Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2541

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا النَّاسُ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَؤُلَاءِ؟» فَقِيلَ: نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي بِهِمْ، وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصَابُوا، أَوْ نِعْمَ مَا صَنَعُوا» (1) [4: 38]

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ تشریف لائے لوگ مسجد کے ایک گوشے میں رمضان کے مہینے میں نماز ادا کر رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں عرض کی گئی : یہ کچھ لوگ ہیں جنہیں قرآن نہیں آتا۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نہیں نماز پڑھا رہے ہیں وہ لوگ ان کے نماز کی پیروی کر رہے ہیں پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: انہوں نے ٹھیک کیا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) انہوں نے جو کیا ہے وہ عمدہ ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ تشریف لائے لوگ مسجد کے ایک گوشے میں رمضان کے مہینے میں نماز ادا کر رہے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں عرض کی گئی : یہ کچھ لوگ ہیں جنہیں قرآن نہیں آتا۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نہیں نماز پڑھا رہے ہیں وہ لوگ ان کے نماز کی پیروی کر رہے ہیں پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: انہوں نے ٹھیک کیا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) انہوں نے جو کیا ہے وہ عمدہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2541

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2542

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، فَلَمْ يَخْرُجْ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: «قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ» ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ (1) . [5: 29]

یّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ۔ ایک رات نبی اکرمﷺ نے مسجد میں نماز ادا کی کچھ لوگوں نے آپ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کی اگلی رات جب آپ نے نماز ادا کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تیسری یاچوتھی رات میں بہتسے لوگ اکٹھے ہوگئے تو نبی ارکرمﷺ ان کے پاس تشریف نہیں لے گئے صبح ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں نے جو کیا(یعنی تم لوگ جو نماز ادا کرنے آئے تھے) وہ میں نے دیکھ لیا تھا لیکن میں اس لئے تمہاری طرف نہیں آیا مجھے یہ اندیشہ تھا یہ تم پر فرض ہو جائے گی۔ (راوی کہتے ہیں) یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 2542

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2543

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، [ص:284] أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى النَّاسُ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَكَثُرَ النَّاسُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمُ اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ فَصَلَّى، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ حَتَّى كَثُرَ النَّاسُ، فَخَرَجَ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَصَلَّى فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَكَثُرَ النَّاسُ حَتَّى عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ، فَطَفِقَ النَّاسُ يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاةَ الْفَجْرِ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ، فَتَعْجِزُوا عَنْ ذَلِكَ»، وَكَانَ يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، يَقُولُ: «مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» قَالَ: فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ كَذَلِكَ كَانَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرٍ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، حَتَّى جَمَعَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَقَامَ بِهِمْ فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ اجْتِمَاعِ النَّاسِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ فِي رَمَضَانَ»

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: سیّدہ عائشہ ؓ نے انہیں بتایا: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ رات کے وقت تشریف لے گئے۔ آپ نے مسجد میں نماز ادا کی لوگوں نے بھی(آپ کی اقتداء میں ) نماز ادا کی اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو (دوسری رات) لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی۔ نبی اکرمﷺ دوسری رات بھی ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے نماز ادا کی تو لوگوں نے آپ کی نماز کی پیروی کی اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی۔ نبی اکرمﷺ تیسری رات بھی تشریف لے گئے۔ آپ نے نماز ادا کی لوگوں نے آپ کی نماز کی اقتداء کی اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی یہاں تک کہ مسجد ان کے لئے کم پڑگئی۔ نبی اکرمﷺ ان کے پاس تشریف نہیں لے گئے لوگ کہتے رہے: نماز (کے لئے تشریف لے آئیں ) لیکن نبی اکرمﷺ ان کے پاس تشریف نہیں لے گئے نبی اکرمﷺ فجر کی نماز کے لئے ان کے پا س تشریف لے گئے جب آپ نے فجر کی نماز ادا کرلی تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی: امابعد! گزشتہ رات تمہاری حالت مجھ سے مخفی نہیں تھی لیکن مجھے یہ اندیشہ ہوا رات کی نماز تم پر فرض قرار دے دی جائیگی اور تم اسے ادا نہیں کرپاؤ گے۔ (سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہے) نبی اکرمﷺ رمضان میں لوگوں کو نوافل ادا کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ آپ عزیمت کے ساتھ انہیں حکم نہیں دیتے تھے ۔ آپ ارشاد فرماتے تھے۔ جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے شب قدر میں نوافل ادا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کی بخشش کردےگا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہوا تو یہ معاملہ یوں ہی رہا۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے عہد خلافت میں اور حضرت عمرؓ کے عہد کے ابتدائی دور میں معاملہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے لوگوں کو حضرت ابی بن کعب ؓ کے پیچھے اکٹھا کیاتو وہ رمضان میں انہیں تراویح پڑھایا کرتے تھے یہ لوگوں کا وہ پہلا اجتماع تھا جو رمضان میں کسی قاری کے پیچھے ہواتھا۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، [ص:284] أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2543

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2544

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ فَصَلَّى، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَذَاكَرُونَ ذَلِكَ، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فِي اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ، فَتَعْجِزُوا عَنْهَا» (1) . [5: 1]

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نصف رات کے وقت تشریف لے گئے۔ آپ نے مسجد میں نماز ادا کی سب لوگوں نےآپس کی اقتداءمیں نماز ادا کی۔ اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو پہلے سے زیاد ہ لوگ اکٹھے ہوگئے پھر نبی اکرمﷺ دوسری رات بھی تشریف لے گئے۔ آپ نے نماز ادا کی لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی ۔ اگلی رات لوگوں نے اس بات کا تذکرہ کیا تو تیسری رات تعداد زیادہ ہو چکی تھی ۔ نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے آپ نے انہیں پڑھائی لوگوں نے آپ کے پیچھے اقتدا میں نماز ادا کی جب چوتھی رات آئی تو مسجد مکمل بھر چکی تھی۔ نبی اکرمﷺ تشریف نہیں لے گئے کچھ لوگوں نے عرض کرنا شروع کیا: نماز (کے لئے تشریف لے آئیں) لیکن نبی اکرمﷺ ان کے پاس تشریف نہیں لے گئےیہاں تک کہ فجر کی نماز کے لئے تشریف لے گئے جب آپ نے فجر کی نماز ادا کرلی تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے پھر آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور یہ بات ارشاد فرمائی: گزشتہ رات تمہارا معاملہ مجھ سے مخفی نہیں تھا مجھے یہ اندیشہ ہوا تم پر رات کی نماز فرض کردی جائے گی اور تم اس سے عاجز آجاؤ گے (یعنی اسے ادا نہیں کرپاؤ گے)۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلَانَ،

Hadith 2544

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2545

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَذَاكَرُونَ ذَلِكَ، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ يُصَلِّي بِهِمْ، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، إِنَّهُ (2) لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا» (3) . [5: 29]

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیںف : نبی اکرمﷺ نصف رات کے وقت مسجد تشریف لے گئے کچھ لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی اگلے دن لوگوں نے آپس میں اس بارے میں بات چیت کی تو زیادہ تعداد میں لوگ اکٹھے ہوگئے۔ نبی اکرمﷺ دوسری رات بھی تشریف لے گئے کچھ لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی ۔ اگلے دن لوگوں نے آپس میں اس بات کا تذکرہ کیاتو تیسری رات اہل مسجد کی تعداد زیادہ ہوگئی۔ نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے آپ نے انہیں نماز پڑھائی لوگوں نےآپ کی اقتداء میں نمازادا کی ۔ چوتھی رات آئی تو مسجد مکمل بھر چکی تھی۔ نبی اکرمﷺ تشریف نہیں لے گئے یہاں تک کہ آپ فجر کی نماز کے لئے تشریف لے گئے جب آپ نے فجر کی نماز ادا کر لی، تو ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے پھر آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور ارشاد فرمایا: امابعد! گزشتہ رات تمہارا معاملہ مجھ سے مخفی نہیں تھا لیکن مجھے یہ اندیشہ ہوا تم پر رات کے نوافل فرض کر دیئے جائیں گے اور تم اس سے عاجز آجاؤ (یعنی انہیں ادا کر پاؤں گے)۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2545

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2546

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِرَمَضَانَ: «مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» (1) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الِاحْتِسَابُ: قَصْدُ الْعَبِيدِ إِلَى بَارِئِهِمْ بِالطَّاعَةِ رَجَاءَ الْقَبُولِ»

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کو رمضان کے بارے میں یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سناہے: جو شخص ایمان کی حالت مین ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس میں نوافل ادا کرے گا اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہوجائے گی ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) احتساب سے مراد یہ ہے کہ بندہ اطاعت کے ہمراہ اپنے پروردگار کی بارگاہ کا قصد کرے اس کی قبولیت کی امید رکھتے ہوئے۔

أَبُو حَاتِمٍ: «الِاحْتِسَابُ: قَصْدُ الْعَبِيدِ إِلَى بَارِئِهِمْ بِالطَّاعَةِ رَجَاءَ الْقَبُولِ» ← لِرَمَضَانَ: «مَنْ قَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 2546

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2547

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: صُمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ، وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ يَنْتَظِرُ اللَّيْلَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ، فَقَالَ: «إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ» ، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَامَ بِنَا فِي الثَّالِثَةِ، وَجَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى تَخَوَّفْنَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: «السَّحُورُ» (1) . [1: 2] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُ أَبِي ذَرٍّ: لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ، وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ، يُرِيدُ: مِمَّا بَقِيَ مِنَ الْعَشْرِ لَا مِمَّا مَضَى مِنْهُ، وَكَانَ الشَّهْرُ الَّذِي خَاطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ بِهَذَا الْخَطَّابِ فِيهِ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَلَيْلَةُ السَّادِسَةِ مِنْ بَاقِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ تَكُونُ لَيْلَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، وَلَيْلَةُ الْخَامِسَةِ مِنْ بَاقِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ تَكُونُ لَيْلَةَ الْخَامِسِ وَالْعِشْرِينَ»

حضرت ابوذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ رمضان کے روزے رکھے۔ آپ نے ہمیں چھٹی رات میں نوافل نہیں پڑھائے۔ آپ نے ہمیں پانچویں رات میں نوافل پڑھائے یہاں تک کہ آپ رات کا انتظار کرنے لگے۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ اس باقی رہ جانے والی رات میں نفل پڑھائیں (تو یہ مناسب ہوگا) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص امام کے ہمراہ نماز ادا کرے یہاں تک کہ اسے مکمل کرے تو اسے رات بھر نوافل ادا کرنے کا ثوات ملتاہے۔ پھر نبی اکرمﷺ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی یہاں تک اس مہینے میں تین دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمیں تیسری رات میں نماز پڑھائی ۔ آپ نے اپنے اہل خانہ اور اپنی ازواج کو بھی اکٹھاکیا آپ نے ہمیں نوافل پڑھائے یہاں تک کہ ہمین یہ اندیشہ ہواہماری فلاح رہ جائے گی۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: فلاں سے مراد کیاہے تو انہوں نے جواب دیا:سحری۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) حضرت ابوذر غفاری ؓ کا یہ کہنا کہ چھٹی رات میں آپ نے ہمیں نوافل نہیں پڑھائے۔ آپ نے پانچویں رات میں ہمیں نوافل پڑھائے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو عشرہ باقی رہ گیا تھا۔ اس کی چھٹی یا پانچویں رات۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے۔ جو مہینہ گزر چکا تھا۔اس کی پانچویں یا چھٹی رات کیونکہ وہ مہینہ جس میں نبی اکرمﷺ نے اپنی امت کو یہ خطاب کیا تھا۔ اس میں انتیس دن تھے۔ تو انتیس دنوں والے مہینے کے باقی حصے کی چھٹی رات چوبیسویں رات تھی۔ اور 29 دن والے مہینے کے باقی حصے کی پانچویں رات پچیسویں رات ہوگی۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2547

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2548

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: ذَكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟» فَقُلْنَا: مَضَى اثْنَانِ وَعِشْرُونَ يَوْمًا، وَبَقِيَ ثَمَانٌ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا، بَلْ مَضَى اثْنَانِ وَعِشْرُونَ يَوْمًا، وَبَقِيَ سَبْعٌ، الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا، فَالْتَمِسُوهَا اللَّيْلَةَ» (1) . [1: 2]

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں : ہم نے نبی اکرمﷺ کے سامنے شب قدر کا ذکرکیا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مہینے کا کتنا حصہ گزر چکا ہیں ہم نے عرض کی : بائیس(22) دن گزر گئے ہیں اور آٹھ دن باقی رہ گئے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ بائیس(22) دن گزر گئے ہیں اور سات دن باقی رہ گئے ہیں مہینہ کبھی انتیس(29) کا ہوتا ہے تو تم اس رات کو تلاش کرو۔

ذَكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2548

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2549

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟» قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ: إِنَّا لَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَنُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا (1) . [4: 28]

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت ابی بن کعب ؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ! گزشتہ رات رمضان کے حوالے سے مجھے کچھ مشکل پیش آئی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: وہ کیاتھی؟ اے ابی! انہوں نے عرض کی : ہمارے گھر کی کچھ خواتین تھی۔ انہوں نے یہ کہاہم قرآن نہیں پڑھ سکتی ہیں ہم آپ کی نماز کی پیروی کرتی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں آٹھ رکعات پڑھائی پھر میں نے وتر ادا کرلئے۔ (حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں) نبی اکرمﷺ نے گویا رضا مندی کا اظہار کیا آپ نے انہیں کچھ کہانہیں۔

جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2549

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّرَاوِیْحِ · حديث 2550

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ (1) ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ - يَعْنِي فِي رَمَضَانَ - قَالَ: «وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟ قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ: إِنَّا لَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَنُصَلِّي بِصَلَاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا (2) . [4: 50]

حضرت جابربن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابی بن کعب ؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ !گزشتہ رات مجھے کچھ پریشانی ہوئی یعنی رمضان کے حوالے سے نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے ابی ! وہ کیاتھی؟ انہوں نے عرض کی : میرے گھر کی خواتین نے کہا: ہم قرآن نہیں پڑھ سکتی ہیں تو ہم آپ کی نماز کی پیروی کریں گی۔ حضرت ابی نے بتایا: میں ان خواتین کو آٹھ رکعات نماز پڑھائی پھر میں نے وتر ادا کرلئے۔ (حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرمﷺ نے گویا رضا مندی کا اظہار کیا تاہم آپ نے انہیں کچھ کہا نہیں۔

جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2550

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr