Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ · حديث 1590

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ في السفر1.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے سفر کے دوران ظہر اور عصر اور مغرب و عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی ہیں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the intercourse between the two prayers · Hadith 1590

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ · حديث 1591

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ السَّدُوسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا وَذَلِكَ فِي غَزْوَةٍ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَقُلْتُ لَهُ فَمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ1.

حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک سفر کے دوران نمازیں ایک ساتھ ادا کی ہیں یہ سفر آپ نے کیا تھا اور یہ ایک غزوے کی بات ہے آپ نے ظہر و عصر اور مغرب و عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا :نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیوں کیا تھا، تو حضرت معاذ نے بتایا نبی اکرم ﷺ یہ چاہتے تھے کہ آپ اپنی امت کو حرج میں مبتلا نہ کریں۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبُو الطُّفَيْلِ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ السَّدُوسِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the intercourse between the two prayers · Hadith 1591

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ · حديث 1592

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حدثنا يزيد بن موهب قَالَ أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ عُقَيْلٍ عن بن شِهَابٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَیْنَھُمَا وَاِذَا زَاغَتْ قبل أن یرتحل صلی ثم رحل۔

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے جب سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہونا ہوتا تھا ، تو ااپ ظہر کی نماز کو عصر کے وقت تک موخر کر دیتے تھے پھر آپ پڑاو کر کے دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور جب آپ کے روانہ ہونے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ نماز ادا کرنے بعد روانہ ہوتے تھے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بن شهاب أنه ← عَقِیلٍ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the intercourse between the two prayers · Hadith 1592

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ · حديث 1593

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ فَيُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ العشاء فصلاها مع المغرب1. سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ اِسْحَاقَ الثَّقَفِیَّ یَقُوْلُ سَمِعْتُ قُتَیْبَۃَ بْنَ سَعِیْدٍ یَقُوْلُ عَلَیْہِ عَلَامَۃُ سَبْعَۃٍ مِنَ الْحُفَّاظِ کَتَبُوْا عَیِّْ ھٰذَا الْحَدِیثَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَّیَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ وَّالْحُمَیْدِیُّ وَاَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ وَاَبُوْ خَیْثَمَۃَ حَتٰی عد سبعۃ۔

حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں :غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرنا ہوتا ، تو آپ ظہر کی نماز کو موخر کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ اسے عصر کے ساتھ ملا دیتے تھے اور ان دو نوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرتے تھے اور جب آپ نے سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرنا ہوتا، تو آپ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرنے بعد پھر روانہ ہوتے تھے ۔ اسی طرح جب آپ نے مغرب سے پہلے کوچ کرنا ہوتا ، تو آپ مغرب کی نماز کو موخر کر دیتے تھے، یہان تک کے اسے عشا کے ہمراہ ادا کرتے تھے اور جب آپ نے مغرب کے بعد کوچ کرنا ہوتا تھا تو عشا کی نماز کو جلدی ادا کر لیتے تھے ۔ اور اسے مغرب کے ہمراہ پڑھ لیتے تھے۔ میں نے سنا محد بن اسحاق ثقفی کہتے ہیں میں نے قتیبہ بن سعید کو یہ کہتے سنا ہے اس پر سات حافظان حدیث کی علامت جنہوں نے میرے حوالے سے اس حدیث کو نوٹ کیا ہے (وہ حضرات یہ ہیں )احمد بن حنبل ، یحی بن معین ،حمیدی ، ابو بکر بن ابو شیبہ،ابو خیثمہ ، یہاں تک کہ انہوں نے سات افراد گنوائے ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the intercourse between the two prayers · Hadith 1593

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ · حديث 1594

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ1،نَزَلَ فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّاَ وَلَمْ یُسْبِغِ الْوُضُوْءَ فَقُلْتُ لَہُ الصَّلَاۃَ فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الصَّلَاۃُ اَمَامَکَ فَرَکِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَۃَ، نَزَلَ فَتَوَضَّاَ فَاَسْبَغَ الْوُضُوْءَ ثُمَّ اُقِیمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ اَنَاخَ کُلّ اِنْسَانٍ بَعِیْرَہٗ فِیْ مَنْزِلِہٖ ثُمَّ اُقِیمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّاھَا وَلَمْ یُصَلِّ بینھما۔

حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں : عرفہ کے دن نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب آپ گھاٹی میں پہنچے تو آپ سواری سے نیچے اترے آپ نے پیشاب کیا پھر آپ نے وضو کیا اور وضو میں اسباغ نہیں کیا ۔ میں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی نماز آپ نے فرمایا:نماز آگے جا کر ہو گی پھر آپ سوار ہوئے جب آپ مزدلفہ آئے تو سواری سے نیچے اترے آپ نے وضو کرتے ہوئے اس میں اسباغ کیا پھر نماز کے لئے اقامت کہی گی نبی اکرم ﷺ نے یہ نماز ادا کی ۔ آپ نے ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی۔

أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the intercourse between the two prayers · Hadith 1594

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ · حديث 1595

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ1 فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ: "إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوكَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يَضْحَى النَّهَارُ2 فَمَنْ جَاءَهَا فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ". قَالَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَ إِلَيْهَا رَجُلَانِ وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ3 تَبِضُّ4 بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ فَسَاَلُمَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ھَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِھَا قَالَ نَعَمْ فَسَبَّھُمَا وَقَالَ لَھُمَا مَاشَاءَ اللہُ اَنْ یَّقُوْلَ ثُمَّ غَرَفُوا مِنَ الْعَیْنِ بِاَیْدِیھِمْ قَلِیْلًا قَلِیْلًا حَتّٰی اجْتَمَعَ فِیْ شَیْءٍ ثُمَّ غُسْلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجْھَہُ وَیَدَیْہِ ثُمَّ اَعَادَہٗ فِیْھَا فَجَرَتِ الْعَیْنُ بماء کثیر فاستسقی النَّاسُ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :یُوشِکُ یَا مُعَاذُ اِنْ طالت بک حیاۃ أن تری ماھا ھنا قدملیء جنانا۔

حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں :غزوہ تبوک کے موقع پر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے نبی اکرم ﷺ ظہع اور عصر کی نمازیں جب کہ مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیا کرتے تھے ۔ راوی بیان کرتےہیں : ایک دن آپ نے نماز کو موخر کیا پھر آپ باہر تشریف لائے آپ ظہر و عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں پھر آپ انر تشریف لئے گے پھر آپ باہر تشریف لائے پھر آپ نے مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کل تم تبوک کے چشمے کے پاس پہنچ جائو گے اگر اللہ نے چاہا ، تم اس کے پاس اس وقت پہنچو گے جب دن چڑھ چکا ہو گا ، جو شخص وہاں پہنچے وہ میرے آنے سے پہلے اس پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the intercourse between the two prayers · Hadith 1595

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ · حديث 1596

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ مَالِکٍ: أری ذلک فی مطر۔ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا فِي غير خوف ولا سفر. قَالَ مَالِکٍ: أری ذلک فی مطر۔

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں ۔ آپ نے مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں اور یہ کسی خوف کے بغیر اور سفر کے علاوہ تھا ۔امام مالک ؒ فرماتے ہیں : میرا خیال ہے، یہ بارش کے موسم میں ہو ہو گا۔

مَالِکٍ: أری ذلک فی مطر۔ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the intercourse between the two prayers · Hadith 1596

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ · حديث 1597

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زيد عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلّٰی بِالْمَدِیْنَۃِ سَبْعًا وَّثَمَانِیًا الظھر والعصر والمغرب والعشاء۔

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں سات اور آٹھ رکعات یعنی ظہر اور عصر کی نمازیں (ایک ساتھ) اور مغرب اور عشا کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the intercourse between the two prayers · Hadith 1597

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr