Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1241

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الماء لا ينجسه شيء" 1.

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے"۔

"الماء لا ينجسه شيء" ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1241

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1242

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ موسى أخبرنا عبد الله عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ مِنْ فَضْلِهَا فَقَالَتْ لَهُ1 فَقَالَ: "إِنَّ الماء لا ينجسه شيء" 2.

حضرت عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک خاتون نے غسل جنابت کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے بچائے ہوئے پانی سے وضو کرنے لگے۔ ان خاتون نے آپ کی خدمت میں عرض کی: (یہ ان کے غسل کا بچا ہوا پانی ہے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1242

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1243

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ من آل بني الأزرق أن النغيرة بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ من تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ فقال: "هو الطهور ماؤه الحل ميتته" 1.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سمندری سفر پر جاتے ہیں ہم اپنے ساتھ بہت تھوڑا سا پانی لے کر جاتے ہیں اگر ہم اس کے ذریعے وضو کرلیتے ہیں، تو ہم پیاسے رہ جاتے ہیں کیا ہم سمندری پانی کے ذریعے وضو کرلیا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کا پانی پاک ہے، اور اس کا مردار حلال ہے۔

سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، مِنْ آلِ بَنِي الْأَزْرَقِ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1243

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1244

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بن حازم عن بن مِقْسَمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم سئل عن ماء فقال الْبَحْرِ فَقَالَ: "هُوَ الطُّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ" 1.

۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اس کا پانی پاک ہے، اور اس کا مردار حلال ہے۔

جَابِرٍ ← بن مِقْسَمٍ يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ ← إِسْحَاقُ بن حازم ← أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1244

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1245

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ قَالَ حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْکَانَ قَالَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ نَجِیحٍ عَنْ مُجَاھِدٍ ، عَنْ اُمِّ ھَانِیْءٍ اَنَّ مَیْمُوْنَۃَ وَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَا فِیْ قصعۃ فیھا أثر العجین۔

سیدہ ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی برتن میں (موجود پانی) سے غسل کیا تھا، جس میں آٹے کا نشان موجود تھا۔

مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1245

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1246

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بن المفضل3 حدثنا بْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ 4 فليغمسه كله ثم لينزعه" 5.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جب مکھی کسی برتن میں گر جائے، تو اس مکھی کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے، اور دوسرے پر میں شفا ہوتی ہے وہ اپنے اس پر کو بچا کر رکھتی ہے، جس میں بیماری ہوتی ہے، تو آدمی کو چاہئے کہ مکمل طور پر اسے ڈبو کر باہر نکالے"۔ اس بات کا حکم دینے کا تذکرہ کہ جب آدمی کے برتن میں مکھی گر جائے، تو وہ اسے ڈبو دے، کیونکہ اس کے دو پروں میں سے ایک میں بیماری ہوتی ہے، اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← بن عَجْلَانَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1246

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1247

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا یحیی القطان قال حدثنا بن اَبِیْ ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہَ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِیْ اَنَاءِ اَحَدِکُمْ فَامْقُلُوْہُ فَاِنَّ فِیْ اَحَدِ جَنَاحَیْہِ دَاءٌ وَفِی الْاْخَرِ دواء۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب مکھی کسی شخص کے برتن میں گر جائے، تو اسے پورا ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے، اور دوسرے میں دوا ہوتی ہے"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1247

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1248

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ الثَّقَفِيُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عن عكرمة عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اغتَسَلَ بَعْضُ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم مِنْ جَفْنَۃٍ فَجَاءَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَغْتَسِلُ مِنْھَا اَوْ یَتَوَضَّاُ فَقَالَتْ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّیْ کُنْتُ جُنْبًا فَقَالَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ الماء لا یجنب۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ نے برتن میں سے غسل کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اس برتن میں سے غسل یا شاید وضو کرنے لگے تو اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جنابت کی حالت میں تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی کو جنابت لاحق نہیں ہوتی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلَانَ الثَّقَفِيُّ بِبَغْدَادَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1248

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1249

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا كَانَ الماء قلتين لم ينجسه شيء" 2. وَّیَخُصَّ ھٰذَیْنِ الْخَبَرَیْنِ الْاِجْمَاعُ عَلٰی اَنَّ الْمَاءَ قَلِیْلًا کَانَ اَوْ کَثِیرًا فَغَیَّرَ طَعْمَہُ اَوْلَوْ نَہُ اَوْ رِیحَہُ نَجَاسَۃٌ وَقَعَتْ فیھا اَنَّ ذٰلِکَ الْمَاءَ نَجِسٌ بِھٰذَا الْاِجْمَاعِ الَّذِیْ یَخُصُّ عُمُومَ تِلْکَ اللَّفْظَۃِ الْمُطْلَقَۃِ الَّتِیْ ذَکَرْنَاہَا۔

عبداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے ان لوگوں کو یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا: جس میں سے بعد میں جانور اور درندے بھی آکر پی لیتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " جب پانی دو قلے ہو، تو کوئی چیز اسے ناپاک نہیں کرتی ہے"۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان " پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے" یہاں الفاظ عمومی استعمال ہوئے ہیں لیکن بعض حالتوں میں اس پر عمل کیا جائے گا اور پانی سے مراد وہ پانی ہے، جو زیادہ ہوا اور وہ نجاست کو نہ اٹھاتا ہو۔ یہاں استعمال ہونے والے عمومی الفاظ کو ایک اور حدیث خاص کر دیتی ہے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: " جب پانی دو قلے ہو تو اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے"۔ اور ان دونوں روایات کو وہ اجماع خاص کر دیتا ہے، جو اس بات پر ہے، جب نجاست پانی میں گر کر اس کے ذائقے، رنگ یا بو کو تبدیل کر دے تو وہ پانی ناپاک ہوگا۔ اس بات پر اجماع ہے، جو ان مطلق الفاظ کے عموم کو خاص کر دیتا ہے جن کاہم نے ذکر کیا ہے۔

أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1249

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1250

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الراكد1.

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے

أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الراكد1. ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ نَهَى ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1250

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1251

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عن عوف عن محمد عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا یَبُولَنَّ اَحَدُکُمْ فی الماء الدائم ثم تتوضأ منہ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "کوئی بھی شخص ٹھہرئے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر وہ اس میں سے ہی وضو کرلے گا"۔

لَا یَبُولَنَّ اَحَدُکُمْ فی الماء الدائم ثم تتوضأ منہ۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← عَوْفٌ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1251

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمِيَاهِ · حديث 1252

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هشام بن زهرة حدثه اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا ھُرَیْرَۃَ یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا یَغْتَسِلُ اَحَدُکُمْ فِی الْمَاءِ الدَّائِمِ وَھُوَ جُنُبٌ ، فَقَالُوْا :کَیْفَ نَفْعَلُ یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ قَالَ یَتَاوَلُہٗ تناولا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "کوئی شخص ٹھہرئے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے جبکہ وہ جنابت کی حالت میں ہو لوگوں نے عرض کی: اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پھر ہم کیا کریں تو انہوں نے فرمایا: آدمی اس میں سے پانی حاصل کرلے (اور دوسری جگہ جا کر غسل کرلے)۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هشام بن زهرة ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Water gate · Hadith 1252

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr