حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :
''اس شخص کے لیے مبارک باد ہے جس نے میری زیارت کی او ر مجھ پر ایمان لایا ' اور اس شخص کے لیے سات مرتبہ مبارک باد ہے' جو مجھ پر ایمان لایا حالانک ہ اس نے مجھے دیکھا نہیں ''۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7232
۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
"اس شخص کے لیے مبارک باد ہے جس نے میری زیارت کی اور مجھ پر ایمان لایا، اور اس شخص کے لیے سات مرتبہ مبارک باد ہے، جو مجھ پر ایمان لایا۔ حالانکہ اس نے میری زیارت نہیں کی"۔
(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ایمن نامی راوی نے یہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں سے سنی ہے۔ ایمن نامی یہ راوی ایمن بن مالک اشعری ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7233
۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی (ارشاد باری تعالیٰ ہے: حضرت ابراہم علیہ السلام نے یہ کہا: )
"اے میرے پروردگار! ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا، تو جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہو گا"۔
(ارشاد باری تعالیٰ ہے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا۔
"اگر، تو انہیں عذاب دیتا ہے، تو یہ تیرے بندے ہیں" یہ آیت کے آخر تک ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہہ دو کہ ہم تمہاری امت کے بارے میں تمہیں راضی کر دیں گے۔ ہم تمہیں رسوا نہیں کریں گے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7234
۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: تلاوت کیا۔
(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا تھا: )
"اے میرے پروردگار! ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہوگا، اور جو میری نافرمانی کرے، تو بے شک، تو مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے"۔
(ارشاد باری تعالیٰ ہے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا۔
"اگر، تو انہیں عذاب دے، تو یہ تیرے بندے ہیں"۔
(راوی بیان کرتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا کی: اے اللہ میری امت (کی مغفرت کر دے) میری امت (کی مغفرت کردے) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تمہارا پروردگار زیادہ علم رکھتا ہے (لیکن پھر بھی اس نے ی ارشاد فرمایا) تم اس سے دریافت کرو کہ تم کیوں رو رہے ہو، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اللہ تعالیٰ کو بتایا حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور یہ کہو ہم تمہاری امت کے بارے میں تمہیں راضی کردیں گے۔ ہم تمہیں رسوا نہیں کریں گے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7235
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا جائزہ لیتا رہا، جو آپ ادا کرتے رہے تھے، یہاں تک کہ صبح صادق کا وقت قریب آگیا تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کا سلام پھیرا، تو حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آج رات آپ نے ایسی نماز ادا کی ہے کہ میں نے آپ کو اس کی مانند نماز ادا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں یہ ایک ایسی نماز تھی جس میں رغبت اور ہیبت دونوں چیزیں پائی جاتی تھیں۔ میں نے اس کے دوران اپنے پروردگار سے تین چیزوں کے بارے میں سال کیا، تو اس نے دو چیزیں مجھے عطا کردیں اور ایک چیز عطا نہیں کی۔ میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ ہمیں اس طرح ہلاکت کا شکار نہ کرے، جس طرح اس نے پہلے کی امتوں کو ہلاکت کا شکار کیا تھا، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کردی۔ میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ ہم پر ایسے دشمن کو غالب نہ کرے، جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو، تو اس نے مجھے یہ چیز بھی عطا کردی۔ میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ ہمیں گروہوں میں تقسیم نہ کرے، تو اس نے اس چیز کو قبول نہیں کیا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7236
حضرت سعد بن ابی وقاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالائی علاقے کی طرف سے تشریف لا رہے تھے، یہاں تک کہ آپ کا گزر بنو معاویہ کی مسجد سے ہوا تھا۔ آپ اس کے اندر آئے دو رکعت ادا کیں، اور ہم نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ آپ نے اپنے پروردگار سے طویل دعا مانگی پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے آپ نے فرمایا: میں نے اپنے پروردگار سے یہ درخواست کی تھی۔ کہ وہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعے ہلاک نہیں کرے گا، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کردی میں نے اس سے درخواست کی کہ یہ لوگ آپس میں نہ لڑیں، تو اس نے یہ چیز قبول نہیں کی۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7237
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا، تو میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا۔ میری امت کی حکومت عنقریب وہاں تک پہنچ جائے گی، یہاں تک میرے لیے زمین کو لپیٹا گیا تھا، اور مجھے دو خزانے عطا کیے گئے تھے سرخ اور سفید۔ میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے دعا مانگی کہ وہ انہیں عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاک نہیں کرے گا، اور ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کرے گا، جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو، جو
ان کا قتل عام کردے، تو میرے پروردگار نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں کوئی فیصلہ کرلوں، تو پھر اس میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ تمہاری امت کے بارے میں، میں تمہیں یہ چیز عطا رکرتا ہوں۔ میں انہیں عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہیں کروں گا، اور میں ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا۔ جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو، اور جو ان کا قتل عام کرے۔ خواہ وہ دشمن ان کے خلاف زمین کے کونے کونے سے اکٹھا ہوجائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) البتہ وہ لوگ خود ایک دوسرے کو ہلاکت کا شکار کریں گے، اور ایک دوسرے کو قیدی بنا لیں گے"۔
راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ہے، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی، تو پھر قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے نہیں ملیں گے، یہاں تک کہ بتوں کی عبادت نہیں کی جانے لگے کی۔ میری امت میں 30 کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک اس بات کا دعویدار ہوگا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ثابت قدم رہے گا، اور وہ لوگ غالب رہیں گے، جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا۔ وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ (یعنی قیامت ) آجائے گی۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7238
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
"اس امت کا حوض کوثر پر اس طرح ہجوم ہوگا جس طرح اونٹوں کا ہجوم ہوتا ہے، جو پانی پینے آتے ہیں"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7239
۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا۔
"اے اہل ایمان کی قوم کی بستی والو! تم پر سلام ہو۔ اگر اللہ نے چاہا، تو ہم بھی تم سے آملیں گے"۔
(پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) میری یہ خواہش تھی کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم میرے اصحاب ہو۔ میرے بھائی وہ لوگ ہیں، جو بعد میں آئیں گے۔ میں حوض کوثر پر ان کا پیش روہوں گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی امت کے جو لوگ آپ کے بعد آئیں گے۔ آپ ان کو کیسے پہچانیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی شخص کے پاس ایسا گھوڑا ہو جس کی پیشانی پر سفید نشان ہو اور وہ گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان موجود ہو کیا وہ شخص اپنے گھوڑے کو پہچان نہیں لے گا۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو جب وہ لوگ بھی قیامت کے دن آئیں گے، تو وضو کرنے کی وجہ سے ان کی پیشانیاں چمک رہی ہوں گی، اور حوض کوثر پر میں ان کا پیش روہوں گا، اور کچھ لوگوں کو میرے حوض سے یوں پرے کیا جائے گا، جس طرح گمشدہ اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے۔ میں انہیں یکاروں گا ادھر آؤ ادھر آؤ، تو یہ کہا جائے گا: ان لوگوں نے آپ کے بعد (دین کے احکام میں) تبدیلی کر دی تھی، تو میں کہوں گا: پرے ہو جاؤ پرے ہوجاؤ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7240
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7241
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے۔ جن کا تعلق آپ کی امت سے ہے اور آپ نے انہیں دیکھا نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ وضو کے آثار کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7242
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"تم لوگ وضو کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں کے ساتھ (میرے حوض پر) آؤگے۔ یہ میری امت کا مخصوص علامتی نشان ہے، جو ان کے علاوہ اور کسی کا نہیں ہوگا"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7243