حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم سلی نے ارشاد فرمایا:
"میری امت کے ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کرلے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ، تو اسے ان میں شامل کرلے۔ ایک اور صاحب نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کرلے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے۔
(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: " اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے" اس میں لفظی طور پر گزرے ہوئے زمانے سے متعلق ایک فعل کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے۔ لیکن اس کے ذریعے مراد اس چیز سے منع کرنا ہے جس کے ذریعے یہ الفاظ مطلق طور پر استعمال ہوئے ہیں، اور وہ یہ کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے یہ دعا کردی اور یہ کہہ دیا کہ اے اللہ، تو اسے ان میں شامل کردے، تو دوسرے صاحب کا کھڑے ہونا (مناسب نہیں ہے) کیونکہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا کردیتے، تو پھر کوئی تیسرا اور چوتھا شخص بھی کھڑا ہوجاتا ، اور معاملہ ایک ایسی صورت کی طرف چلا جاتا، جس کی کوئی انتہا نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ کی وعید جو ان لوگوں کے لیے ہے۔ جن کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہوگا، اور وہ ممنوعہ چیزوں کے مرتکب ہوں گے وہ باطل ہوجاتی (وہو وعید یہ ہے) کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گا، تو اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظی طور پر اطلاع کے ذریعے اپنے آپ کو اس طرح کی چیزوں سے روک لیا، اور اس سے مراد اس سے منع کرنا ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7244
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ بیت المال میں موجود تھے، تو انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چمڑے سے بنے ہوئے خیمے سے باہر نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم سلی نے دریافت کیا: یا اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست مبارک میں میری جان ہے مجھے اس بات کی امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہوگے۔ کفار کے درمیان مسلمانوں کی مثال اس طرح ہے، جس طرح کوئی سفید گائے ہو جس میں ایک سیاہ بال موجود ہو۔ یا سیاہ گائے ہو جس میں ایک سفید بال موجود ہو۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7245
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل کرے گا ۔ اس پر حضرت یزید بن اخنس سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی۔ اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی امت میں (یہ ستر ہزار لوگ) اس طرح ہوں گے، جس طرح ٹیلے کے مقابلے میں مٹھی بھر ریت ہوتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ستر ہزار لوگ ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک ہزار کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے، اور اس کے ہمراہ مزید کچھ مزید لپ ہوں گے (یعنی پروردگار بے حد و شمار لوگوں کو جہنم سے آزاد کرے گا۔)
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7246
حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے، وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا، اور پھر ان میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ ستر ہزار لوگ جائیں گے۔ پھر وہ اپنے دست قدرت کے ذریعے تین مرتبہ لپ بھرے گا، اور اتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرے گا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ اکبر کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک پہلے والے ستر ہزار لوگ اپنے آباؤ اجداد، اپنی امہات ، اور اپنے رشتہ داروں کی شفاعت کریں گے اور مجھے یہ امید ہے کہ وہ میری امت کو آخری لپوں میں سب سے زیادہ قریب کر دے گا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7247
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"میرے سامنے وہ تین لوگ پیش کئے گئے جو پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شہید دوسرا وہ غلام جو اپنے پروردگار کی اچھی طرح سے عبادت کرتا ہو اور اپنے آقا کا خیرخواہ ہو اور تیسرا وہ شخص جو خوشحال ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) جو مالدار ہو"۔ اور حرام سے، اور لوگوں کے پاس موجود مال (کو ہتھیانے ) سے بچے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7248
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کی، توہم نے کہا: اگر ہم انتظار کرلیں، یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ کی اقتداء میں ادا کریں (تو یہ مناسب ہوگا) تو ہم لوگ انتظار کرنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے دریافت کیا: کیا تم لوگ اس وقت سے یہاں ہو؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں ہم آپ کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) تم نے ٹھیک کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایااور فرمایا ستارے آسمان کے امین (یا محافظ ہیں) جب یہ ستارے رخصت ہوجائیں گے، تو آسمان پر وہ چیز آجائے گی، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، اور میرے ساتھی میری امت کے لیے محافظ ہیں۔ جب میرے ساتھی رخصت ہوجائیں گے، تو میری امت پر وہ چیز آجائے گی، جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس روایت کا مطلب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمانوں کی بقاء کی نشانی اور آسمان کو فنا ہونے سے بچنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب یہ غارت ہوجائیں گے اور مضمحل ہوجائیں گے اور آسمان پر فنا طاری ہوجائے گی، جو اس کے نصیب میں لکھی گئی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے لیے فتنوں سے محفوظ ہونے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ آپ کو قبض کرکے اپنی جنت کی طرف لے جائے گا، تو آپ کے اصحاب تک وہ فتنے آئیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو آپ کی امت کے لیے محافظ قرار دیا ہے، جو امت میں ظلم وستم کے ظہور سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ جب آپ کے اصحاب رخصت ہوجائیں گے، تو پھر امت تک وہ چیز آجائے گی جن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، جو ناحق چیزوں کے ظہور سے متعلق ہوگی، جس کا تعلق ظلم اور باطل چیزوں سے ہوگا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7249
۔ سالم اپنے والد (حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کی مجھ سے ملاقات ہوئی۔ ان کی زبان میں کچھ لکنت تھی۔ ان کی بات نمایاں نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ کیا، تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا کہتے ہیں: البتہ اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے گروہ! آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں، کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہ کہا کرتے تھے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (پھر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص سے کہا: تم نے جس معاملے کا ذکر کیا ہے) وہ، تو صرف مال سے متعلق ہے، اگر انہوں نے وہ مال اس شخص کو دے دیا ہے، تو تم اس سے راضی رہو۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7250
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو (دیگر تمام صحابہ کرام سے) افضل قرار دیتے تھے اور پھر ہم سکوت اختیار کرتے تھے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7251
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں میری امت کے بارے میں سب سے زیادہ رحمدل ابو بکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہے۔ حیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے۔ اللہ کی کتاب کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے۔ علم وراثت کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابت ہے۔ حلال اور حرام کا سب سے بڑا عالم معاذ بن جبل ہے۔ خبردار ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7252
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"میرے اصحاب کو برانہ کہو اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اگر تم میں سے کوئی ایک شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے پھر بھی وہ ان (صحابہ کرام) میں سے کسی ایک کے ایک "مد" بلکہ اس کا نصف خرچ (کرنے کے برابر بھی نہیں ہو سکتا)"
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7253
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "جابیہ" کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان اس طرح کھڑے ہوئے ، جس طرح میں تمہارے درمیان کھڑا ہوا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: میرے اصحاب کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو پھر اس کے بعد والے لوگوں کے بارے میں پھر اس کے بعد والے لوگوں کے بارے میں (بھلائی کی تلقین کو قبول کرو) پھر جھوٹ پھیل جائے گا، یہان تک کہ آدمی شہادت کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے گا، اور قسم کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے ہی قسم اٹھائے گا، تو جو شخص جنت کے درمیان میں جانا چاہتا ہو وہ (مسلمانوں کی) جماعت کولازم نہ کرے کیونکہ شیطان ایک شخص ایک شخص ہے، اور وہ سے زیادہ دور ہوتا ہے کوئی بھی شخص کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ رہے۔ کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوگا، اور جس شخص کو نیکی اچھی لگے اور برائی بری لگے وہ مومن ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7254
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
"میرے اصحاب کو برا نہ کہو۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی ایک شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے، تو وہ پھر بھی ان(صحابہ کرام) میں سے کسی ایک کے، ایک "مد" یا اس کے نصف کو (خیرات کرنے کے) برابر نہیں ہو سکتا"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7255