمَرَنَا فَجَلَسْنَا، ثُمَّ تَخَطَّى الْقُبُورَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَبْرٍ مِنْهَا فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَنَاجَاهُ طَوِيلًا، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاكِيًا، فَبَكَيْنَا لِبُكَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَالَ: مَا الَّذِي أَبْكَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَدْ أَبْكَيْتَنَا وَأَفْزَعْتَنَا؟ فَأَخَذَ بِيَدِ عُمَرَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «أَفْزَعَكُمْ بُكَائِي؟» قُلْنَا: نَعَمْ , فَقَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ الَّذِي رَأَيْتُمُونِي أُنَاجِي قَبْرُ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي الِاسْتِغْفَارَ لَهَا، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، فَنَزَلَ عَلَيَّ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة: 113] , فَأَخَذَنِي مَا يَأْخُذُ الْوَلَدُ لِلْوَالِدِ مِنَ الرِّقَةِ، فَذَلِكَ الَّذِي أَبْكَانِي، أَلَا وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُرَغِّبُ فِي الْآخِرَةِ» (1) . [5: 5]

حضرت عب داللہ بن مسعود ؓ باین کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ہم بھی آپ کے ساتھ آئے جب ہم قبرستان پہنچے، تو آپ نے ہمیں حکم دیا تو ہم لوگ بیٹھ گئے پھر نبی اکرم ﷺ قبروں کا پھلانگتے ہوئے ، ان میں سے ایک قبر پر تشریف لے گئے آپ اس کے پاس بیٹھ گئے اور آپ نے طویل مناجات کی۔ نبی اکرم واپس تشریف لائے تو آپ رورہے تھے۔۔ نبی اکرم ﷺ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے۔ نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئےحضرت عمر ؓ آپ کے سامنے تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ آپ نے ہمیں بھی رلا دیا ہے اور ہمیں گریہ و زاری کا شکار کر دیا ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا اور ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : کیا تم لوگ میرے رونے کی وجہ سے گھبرا گئے ہو ، ہم نے عرض کی : جی ہاں۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ قبر جسے تم نے دیکھا ہے، میں وہاں مناجات کر رہا تھا وہ ( میری والدہ ) آمنہ بنت وہب کی قبر تھی میں نے اپنے پروردگار سے ان کی مغفرت کا سوال کیا ، تو مجھے اجازت نہیں دی مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ " نبی اور اہل ایمان کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے، کہ وہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کریں۔" تو مجھ پر وہی کیفیت طاری ہو گئی، جو کسی بچے کی اپنی ماں کے لئے رقت ہوتی ہے۔ اسی بات نے مجھے رلا دیا۔ خبردار! میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منو کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہیں اور آخرت کی طرف راغب کرتی ہیں ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، ← أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 981

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 982

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَمِّ، قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدْ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ» ، قَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟، قَالَ: فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ» , فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ} [التوبة: 113] , وَأُنْزِلَتْ فِي أَبِي طَالِبٍ: {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ} (1) [القصص: 56] . [5: 5]

سعد بن مسیب اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں : جب جناب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا، تو نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اس وقت جناب ابو طالب کے پاس ابو جہل اور عبد اللہ بن ابو امیہ بھی موجود تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے چچا جان ! آپ " لا الہالا اللہ " پڑھ لیجئے اس کلمے کی وجہ سے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کی گواہی دوں گا ، ابو جہل اور عبداللہ بن ابو امیہ بولے: اے ابو طالب ! کای تم عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ رہے ہو؟ راوی باین کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ مسلسل ان کے سامنے یہی پیشکش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ جناب ابو طالب نے ان لوگوں کے ساتھ جو آخری بات کی تھی وہ یہ تھی۔ کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں ۔ انہوں نے " لا الہ الا اللہ " پڑھنے سے انکار کر دیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " میں آپ کے لئے تب تک دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک مجھے منع نہیں کر دیا جاتا۔" تو یہ آیت نازل ہوئی: " نبی اور اہل ایمان کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے ، وہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کریںاگرچہ وہ ان کے قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہوں اس کے بعد کہ لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہو چکی ہو کہ وہ جہنمی ہیں ۔" (راوی بیان کرتے ہیں) یہ آیت جناب ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ " بے شک تم اسے ہدایت نہیں دیتے ، جسے تم پسند کرتے ہو، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے، اسے ہدایت دیتا ہے۔ وہ ہدایت پانے والوں کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔"

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ← أَبِي: إِنْ ← أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ حَتَّى ← مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ ← أَبُو جَهْلٍ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← لَمَّا حَضَرَ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 982

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 983

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَمَا إِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنَّهُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، ثُمَّ رُزِقَا وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ» (1) . [1: 2]

حضرت عبداللہ بن عباس ب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے، تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہئے۔ " اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے، ( میں یہ عمل کرنے لگا ہوں ) اے اللہ! تو شیطان کو ہم سے دور رکھنا اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھنا جو تو ہمیں رزق ( یعنی اولاد عطا کرے گا) " نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ) پھر اگر انہیں اولاد عطا کر دی جائے تو شیطان اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 983

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 984

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي , فَقَالَ: «آتِيكُمْ» ، فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا , فَإِيَّاكِ أَنْ تُكَلِّمِيهِ أَوْ تُؤْذِيهِ، قَالَ: فَأَتَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَبَحْتُ لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا، قَالَ: «يَا جَابِرُ كَأَنَّكَ عَلِمْتَ حُبَّنَا اللَّحْمَ؟» , فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ لَهُ الْمَرْأَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى وَزَوْجِي، قَالَ: فَفَعَلَ، فَقَالَ لَهَا: أَلَمْ أَقُلْ لَكِ؟ فَقَالَتْ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ بَيْتِي وَيَخْرُجُ وَلَا يُصَلِّي عَلَيْنَا؟! (1) . [5: 12]

حضرت جابر باین کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں آپ سے مدد حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ وہ قرض جو میرے والد کے ذمہ لازم تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے ہاں اون گا ، میں تمہارے ہاں آوں گا، میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں آئیں گے تم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کوئی بات چیت کرنے یا آپ کو کوئی اذیت پہنچانے سے بچننے کی کوشش کرنا ۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے میں نے آپ کے لئے گھر میں موجود ایک بکری ذبح کر لی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے جابر! لگتا ہے تمہیں پتہ ہے مجھے گوشت بہت پسند ہے پھر جب نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لے جانے لگے، تو حضرت جابر ؓ کی اہلیہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعائے رحمت کیجئے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا ۔ پھر حجرت جابر ؓ اس خاتون سے کہا ؛ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا (کہ تم نبی اکرم ﷺ سے کچھ نہ کہنا ) تو وہ عورت بولی نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائیں اور پھر ہمارے لئے دعائے رحمت کئے بغیر واپس چلے جائیں

أَتَيْتُ النَّبِيَّ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي فَقَالَ: «آتِيكُمْ» فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ: ← جَابِرٍ ← نُبَيْحٍ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 984

chevron_left Previous
1234…15
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr