حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا۔ آپ نے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ دیئے، عینیہ بن بدر کو ایک سو اونٹ دیئے پھر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انصار کے ایک گروہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا: ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمارا مال غنیمت ان لوگوں کو دے دیا جن کے خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہے ہیں (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کا خون ہماری تلواروں میں ٹپک رہا ہے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ نے انصار کو اکٹھا کیا، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی اور ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں صرف ہمارا ایک بھانجا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا بھانجا ان کا حصہ ہوتا ہے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے انصار کے گروہ کیا تم اس بات میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ لوگ دنیاوی چیزیں بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے علاقے میں لے جاؤ۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست مبارک میں محمد کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں جائیں ، تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا ۔ انصار میرے انتہائی قریبی ہیں اگر ہجرت نہ ہوتی، تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7268
۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اگر ہجرت نہ ہوتی، تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا، اگر لوگ ایک گھاٹی میں ہوں اور انصار دوسری گھاٹی میں ہوں، تو میں انصار کے ساتھ ان کی گھاٹی میں ہوں گا"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7269
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی کچھ خواتین اور بچوں کو شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے ان سے فرمایا: تم میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو۔
(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ان تمام روایات میں لفظ " منہا" محذوف شمار ہوگا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7270
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ نے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ آپ نے کچھ انصار کو اور ان کے نوجوانوں کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔ بے شک انصار نے اس چیز کو ادا کر دیا جو ان کے ذمے لازم تھی۔ اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے، جو تم لوگوں کے ذمے لازم ہے، تو تم ان کے اچھے شخص کے ساتھ اچھائی کرو اور ان کے برے شخص سے درگزر کرو۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7271
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
"جو شخص انصار سے محبت کرے گا اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کریں گے، اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا اللہ اور اس کا رسول اس سے بغض رکھے گے۔ ان سے محبت صرف مومن کرے گا۔ اور ان سے بغض صرف منافق رکھے گا"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7272
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حارث بن زیاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جو شخص انصار سے محبت رکھے گا اللہ تعالیٰ بھی اس دن اس شخص سے محبت کرے گا، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، جو شخص انصار سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اس دن اس شخص سے ناراض ہوگا، جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7273
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھے گا"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7274
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بحرین کی جاگیریں عطا کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے کہا: جی نہیں جب تک آپ قریش سے تعلق رکھنے والے ہمارے ساتھیوں کو اس کی مانند عطا نہیں کرتے (ہم اسے قبول نہیں کریں گے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم عنقریب میرے بعد ترجیحی سلوک پاؤ گے، تو تم صبر سے کام لینا، یہاں تک حوض کوثر پر تمہاری ملاقات مجھ سے ہوجائے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7275
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بحرین میں جاگیریں عطا کیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) انصار میں سے کچھ افراد کو جاگیریں عطا کیں۔ انہوں نے عرض کی: جی نہیں جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اسی کی مانند عطا نہیں کرتے، جس طرح آپ نے ہمیں عطا کیا ہے۔ ہم اس وقت تک اسے قبول نہیں کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے، تو تم لوگ صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ تم مجھ سے آملو۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7276
۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت اسید بن حضیر اشہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو اپنے قبیلے) کے سردار تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے انصار کے کچھ گھرانوں کے ضرورت مند ہونے کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے کچھ اناج تقسیم کر چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے اس وقت ہمیں ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ ہمارے پاس موجود سب کچھ ختم ہوگیا جب تمہیں اطلاع ملے کہ ہمارے پاس کچھ چیز آئی ہے تو پھر ان گھرانوں کے بارے میں مجھے یاد کرادینا۔ (راوی بیان کرتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خیبر سے کچھ اناج آیا جس میں ، جو اور کھجوریں بھی تھیں۔ راوی بیان کرتا ہے: اس گھرانے میں زیادہ تر خواتین تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اناج لوگوں میں تقسیم کیا۔ آپ نے وہ اناج انصار میں تقسیم کیا اچھی طرح تقسیم کیا۔ آپ نے اس گھرانے کے لوگوں میں اسے تقسیم کیا انہیں اچھی طرح دیا، تو حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں عرض کی: اے اللہ کے نبی اللہ تعالیٰ آپ کو ہماری طرف سے پاکیزہ ترین (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) سب سے بہتر جزا عطا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے انصار کے گروہ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی سب سے زیادہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) بہتر جزا عطا کرے مجھے تمہارے بارے میں یہ بات پتہ ہے تم مانگنے سے بچتے ہو اور صبر سے کا م لیتے ہو۔ عنقریب تم میرے بعد حکومت اور زندگی کے دیگر معاملات میں اپنے ساتھ ترجیحی سلوک دیکھو گے، تو تم صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ حوض کوثر پر تمہاری ملاقات مجھ سے ہو۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7277
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر کچھ انصاریوں نے یہ کہا: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہوازن کے مال میں سے مال فیعطا کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے کچھ لوگوں کو ایک سواونٹ دیئے۔ انصاریوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مغفرت کرے انہوں نے قریش کو دے دیا ہے ہمیں نہیں دیا۔ حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو پیغام بھجوایا آپ نے انہیں چمڑے سے بنے ہوئے خیمے میں اکٹھا کیا، جب وہ سب اکٹھے ہوگئے ، تو بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے حوالے سے یہ کیا بات ہے، جو مجھ تک پہنچی ہے۔ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے عمر رسیدہ افراد میں سے کسی نے یہ بات نہیں کی۔ البتہ ہمارے کچھ کم عمر لوگوں نے یہ بات کہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی مغفرت
کرے انہوں نے کچھ لوگوں کو عطیات دے دئیے ہیں حالانکہ ان لوگوں کا خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ایسے لوگوں کو عطیات دیئے ہیں، جو زمانہ کفر سے قریب ترین ہیں، تاکہ میں ان کی تالیف قلب کروں کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو کہ لوگ اموال لے جائیں اور تم اپنے رہائش کی جگہ پر اللہ کے رسول کو لے جاؤ۔ اللہ کی قسم تم لوگ جس چیز کو لے کر واپس جاؤ گے وہ اس سے زیادہ بہتر ہے، جسے وہ لے کر واپس جائیں گے۔ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! ہم اس سے راضی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب انتہائی شدید ترجیحی سلوک پاؤ گے، تو تم صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حوض کوثر پر آجاؤ، تو ان لوگوں نے عرض کی: ہم صبر سے کام لیں گے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7278
محمود بن لبید، ابن شفیع کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، جو ایک طبیب تھے، وہ کہتے ہیں: حضرت اسید بن حضیر نے مجھے بلوایا۔ میں نے عرق النساء کا علاج کیا، تو انہوں نے مجھے دو حدیثیں سنائیں۔ انہوں نے مجھے بتایا ایک مرتبہ میری قوم کے دو گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ میرے پاس آئے۔ ایک گھرانے کا تعلق بنو ظفر سے تھا، اور ایک گھرانے کا تعلق بنو معاویہ سے تھا۔ انہوں نے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات چیت کیجیے۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی تقسیم میں سے کچھ دیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) کہ ہمیں کچھ عطا کریں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کی، تو آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ میں ان میں سے ہر ایک گھرانے کو ایک، ایک حصہ دے دوں گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں دوبارہ فتوحات دیں، تو ہم انہیں عطیات دیں گے۔ اس پر میں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے یارسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو بھی جزائے خیر دے۔ کیونکہ تم لوگوں کے بارے میں مجھے علم ہے کہ تم مانگنے سے بچتے ہو صبر سے کام لیتے ہو۔
حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک پاؤ گے۔
جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ آیا، تو انہوں نے کچھ حلے لوگوں کے درمیان تقسیم کیے انہوں نے ان میں سے ایک حلہ مجھے بھی بھجوایا۔ مجھے وہ چھوٹا محسوس ہوا، تو وہ میں نے اپنے والد کو دے دیا۔ ایک دن میں نماز پڑھ رہا تھا۔ میرے پاس سے قریش سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان گزرا جس نے اسی قسم کا ایک حلہ پہنا ہوا تھا، اور وہ اسے زمین پر گھسیٹ رہا تھا (یعنی اس کے پاس کپڑا زیادہ تھا) تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کا یہ فرمان یاد آگیا، عنقریب تم میرے بعد ترجیحی سلوک پاؤ گے، تو میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے۔ پھر اس شخص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا انہیں اس بارے میں بتایا وہ تشریف لائے میں اس وقت نماز ادا کر رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا: اے اسید! جب میں نے نماز مکمل کرلی، تو انہوں نے دریافت کی: تم نے کیا کہا تھا۔ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: وہ ایک ایسا حلہ تھا، جو میں نے فلاں بن فلاں کی طرف بھیجا تھا، جس نے غزوہ احد میں بھی شرکت کی ہے، غزوہ بدر میں شرکت کی ہے اور بیعت عقبہ میں بھی شرکت کی ہے۔ پھر وہ نوجوان ان صاحب کے پاس گیا اور اس نے ان صاحب سے وہ حلہ خرید کر پہن لیا گیا تم یہ گمان کر رہے تھے کہ ایسا میرے زمانے میں ہوگا (یعنی میرے زمانے میں انصار سے ترجیحی سلوک ہوگا؟) تو میں نے کہا: اللہ کی قسم اے امیر المومنین میرا، تو یہ گمان تھا کہ یہ آپ کے زمانے میں نہیں ہوگا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7279