Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1453

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الكفر إلا ترك الصلاة" 1.

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "بندے اور کفر کے درمیان فرق صرف نماز کو ترک کرنا" ۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1453

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1454

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْعَهْدَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كفر" 1.

عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں۔ "بیشک ہمارے اور ان (کفار) کے درمیان بنیادی چیز نماز ہے، جو شخص اسے ترک کردے وہ کفر کا مرتکب ہوتا ہے"۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1454

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1455

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: أَخْبَرَ بن عُمَرَ بِوَجَعِ امْرَأَتِهِ فِي السَّفَرِ فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ فَقِيلَ الصَّلَاةَ فَسَكَتَ وَأَخَّرَهَا بَعْدَ ذَهَابِ الشَّفَقِ حَتَّى ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا كَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :یَفْعَلُ اِذَا جَدَّ بِہِ السَّیْرُ اَوْ حَزَبَہُ أمر۔

نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عبدا للہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو سفر کے دوران اپنی بیوی کی بیماری کے بارے میں بتایا گیا، تو انہوں نے مغرب کی نماز کو مؤخر کر دیا۔ ان سے کہا گیا ہے: نماز کا وقت ہوگیا ہے، تو وہ خاموش رہے۔ انہوں نے اس نماز کو شفق رخصت ہوجانے کے بعد تک مؤخر کیا یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا پھر وہ سواری سے نیچے اترے اور انہوں نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کی پھر یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے جب آپ کو تیزی سے سفر کرنا مطلوب ہوتا تھا۔

نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1455

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1456

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَدْخُلَ أَوَّلُ وَقْتِ العصر ثم يجمع بينهما1.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے کا ارادہ کرتے تھے، تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ عصر کا ابتدائی وقت داخل ہوجاتا تھا، تو آپ ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1456

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1457

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعْرٍ، فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ [ص:311] الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ، أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ، فَرُحِلَتْ لَهُ، فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَأَنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ - كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ - فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا [ص:312] تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابَ اللَّهِ، وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ » قَالُوا: نَشْهَدُ أَنْ قَدْ بَلَّغْتَ، فَأَدَّيْتَ، وَنَصَحْتَ، فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» [ص:313] ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا. [3: 25]

۔ امام جعفر صادق اپنے والد (امام محمد باقر) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوتے تو انہوں نے بتایا (حجتہ الوداع کے موقع پر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت بالوں سے بنا ہوا خیمہ لگا دیا گیا وہ آپ کے لئے نمرہ میں لگایا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے۔ قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ شعر حرام کے قریب وقوف کریں گے ، جس طرح قریش زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے آگے بڑھ گئے اور آپ عرفہ تشریف لے آئے۔ وہاں آپ نے یہ دیکھا کہ وادی نمرہ میں آپ کے لئے خیمہ لگا دیا گیا ہے۔ وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا، تو آپ کے حکم کے تحت آپ کی اونٹنی قصواء پر پالان رکھ دیا گیا۔ آپ وادی کے نشیبی حصے میں تشریف لائے۔ آپ نے لوگوں سے خطاب کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "تمہاری جانیں اور تمہارے مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح یہ دن اس مہینے میں اور اس شہر میں قابل احترام ہے"۔ خبردار! زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والی ہر چیز میرے دونوں پاؤں کے نیچے رکھی گئی ہے، اور زمانہ جاہلیت کا ہر خون معاف ہو گیا ہے۔ سب سے پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے صاحب زادے کا ہے، جو بنو لیث میں دودھ پیتے بچے تھے اور ہذیل قبیلے کے لوگوں نے انہیں مار دیا تھا تم لوگ خواتین کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، کیونکہ تم نے اللہ کی امان میں انہیں حاصل کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے کلمے کے مطابق ان کی شرم گاہوں کو حلال کیا ہے تمہارا ان پر یہ حق ہے، وہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم نا پسند کرتے ہو، اگر وہ ایسا کرتی ہیں، تو تم زیادتی کئے بغیر ان کی پٹائی کرو اور ان کا تم پر یہ حق ہے، تم انہیں رزق اور لباس مناسب طور پر فراہم کرو میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھام لو تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے وہ اللہ کی کتاب ہے، جب تم سے میرے بارے میں دریافت کیا جائے گا، تو تم کیا جواب دو گئے؟ لوگوں نے کہا: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں، آپ نے تبلیغ کردی ہے، (فریضہ رسالت کو) ادا کر دیا ہے آپ نے خیر خواہی کی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف بلند کیا اور پھر اسے لوگوں کی طرف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "اے اللہ! تو گواہ ہوجا" یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر اذان ہوئی اقامت کہی گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر اقامت کہی گئی آپ نے عصر کی نماز پڑھائی آپ نے ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) جب عصر کی نماز کو اپنے مخصوص وقت سے پہلے ادا کرنا جائز ہے اور ایسا کرنے والا شخص اس بات کا مستحق نہیں ہوتا کہ اسے کافر قرار دیا جائے، تو جو شخص نماز کو اپنے وقت سے مؤخر کر دیتا ہے پھر اس کا وقت گزر جانے کے بعد ادا کرتا ہے، تو وہ اس بات کا زیادہ مستحق ہوتا ہے کہ وہ کافر نہ ہو۔

دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1457

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1458

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتّٰی یَجْمَعَھَا اِلَی الْعَصْرِ فَیُصَلِّھِمَا جِمِیْعًا وَّاِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَیْغِ الشَّمْسِ صَلَّی الطُّھْرَ وَالْعَصْرَ جِمِیْعًا ثُمَّ سَارَ وَکَانَ اِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ اَخَّرِ الْمَغْرِبِ حَتّٰی یُصَلِّیَھَا مَعَ الْعِشَاءِ وَاِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ وَصَلَّاھَا مع المغرب۔

۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لئے روانہ ہوئے، جب آپ سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہوجاتے تھے، تو آپ ظہر کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ جمع کر دیتے تھے اور دو دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور جب آپ سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تھے، تو آپ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کر تے تھے پھر روانہ ہوتے تھے جب آپ مغرب سے پہلے روانہ ہوجاتے تھے، تو آپ مغرب کی نماز کو مؤخر کر دیتے تھے، یہاں تک کہ اسے عشاء کے ہمراہ ادا کرتے تھے اور جب آپ مغرب کے بعد روانہ ہوتے تھے، تو آپ عشاء کی نماز کو جلدی ادا کرتے تھے اور اسے مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے تھے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1458

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1459

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا بن فُضَيْلٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى آذَتْنَا الشَّمْسُ فقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ يَتَنَحَّى عَنْ هَذَا الْمَنْزِلِ"، ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ فَسَجَدَ سجدتين ثم أقيمت الصلاة1.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رات کے وقت پڑاؤ کیا ہم لوگ بیدار نہیں ہوسکے، یہاں تک کہ سورج نے ہمیں بیدار کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں ہر شخص اپنی سواری کو پکڑلے اور پھر اس پڑاؤ کی جگہ سے کچھ ہٹ جائے۔

نَبِيُّ اللَّهِ "لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ يَتَنَحَّى ← عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى آذَتْنَا الشَّمْسُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← بن فُضَيْلٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1459

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1460

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ موسى أخبرنا عبد الله عن سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاۃَ حَتّٰی یَجِیْءَ وَقْتُ صَلَاۃٍ اُخْرَی۔

۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "نیند میں تفریط نہیں ہے تفریط اس شخص کے لئے ہے، جو اس وقت تک نماز ادا نہیں کرتا جب تک دوسری نماز کا وقت نہیں آجاتا"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لفظ تفریط اس شخص کیلئے استعمال کیا ہے، جو نماز کو ادا نہیں کرتا یہاں تک کہ اگلی نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ ایسا کرنے والا شخص کافر نہیں ہوگا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فعل کیلئے کفر کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے تاخیر یا کوتاہی کا لفظ استعمال نہ کرتے۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1460

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1461

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسْنَا فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا وَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ إِلَى وَضُوئِهِ دَهِشًا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فتوضؤوا ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلُّوا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْفَجْرَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَّطْنَا أَفَلَا نُعِيدُهَا لِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ فَقَالَ: "يَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ عَنِ الرِّبَا ويقبله منكم إنما التفريط في اليقظة" 1.

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہم نے پڑاؤ کر لیا ہماری آنکھ لگ گئی ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا ہر شخص خوف زدہ ہوکر وضو کے لئے اٹھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہدایت کی انہوں نے وضو کرلیا پھر آپ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر ان لوگوں نے فجر کی دو رکعات ادا کیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا۔ انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سے کوتاہی ہوئی ہے۔ کیا ہم اس نماز کا کل اس کے وقت میں دوبارہ ادا نہ کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا پروردگار تمہیں سود سے منع کرتا ہے، تو کیا وہ خود تم سے اسے قبول کرلے گا؟ کوتاہی جاگنے کے عالم میں ہوتی ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1461

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1462

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بن أسماء عن نافع عن بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى فِيهِمْ يَوْمَ انْصَرَفَ عَنْهُمُ الْأَحْزَابُ: "أَلَا لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ2 إِلَّا فِیْ بَنِیْ قُرَیْظَۃَ فَاَبْطَاَ نَاسٌ فَتَخَوَّفُوا فَوْتَ وَقْتِ الصَّلَاۃِ فَصَلُّوا وَقَالَ آخَرُوْنَ لَا نُصَلِّی اِلَّا حَیْثُ نَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاِنَّ فَاتَ الْوَقْتُ فَمَا عَنَّفَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا من الفریقین۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: (غزوہ احزاب کے موقع پر جب دشمن) کے لشکر واپس چلے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں حکم دیا خبردار! کوئی بھی شخص ظہر کی نماز بنو قریظہ (کے علاقے ) میں پہنچنے سے پہلے ہرگز ادا نہ کرے کچھ لوگوں کو جانے میں تاخیر ہوگئی انہیں نماز کا وقت فوت ہوجانے کا اندیشہ ہوا تو انہوں نے نماز اداکرلی دوسرے لوگوں نے یہ کہا: ہم اسی طرح نماز ادا کریں گے۔ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، اگرچہ نماز کا وقت رخصت ہوجائے۔ (راوی بیان کرتے ہیں: ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں فریقوں میں سے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) آدمی کا نماز میں تاخیر کر دینا کہ اگلی نماز کا وقت شروع ہوجائے۔ اگر ایسا کرنے کے نتیجے میں اس پر کفر کا اطلاق لازم ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو کسی ایسی چیز کی تعلیم نہ دیتے جس کو کرنے کی وجہ سے وہ لوگ کافر ہوجاتے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مرتکب شخص پر شدید انکار کا اظہار کرتے۔ آپ کا اس پر شدید انکار کا اظہار نہ کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایساشخص اس طرح سے کافر نہیں ہوتا جو مرتد ہونے سے مشابہت رکھتا ہے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ← مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1462

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1463

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ1 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ2 حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَمِّهِ عَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ فِي يَوْمِ الْغَيْمِ فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ فَقَدْ كفر" 3.

۔ حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بادل والے (یعنی ابرآلود) دن میں نماز کو جلدی ادا کرلیا کرو، کیونکہ جو شخص نماز کو ترک کردے اس نے کفر کیا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو ترک کرنے والے پر کفر کا اطلاق کیا ہے کیونکہ نماز کوترک کرنا کفر کے آغاز کا ابتدائی حصہ ہے کیونکہ جب کوئی شخص نماز کو ترک کرتا ہے اور اس کی عادت بنا لیتا ہے، تو وہ دیگر فرائض کو ترک کرنے کے راستے پر چل پڑتا ہے اور جب وہ فرائض ترک کرنے کی عادت بنا لیتا ہے، تو یہ چیز اسے انکار کی طرف لے جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختتامی نام کو جو کفر کے شعبوں میں سے آخری حصہ ہے اسے ابتداء کیلئے استعمال کیا ہے، جو اس کا پہلا شعبہ ہے اور وہ نماز کو ترک کرنا ہے۔

"بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ فِي يَوْمِ الْغَيْمِ فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ فَقَدْ كفر" ← النَّبِيِّ ← بُرَيْدَةَ ← عَمِّہٖ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ1 ← يَحْيَى بْنُ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1463

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ عَلَى تَرْكِ الصَّلَاةِ · حديث 1464

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْمِرَاءُ فِی الْقُرْآنِ کفر۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "قرآن کے بارے میں بحث و مباحثہ کرنا کفر ہے"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں:) جب کوئی شخص قرآن کے بارے میں بحث کرنا شروع کرتا ہے، تو یہ چیز اسے اس چیز کی طرف لے جاتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے، تو وہ شخص متشابہہ آیات کے بارے میں شکوک کا شکار ہوجاتا ہے اور جب وہ قرآن کے بعض حصے کے بارے میں شک کا شکار ہوتا ہے تو یہ چیز انکار کی طرف لے جاتی ہے اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر جو درحقیقت انکار ہے اس کا اطلاق اس کے سبب کے آغاز پر کیا ہے اور وہ (قرآن کے بارے میں) بحث کرنا ہے۔

الْمِرَاءُ فِی الْقُرْآنِ کفر۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the promise of neglecting prayer · Hadith 1464

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr