Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ غُسْلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ · حديث 1238

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ثُمَامَةَ الْحَنَفِيَّ1 أُسِرَ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ: "مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ " فيقول إن تقتل تقتل وَإِنْ تَمُنَّ تَمُنَّ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تُرِدِ المال تعطه مَا شِئْتَ قَالَ فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یُحِبُّوْنَ الْفِدَاءَ وَیَقُوْلُوْنَ مَا نَصْنَعُ بِقَتْلِ ھٰذَا فَمَرَّ بِہِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا فَاَسْلَمَ فَبَعَثَ بِہٖ اِلٰی حَائِطِ اَبِیْ طَلْحَۃَ فَاَمَرَہُ اَنْ یَغْتَسِلَ فَاغْتَسَلَ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :لقد حسن إسلام صاحبکم۔

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ثمامہ حنفی کو قید کر لیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ملنے کے لئے آئے، تو آپ نے دریافت کیا: اے ثمامہ! تمہارے من میں کیا ہے۔ اس نے کہا اگر آپ قتل کر دیتے ہیں، تو پھر ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو جو آپ چاہتے ہیں وہ آپ کو دے دیا جائے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے فدیہ لینے والی صورت کو پسند کیا۔ انہوں نے کہا اس کو قتل کرکے ہمیں کیا ملے گا پھر ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ابو طلحہ کے باغ کی طرف بھیجا اور یہ ہدایت کی کہ وہ غسل کرلے انہوں نے غسل کرکے دو رکعات نماز ادا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تمہارے ساتھی کا اسلام عمدہ ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim · Hadith 1238

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ غُسْلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ · حديث 1239

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ: ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، [ص:43] فَقَالَ: «مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ»؟ قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، إِنْ تَقْتُلْنِي تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ، تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى كَانَ الْغَدُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ»؟ قَالَ: مَا قُلْتُ لَكَ: إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ، فَقَالَ لَهُ: «مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ»؟ فَقَالَ: عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ، إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ» فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ دِينَكَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ مَا كَانَ بَلَدٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ، فَقَدَ أَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟ فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ، قَالَ لَهُ قَائِلٌ: صَبَوْتَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا وَاللَّهِ لَا تَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ، [ص:44] حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [1: 95] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ التِّجَارَةِ إِلَى دُورِ الْحَرْبِ لِأَهْلِ الْوَرَعِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی سمت میں ایک مہم روانہ کی وہ لوگ بنو حنیفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پکڑکے لے آئے جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا۔ یہ اہل یمامہ کا سردار تھا۔ لوگوں نے اسے مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے من میں کیا ہے۔ اے ثمامہ! وہ بولا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بھلائی ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کر دیتے ہیں، تو آپ ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ انعام کرتے ہیں، تو اپ ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ مانگیں جو مانگیں گے آپ کو دیا جائے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا، یہاں تک کہ اگلا دن آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: اے ثمامہ! تمہارے ذہن میں کیا ہے؟ وہ بولا : وہی ہے، جو میں نے آپ کو کہا تھا کہ اگر آپ انعام کریں گے تو ایک شکر گزار پر کریں گے اور اگر قتل کرتے ہیں، تو ایک خون والے شخص کو قتل کرتے ہیں اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ مانگئے آپ جو مانگیں گے آپ کو مل جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے چھوڑ دیا پھر اگلا دن آگیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: اے ثمامہ! تمہارے ذہن میں کیا ہے۔ وہ بولا: میرے ذہن میں وہی ہے، جو میں آپ کو بتا چکا ہوں اگر آپ انعام کریں گے تو شکر گزار شخص پر انعام کریں گے اگر آپ قتل کریں گے تو ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ مال حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ مانگئے جو چاہیں وہ آپ کو دیا جائے گا۔ نبی اکرم سلی نے ارشاد فرمایا: ثمامہ کو چھوڑ دو پھر وہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں چلے گئے۔ انہوں نے وہاں غسل کیا پھر وہ مسجد میں آئے اور بولے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم! روئے زمین پر کسی بھی شخص کا چہرہ میرے نزدیک آپ کے چہرے سے زیادہ نا پسندیدہ نہیں تھا لیکن اب میری یہ حالت ہے، آپ کا چہرہ مریے نزدیک تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کے دین سے زیادہ ناپسندیدہ دین اور کوئی نہیں تھا لیکن اب میری یہ حالت ہے، آپ کا دین میرے نزدیک تما ادیان سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کے شہر سے زیادہ نا پسندیدہ میرے نزدیک اور کوئی شہر نہیں تھا لیکن اب یہ حالت ہے، آپ کا شہر میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔آپ کے گھڑ سواروں نے مجھے پکڑ لیا۔ میں عمرے کے لئے جا رہا تھا اب آپ کی کیا رائے ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خوشخبری دی (مبارک باد دی) اور اسے عمرہ کرنے کی ہدایت کی جب وہ مکہ آیا تو کسی نے اس سے کہا تم بے دین ہوگئے ہو اس نے جواب دیا: جی نہیں میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اسلام قبول کیا ہے، جو اللہ کے رسول ہے اللہ کی قسم! ثمامہ کی طرف سے تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ بھی اس وقت تک نہیں آئے گا، جب تک اللہ کے رسول اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ پرہیز گار لوگ (مسلمان) حربیوں کے علاقے میں تجارت کر سکتے ہیں۔

سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim · Hadith 1239

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ غُسْلِ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ · حديث 1240

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وسدر1.

۔ خلیفہ بن حصین حضرت قیس بن عاصم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہے۔ انہوں نے جب اسلام قبول کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل کریں۔

قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وسدر1. ← خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim · Hadith 1240

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr