Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ · حديث 3103

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ قال: حجاج بن محمد عن بن جريح قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ كُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ وَدُفِنَ لَيْلًا فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يُقْبَرَ الرَّجُلُ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يضطر الإنسان إلى ذلك1. [46:4]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیا ن کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا آپ ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے ایک صاحب کا ذکر کیا جنہیں چھوٹا سا کفن دیا گیا تھا اور انہیں رات کے وقت دفن کر دیا گیا تھا، تع نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیا کہ کسی شخص کو رات کے وقت دفن کیا جائے، البتہ اگر انسان اس بارے میں مجبور ہو جائے ( تو حکم مختلف ہے)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← بن جريح ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter in the burial · Hadith 3103

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ · حديث 3104

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُكْرَمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عبيدة بن حميد عن سهل بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "إذا تَبِعَ أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ" 1. [49:3]

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب کوئی شخص جنازے کے ساتھ جائے ، تو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازے کو (لحد میں ) رکھ نہ دیا جائے۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ← سهل بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← عبيدة بن حميد ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُكْرَمٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter in the burial · Hadith 3104

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ · حديث 3105

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مَعَ الْجَنَازَةِ لَمْ يَجْلِسْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللحد أو تدفن شك أبو معاوية1. [1:4]

حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تھے، تو آپ ﷺ اس وقت تک تشریف فر ما نہیں ہوتے تھے جب تک اسے لحد میں رکھ نہیں دیا جاتا تھا ( جہاں ابو معاویہ نامی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اسے دفن نہیں کر دیا جاتا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter in the burial · Hadith 3105

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ · حديث 3106

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إذا كان مع الْجَنَازَۃِ لَمْ یَجْلِسْ حَتّٰی تُوضَعَ فِی اللَّحْدِ ، اَوْ حَتّٰی تُدْفَنَ ، شَکَّ اَبُوْ مُعَاوِیَۃَ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تھے، تو اس وقت تک تشریف فرما نہیں ہوتے تھے جب تک اسے لحد میں رکھ نہیں دیا جاتا تھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب تک اس دفن نہیں کر دیا جاتا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter in the burial · Hadith 3106

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ · حديث 3107

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ: فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ: يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عَمَلُهُ" 1. [70:3]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں ان میں سے دو واپس آ جاتی ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتی ہے اس کے اہل خانہ، ا س کا مال اور اس کے عمل ساتھ جاتے ہیں اس کے اہل خانہ اور اس کا مال واپس آجاتے ہیں اور اس کا عمل ساتھ رہ جاتا ہے۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter in the burial · Hadith 3107

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ · حديث 3108

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِابْنِ آدَمَ ثَلَاثَۃٌ اَخِلَّاءُ : اَمَّا خَلِیْلٌ ، فَیَقُوْلُ : مَا اَنْفَقَتْ فَلَکَ ، وَمَا اَمْسَکَتْ فَلَیْسَ لَکَ ، فَھٰذَا مَالُہُ ، وَاَمَّا خَلِیْلٌ فَیَقُوْلُ : اَنَا مَعَکَ فَاِذَا اَتَیْتَ بَابَ الْمَلِکِ تَرَکْتُکَ وَرَجَعْتُ ، فَذٰلِکَ اَھْلُہٗ وَحَشَمُہٗ ، وَاَمَّا خَلِیْلٌ ، فَیَقُوْلُ : اَنَا مَعَکَ حَیْثُ دَخَلْتَ وَحَیْثُ خَرَجْتَ ، فَھٰذَا عَمَلُہٗ ، فَیَقُوْلُ : اِنْ لَاَھْوَنَ الثَّلَاثَۃِ عَلَیَّ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " ابن آدم کے تین دوست ہیں جہاں تک ایک دوست کے تعلق ہے، تو وہ یہ کہتا ہے تم جو خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر مل جائے گا اور جو تم خرچ نہیں کرو گے اس کا تمہیں کچھ نہیں ملے گا یہ اس کا مال ہے ایک دوست یہ کہتا ہے میں تمہارے ساتھ ہوں جب تم بادشاہ ( یعنی خالق حقیقی ) کے دروازے پر آو گے (یعنی جب تم مر جاو گے) ، تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا اور واپس آجاو ں گا یہ اس کے اہل خانہ اور جاہ و حشم ہیں اور ایک دوست یہ کہتا ہے میں تمہارے ساتھ ہوں تم جہاں بھی داخل ہو گے اور جہاں سے نکلو گے یہ اس کا عمل ہے، تو وہ بندہ یہ کہتا ہے تم، تو میرے نزدیک ان تینوں میں سب سے کم حیثیت کے مالک تھے۔"

اِنْ لَاَھْوَنَ الثَّلَاثَۃِ عَلَیَّ ← مَعَکَ حَیْثُ دَخَلْتَ وَحَیْثُ خَرَجْتَ فَھٰذَا عَمَلُہٗ ← مَعَکَ فَاِذَا اَتَیْتَ بَابَ الْمَلِکِ تَرَکْتُکَ وَرَجَعْتُ فَذٰلِکَ اَھْلُہٗ وَحَشَمُہٗ وَاَمَّا خَلِیْلٌ ← مَا اَنْفَقَتْ فَلَکَ وَمَا اَمْسَکَتْ فَلَیْسَ لَکَ فَھٰذَا مَالُہُ وَاَمَّا خَلِیْلٌ ← لِابْنِ آدَمَ ثَلَاثَۃٌ اَخِلَّاءُ اَمَّا خَلِیْلٌ ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter in the burial · Hadith 3108

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ · حديث 3109

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصديق عن بن عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي الْقَبْرِ قَالَ : بِسْمِ اللہ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب میت کو قبر میں رکھ دیا جاتا، توآپ ﷺ ییہ پڑھتے تھے۔ "اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ کے رسول کے دین پر (ایمان رکھتے ہوئے ہم اسے سپرد خاک کرتے ہیں)"

بِسْمِ اللہ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي الْقَبْرِ ← بن عُمَرَ ← أَبِي الصديق ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter in the burial · Hadith 3109

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ · حديث 3110

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عن بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي اللَّحْدِ فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ" 1. [104:1] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : اَبُو الصِّدِّیقِ بَکَرُ بقنُ قَیْسٍ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: :جب تم اپنے مردوں کو لحد میں رکھ دو، تو یہ پڑھو۔ " اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ کے رسولﷺ کی سنت کے مطابق ( ہم اسے دفن کرتے ہیں)"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابو صدیق نامی راوی کا نام بکر بن قیس ہے۔

بن عُمَرَ ← أَبِي الصديق ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter in the burial · Hadith 3110

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr