صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 154
اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِی قَالَ حَدَّ ثَنَا عِیْسَی بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ شَرِیْکِ بْنِ اللھِ بْنِ اَبِیْ نَمِرِ اَنَّہٗ سَمِعَ اَنَسَ بْنِ مَالِکٍ یَقُوْل :
حدیث 154: شریک بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت انس بن مالکؓ کو یہ بیان کرتے ہوے سنا: ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوے تھے ۔ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا ۔اس نے مسجد میں اس اونٹ کو بٹھایا اور پھراسےباندھ دیا ۔پھر اس نے دریافت کیا:آپ میں سے حضرت محمدﷺکون ہیں؟ اس وقت نبی اکرمﷺلوگوں کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے ہوے تھے۔ راوی کہتے ہیں:ہم اس سے کہا : یہ سفید رنگت کے مالک‘ٹیک لگا کر بیٹھے ہوے صاحب(نبی اکرمﷺ)ہیں۔ ا س شخص نے نبی اکرمﷺ سے دریافت کیا:اے عبدالمطلب کے صاحبزادے!نبی اکرم ﷺنے اسے جواب دیا: میں تمہیں جواب دینے کے لئے تیار ہوں۔ اس نے دریافت کیا :اے محمدﷺمیں آپ سے کچھ سوال کروں گا اور سوال کرت ہوے ذراسختی کا اظہار کروں گا‘ تو آپ مجھ سے ناراض نا ہوئے گا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تمہیں جو مناسب لگتا ہے تم ہوچھو۔ اس نے کہا:میں آپ کے پروردگاراور آپ سے پہلے لوگوں کے پر دردگار کا واسطہ وے کر دریافت کرتا ہوں ۔کیا اللہ تعا لیٰ نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف بھیجا ہے؟ نبی کرم ﷺنے جواب دیا :اللہ(جانتا ہے) جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا :میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت ک تا ہوں ۔ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے ‘ ہم روزانہ پانچ نمازیں پڑھا کریں۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ(جانتا ہے)جی ہاں۔ اس دریافت کیا :میں آپ کواللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا اللہ تعالیٰ نے آ پکو حکم دیا ہے‘ہم سال میں اس مہینے میں روزے رکھیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:اللہ(جانتا ہے)جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا :میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے ‘آپ ہمارے خوشحال لوگوں سے زکوٰۃوصول کریں اوراس ہمارے غریب لوگوں میں تقسیم کردیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ (جانتا ہے) جی ہاں! اس شخص نے کہا : آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں‘ میں اس پر ایمان لاتا ہوں ‘میں اپنے پیچھے(موجود)اپنی قوم کا نمائندا ہوں۔میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے ‘ جس کا تعلق بنو سعد بن بنو بکر سے ہے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شَرِیْکِ بْنِ اللھِ بْنِ اَبِیْ نَمِرِ اَنَّہٗ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← حَدَّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 154
