Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 154

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِی قَالَ حَدَّ ثَنَا عِیْسَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ شَرِیْکِ بْنِ اللھِ بْنِ اَبِیْ نَمِرِ اَنَّہٗ سَمِعَ اَنَسَ بْنِ مَالِکٍ یَقُوْل :

حدیث 154: شریک بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ کو یہ بیان کرتے ہوے سنا: ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوے تھے ۔ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا ۔اس نے مسجد میں اس اونٹ کو بٹھایا اور پھراسےباندھ دیا ۔پھر اس نے دریافت کیا:آپ میں سے حضرت محمدﷺکون ہیں؟ اس وقت نبی اکرمﷺلوگوں کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے ہوے تھے۔ راوی کہتے ہیں:ہم اس سے کہا : یہ سفید رنگت کے مالک‘ٹیک لگا کر بیٹھے ہوے صاحب(نبی اکرمﷺ)ہیں۔ ا س شخص نے نبی اکرمﷺ سے دریافت کیا:اے عبدالمطلب کے صاحبزادے!نبی اکرم ﷺنے اسے جواب دیا: میں تمہیں جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔ اس نے دریافت کیا :اے محمدﷺمیں آپ سے کچھ سوال کروں گا اور سوال کرت ہوے ذراسختی کا اظہار کروں گا‘ تو آپ مجھ سے ناراض نا ہوئے گا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تمہیں جو مناسب لگتا ہے تم ہوچھو۔ اس نے کہا:میں آپ کے پروردگاراور آپ سے پہلے لوگوں کے پر دردگار کا واسطہ وے کر دریافت کرتا ہوں ۔کیا اللہ تعا لیٰ نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف بھیجا ہے؟ نبی کرم ﷺنے جواب دیا :اللہ(جانتا ہے) جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا :میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت ک تا ہوں ۔ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے ‘ ہم روزانہ پانچ نمازیں پڑھا کریں۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ(جانتا ہے)جی ہاں۔ اس دریافت کیا :میں آپ کواللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا اللہ تعالیٰ نے آ پکو حکم دیا ہے‘ہم سال میں اس مہینے میں روزے رکھیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:اللہ(جانتا ہے)جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا :میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے ‘آپ ہمارے خوشحال لوگوں سے زکوٰۃوصول کریں اوراس ہمارے غریب لوگوں میں تقسیم کردیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ (جانتا ہے) جی ہاں! اس شخص نے کہا : آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں‘ میں اس پر ایمان لاتا ہوں ‘میں اپنے پیچھے(موجود)اپنی قوم کا نمائندا ہوں۔میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے ‘ جس کا تعلق بنو سعد بن بنو بکر سے ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شَرِیْکِ بْنِ اللھِ بْنِ اَبِیْ نَمِرِ اَنَّہٗ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← حَدَّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 154

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 155

اَخْبَرَنَااَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْجُدِّیُّ قَا لَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ اَنَسِ بْنِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمِ رَضِیَ اللھُ تَعَالیٰ عَنْہُ: ھٰذَا النَّوْعُ مِثْلُ الوضووَالتَّیَمُّمِ وَاِلا غْتِسَالِ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَا لصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالصَّوّمِ الْفَرْضِ وَمَااَ شْبَہَ ھٰذِہِ الْاَشْیَاالَّتِیْ ھِیَ فَرْضٌ عَلَی الْمُخَاطَبِیِنَ فِیْ بَعْضِ الْاَحْوَالِ لَاالکل

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں:ہمیں اس بات سے منع کردیا گیا کہ ہم نبی اکرم ﷺ سے کسی چیزکے بارے میں دریافت کریں۔ تو ہماری یہ خواہش ہو تی تھی کہ کوئی دیہاتی نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہو ‘ اور آپ سے سوال کرے‘تو ہم اسے سن لیا کریں۔ ایک مرتبہ ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺکی خدمات میں حاضر ہوا۔اس نے عرض کی:اے حضرت محمد ﷺآپ کا پیغام رساں ہمارے پاس آیا تھا ۔ اس نے یہ بات بیان کی :آپ یہ کہتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معبوث کیا ہے ۔نبی اکرمﷺنے فرمایا :اس نے ٹھیک کہا ہے۔ اس شخص نے دریافت کیا : آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے‘اس نے دریافت کیا : زمین کو کس نے پیدا کیا نبی اکرم ﷺنے جواب دیا اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے دریافت کیا : ان پہاڑوں کو کس نے قائم کیا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے دریافت کیا : ان میں فائدے کس نے رکھے ہیں؟ نبی اکرمﷺ نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا : پھر وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ‘اور پہاڑوں کو نصب کیا ہے ‘اور ان میں منافع رکھے ہیں ۔اس کی قسم دے کر میں ( آپ سے دریافت کرتا ہوں) کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں۔ اس نے کہا : آپ کے مبلغ نے یہ بات بتائی ہے‘ ہم پر (روزانہ) پانچ نمازیں پڑھنا لازم ہو گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :اس نے ٹھیک کہاہے‘ اس نے دریافت کیا:اس ذات کی قسم !جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا : آپ کے مبلغ نے بات بتائی ہے ‘ ہمارے اموال میں زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو گی۔ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : اس نے ٹھیک کہا اس شخص نے کہا : اس ذات کی قسم !جس نے آپ کو معبوث کیا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کواس بات کا حکم دیا ہے ؟نبی اکرم ﷺ نےجواب دیا : جی ہاں! اس نے کہا : آپ کے مبلع نے بات بھی بتائی ہے ہم پر پورے سال میں ایک مہینےکے رہ زے رکھنا فرض ہو گا۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے ۔اس شخص نے کہا : آپ کو اس ذات کی قسم!جس نے آپ کو معبوث کیا ہے۔کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا : جی ہاں! (اما م ابن حبان فرماتے ہیں :) اس نو عیت کے احکام جیسے وضو ‘ تیمّم‘ غسل جنابت ‘ پانچ نمازیں ‘ فرض روزہ اور اس جیسے دیگر احکام مخاطب افراد پر بعض حالتوں میں فرض ہوتے ہیں ‘تمام حالتوں میں فرض نہیں ہوتے۔

اَنَسِ بْنِ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُالْمَلِکِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْجُدِّیُّ قَا لَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِیُّ ← اَخْبَرَنَااَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 155

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 156

اَخْبَرَنَا الْحَسَٰنُ بْنُ سُفْیَانَ الشَّیْبَانِیُّ قَالَ حَدَّ ثَنَااُمَیَّۃُ بْنُ بِسْطَامٍ قَالَ حَدَّ¬¬ثَنَا یَذِیْدُ بْنُ زُرَیْعِ قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اُمَیَّہَ عَنْ یَّحْیَی بْنِ عَبْدِاللھِ بْنِ صَیْفِیِّ عَنْ اَبِیْ مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :اَنَّ رسُوْلَ اللھِ ﷺلَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا اِلَی الْیَمَنِ قَالَ: اِنَّکَ تَقَدُمُ عَلٰی قَوْمٍ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ فَلْیَکُنْ اَوَّلَ مَا تَذْ عُوْ ھُمْ اِلَیْہِ عِبَادَۃُاللھِ فَاِ ذَا عَرَفُوا اللھَ فَاَخْبِرْ ھُمْ اَنَّ اللھَ فَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِیْ یَوْمِھِمْ وَلَیْلَتِھِمْ وَاِذَا فَعَلُو ھَا فَاَ خْبِرْ ھُمْ اَنَّ اللہَ فَرَضَ عَلَیْھِمْ زَاکَاۃً تُؤ’خَذُمِنْ اَمْوَالِھِمْ فَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِھِمْ فَاِذَا اَطَاعُوا بِھٰذَا فَخُذْمِنْھُمْ وَتَوقَّ کَرَائِمَ أموال الناس۔(1:4)

حضرت عبداللہ عباس ؓ بیان کرتے ہیں ؛ جب نبی اکرم ﷺحضرت معاذؓ کو یمن بھیجا‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف جا رہے ہو‘ تم انہیں سب سے پہلے اللہ کی عبادت کی دعوات دینا‘ جب وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیں‘تو تم انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پرروزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں جب وہ ایسا کرلیں‘تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے‘ جو ان کے امول میں سے وصول کی جاے گی اور کےغریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی‘ جب وہ اس حکم کی فرمانبرداری کریں ‘ تو تم ان سےزکوٰۃ وصول کر لینا اور لوگوں کے عمدہ مال حاصل کرنے سے بچنا‘‘۔ (امام ابن حبان ؑ فرماتے ہیں ) یہ قسم جیسے حج اور زکوٰۃ اور ان جیسے دیگر فرایض(وہ ہیں) جو بعض عاقل وبالغ کوگوں پر بعض مخصوص حا لتوں میں فرض قرار دئے گئے ہیں‘ یہ ھر حال میں فرض نہیں ہیں ( یعنی زکوٰۃ اس پر فرض ہو گی جو صاحبِ نصاب ہو اور اس نصاب پر ایک سال گزر جائے اور حج اس پر فرض ہو گاجس کے لئے حج کے مخصوص ایام میں مکہ تک جانا ممکن ہو۔ یہ ہر مسلمان پر ہرحال میں فرض نہیں ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← یَّحْیَی بْنِ عَبْدِاللھِ بْنِ صَیْفِیِّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← حَدَّ¬¬ثَنَا یَذِیْدُ بْنُ زُرَیْعِ ← حَدَّ ثَنَااُمَیَّۃُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 156

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 157

َخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ الْمُقَدَّمِیُّ حَدَّ ثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادُ حَدَّثَنَا أبو جمرۃ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَدِمَ وَ فْدُ عَبْدِ الْقَیْسِ عَلیٰ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا:یَارَسُوْلَ اللہِ اِنَّا ھٰزَا الْحَیَّ مِنْ رَبِیْعَۃَ قَدْ حَالَتْ بَیْنَنَا وَبَیْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ وَلَا نَخْلُصُ اِلَیْکَ اِلَّافِیْ شَھْرِحَرَامٍ فَمُرْنَا بِاَمْرٍنَعْمَلُ بِہٖ وَنَدْعُوْ اِلَیْہِ مَنْ وَرَاءَنَا قَالَ:آمُرُکُمْ بِا رْبَعِ اْلِایمَان بِاللہِ شَھَادَۃِ اَنْ لَا اِلٰہَ اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رسول اللہ واقام الصَّلَاۃِ وَاِیتَاءِ الزَّکَاۃِ وَاَنْ تُوَ دّو ا خُمُسَ مَا غَنِمْتُم’ وَاَنْھَاکُمْ عَنِ الدُّبَّاءِوَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِیرِ وَالَّمُقَیَّرِ۔(1:1)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں : عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ان لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ!ہمارا تعلق ربیعہ قبیلے سے ہے۔ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اس لئے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور اپنے پیچھے لوگوں کو اس کی دعوت دیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا : میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا‘ یعنی اس بات کی گواہی دیناکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور بے شک حضرت محمدﷺاللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور مالِ غنیمت میں سے خمس کی ادئیگی کرنا اور تمہیں دُبا ء‘ حنتم‘نقیر اور مقیر سے منع کرتا ہوں۔ یہ روایت قتادہ نے سعید بن مسیّب اور عکرمہ کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے نقل کی ہے ‘ جبکہ ابونضر ہ کے حوالے سے حضرت ابو سعید خدریبؓ سے نقل کی ہے

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو جَمْرَةَ، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ الْمُقَدَّمِیُّ حَدَّ ← َخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 157

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 158

اَخَبَرنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَ زْدِیُّ حَدَّ ثَنَا ِاسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْحَنْظَلِیُّ اَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنْ حَنْظَلَۃَّ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ سَمِعْتُ عِکْرِمَۃِ بْنَ خَالِدٍ یُحَدِثُ طَاوُسًا َنَّ جُلًا قَالَ لِا بْنِ عُمَرَ : اَلَاتَغْزُو؟ فَقَالَ عَبْدُاللہِ بْنُ عُمَرَ:اِنِیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ شَھَادَۃِ اَنْ لَاِ الٰہَ اِلَّا اللہُ وَاِقَامِ الصَّلَاۃِ وَاِیتَاءِ الزَّکَاہِّ وَصِیَامِ رَمَضَانَ وَحَجّ البیت۔(1:1)

یہ وہ صورت ہے‘جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ عرب اپنے محاورے میں کسی متعین تعداد کے ہمراہ کسی چیز کا زکرکرتے ہیں اور اس متعین تعداد کے سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ اس کے علاوہ تعداد نفی کردی جائے۔ اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے یہ مراد نہیں لیا کہ ایمان سے مراد صرف وہی امور ہوں گے جن کا ذکر حضرت ابن عباس ؓ سے منقول روایت میں ہے۔کیونکہ نبی اکرمﷺ نے دیگر روایات میں دیگر بہت سی اشیاء کا ایمان کا حصہ ہونے کا ذکر کیا ہے‘ جن کا تذکرہ حضرت عبداللہ عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے منقول ان دور وایات میں نہیں ہے‘ جنہیں ہم نے ابھی ذکرکیا ہے ۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں :) یہ دور وایات جن میں الفاظ کا مخصوص پس منظر ہے کیونکہ نبی اکرمﷺ نے ایمان کا ذکر کیا ہے اور پھر آپ نے اس کے لئے پانچ خصلتوں کا تذکرہ کیا۔ ’’اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے ۔اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘نمازقائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا ‘ رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا‘‘۔ ایک شخص بے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے دریافت کیا: آپ جہاد میں حصہ کیوں نہیں لیتے؟ حضرت عبداللہ بن عمر ؓنےفرمایا: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوے سناہے: حنظلہ بن ابوسفیان بیان کرتے ہیں : میں نے عکرمہ بن خالد کو طاؤس کو یہ حدیث بیان کرتے ہوے سنا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدُاللہِ بْنُ عُمَرَ:اِنِیْ ← لِا بْنِ عُمَرَ اَلَاتَغْزُو؟ ← طَاوُسًا َنَّ جُلًا ← عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَ زْدِیُّ حَدَّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 158

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 159

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ عَنْ اَبِیْ حَیَّانَ التَّیْمِیِّ عَنْ اِبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ لوگوں کے پاس تشریف فرما تھے۔اس دوران ایک شخص چلتا ہوا آپ کے پاس حاضر ہوا اس نے عرض کی:اے حضرت محمد ﷺ !ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں ‘اس کے رسولوں‘ اس کی بارگاہ میں حاضرپر ایمان رکھو اور تم دوبارہ زندا ہونے پر ایمان رکھو‘ اس نے عرض کی: یارسول اللہ!اسلام سے مراد کیا پے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ‘ فرض نماز ادا کرو ‘ تم فرض زکوٰۃ ادا کرو رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے دریافت کیا : اے حضرت محمدﷺ !احسان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو۔ اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ‘ تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس نے عرض کی : اے حضرت محمد ﷺ!قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:اس کے بارے میں جس شخص سے دریافت کیا گیا ہے ‘وہ دریافت کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا‘ تا ہم میں تمہیں اس کی نشانیوں کے بارے میں بتادیتا ہوں۔ جب کنیز اپنے آقا کو جنم دے اورجب تم بر ہنہ جسم برہنہ پاؤں(لوگوں) کو حکمران دیکھو(تو یہ قیامت کی نشانیاں ہوں گی) پانچ چیزیں ایسی ہیں‘ جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ (ارشاد باریٰ تعالیٰ ہے): ’’بے شک قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے‘‘ ( اس کے بعد پوری آیت ہے) پھر وہ شخص چلا گیا لوگوں نے اسے تلاش کیا‘ وہ انہیں نہیں ملا‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا؛ ’’یہ جبرائیل تھے‘جو اس لئے آئے تھے تاکہ لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دیں‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 159

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 160

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی‘ قَالَ:حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُاٖ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِیَّ قَالَ:حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمْۃَ‘ عَنْ اَبِیْ قَزْعَۃَ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مَعَاوِیَۃَ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہٗ قَالَ :یَارَسُوْلَ اللہِ وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا اَتَیْتُکَ حَتیّٰ حَلَفْتُ عَدَدَ اَصَابِعِیْ ھٰذِہِ اَنْ لَا اُتِیَکَ فَمَا الَّذِیْ بَعَثَکَ بِہٖ؟ قَالَ :الْاِسْلَامُ‘قَالَ :وَمَا الْاِسْلَامُ ؟ قَالَ: اَنْ تُسْلِمَ قَلْبَکَ لِلہِ وَاَنْ تُوَجِّہَ وَجْھَکَ لِلہِ وَاَنْ تُصَلِّی الصَّلَاۃَ الْمَکْتُوبَۃَ وَتُؤَدِّیَ الزَّکَاۃَ الْمَفْرُوضَۃَ اَخَوَانِ نَصِیرَانِ لاَ یَقْٓبَلُ اللہُ مِنْ عَبْدٍ تَوْ بَۃً اَشْرَکَ بَعْدَاِسْلَامِہٖ۔(3:65)

حکیم بن معاویہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں:انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ۱ اس ذات کی قسم !جس نے آپ کو حق کے ہمرامبعوث کیا ہے۔میں اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ‘جب میں اپنی انگلیوں کی تعداد میں یہ قسم اٹھا چکا تھا کہ میں آپ کے پاس کبھی نہیں آؤں گا۔ آپ کو کس چیز کے ہمراہ معبوث کیا گیا ہیں؟نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: اسلام کے۔ انہوں نے دریافت کیا: اسلام کیا ہے ؟ نبی اکرمﷺنے فرمایا:یہ کہ تم اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے لئے جھکا دو اور تم اپنا رُخ اللہ تعالیٰ کی طرف کرلو۔ اور تم فرض نماز ادا کرو اور تم فرض زکوٰۃ اداکرو۔ یہ دو بھائی ہیں‘جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی بھی ایسے بندے کی توبہ قبول نہیں کرے گا ‘جواسلام قبول کرنے کے بعد شرک کا ارتکاب کرے گا۔

أَبِيهِ ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← أَبِي قَزَعَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← اِبْرَاھِیْمُاٖ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِیَّ قَالَ: ← اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی‘ قَالَ:

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 160

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 161

اَخبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ اِدْرِیْسَ الْاَنْصَارِیُّ اَنْبَاَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ عَنْ مَّالِکٍ عَنْ اَبِیْ الزِّنَادِ عَنِ الْاَعُرَجِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُ یَاْکُلُ فِیْ مَعًی وَاحِدٍ وَالْکَا فِرُ یَاْکُلُ فِیْ سبعۃ أمعاء۔(3:13)

حضرت ابوہریرہؓ ‘روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے‘ اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے‘‘۔

الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 161

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 162

اَخَبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِیُّ بِمَنْبَجَ اَنْبَاَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ عَنْ مَّالِکٍ عَنْ سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِح عَنْ اَبیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَافَہٗ ضَیْفٌ کَا فِرٌ فَاَمَرَ لَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَساۃٍ فَشَرِبَ حِلَا بَھَا ثُمَّ اُخْریٰ فَشَرِبَ حِلَابَھَا حَتّٰی شَرَبَ حِلَابَ سَبْعِ شِیَاہٍ ثُمَّ اِنَہٗ اَصْبَحَ فَاَسْلَمَ لَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَاۃٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حَلَا بَھَا ثُمَّ اَمَرَ لَہٗ بِاُخْریٰ فَلَمْ یَسْتَتِمَّھَافَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الْمُؤْمِنَ یَشْرَبُ فِیْ مِعٍی وَحَدٍ وَالْکَافِرَ یَشْرَبُ فِیْ سبعہ أمعاء۔(3:13)

حضرت ابوہریرؓ بیان کرتے ہیں: ایک کا فر شخص نبی اکرمﷺ کا مہمان بنا‘ نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اس کے لئے بکری کا دودھ دوہ لیا گیا اس نے اس کا دودھ پی لیا‘ تو دوسری بکری کا دودھ دوہ لیاکیا۔ اس نے اس کا دودھ بھی پی لیایہاں تک کہ اس نے سات بکریوں کا دودہ پی لیا۔ پھر صبح کے وقت اس نے اسلام قبول کرلیا۔نبی اکرمﷺکے حکم کے تحت اس کے لئےایک بکری کادودھ دوہ لیا گیا۔اس نے اس کا بھی دودھ پی لیا۔ پھرنبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اس کے لئے دوسری بکری کادودھ دوہ لیا گیا‘تو وہ اسے ختم نہیں کر سکا۔(تو اس موقع پر)نبی اکرم ﷺنے فرمایا: ’’ بے شک مومن ایک آنت میں پیتا ہے‘ اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 162

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 163

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ فُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا بْنُ اَبِیْ السْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ قَالَ اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌعَنِ الزُّھْرِیِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنّ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَعْطَی رِجَالًا وَلَمْ یُعْطِ رَجُلًا مِنْھُمْ شَیْأً فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللہِ اَعْطَیْت۔ فُلَانًا وَفُلَانًا وَ لَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَیْأً وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَوْمُسْلِمٌ قَالَھَاثَلَاثًا قَاَل الزُّھْرِیُّ:نَریٰ ا۔نَّ الْاِسْلَامَ الْکَلِمَۃُ والایمان العمل۔(3:65)

عامر بن سعد بن اقاص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے کچھ لوگوں کو کچھ عطیات دئے۔آپ نے ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا۔ میں نے عرض کی :یارسول اللہ! آپ نے فلاں اورفلاں کو دے دیا‘لیکن فلاں شخص کو کچھ نہیں دیا۔ حالاں کے وہ مومن ہے‘ تو نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا:وہ مومنہے یا مسلمان ہے؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ زہری کہتے ہیں : ہم یہ سمجھتے ہیں : اسلام سے مراد زبانی طور پرکلمہ پڑھتا ہے‘ اور ایمان سے مراد عمل کرنا ہے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← مَعْمَرٌعَنِ الزُّھْرِیِ ← عَبْدُالرَّزَّاقِ ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ فُتَیْبَۃَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 163

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 164

اَخْبَرَنَا بْنِ قُتَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ مَوْھَبِ قَالَ حدثنی اللیث بن سعد عَنِ ابْنِ شِھَابِ عَنْ عَطَاءَ بْنِ یَزِیْدَ اللَّیْثیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ اْلَاسْوَدِ آنَّہٗ قَالَ:یَارَسُوْلَ اللہِ اَرَاَیْتَ اِنْ لَقَیْتُ رَجُلًا مِنَ الْکُفَّارِ فَقَاتَلَنِیْ فَضَرَبَ اِحْدَی یَدَیَّ بِالسَّیْفِ فَقَطَعَھَا ثُمَّ لَاذَمِنِیْ بِشَجَرَۃٍ وَقَالَ :اَسْلَمْتُ لِلہِ اَفَاَ قْتُلُہٗ بَعْدَ اَنْ قَالَھَا؟فَقَالَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :لَا تَقْتُلْہٗ قُلْتُ :یَارَسُوْلَ اللہِ اِنَّہٗ قَدْ قَّطَعَ یَدِیْ ثُمَّ قَالَ ذَلِکَ بَعْدَ اَنْ قَطَعَھَا اَفَاَقْتُلُہٗ؟ فَقَالَ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا تَقْتُلْہٗ فَاِنْ قَتَلْتَہٗ فَاِنَّہٗ بِمَنْزِلَتِکَ قبل أن تقتلہ وأنت بمنزلۃ قبل أن یقول کلمتہ التی قال۔(3:65)

حضرت مقدادبن اسوسؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی : یارسول اللہ!ایسی حال کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے‘ اگر میں کسی کافر کے مدمقابل آتا ہوں اور وہ میرے ساتھ لڑائی کرتا ہے ‘اور میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دیتا ہے‘ پھر(میں اس پر غالب آ جاتا ہوں) تو وہ مجھ سے بچنے کے لئے وہ درخت کے پیچھے جاتا ہے‘ اور کہتا ہے: میں اللہ تعالیٰ کے لئے اسلام قبو ل کرتا ہوں ‘ تو اس شخص کے یہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کردوں؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے تم قتل نہ کرو۔ میں نے عرض کی :یارسول اللہ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا تھا‘ اور اس نے اس ہاتھ کو کاتنے کے بعد یہ بات کہی ہے۔ کیا میں اس قتل کردوں؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا :تم اسے قتل نہ کرو ‘ کیونکہ اگر تم اسے قتل کر دیتے ہو‘ تو وہ تمہاری اس جگہ پر آجائے گا‘جس جگہ تم اسے قتل کرنے سے پہلے تھے۔ اور تم ا س کی جگہ پر چلے جاؤ گے ‘ جواس کے کہے ہوۓ کلمے سے پہلے اس کا مقام تھا۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں:) نبی اکرمﷺ کایہ فرمان:’’تم اسے قتل نہ کرو‘ کیونکہ اگر تم اسے قتل کردیتے ہو‘ تو وہ تمہاری اس جگہ پر آ جاۓ گا‘ جس جگہ تم اسے قتل کرنے سے پہلےتھے۔‘‘اس سے نبی اکرمﷺ کی مراد یہ ہے: تمہیں قصاص میں قتل کردیا جائے گا کیونکہ اسلام قبول کرنے سے پہلے اس کا خون بہانا جائز تھا‘ لیکن جب تم نے اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد اسے قتل کیا تو تم ایسی حالت میں پہنچ جاؤ گےکہ تمہیں اس کے قصاص میں قتل کردیا جائے گا۔ اس حدیث سے مراد نہیں ہے:کسی مسلمان کو قتل کرنا ایسے کفر کو واجب کردیتا ہے جو آدمی کو دین سے خارج کردے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: اے ایمان والو! مقتولین کے بارے میں تم پر قصاص پر لازم قراردیا گیا ہے‘‘

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 164

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 165

اَخْبَرَناَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنّٰی حدثنا بن اَبِیْ عَدِیِّ عَنْ حَجَّاجِ الصَّوَّافِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ ھِلَالِ بْنَ اَبِیْ مَیْمُوْنَہَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِیِّ قَالَ کَانَتْ لِیْ غُنَیْمَۃٌ تَرْ عَاھَاجَارِیَۃٌ لِیْ فِیْ قِبَلِ اُحُدٍ وَالْجوَّانِیَّۃِ فَاطَّلَعْتُ عَلَیْھَا ذَاتَ یَوْمٍ وَقَدْ ذَھَبَ الذِّئْبُ مِنْھَا بِشَاۃٍ وَاَنَا مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ اٰسَفُ کَمَا یَاْسَفُوْنَ فَصَکَکْتُھَا صَکَّۃً فَعَظُمَ ذٰلِکَ عَلَیَّ فَاَتَیْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ:اَفَلَا اَعْتِقُھَا؟ قَالَ:ائْتِنِیْ بِھَا فَاَتَیَتْہٗ بِھَا فَقَالَ :اَیْنَ اللہُ؟ قَالَتْ:فِی السَّمَاءِ قَالَ: مَنْ اَنَا؟ قَالَتْ:اَنْتَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وسَلَّمَ قَالَ: اَعْتِقْھَا فَاِنَّھَا مؤمنۃ۔ (3:49)

حضرت معاویہ بن حکم سلمیؓ بیان کرتے ہیں:میری کچھ بکریاں تھیں جنہیں میری ایک کنیز’’ احد‘‘ اور’’جونیہ‘‘ کی طرف چرایا کرتی تھی۔ایک دن میں وہاں پہنچا‘ تو پتہ چلا کہ ان میں سے ایک بکری کو بھیڑیا لے گیا ہے۔ میں بھی انسان ہوں ‘مجھے بھی اسی طرح غصہ آگیا‘جس طرح لوگوں کو غصہ آتا ہے‘ تو مین نے اس مکامارا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے میرے پاس لے آؤ۔ .میں اسے لے لر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا :اللہ تعالیٰ کہا جہے؟اس نے عرض کی :آسمان میں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا :میں کون ہوں؟ اس نے عرض کی :آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: تم اسے آزاد کر دو ۔وہ مومن ہے۔

مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← بن أَبِي عَدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 165

chevron_left Previous
1234567
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr