Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3038

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي وَإِنْ كَانَتْ غير صالحة قالت: يا ويلها أن يَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الإنسان ولو سمعها الإنسان لصعق" 1. [52:3]

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب جنازہ (چار پائی پر) رکھ دیا جائے اور لوگ اسے گردن (یعنی کندھوں پر ) اٹھا لیں، تو اگر وہ (مرحوم ) نیک ہو، تو وہ یہ کہتا ہے :تم مجھ آگے لے جاو اور اگر وہ نیک نہ ہو، تو وہ یہ کہتا ہے: ہائے ! افسوس یہ لوگ اسے کہاں لے جارہے ہیں؟ اس کی آواز کو انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور اگر انسان اسے سن لے، تو بے ہوش ہو کر گر جائے۔"

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3038

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3039

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَۃَ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِیْدِ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ اَبِیْہِ ، اَنَّہٗ سَمِعَ اَبَا سَعِیْدِ الْخُدْرِیَّ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ وَاحْتَمَلَھَا الرِّجَالُ عَلٰی اَعْنَاقِھِمْ ، فَاِنْ کَانَتْ صَالَحَۃً قَالَتْ : قَدِّمُوْنِی ، وَاِنْ کَانَتْ غَیْرَ صَالَحَۃٍ قَالَتْ : یَا وَیْلَھَا اَیْنَ یَذْھَبُوْنَ بِھَا ، یَسْمَعُ صَوْتَھَا کُلُّ شَیْءٍ اِلَّا الْاِنْسَانَ ، وَلَوْ سَمِعَھَا الْاِنْسَانُ لَصَعِقَ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب جنازہ (چارپائی پر ) رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں اگر وہ نیک ہو، تو یہ کہتا ہے تم مجھے آگے لے جاو اور اگر وہ نیک نہ ہو، تو یہ کہتا ہے: ہائے افسوس یہ لوگ اسے کہاں لے جارہے ہیں، اس کی آواز کو انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے، اگر انسان اسے سن لے، تو بے ہوش ہو کر گر جائے۔"

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ← عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَۃَ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 3039

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3040

اَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَیْبٍ الْبَلْخِیُّ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ اَبِیْ مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا اَبُو الْاَحْوَصِ ، عَنْ اَشْعَثَ بْنِ اَبِی الشَّعْثَاءِ ، عَنْ مُّعَاوِیَۃَ بْنِ سُوَیْدٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَعِیَادَۃِ الْمَرْضَی ، وَتَشْمِیتِ الْعَاطِسِ ، وَاِبْرَارِ الْمُقْسِمِ ، وَنُصْرَۃِ الْمَظْلُومِ ، وَاِفْشَاءِ السَّلَامِ ، وَاِجَابَۃِ الدَّاعِی۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : الْاَمْرُ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ، وَعِیَادَۃِ الْمَرْضَی ، اَمْرٌ لِطَلَبِ الثَّوَابِ دُونَ اَنْ یَّکُوْنَ حَتْمًا ، وَالْاَمْرُ بِتَشْمِیتِ الْعَاطِسِ ، وَاِبْرَارِ الْمُقْسِمِ ، لَفْظٌ عَامٌ مُرَادُ ھُمَا الْخُصُوصُ ، وَذٰلِکَ اَنَّ الْعَاطِسَ لَا یَجِبُ اَنْ یّشَمَّتَ اِلَّا اِذَا حَمِدَ اللہَ ، وَاِبْرَارُ الْمُقْسِمِ فِیْ بَعْضِ الْاَحْوَالِ دُونَ الْکُلِّ ، وَالْاَمْرُ بِنُضْرَۃِ الْمَظْلُومِ ، وَاِجَابَۃِ الدَّاعِی اَمْرَ حَتْمٍ فِی الْوَقْتِ دُونَ الْوَقْتِ ، وَالْاَمْرِ بِاِفْشَاءِ السَّلَامِ اَمُرٌ بِلَفْظِ الْعُمُومِ ، وَالْمُرَادُ مِنْہُ اسْتِعْمَالُہٗ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ دُونَ غَیْرِھِمْ

حضرت براء رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے ، بیمار کی عیادت کرنے، چھینکنے والے کو جواب دینے، قسم اٹھانے والی کی قسم پوری کروانے، مظلوم کی مدد کرنے، سلام کو پھیلانےاور دعوت قبول کرنے کا حکم دیا ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) جنازے کے ساتھ جانے، بیمار کی عیادت کرنے کا حکم ثواب طلب کرنے کے لئے ہے۔ یہ لازمی نہیں ہے جبکہ چھینکنے والے کو جواب دینے اور قسم پوری کروانے کا حکم اس کے الفاظ عام ہیں لیکن اس کی مراد مخصوص ہے۔ اور وہ یوں کہ چھینکنے والے کو جواب د ینا اسی وقت لازم ہوتا ہے جب وہ اللہ کی حمد بیان کرے اور قسم پور ی کروانا بعض صورتوں میں لازم ہوتا ہے۔ ہر صورت میں لازم نہیں ہوتا جبکہ مظلوم کی مدد کرنا اور دعوت کو قبول کرنا یہ ایسا حکم ہے، جو کسی وقت میں لازم ہوتا ہے اور کسی وقت میں لازم نہیں ہو تا ہے۔ جبکہ سلام کو پھیلانے کا حکم لفظی طور پر عام ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ مسلمانوں کے علاوہ (غیر مسلموں کے ساتھ ) ایسا نہ کیا جا ئے۔

عِیَادَۃِ الْمَرْضَی اَمْرٌ لِطَلَبِ الثَّوَابِ دُونَ اَنْ یَّکُوْنَ حَتْمًا ← اَبُوْ حَاتِمٍ الْاَمْرُ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ← تَشْمِیتِ الْعَاطِسِ وَاِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنُصْرَۃِ الْمَظْلُومِ وَاِفْشَاءِ السَّلَامِ وَاِجَابَۃِ الدَّاعِی۔ ← اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَعِیَادَۃِ الْمَرْضَی ← الْبَرَاءِ، ← مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Hadith 3040

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3041

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ : لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ ، جَمَعَ نِسَاءَ الْاَنْصَارِ فِیْ بَیْتٍ ، فَاَرْسَلَ اِلَیْنَا عُمَرَبْنَ الْخَطَّاب ، فَقَامَ عَلَی الْبَابِ فَسَلَّمَ عَلَیْنَا ، فَرَدَدْنَا عَلَیْہِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ : اَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَیْکُنَّ ، قَالَتْ فَقُلْنَا مَرْحَبًا بِرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَبِرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ تُبَایِعْنَنِیْ عَلٰی اَنْ لَّا تُشْرِکْنَ بِاللہِ شَیْئًا ، وَلَا تَزْنِینَ ، وَلَا تَسْرِقْنَ ، الْاٰیَۃُ ؟ قَالَتْ : فَقُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَتْ : فَمَدَّ یَدَہُ مِِنْ خَارِجِ الْبَیْتِ ، وَمَدَدْنَا اَیْدِیَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَیْتِ ، ثُمَّ قَالَ : اللّٰھُمَّ اشْھَدْ ، قَالَتْ : وَاَمَرَنَا بِالْعِیْدِ ، وَاَنْ نُخْرِجَ فِیْہِالْحُیَّضَ وَالْعُتَّقَ ، وَلَا جُمُعَۃَ عَلَیْنَا ، وَنَھَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَازَۃِ۔ قَالَ اِسْمَاعِیْلُ : فَسَاَلْتُ جَدَّتِی عَنْ قَوْلِہِ : (وَلَا یَعْصِینَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ) (الممتحنۃ :12) قَالَتْ : نَھَانَا عَنِ النِّیَاحَۃِ

سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو انصار کی کچھ خواتین ایک گھر میں جمع ہوئیں۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ کو ہمارے پاس بھیجا وہ دروازے پر کھڑے ہوئے انہوں نے ہمیں سلام کیا ہم نے سلام کا جواب دیا پھر انہوں نے بتایا: میں اللہ کے رسول ﷺ کا پیغام رساں ہوں جو تمہاری طرف آیا ہوں۔سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ کو اور اللہ کے رسول ﷺ کے پیغام رساں کو خوش آمدید، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فر مایا: آپ خواتین یہ بیعت کریں کہ آپ کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور زنا نہیں کریں گی اور چوری نہیں کریں گی (انہوں نے یہ آیت پڑھی) سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: ہم نے جواب دیا: جی ہاں۔سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے گھر کے باہری حصے کی طرف سے ہاتھ بڑھایا اور ہم نے گھر کے اندرونی حصے سے اپنے ہاتھ بڑھائے پھر انہوں نے کہا: اے اللہ! تو گواہ ہو جا۔ سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ہمیں عید کے بار ے میں یہ حکم دیا تھا کہ ہم اس موقع پر بالغ اور آزاد خواتین کو بھی باہر لے کر آئیں، البتہ ہم خواتین پر جمعہ پڑھنا لازم نہیں ہے اور نبی اکرم ﷺ نے ہمیں جنازے کے ساتھ جانے سے منع کیا تھا۔ اسماعیل نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی (سیّدہ اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا) سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا: "اور وہ نیکی کے کام میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی"۔ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نوحہ کرنے سے منع کیا ہے۔

جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← إسحاق بن عثمان ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3041

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3042

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ فَإِنْ تَكُ خَيْرًا تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنَّ تَكُ شَرًّا تضعوها عن رقابكم" 1. [95:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ " اپنے جنازوں کو تیزی سے (قبرستان ) لے جاو، کیونکہ اگر وہ نیک ہوں گے، تو تم انہیں بھلائی کی طرف لے کر جاو گے اور اگر وہ برے ہوں گے ، تو تم اس برائی کو اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔"

رقابكم" ← "أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ فَإِنْ تَكُ خَيْرًا تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنَّ تَكُ شَرًّا تضعوها ← أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Hadith 3042

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3043

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: شَهِدْتُ جَنَازَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَخَرَجَ زِيَادٌ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ سَرِيرِهِ وَرِجَالٌ يُسْتَقْبَلُونَ السَّرِيرَ وَيُدَاسُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَقُولُونَ: رُوَيْدًا رُوَيْدًا بَارِكَ اللَّهُ فِيكُمْ حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي بَعْضِ الْمِرْبَدِ لَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ عَلَى بَغْلَةٍ فَلَمَّا رَأَى أُولَئِكَ وَمَا يَصْنَعُونَ حَمَلَ عَلَيْهِمْ بَغْلَتَهُ وَأَهْوَى إِلَيْهِمْ بِسَوْطِهِ وَقَالَ: خَلُّوا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وإنا أن نرمل بها رملا قال: فجاءه القوم وأسرعوا المشي وأسرع زياد المشي1. [50:4]

عینیہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہہ کے جنازے میں شریک ہوا (اس وقت کا گورنر ) زیاد ان کی چارپائی کے آگے چل رہا تھا اور کچھ لوگوں نے اپنا رخ چارپائی کی طرف کیا ہوا تھا اور وہ الٹے قدموں چلتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے ہٹو ، ہٹو اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے جب ہم راستے میں کسی جگہ پر پہنچے ، تو ہماری ملاقات حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ سے ہوئی جو اپنے خچر پر سوار تھے جب انہوں نے ان لوگوں کے اس طرزِ عمل کو دیکھا ، تو انہوں نے اپنے خچر کا رخ ان لوگوں کی طرف کیا اور اپنے درے کے ذریعے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: راستہ چھوڑ دو اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے اپنے بارےمیں یہ بات یاد ہے ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے، تو ہم تقریباً دوڑتے ہوئے (تیزی سے )چلتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو لوگ آئے اور انہوں نے تیزے سے چلنا شروع کیا اور زیادہ بھی تیزے سے چلنا شروع کیا۔

شهدت جنازة عبد الرحمن بن سمرة ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3043

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3044

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكَادُ أَنْ يُرْمَلَ بِالْجَنَائِزِ رملا1. [50:4]

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں:۔ مجھے اپنے بارےمیں یہ بات یاد ہے میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا اور جنازوں کے ساتھ اس طرح چلا جاتا تھا جیسے دوڑا جاتا ہے۔

لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ يَكَادُ أَنْ يُرْمَلَ بِالْجَنَائِزِ رملا1. ← أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3044

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3045

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ1. [4:5]

اس بات کا تذکرہ کہ آدمی کے لیے یہ بات مستحب ہے کہ جب وہ جنازے میں شریک ہو تو وہ جنازے کے ہمراہ چلتے ہوئے اس کے آگے چلے

سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Hadith 3045

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3046

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يمشون أمام الجنازة1. [1:4]

سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہہ جنازے کے آگے چلا کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3046

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3047

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ غَيْرَ مَرَّةٍ أَشْهَدُ لَكَ عَلَيْهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ فَقِيلَ لِسُفْيَانَ فِيهِ وَعُثْمَانَ قَالَ: لَا أَحْفَظُهُ قِيلَ لَهُ فَإِنَّ بَعْضَ النَّاسِ لَا يَقُولُهُ إِلَّا عَنْ سَالِمٍ فَقَالَ: حَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ غَيْرَ مَرَّةٍ أَشْهَدُ لَكَ عَلَيْهِ وَقِيلَ لَهُ: فَإِنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ يَقُولُهُ كَمَا تَقُولُهُ وَيَزِيدُ فِيهِ: عُثْمَانَ فَقَالَ سُفْيَانُ: لَمْ أسمعه وذكر عثمان1. [1:4]

سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ سفیان نامی راوی سے کہا گیا: روایت میں یہ الفاظ ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ کو دیکھا ہے، تو انہوں نے جواب دیا : مجھے یہ الفاظ یا د نہیں ہیں ان سے کہا گیا: بعض لوگ یہ کہتے ہیں : یہ روایت سالم سے منقول ہے، تو انہوں نے بتایا: زہری نے یہ روایت کئی مرتبہ ہمیں بیان کی ہے اور میں تمہارے سامنے گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں ان سے کہا گیا: ابن جریح اس روایت کو اسی طرح بیان کرتے ہیں: جس طرح آپ بیان کرتے ہیں: لیکن وہ اس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ کا ذکر بھی کرتے ہیں، تو سفیان نے کہا: میں نے انہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيُّ، غَيْرَ مَرَّةٍ: أَشْهَدُ لَكَ عَلَيْهِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3047

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3048

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ الْجَنَازَةِ قَالَ: وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهَا وَأَبَا1 بَكْرٍ وعمر وعثمان قال الزهري: وكذلك السنة2. [1:4]

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور یہ بات بیان کرتے تھے: نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ بھی جنازے کے آگے چلا کرتے تھے۔ زہری بیان کرتے ہیں: سنت بھی یہی ہے۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Hadith 3048

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ وَقَوْلِهَا · حديث 3049

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الرَّاكِبُ فِی الْجَنَازَۃِ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ ، وَالْمَاشِی حَیْثُ شَاءَ مِنْھَا ، وَالطِّفْلُ یُصَلّٰی عَلَیْہِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جنازے کے ساتھ سوار ہو کر چلنے والا جنازے کے پیچھے چلے گا اور پیدل چلنے والا جہاں چاہے گا چلے گا اور ( نا بالغ) بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔"

"الرَّاكِبُ فِی الْجَنَازَۃِ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ وَالْمَاشِی حَیْثُ شَاءَ مِنْھَا وَالطِّفْلُ یُصَلّٰی عَلَیْہِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← أَبِيهِ ← زِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3049

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr