حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"میرے اصحاب کے بارے میں اللہ سے (ڈرتے رہو) میرے اصحاب کو نشانہ نہ بناؤ ، جو شخص ان سے محبت کرے گا۔ وہ مجھ سے محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا، اور جو شخص ان سے بغض رکھے۔ وہ شخص میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان کے ساتھ بغض رکھے گا، جو شخص انہیں اذیت پہنچائے گا وہ مجھے اذیت پہنچائے گا، اور جو شخص مجھے اذیت پہنچائے گا اس نے گویا اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائے گا، تو عنقریب اللہ تعالیٰ اس پر گرفت کرلے گا"۔
(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) عبد اللہ بن عبد الرحمٰن نامی یہ راوی بصری ہے جس کے حوالے سے حماد بن زید نے روایات نقل کی ہیں۔ اس کا انتقال ایوب سختیانی سے پہلے ہو گیا تھا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7256
حضرت ابو رہم غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ کرما میں سے ایک ہیں۔ جنہوں نے (بیعت رضوان کے مواقع پر) درخت کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی۔ جب ہم واپس آرہے تھے، تو ہم رات بھر چلتے رہے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی سفر کرتا رہا۔ مجھے اونگھ آگئی۔ میں خود کو بیدار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے قریب ہوئی۔ اس کے قریب آنے کی وجہ سے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میں رکاب میں موجود آپ کے پاؤں کو نقصان نہ پہچاؤں، تو میں نے اپنی سواری کو جھڑکا لیکن پھر رات کے کسی حصے میں میری آنکھ لگ گئی۔ پھر میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ لگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں اس وقت رکاب میں تھا۔ میری ٹکر آپ کے پاؤں سے ہوئی۔ میں اس وقت بیدار ہوا۔ جب آپ نے یہ فرمایا دھیان کرو۔ میں نے اپنا سر اٹھایا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لیے دعائے مغفرت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم چلتے رہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے اس بارے میں دریافت کرنا شروع کیا کہ میں اپنے پیچھے بنو غفار کو کس حالت میں چھوڑ کا آیا ہوں۔ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس گروہ کی کیا حالت ہے، جو سرخ رنگ کے تھے، اور ان کے چہرے پر بال نہیں ہوئے صرف ٹھوڑی پر تھوڑے سے بال ہوتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پیچھے رہنے کے بارے میں بتایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گروہ کا کیا حال
ہے جس کا رنگ سیاہ تھا اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے بنو غفار میں ان کے ہونے کاذکر کیا۔ میں نے ان کا ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ میں نے ایک گروہ کا ذکر کیا جس کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلم قبیلے کا ایک گروہ ہے وہ لوگ پیچھے رہ گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ پیچھے کیوں رہ گئے۔ جب ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ گیا تھا" تو پھر کسی دوسرے کو اپنا اونٹ اسے دے دینا چاہئے تھا تاکہ وہ اللہ کی راہ میں (اپنا سفر کرتا رہتا) میرے نزدیک یہ بات سب سے ناپسندیدہ ہے کہ مہاجرین، انصار یا اسلم قبیلے کے لوگ یا غفار قبیلے کے لوگ مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7257
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب رہیں، تاکہ آپ سے (شرعی احکام سیکھ کر) انہیں محفوظ رکھیں
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7258
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جب خندق کھودرہے تھے۔ ساتھ، ساتھ یہ کہہ رہے تھے۔
"ہم وہ لوگ ہیں، جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی ہے کہ جب تک ہم باقی رہیں گے ہمیشہ جنگ کرتے رہیں گے"۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان حضرات کو یہ جواب دے رہے تھے۔
"اے اللہ ! بے شک زندگی صرف آخرت کی زندگی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت کردے"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7259
حضرت جریرین عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"مہاجرین اور انصار دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ قریش سے تعلق رکھنے والے طلقاء اور ثقیف سے تعلق رکھنے والے عتقاء ایک دوسرے کے دنیا اور آخرت میں دوست ہیں"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7260
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حجتہ الوداع کے موقع پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا میں بیمار ہو گیا، یہاں تک کہ موت کے کنارے تک پہنچ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بہت سا مال ہے میری وارث بس ایک بیٹی ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال (کو صدقہ کرنے) کی وصیت کردوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی: نصف مال کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی : ایک تہائی کے بارے میں کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی کے بارے میں کردو۔ ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے اے سعد تم اپنے ورثاء کو اچھی طرح سے خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں تنگدست چھوڑ کر جاؤ، اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں۔ اے سعد! تم جو بھی چیز اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرو گے تم کو اس کا اجر ملے گا، یہاں تک کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے (اس کا بھی اجر ملے گا) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد بھی زندہ رہو گے اور ایسا عمل کرو گے جس کے ذریعے تم اللہ کی رضا چاہو گے، تو اس کے نتیجے میں تمہارے درجے اور قدرو منزلت میں اضافہ ہوگا۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ تم میرے بعد بھی زندہ رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے کچھ لوگوں کو نفع دے اور تمہاری وجہ سے دوسرے لوگوں کو نقصان ہو۔ اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کو جاری رہنے دینا اور انہیں ایڑیوں کے بل لوٹا نہ دینا۔ البتہ سعد بن خولہ پر افسوس ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7261
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7262
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان جنہیں قاری صاحبان کہا جاتا تھاوہ مدینہ منورہ کے کنارے پر رہتے تھے۔ ان کے گھر والے یہ سمجھتے تھے کہ وہ مسجد میں ہوں گے، اور مسجد والے یہ سمجھتے تھے کہ وہ گھر پرہوں گے۔ وہ لوگ رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہتے تھے، اور جب صبح قریب آئی تھی، تو وہ لکڑیاں چنا کرتے تھے، اور میٹھا پانی حاصل کرتے تھے، اور یہ چیزیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے دروازوں پر رکھ دیتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو بئر معونہ کی طرف بھیجا تھا، تو وہ وہان سب شہید ہوگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قاتلوں کے خلاف کئی دن تک دعائے ضرر کی۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7263
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بھوک لاحق ہوئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف پیغام بھیجا، تو ان کے ہاں کچھ بھی موجود نہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص آج کی رات اس کو اپنا مہمان بنائے گا، تو انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں (اسے اپنا مہمان بناؤں گا) وہ شخص اپنی بیوی کے پاس گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہے۔ تم اس کے حوالے سے کوئی چیز چھپا کر نہ رکھنا۔ اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم میرے پاس صرف بچوں کی خوراک جتنی چیز ہے۔ انصاری نے کہا: جب بچے رات کا کھانا کھا نا چاہیں، تو تم ان کا سلا دینا۔ پھر تم چراغ بجھا دینا۔ آج رات ہم اپنا پیٹ لپیٹ لیں گے۔ اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ اگلے دن وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کو فلاں مرد اور فلاں عورت کا طرز عمل اچھا لگا۔ (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں: ) کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت ناز کی۔
"اور وہ لوگ اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ ان کو خود شدید ضرورت لاحق ہو"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7264
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
"بے شک انصار میرے انتہائی قریبی ہیں۔ لوگ زیادہ ہوتے چلے جائیں گے اور یہ کم ہوتے چلے جائیں گے۔ تم ان میں سے اچھے لوگوں کی اچھائی کو قبول کرنا، اور ان کے برے شخص کی برائی سے درگزر کرنا"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7265
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ آپ کے سامنے انصار کے کچھ بچے اور خدمت گزار آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں یہ بات آپ نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ پھر آپ نے فرمایا: بے شک انصار نے اس چیز کو ادا کر دیا ہے، جو ان کے ذمے لازم تھا، اور اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے، جو تمہارے ذمے لازم ہے، تو تم ان میں سے اچھے شخص کے ساتھ اچھائی کرنا اور ان کے برے شخص سے درگزر کرنا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7266
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسی عورت کو کوئی نقصان لاحق نہیں ہوتا جو انصار کے دو گھرانوں کے درمیان ٹھہرتی ہے یا اپنے ماں باپ کے ہاں ٹھہرتی ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7267