Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2979

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم قال: "مَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ إليه في العمر" 1. [66:3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جسے اللہ تعالیٰ ساٹھ سال کی عمر عطا کر دے، تو عمر کے حوالے سے اس کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہنے دیتا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 2979

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2980

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ2 عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَلِكَ". قَالَ ابْنُ عرفة:3 وانا من الأقل4. [70:3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " میری امت کی (اوسط) عمریں ساٹھ سے لے کر ستر سال تک ہوں گی اور بہت کم لوگ ہوں گے جو انہیں عبور کریں گے۔" ابن عرفہ نامی راوی کہتےہیں: میں ان کم لوگوں میں سے ہوں (یعنی میری عمر ستر سال سے زیادہ ہو چکی ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ،

Hadith 2980

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2981

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِخِیَارِ کُمْ : قَالُوْا : بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللہِ قَالَ : خِیَارُ کُمْ اَطْوَلُکُمْ اَعْمَارًا ، وَاَحْسَنُکُمْ اَعْمَالًا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " کیامیں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاوں؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے بہترین وہ لوگ ہیں جن کی عمریں طویل ہوں اور ان کے عمل اچھے ہوں۔"

بَلٰی ← اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِخِیَارِ کُمْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Hadith 2981

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2982

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَابْنُ أَبِي حَازِمٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَنْ صَاحِبِهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي سلمة عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ مِنْ بَلِيٍّ1 فَكَانَ إِسْلَامُهُمَا جَمِيعًا وَاحِدًا وَكَانَ أَحَدُهُمَا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنَ الْآخَرِ فَغَزَا الْمُجْتَهِدُ فَاسْتُشْهِدَ وَعَاشَ الْآخَرُ سَنَةً حَتَّى صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ مَاتَ فَرَأَى طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ خَارِجًا خَرَجَ مِنَ الْجَنَّةِ فَأَذِنَ لِلَّذِي تُوُفِّيَ آخِرَهُمَا ثُمَّ خَرَجَ فَأَذِنَ لِلَّذِي اسْتُشْهِدَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى طَلْحَةَ فَقَالَ: ارْجِعْ فإنه لم يأن لك فَاَصْبَحَ طَلْحَۃُ یُحَدِّثُ بِہِ النَّاسِ ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَحَدَّثُوہُ الْحَدِیثَ ، وَعَجِبُوْا،فَقَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللہِ کَانِ اَشَدَّ الرَّجُلَیْنِ اجْتِھَادًا ، وَاسْتُشْھِدَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ، وَدَخَلَ ھٰذَا الْجَنَّۃَ قَبْلَہٗ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَلَیْسَ قَدْ مَکَتَ ھٰذَا بَعْدَہُ بِسَنَۃً ؟ قَالُوْا : نَعَمْ۔ قَالَ : وَاَدْرَکَ رَمَضَانَ فَصَامَہٗ ، وَصَلّٰی کَذَا وَکَذَا فِی الْمَسْجِدِ فِی السّنَۃِ ؟ قَالُوْا: بَلٰی ، قَالَ : فَلَمَّا بَیْنَھُمَا اَبْعَدُ مِمَّا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : مَاتَ اَبُوْ سَلَمَۃَ سَنَۃَ اَرْبَعٍ وَّتِسْعِینَ ، وَقُتِلَ طَلْحَۃُ سَنَۃَسِتٍّ وَثَلَاثِینَ یَوْمَ الْجَمَلِ

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: "بلی" نامی علاقے سے تعلق رکھنے والے دو آدمی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے ایک ساتھ اسلام قبول کیا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ کوشش کرنے والا تھا اس کوشش کرنے والے نے جنگ میں حصہ لیا اور جام شہادت نوش کر لیا دوسرا شخص مزید ایک سال تک زندہ رہا، یہاں تک کہ اس نے رمضان کے روزے میں رکھے پھر اس کا انتقال ہوا۔ ایک مرتبہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہہ نے خواب میں دیکھا ایک شخص جنت سے باہر آیا اس نے اس شخص کو جنت میں جانے کی اجازت دی جس کا انتقال ان دونوں افراد میں سے بعد میں ہوا تھا پھر وہ شخص جنت سے باہر آیا اور اس نے اس اند ر جانے کی اجازت دی جو شہید ہوا تھا پھر وہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہہ کی طرف واپس آیا اور بولا : تم ابھی واپس چلے جاؤ ابھی تمہارا وقت نہیں آیا اگلے دن حضرت طلحہ رضی اللہ عنہہ نے اس بارے میں لوگوں سے بات چیت کی اس بات کی اطلاع نبی اکرم ﷺ کو ملی لوگوں نے آپ ﷺ کو اس بارے میں بتایا اور اپنی حیرانگی کا اظہار کیا ان لوگوں نے عرض کی: یارسول اللہﷺ ! وہ شخص، تو ان دونوں میں سے زیادہ کوشش کرنے والا ت تھا اور وہ اللہ کی راہ میں شہید بھی ہوا تھا، لیکن یہ (دوسرے والا) اس سے پہلے جنت میں داخل ہو گیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا اس نے اس کے بعد ایک سال تک زندگی بسر نہیں کی تھی؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس شخص نے رمضان کا مہینہ پایا تھا اور اس میں روزے رکھے تھےا ور سال بھر میں مسجد میں اتنی اتنی نمازیں ادا نہیں کی تھیں؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس لیے ان دونوں کے درمیان اس سے زیادا فرق ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔ ابو سلمہ نامی راوی کا انتقال 94 ہجری میں ہوا تھا جبکہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہہ جنگ جمل کے موقع پر سن 36 ہجری میں شہید ہوئے تھے۔

طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← صَاحِبَةٌ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2982

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2983

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ وَكَانَ يُسَمَّى شُعْبَةَ الصَّغِيرَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ1 عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كانت له نورا يوم القيامة" 2. [2:1]

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو جائے (یعنی جس مسلمان کے سفید بال آجائیں) ، تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوں گے۔"

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ1 ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ وَكَانَ يُسَمَّى شُعْبَةَ الصَّغِيرَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ بِبَغْدَادَ

Hadith 2983

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2984

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا قَالَ: حدثنا حميد بن زنجوبة قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يوم القيامة" 1. [2:1]

حضرت ابو کبیح سلمی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جائے۔ (یعنی اس کے سفید بال آجائیں)، تو یہ چیز ااس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گی۔"

"مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يوم القيامة" ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← حميد بن زنجوبة ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ بِنَسَا

Hadith 2984

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2985

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم قال: "لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ فَإِنَّهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كُتِبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ وَرُفِعَ له بها درجة" 1. [2:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "تم سفید بالوں کو اکھاڑو نہیں، کیونکہ یہ قیامت کے دن نور ہوں گے اور جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو جائے( یعنی اس کے سفید بال آجائیں) ، تو اس کے لیے ان کے عوض میں نیکیاں لکھی جائیں اور ان کے عوض میں اس کے گناہ معاف ہوں گے اور ان کے عوض میں اس کے درجات بلند ہوں گے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2985

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2986

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْاَشَجُّ ، حَدَّثَنَا اَبُوْ خَالِدٍ الْاَحْمَرُ ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ ، عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوکَ سُئِلَ عَنِ السَّاعَۃِ ، فَقَالَ : لَا یَاْتِیْ عَلَی النَّاسِ مِائَۃُ سَنَۃٍ وَّعَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَۃٌ۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ، بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ تبوک سے واپس تشریف لائے، تو آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا گیا: آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اس وقت روئے زمین پر موجود کوئی شخص آ ج سے ٹھیک ایک سو سال بعد زندہ نہیں ہوگا۔

السَّاعَةِ ← لَمَّا رَجَعَ رَسُوْلُ اللہِ مِنْ تَبُوکَ سُئِلَ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ،

Hadith 2986

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2987

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدورقي حدثنا حجاج بن محمد عن بن جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ: "تَسْأَلُونِي 1 عَنِ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ يأتي عليها مائة سنة" 2. [42:3]

حضت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو وصال سے ایک ماہ پہلے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: تم لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہو اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ آج روئے زمین پر جو بھی شخص موجود ہے وہ آج سے ایک سو سال بعد زندہ نہیں ہو گا۔

قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ: "تَسْأَلُونِي ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 2987

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2988

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بن فضالة قال: سمعت الحسن1 يحدث عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَسْاَلُوْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ ، وَالَّذِی نَفْسِی بَیَدِہِ مَا عَلَی الْاَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَۃٌ یَاتِیْ عَلَیْھَا مَائَۃُ سَنَۃٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "تم لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہو اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس وقت روئے زمین پر موجود کوئی بھی زندہ شخص آج سے ایک سو سال بعد زندہ نہیں ہو گا۔"

تَسْاَلُوْنِیْ ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2988

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2989

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بن عبد الرحيم البرقي حدثنا بن عُفَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنِ بن شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ1 أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ: "رَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ لَا يَبْقَى مِنْهَا مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أحد" 2. [39:3]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی حیات کے آخری دور میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب آپﷺ نے سلام پھیرا، تو آپﷺ کھڑے ہوئے اور آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہیں اپنی اس آج کی رات کے بارے میں پتہ ہے؟ آج سے ٹھیک ایک سوسال بعد ایسا کوئی شخص باقی نہیں ہوگا ، جو اس وقت روئے زمین پر موجود ہے۔

بن شِهَابٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← بن عفير ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Hadith 2989

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2990

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وهي حية" 1. [39:3]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی اکر مﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں "تم میں سے جو شخص بھی آج زندہ ہے ایک سو سال گزرنے کے بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہو گا۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2990

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr