Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7244

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ [ص:227] الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ»، قَالَ: فَقَالَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ»، فَقَالَ آخَرُ: «ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ « قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ «لَفْظَةُ إِخْبَارٍ عَنْ فِعْلٍ مَاضٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ الشَّيْءِ الَّذِي مِنْ أَجْلِهِ أَطْلَقَ هَذِهِ اللَّفْظَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَعَا لِعُكَّاشَةَ، وَقَالَ: » اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ «ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ فَلَوْ دَعَا لَهُ لَقَامَ الثَّالِثُ وَالرَّابِعُ، وَخَرَجَ الْأَمْرُ إِلَى مَا لَا نِهَايَةَ لَهُ وَلَبَطَلَ وَعِيدُ اللَّهِ جَلَّ، وَعَلَا لِمَنِ ارْتَكَبَ الْمَزْجُورَاتِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلَهُمُ النَّارَ، فَحَسَمَهُمْ ذَلِكَ عَنْ نَفْسِهِ بِلَفْظَةِ إِخْبَارٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْهُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم سلی نے ارشاد فرمایا: "میری امت کے ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کرلے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ، تو اسے ان میں شامل کرلے۔ ایک اور صاحب نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کرلے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: " اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے" اس میں لفظی طور پر گزرے ہوئے زمانے سے متعلق ایک فعل کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے۔ لیکن اس کے ذریعے مراد اس چیز سے منع کرنا ہے جس کے ذریعے یہ الفاظ مطلق طور پر استعمال ہوئے ہیں، اور وہ یہ کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے یہ دعا کردی اور یہ کہہ دیا کہ اے اللہ، تو اسے ان میں شامل کردے، تو دوسرے صاحب کا کھڑے ہونا (مناسب نہیں ہے) کیونکہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا کردیتے، تو پھر کوئی تیسرا اور چوتھا شخص بھی کھڑا ہوجاتا ، اور معاملہ ایک ایسی صورت کی طرف چلا جاتا، جس کی کوئی انتہا نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ کی وعید جو ان لوگوں کے لیے ہے۔ جن کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہوگا، اور وہ ممنوعہ چیزوں کے مرتکب ہوں گے وہ باطل ہوجاتی (وہو وعید یہ ہے) کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گا، تو اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظی طور پر اطلاع کے ذریعے اپنے آپ کو اس طرح کی چیزوں سے روک لیا، اور اس سے مراد اس سے منع کرنا ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ [ص:227] الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7244

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7245

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ ذَاتُ يَوْمٍ فِي بَيْتِ الْمَالِ، إِذْ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ قُبَّةٍ لَهُ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: «أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ » قَالُوا: نَعَمْ، [ص:229] قَالَ: «وَثُلُثُ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ »، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنَّ مَثَلَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْكُفَّارِ كَالْبَقَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِيهَا الشَّعْرَةُ السَّوْدَاءُ، أَوْ كَالْبَقَرَةِ السَّوْدَاءِ فِيهَا الشَّعْرَةُ الْبَيْضَاءُ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ بیت المال میں موجود تھے، تو انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چمڑے سے بنے ہوئے خیمے سے باہر نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم سلی نے دریافت کیا: یا اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست مبارک میں میری جان ہے مجھے اس بات کی امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہوگے۔ کفار کے درمیان مسلمانوں کی مثال اس طرح ہے، جس طرح کوئی سفید گائے ہو جس میں ایک سیاہ بال موجود ہو۔ یا سیاہ گائے ہو جس میں ایک سفید بال موجود ہو۔

نَعَمْ ← «وَثُلُثُ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ ← نَعَمْ [ص:307]، ← «أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ ← خَرَجَ عَلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ قُبَّةٍ لَهُ مِنْ أَدَمٍ، ← بَيْنَمَا هُوَ ذَاتُ يَوْمٍ فِي بَيْتِ الْمَالِ، إِذْ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7245

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7246

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبَى الْيَمَانِ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ»، فَقَالَ: يَزِيدُ بْنُ الْأَخْنَسِ السُّلَمِيُّ: وَاللَّهِ مَا أُولَئِكَ فِي أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا كَالذُّبَابِ الْأَصْهَبِ فِي الذِّبَّانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ «رَبِّي قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِينَ أَلْفًا مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا وَزَادَنِي حَثَيَاتٍ»

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل کرے گا ۔ اس پر حضرت یزید بن اخنس سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی۔ اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی امت میں (یہ ستر ہزار لوگ) اس طرح ہوں گے، جس طرح ٹیلے کے مقابلے میں مٹھی بھر ریت ہوتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ستر ہزار لوگ ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک ہزار کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے، اور اس کے ہمراہ مزید کچھ مزید لپ ہوں گے (یعنی پروردگار بے حد و شمار لوگوں کو جہنم سے آزاد کرے گا۔)

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي الْيَمَانِ الْهَوْزَنِيِّ، ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7246

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7247

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ*، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَخِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ، [ص:232] أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، ثُمَّ يُتْبِعُ كُلَّ أَلْفٍ بِسَبْعِينَ أَلْفًا، ثُمَّ يَحْثِي بِكَفِّهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ»، فَكَبَّرَ عُمَرُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ السَّبْعِينَ أَلْفًا الْأُوَلَ يُشَفِّعُهُمُ اللَّهُ فِي آبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ، وَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ أُمَّتِي أَدْنَى الْحَثَوَاتِ الْأَوَاخِرِ»

حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے، وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا، اور پھر ان میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ ستر ہزار لوگ جائیں گے۔ پھر وہ اپنے دست قدرت کے ذریعے تین مرتبہ لپ بھرے گا، اور اتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرے گا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ اکبر کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک پہلے والے ستر ہزار لوگ اپنے آباؤ اجداد، اپنی امہات ، اور اپنے رشتہ داروں کی شفاعت کریں گے اور مجھے یہ امید ہے کہ وہ میری امت کو آخری لپوں میں سب سے زیادہ قریب کر دے گا۔

عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، ← عَامِرُ بْنُ زَيْدٍ الْبِكَالِيُّ، [ص:232] أَنَّهُ ← أَبَا سَلَّامٍ، ← أَخِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ، أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← مَعْمَرُ بْنُ يَعْمُرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلْفٍ الدَّارِيُّ ← مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7247

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7248

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ الْعُقَيْلِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: الشَّهِيدُ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو غِنًى أَوْ مَالٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میرے سامنے وہ تین لوگ پیش کئے گئے جو پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شہید دوسرا وہ غلام جو اپنے پروردگار کی اچھی طرح سے عبادت کرتا ہو اور اپنے آقا کا خیرخواہ ہو اور تیسرا وہ شخص جو خوشحال ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) جو مالدار ہو"۔ اور حرام سے، اور لوگوں کے پاس موجود مال (کو ہتھیانے ) سے بچے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7248

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7249

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّي مَعَهُ الْعِشَاءَ، فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا؟ » قُلْنَا: نَعَمْ، نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ: «أَحْسَنْتُمْ»، أَوْ قَالَ: «أَصَبْتُمْ»، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَنَةُ السَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي، فَإِذَا أَنَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي [ص:235] أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا جَعَلَ النُّجُومَ عَلَامَةً لِبَقَاءِ السَّمَاءِ وَأَمَنَةً لَهَا عَنِ الْفَنَاءِ، فَإِذَا غَارَتْ وَاضْمَحَلَّتْ أَتَى السَّمَاءَ الْفَنَاءُ الَّذِي كُتِبَ عَلَيْهَا، وَجَعَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا الْمُصْطَفَى أَمَنَةَ أَصْحَابِهِ مِنْ وقُوعِ الْفِتَنِ، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا إِلَى جَنَّتِهِ أَتَى أَصْحَابَهُ الْفِتَنُ الَّتِي أُوعِدُوا وَجَعَلَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ أَمَنَةَ أُمَّتِهِ مِنْ ظُهُورِ الْجَوْرِ فِيهَا، فَإِذَا مَضَى أَصْحَابُهُ أَتَاهُمْ مَا يُوعَدُونَ مِنَ ظُهُورِ غَيْرِ الْحَقِّ مِنَ الْجَوْرِ وَالْأَبَاطِيلِ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کی، توہم نے کہا: اگر ہم انتظار کرلیں، یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ کی اقتداء میں ادا کریں (تو یہ مناسب ہوگا) تو ہم لوگ انتظار کرنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے دریافت کیا: کیا تم لوگ اس وقت سے یہاں ہو؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں ہم آپ کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) تم نے ٹھیک کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایااور فرمایا ستارے آسمان کے امین (یا محافظ ہیں) جب یہ ستارے رخصت ہوجائیں گے، تو آسمان پر وہ چیز آجائے گی، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، اور میرے ساتھی میری امت کے لیے محافظ ہیں۔ جب میرے ساتھی رخصت ہوجائیں گے، تو میری امت پر وہ چیز آجائے گی، جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس روایت کا مطلب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمانوں کی بقاء کی نشانی اور آسمان کو فنا ہونے سے بچنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب یہ غارت ہوجائیں گے اور مضمحل ہوجائیں گے اور آسمان پر فنا طاری ہوجائے گی، جو اس کے نصیب میں لکھی گئی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے لیے فتنوں سے محفوظ ہونے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ آپ کو قبض کرکے اپنی جنت کی طرف لے جائے گا، تو آپ کے اصحاب تک وہ فتنے آئیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو آپ کی امت کے لیے محافظ قرار دیا ہے، جو امت میں ظلم وستم کے ظہور سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ جب آپ کے اصحاب رخصت ہوجائیں گے، تو پھر امت تک وہ چیز آجائے گی جن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، جو ناحق چیزوں کے ظہور سے متعلق ہوگی، جس کا تعلق ظلم اور باطل چیزوں سے ہوگا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← يذكره ← مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَی ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7249

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7250

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِسَانِهِ ثِقَلٌ مَا يُبِينُ الْكَلَامَ، فَذَكَرَ عُثْمَانَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَقُولُ غَيْرَ أَنَّكُمْ تَعْلَمُونَ يَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ أَنَّا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَقُولُ: «أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَإِنِّمَا هُوَ هَذَا الْمَالُ، فَإِنْ أَعْطَاهُ رَضِيتُمْ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «مَا رَوَاهُ عَنِ الْوَلِيدِ، إِلَّا إِسْحَاقُ، [ص:237] وَلَيْسَ لِثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ، وَمَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَاقَ، إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا»

۔ سالم اپنے والد (حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کی مجھ سے ملاقات ہوئی۔ ان کی زبان میں کچھ لکنت تھی۔ ان کی بات نمایاں نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ کیا، تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا کہتے ہیں: البتہ اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے گروہ! آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں، کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہ کہا کرتے تھے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (پھر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص سے کہا: تم نے جس معاملے کا ذکر کیا ہے) وہ، تو صرف مال سے متعلق ہے، اگر انہوں نے وہ مال اس شخص کو دے دیا ہے، تو تم اس سے راضی رہو۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7250

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7251

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كُنَّا نُفَاضِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ، ثُمَّ نَسْكُتُ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو (دیگر تمام صحابہ کرام سے) افضل قرار دیتے تھے اور پھر ہم سکوت اختیار کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7251

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7252

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا أَلَا، وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں میری امت کے بارے میں سب سے زیادہ رحمدل ابو بکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہے۔ حیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے۔ اللہ کی کتاب کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے۔ علم وراثت کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابت ہے۔ حلال اور حرام کا سب سے بڑا عالم معاذ بن جبل ہے۔ خبردار ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7252

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7253

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، [ص:239] مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میرے اصحاب کو برانہ کہو اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اگر تم میں سے کوئی ایک شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے پھر بھی وہ ان (صحابہ کرام) میں سے کسی ایک کے ایک "مد" بلکہ اس کا نصف خرچ (کرنے کے برابر بھی نہیں ہو سکتا)"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7253

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7254

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي فِيكُمْ، فَقَالَ: «اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا، وَبِالْيَمِينِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ، فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ [ص:240] الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "جابیہ" کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان اس طرح کھڑے ہوئے ، جس طرح میں تمہارے درمیان کھڑا ہوا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: میرے اصحاب کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو پھر اس کے بعد والے لوگوں کے بارے میں پھر اس کے بعد والے لوگوں کے بارے میں (بھلائی کی تلقین کو قبول کرو) پھر جھوٹ پھیل جائے گا، یہان تک کہ آدمی شہادت کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے گا، اور قسم کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے ہی قسم اٹھائے گا، تو جو شخص جنت کے درمیان میں جانا چاہتا ہو وہ (مسلمانوں کی) جماعت کولازم نہ کرے کیونکہ شیطان ایک شخص ایک شخص ہے، اور وہ سے زیادہ دور ہوتا ہے کوئی بھی شخص کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ رہے۔ کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوگا، اور جس شخص کو نیکی اچھی لگے اور برائی بری لگے وہ مومن ہے۔

قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ مَقَامِي فِيكُمْ، ← ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ، ← عبد الله بن دينار ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7254

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7255

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "میرے اصحاب کو برا نہ کہو۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی ایک شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے، تو وہ پھر بھی ان(صحابہ کرام) میں سے کسی ایک کے، ایک "مد" یا اس کے نصف کو (خیرات کرنے کے) برابر نہیں ہو سکتا"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7255

chevron_left Previous
1…607608609…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr