صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ بَابُ القِصَاصِ · حديث 5997
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، حَدَّثَهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْعُسْرَةِ، وَكَانَتْ أَوْثَقَ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، وَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَانْتَزَعَ أُصْبُعَهُ، فَسَقَطتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَجَاءَ [ص:344] إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، قَالَ: وَحَسِبْتُ أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ فَتَقْضِمُهَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ؟ »
حضرت یعلیٰ بن امیہ ؓ کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی ہے میرے نزدیک یہ میرا سب سے بہترین عمل ہے میرا ایک ملازم تھا جس نے ایک شخص کے ساتھ لڑائی کی ان دونوں میں سے کسی ایک نے دوسرے کے ہاتھ پرکاٹ لیا اس نے اپنی انگلی کھینچی ،تو کونٹے والے کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تونبی اکرم ﷺ نے اس کے دانتوں کو رائیگاں قرار دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہےصفوان نامی راوی نےیہ الفاظ بھی نقل کیے تھے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "کیا وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں رہنے دیتا تاکہ تم اسے یوں چبالیتے جس طرح اونٹ چبا لیتا ہے۔"
عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · Felony Book › The door of storytelling · Hadith 5997
