صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3038
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي وَإِنْ كَانَتْ غير صالحة قالت: يا ويلها أن يَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الإنسان ولو سمعها الإنسان لصعق" 1. [52:3]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب جنازہ (چار پائی پر) رکھ دیا جائے اور لوگ اسے گردن (یعنی کندھوں پر ) اٹھا لیں، تو اگر وہ (مرحوم ) نیک ہو، تو وہ یہ کہتا ہے :تم مجھ آگے لے جاو اور اگر وہ نیک نہ ہو، تو وہ یہ کہتا ہے: ہائے ! افسوس یہ لوگ اسے کہاں لے جارہے ہیں؟ اس کی آواز کو انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور اگر انسان اسے سن لے، تو بے ہوش ہو کر گر جائے۔"
أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى
Hadith 3038
