Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7232

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَيْمَنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي، وَطُوبَى سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''اس شخص کے لیے مبارک باد ہے جس نے میری زیارت کی او ر مجھ پر ایمان لایا ' اور اس شخص کے لیے سات مرتبہ مبارک باد ہے' جو مجھ پر ایمان لایا حالانک ہ اس نے مجھے دیکھا نہیں ''۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَيْمَنَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7232

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7233

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «طُوبَى لِمَنْ رَآنِي ثُمَّ آمَنَ بِي، وَطُوبَى سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ آمَنَ بِي، وَلَمْ يَرَنِي»

۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اس شخص کے لیے مبارک باد ہے جس نے میری زیارت کی اور مجھ پر ایمان لایا، اور اس شخص کے لیے سات مرتبہ مبارک باد ہے، جو مجھ پر ایمان لایا۔ حالانکہ اس نے میری زیارت نہیں کی"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ایمن نامی راوی نے یہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں سے سنی ہے۔ ایمن نامی یہ راوی ایمن بن مالک اشعری ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَيْمَنَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7233

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7234

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ فِي إِبْرَاهِيمَ: {رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي} [إبراهيم: 36] الْآيَةَ، وَقَالَ عِيسَى: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ} [المائدة: 118]، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ اللَّهُ: «يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، [ص:217] وَقُلْ لَهُ إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ، وَلَا نَسُوؤُكَ»

۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی (ارشاد باری تعالیٰ ہے: حضرت ابراہم علیہ السلام نے یہ کہا: ) "اے میرے پروردگار! ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا، تو جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہو گا"۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا۔ "اگر، تو انہیں عذاب دیتا ہے، تو یہ تیرے بندے ہیں" یہ آیت کے آخر تک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہہ دو کہ ہم تمہاری امت کے بارے میں تمہیں راضی کر دیں گے۔ ہم تمہیں رسوا نہیں کریں گے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7234

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7235

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا فِي إِبْرَاهِيمَ: {إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [إبراهيم: 36]، وَقَالَ عِيسَى: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ} [المائدة: 118] فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي»، وَبَكَى، فَقَالَ اللَّهُ: يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ، فَسَلْهُ مَا يُبْكِيهِ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ اللَّهُ: يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، فَقُلْ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ [ص:218] وَلَا نَسُوؤُكَ «

۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: تلاوت کیا۔ (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا تھا: ) "اے میرے پروردگار! ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہوگا، اور جو میری نافرمانی کرے، تو بے شک، تو مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے"۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا۔ "اگر، تو انہیں عذاب دے، تو یہ تیرے بندے ہیں"۔ (راوی بیان کرتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا کی: اے اللہ میری امت (کی مغفرت کر دے) میری امت (کی مغفرت کردے) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تمہارا پروردگار زیادہ علم رکھتا ہے (لیکن پھر بھی اس نے ی ارشاد فرمایا) تم اس سے دریافت کرو کہ تم کیوں رو رہے ہو، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اللہ تعالیٰ کو بتایا حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور یہ کہو ہم تمہاری امت کے بارے میں تمہیں راضی کردیں گے۔ ہم تمہیں رسوا نہیں کریں گے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7235

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7236

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، أَنَّ خَبَّابًا، قَالَ: رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ صَلَّاهَا حَتَّى كَانَ مَعَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ جَاءَهُ خَبَّابٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَقَدْ صَلَّيْتَ اللَّيْلَةَ صَلَاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ نَحْوَهَا، قَالَ: «أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ سَأَلْتُ رَبِّي فِيهَا ثَلَاثَ خِصَالٍ، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَهَا، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا مِنْ غَيْرِنَا، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَنَا شِيَعًا، فَمَنَعَنِيهَا»

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا جائزہ لیتا رہا، جو آپ ادا کرتے رہے تھے، یہاں تک کہ صبح صادق کا وقت قریب آگیا تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کا سلام پھیرا، تو حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آج رات آپ نے ایسی نماز ادا کی ہے کہ میں نے آپ کو اس کی مانند نماز ادا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں یہ ایک ایسی نماز تھی جس میں رغبت اور ہیبت دونوں چیزیں پائی جاتی تھیں۔ میں نے اس کے دوران اپنے پروردگار سے تین چیزوں کے بارے میں سال کیا، تو اس نے دو چیزیں مجھے عطا کردیں اور ایک چیز عطا نہیں کی۔ میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ ہمیں اس طرح ہلاکت کا شکار نہ کرے، جس طرح اس نے پہلے کی امتوں کو ہلاکت کا شکار کیا تھا، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کردی۔ میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ ہم پر ایسے دشمن کو غالب نہ کرے، جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو، تو اس نے مجھے یہ چیز بھی عطا کردی۔ میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ ہمیں گروہوں میں تقسیم نہ کرے، تو اس نے اس چیز کو قبول نہیں کیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، أَنَّ خَبَّابًا، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7236

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7237

وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، [ص:220] عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْعَالِيَةِ حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ، فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، فَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلًا، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: «سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ، فَمَنَعَنِيهَا»

حضرت سعد بن ابی وقاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالائی علاقے کی طرف سے تشریف لا رہے تھے، یہاں تک کہ آپ کا گزر بنو معاویہ کی مسجد سے ہوا تھا۔ آپ اس کے اندر آئے دو رکعت ادا کیں، اور ہم نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ آپ نے اپنے پروردگار سے طویل دعا مانگی پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے آپ نے فرمایا: میں نے اپنے پروردگار سے یہ درخواست کی تھی۔ کہ وہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعے ہلاک نہیں کرے گا، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کردی میں نے اس سے درخواست کی کہ یہ لوگ آپس میں نہ لڑیں، تو اس نے یہ چیز قبول نہیں کی۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، [ص:385] ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ ← وَأَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7237

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7238

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، [ص:221] عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ، فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، فَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زَوَى لِي مِنْهَا، وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ، فَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ، فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ، فَإِنَّ رَبِّي، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً، فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ، وَإِنِّي أُعْطِيكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ عَامَّةٍ، وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ، وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَقْطَارِهَا، أَوْ قَالَ: مِنْ بَيْنِ أَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَيَسْبِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنَ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى تُعْبَدَ الْأَوْثَانُ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ كَذَّابُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ يَخْذُلُهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ «

حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا، تو میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا۔ میری امت کی حکومت عنقریب وہاں تک پہنچ جائے گی، یہاں تک میرے لیے زمین کو لپیٹا گیا تھا، اور مجھے دو خزانے عطا کیے گئے تھے سرخ اور سفید۔ میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے دعا مانگی کہ وہ انہیں عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاک نہیں کرے گا، اور ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کرے گا، جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو، جو ان کا قتل عام کردے، تو میرے پروردگار نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں کوئی فیصلہ کرلوں، تو پھر اس میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ تمہاری امت کے بارے میں، میں تمہیں یہ چیز عطا رکرتا ہوں۔ میں انہیں عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہیں کروں گا، اور میں ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا۔ جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو، اور جو ان کا قتل عام کرے۔ خواہ وہ دشمن ان کے خلاف زمین کے کونے کونے سے اکٹھا ہوجائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) البتہ وہ لوگ خود ایک دوسرے کو ہلاکت کا شکار کریں گے، اور ایک دوسرے کو قیدی بنا لیں گے"۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ہے، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی، تو پھر قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے نہیں ملیں گے، یہاں تک کہ بتوں کی عبادت نہیں کی جانے لگے کی۔ میری امت میں 30 کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک اس بات کا دعویدار ہوگا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ثابت قدم رہے گا، اور وہ لوگ غالب رہیں گے، جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا۔ وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ (یعنی قیامت ) آجائے گی۔

ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ، [ص:221] ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7238

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7239

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ جَبَلَةَ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَتَزْدَحِمَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى الْحَوْضِ ازْدِحَامَ إِبِلٍ وَرَدَتْ لِخَمْسٍ»

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اس امت کا حوض کوثر پر اس طرح ہجوم ہوگا جس طرح اونٹوں کا ہجوم ہوتا ہے، جو پانی پینے آتے ہیں"۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← سُوَيْدِ بْنِ جَبَلَةَ، ← لُقْمَانُ بْنُ عَامِرٍ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ1 ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7239

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7240

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ، فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ، قَالَ: «بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟ » قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ أَلَا هَلُمَّ، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: فَسُحْقًا فَسُحْقًا فَسُحْقًا»

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا۔ "اے اہل ایمان کی قوم کی بستی والو! تم پر سلام ہو۔ اگر اللہ نے چاہا، تو ہم بھی تم سے آملیں گے"۔ (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) میری یہ خواہش تھی کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم میرے اصحاب ہو۔ میرے بھائی وہ لوگ ہیں، جو بعد میں آئیں گے۔ میں حوض کوثر پر ان کا پیش روہوں گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی امت کے جو لوگ آپ کے بعد آئیں گے۔ آپ ان کو کیسے پہچانیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی شخص کے پاس ایسا گھوڑا ہو جس کی پیشانی پر سفید نشان ہو اور وہ گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان موجود ہو کیا وہ شخص اپنے گھوڑے کو پہچان نہیں لے گا۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو جب وہ لوگ بھی قیامت کے دن آئیں گے، تو وضو کرنے کی وجہ سے ان کی پیشانیاں چمک رہی ہوں گی، اور حوض کوثر پر میں ان کا پیش روہوں گا، اور کچھ لوگوں کو میرے حوض سے یوں پرے کیا جائے گا، جس طرح گمشدہ اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے۔ میں انہیں یکاروں گا ادھر آؤ ادھر آؤ، تو یہ کہا جائے گا: ان لوگوں نے آپ کے بعد (دین کے احکام میں) تبدیلی کر دی تھی، تو میں کہوں گا: پرے ہو جاؤ پرے ہوجاؤ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7240

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7241

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدْنَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ، وَلَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الْإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ لَيْسَ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدْنَ» تَأْكِيدٌ فِي الْقَصْدِ لَا أَنَّهُ أَبْعَدُ مِنْهُمَا.

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7241

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7242

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الطَّهُورِ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے۔ جن کا تعلق آپ کی امت سے ہے اور آپ نے انہیں دیکھا نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ وضو کے آثار کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُمْ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7242

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7243

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرِدُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ سِيَّمَا أُمَّتِي لَيْسَ لِأَحَدٍ غَيْرِهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم لوگ وضو کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں کے ساتھ (میرے حوض پر) آؤگے۔ یہ میری امت کا مخصوص علامتی نشان ہے، جو ان کے علاوہ اور کسی کا نہیں ہوگا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7243

chevron_left Previous
1…606607608…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr