Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَیَاءِ · حديث 607

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ" 1. مَا سَمِعَ الْقَعْنَبِيُّ مِنْ شُعْبَةَ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ قَالَهُ الشيخ.

حضرت ابو مسعود ؓ ‘روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’لوگوں نے پہلی نبوت ( یعنی سابقی انبیاء کرام ) کے کلام میں سے جو چیز پائی ہے اس میں سے ایک بات یہ ہے : ’’جب تمہیں شرم نہ آئے‘ تو پھر جو چاہے کرو‘‘۔ تعلبی نامی راوی نے شعبہ سے صرف یہی حدیث سنی ہے‘ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← رِبْعِيٍّ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of the living · Hadith 607

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَیَاءِ · حديث 608

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أبو سلمةذكر الْإِخْبَارِ عَمَّا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ لُزُومِ الْحَيَاءِ عِنْدَ تَزْيِينِ الشَّيْطَانِ لَهُ ارْتِكَابَ مَا زُجِرَ عَنْهُ [608] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَیَاءُ مِنَ الْاِیمَانِ وَالْاِیمَانُ فِی الْجَنَّۃِ وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ فِی النَّؒارِ

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ حیا ‘ ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں ہو گا اور فحش گوئی‘ جفاء کا حصہ ہے اور جفاء ‘جہنم میں ہو گی‘‘۔

أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of the living · Hadith 608

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَیَاءِ · حديث 609

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ حَمَّادِ بن زيد قال حدثنا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ في النار" 1.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں ہو گا اور فحش گوئی ‘جفاء کا حصہ ہے اور جفاء جہنم میں ہو گی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← بن وَهْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of the living · Hadith 609

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَیَاءِ · حديث 610

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا بن أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "دَعْهُ فإن الحياء من الإيمان" 2.

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں: نبی اکرمﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ‘ جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں تلقین کر رہا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسے رہنے دو ‘ کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) روا یت کے یہ الفاظ : ’’ تم اسے چھوڑ دو‘‘۔ اس سے مراد ایسی ممانعت ہے‘جو معاملے کےآغاز میں نئے سرے سے ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of the living · Hadith 610

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 611

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فدل على رجل فقال إنه قتل مائة فَهَلْ لَهُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ مَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ ائْتِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا نَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سُوءٍ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَنَا تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَأَتَاهُ مَلَكٌ فِي صورة آدمي فجعلوه بينهم فقال قيسوا2- بَابُ التَّوْبَةِ ذِكْرُ الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ النَّدَمَ تَوْبَةٌ [611] أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فدل على رجل فقال إنه قتل مائة فَهَلْ لَهُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ مَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ ائْتِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا نَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدِ اللَّهَ وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سُوءٍ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَنَا تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَأَتَاهُ مَلَكٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ فقَالَ قِيسُوا مَا بَیْنَ الْاَرْضِیْنِ اَیُّھُمَا کَانَ اَقْرَبَ فَھِیَ لَہٗ فَقَاسُوْہُ فَوَجَدُوہُ اَدْنَی اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ أراد فقبضتہ بھا ملائکۃ الرحمۃ ۔(00:0)

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے لوگوں کو قتل کیا تھا۔ اس نے اس علاقے کے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا‘ تو اس کی رہنمائی ایک راہت کی طرف کی گئی۔ وہ اس کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے ننانوے لوگوں کو قتل کیا ہے۔ کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے۔ راہب نے جواب دیا : جی نہیں! تو اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا اور سو کی تعداد کو مکمل کر لیا پھر اس نے اس علاقے کے سب سے بڑے عالم کے باے میں دریافت کیا ‘ تو اس کی رہنمائی ایک شخص کی طرف کی گئی۔ اس نے بتایا : اس نے ایک سو لوگوں کو قتل کیا ہے۔ کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! تمہارے اور توبہ کے درمیان کون سی چیز رکاوٹ بن سکتی ہے ؟ تم فلاں سرزمین میں چلے جاؤ وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ۔ تم بھی اللہ تعالیٰ کی ( وہاں رہ کر ) عبادت کرنا اورواپس اپنی سرزمین کی طرف نہ آنا ‘ کیونکہ یہ برائی کی جگہ ہے۔ وہ شخص روانہ ہوا ‘ یہاں تک کہ جب وہ نصف راستے میں پہنچا ‘ تو اسے موت نے آلیا۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان اختلاف ہو گیا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا: یہ شخص توبہ کرتے ہوئے خلوص دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف آتے ہوئے ‘ ہمارے پاس آیا ہے ۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا: اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی پھر ایک فرشتہ ایک انسان کی شکل میں ان کے پاس آیا۔ ان لوگوں نے اسےاپنے درمیان ثالث تسلیم کیا ‘ تو فرشتے نے کہا: دونوں طرف کی زمین کو ناپ لو۔ ان میں سے جن کے زیادہ قریب ہو گا یہ اس کا حصہ شمار ہو گا ۔ ان فرشتوں نے اس زمین کو ناپا انہوں نے اس شخص کو اس زمین کے زیادہ قریب پایا جہاں وہ جا رہا تھا ‘ تو رحمت کے فرشتوں نے اسے قبضے میں لے لیا‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصديق ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 611

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 612

أخبرنا بن نَاجِيَةَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْتَامٍ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكُ بن مغول عن منصور عن خيثمة عن بن مَسْعُودٍ قَالَ قِيلَ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ "النَّدَمُ توبة" قال نعم2. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سےدریافت کیا گیا: آپ نےنبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ندامت توبہ ہوتی ہے ‘ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔

نَعَمْ ← "النَّدَمُ توبة" ← رَسُولِ اللَّهِ ← قِيلَ لَهُ أَنْتَ ← بن مَسْعُودٍ ← خيثمة ← مَنْصُورٌ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ ← بن نَاجِيَةَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْتَامٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 612

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 613

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا مَحْفُوظُ بْنُ أَبِي تَوْبَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ السهمي حدثنا بن وَهْبٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ يَقُولُ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "الندم توبة"؟ قال نعم1. [1: 2]

حمید طویل بیان کرتی ہے : میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا : کیا نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ؟ ’’ ندامت ‘ توبہ ہوتی ہے ‘‘ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں۔

نَعَمْ ← قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ "الندم توبة"؟ ← حُمَيْدًا الطَّوِيلَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن وَهْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ السهمي ← مَحْفُوظُ بْنُ أَبِي تَوْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 613

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 614

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ أَخْبَرَنَا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ مغول عن منصور عن خيثمة عَنْ ابْنِ مَسْعُوْدٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلنَّدَمِ تَوْبَۃ ۔(2:1)

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ندامت توبہ ہوتی ہے‘‘۔

"النَّدَمُ توبة" ← النَّبِيِّ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← خيثمة ← مَنْصُورٌ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 614

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 615

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بشار حدثنا بن أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا ثُمَّ خَرَجَ يَسْأَلُ فَأَتَى رَاهِبًا فَسَأَلَهُ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَجَعَلَ يَسْأَلُ فقَالَ لَهُ رَجُلٌ ائْتِ قرية كذا وكذا فأدركه الموتذكر مَا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ مِنْ لُزُومِ النَّدَمِ وَالتَّأَسُّفِ عَلَى مَا فَرَطَ مِنْهُ رَجَاءَ مَغْفِرَةِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا ذُنُوبَهُ بِهِ [615] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حدثنا بن أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا ثُمَّ خَرَجَ يَسْأَلُ فَأَتَى رَاهِبًا فَسَأَلَهُ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا فَقَتَلَهُ وَجَعَلَ يَسْأَلُ فقَالَ لَهُ رَجُلٌ ائْتِ قَرْيَةَ كَذَا وَكَذَا فَأَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَمَاتَ فَاخْتَصَمَتْ فِیْہِ مَلَائِکَۃُ الرَّحْمَۃِ وَمَلَائِکَۃُ الْعَذَابِ فَاَوْحَی اللہُ اِلٰی ھٰذِہِ تَقَرَّبِیْ ھٰذِہِ تباعدی أقرب إلی ھذہ بشبر فغفرلہ

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا تھا پھروہ شخص روانہ ہوا تاکہ اس بارے میں دریافت کرے وہ ایک راہب کے پاس آیا۔ راہب سے دریافت کیا : کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہے ‘ تو اس نے جواب دیا : جی نہیں ‘ تو اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا۔ پھر وہ دریافت کرتا رہا ‘ تو ایک شخص نے اس سے کہا تم فلاں بستی میں چلے جاؤ پھر اس شخص کوموت آگئی اور وہ فوت ہو گیا۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کے درمیان اختلاف ہو گیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے زمین کے اس ( حصے ) کی طرف وحی کی کہ تم قریب ہو جاؤ۔ دوسرے حصے کی طرف وحی کی کہ تم دور ہو جاؤ ‘ تو اس شخص کو ایک بالشت اس حصے ( یعنی جہاں وہ جا رہا تھا) کے قریب پایا گیا تھا ‘ تو اس شخص کی مغفرت ہو گئی‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← بن أَبِي عَدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 615

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 616

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ2 بْنُ أَبِي أَيُّوبَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طعامكم الأتقياء وولوا معروفكم المؤمنين" 3. [3: 28]

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’مومن اور ایمان کی مثال ایک ایسے گھوڑے کی مانند ہے ‘ تو اپنی کھونٹی میں ہوتا ہے وہ گھوم پھر کر پھر اسی جگہ آ جاتا ہے۔ مومن گھول جاتا ہے ‘ تو پھر وہ واپس ایمان کی طرف آ جاتا ہے ۔ لوگو! اپنا کھانا پرہیز گار لوگوں کو کھلاؤ اور اپنی چھائیوں کا رُخ اہل ایمان کی طرف کرو‘‘۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبي سليمان الليثي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سَعِيدُ2 بْنُ أَبِي أَيُّوبَ الْخُزَاعِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 616

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 617

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "اللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَسْتَيْقِظُ عَلَى بَعِيرِهِ أضله بأرض فلاة" 1. [3: 67]

حضرت انسؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے ‘ جو بیدار ہو کر اس اونٹ کو پا لیتا ہے ‘ جسے وہ بے آب و گیاہ زمین میں گم کر چکا تھا‘‘۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 617

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 618

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "اللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ رَجُلٍ بِأَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلَكَةٍ وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ فَأَضَلَّهَا فَخَرَجَ فِي طَلَبِهَا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ قَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي فَأَمُوتُ فِيهِ فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي أَضَلَّهَا فِيهِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ غَلَبَتْهُ عَيْنُهُ فَاسْتَيْقَظَ فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا زَادُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ فَاللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ من هذا الرجل" 1. [3: 67]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ‘ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کے توبہ کرنے پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے‘ جو کسی ویران سنسان ‘ ہلاکت کا شکار کر دینے والی جگہ پر موجود ہو۔ اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو ‘ جس پر اس کا زادراہ اس کا کھانا اور اس کی ضروریات کی چیزیں موجود ہوں اور پھر وہ شخص اس سواری کو گم کر دے‘ پھر وہ اس کی تلاش میں نکلے ‘ یہاں تک کہ اسے موت آ جائے‘ تو وہ یہ سوچے کہ میں اپنی جگہ پر واپس چلا جاتا ہوں اور وہاں فوت ہو جاوٗں گا ‘ تو وہ شخص واپس اس جگہ چلا جائے جہاں اس نےاپنی سواری کو گم کیا تھا‘ تو اسی حالت کے دوران اس کی آنکھ لگ جائے پھر جب وہ بیدار ہو اس کی سواری اس کے سر کے پاس موجود ہو ‘جس پر اس کا زادرہ اور چیزیں موجود ہوں ‘ تو اللہ تعالیٰ تم میں کسی ایک کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے‘‘۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 618

chevron_left Previous
1234…22
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr