Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5985

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الصُّنَابِحِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الصُّنَابِحِ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَالصُّنَابِحِيُّ مِنَ التَّابِعِينَ»

حضرت صا بح ؓ ،نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ؛ "میں حوض (کوثر ) پر تمہارا پیش روہوں گا اور میں دوسری امتوں کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کروں گا ، تو تم لوگ میرے بعد ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا (آپس میں جھگڑا نہ کرنا) " (امام ابن حبان ؑ فرماتے ہیں ) حضرت صابح ؓ صحابہ کرام ؓ میں سے ہیں اور صابح تابعین میں سے ہیں ۔

أَبُو حَاتِمٍ: «الصُّنَابِحِ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَالصُّنَابِحِيُّ مِنَ التَّابِعِينَ» ← «إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي» ← النَّبِيِّ ← الصُّنَابِحِ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5985

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5986

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ، فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ، يَهْوِي فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِسُمٍّ، فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ مُتَعَمِّدًا، فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا»

حضرت ابو ہریرہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "جو شخص لوہے کے ذریعے (یعنی دھار دار چیز کے ذریعے ) خود کشی کرلے گا، تواس کی وہ دھار دار چیز اس کے ہا تھ میں ہو گی ، جسے وہ اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا اوروہ ہمیشہ جہنم میں گرتا رہے گا، جو شخص زہر کے ذریعے خودکشی کر لے گا اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا ، جسے وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ چاٹتا رہے گا، جو شخص پہاڑ سے جان بوجھ کر خود کو گرائے گا اور خودکشی کر لے گا، وہ جہنم میں ہمیشہ گرتا رہے گا۔"

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5986

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5987

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ خَنَقَ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا فَقَتَلَهَا خَنَقَ نَفْسَهُ فِي النَّارِ، وَمَنْ طَعَنَ نَفْسَهُ طَعَنَهَا فِي النَّارِ، وَمَنِ اقْتَحَمَ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ اقْتَحَمَ فِي النَّارِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص دنیا میں اپنا گلا گھونٹ کر خود کشی کرے گا وہ جہنم میں بھی اپنا گلا گھونٹ رہے گا، جو شخص اپنے آپ کو نیزہ مارے گا وہ جہنم میں بھی اپنے آپ کو نیزہ مارے گا ، جو شخص آگ میں کود کر خود کشی کرے گا وہ جہنم میں بھی آگ میں کود تا رہے گا۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5987

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5988

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الزَّمِنُ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا جُنْدُبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، فَمَا نَسِينَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا وَلَا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَرَجَ بِرَجُلٍ خُرَّاجٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَأَخَذَ سِكِّينًا فَوْجَأَ بِهَا، فَمَا رَقَأَ الدَّمُ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: عَبْدِي بَادَرَنِي بِنَفْسِهِ، حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»

حسن بصری بیان کرتے ہیں : حضرت جندب بن عبداللہ ؓ نے اس مسجد میں حدیث بیان کی ہمیں اس حدیث کا کوئی حصہ بھولا نہیں ہے انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی اور ہمیں یہ اندیشہ نہیں ہے انہوں نے نبی اکرمﷺ کو حوالے سے غلط بات بیا ن کی ہو گی انہوں نے بتایا نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "تم سے پہلے کے زمانے میں کسی شخص کو پھوڑا نکل آیا"۔ اس نےّ( تکلیف کی شدت کی وجہ سے ) چھری لیل اور اسے کاٹ دیا اس کا خون نہیں رکا، یہاں تک کہ وہ شخص مر گیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا:میرے بندے نے اپنی ذات کے بارے میں مجھ سے آگے نکلنے کی کوشش کی،تو میں اس کےلیے جنت کو حرام قرار دیتا ہوں۔

وَلَا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← جُنْدُبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، فَمَا نَسِينَا مِنْهُ، ← الْحَسَنِ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الزَّمِنُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5988

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5989

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: «إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ خَرَجَتْ بِهِ قُرْحَةٌ، فَلَمَّا آذَتْهُ انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَكَأَهَا، فَلَمْ يَرْقَأْ دَمُهُ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ رَبُّكُمْ: قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» ثُمَّ مَدَّ بِيَدِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ، لَقَدْ حَدَّثَنِي بِهَذَا جُنْدُبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ «

حسن بصری بیان کرتے ہیں : پہلے زمانے میں ایک شخص کو پھوڑا نکل آیا جب اس کی تکلیف بڑھ گئی ،تو اس شخص نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اسے چیر دیا اس کا خون نہیں رکا ، یہاں تک کہ وہ شخص مرگیا، تو تمہارے پروردگار نے فرمایا: میں اس کےلیے جنت کو حرام قرار دیتا ہوں۔ اس کے بعد حسن بصری نے اپنا ہاتھ مسجد کی طرف پھیلا تے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! یہ حدیث حضرت جند ب بن عبداللہ بجلیؓ نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس مسجد میں بیان کی تھی ۔

الْحَسَنِ، ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5989

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ بَابُ القِصَاصِ · حديث 5990

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ قَالَ: فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ، فَقَالَ: «مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟ » فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَسَعَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: «دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ»، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبَيِّ ابْنُ [ص:331] سَلُولٍ: قَدْ فَعَلُوهَا، لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: «دَعْهُ، لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ» يُرِيدُ أَنَّهُ لَا قِصَاصَ فِي هَذَا، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُمْ: فَإِنَّهَا ذَمِيمَةٌ، وَمَا يُشْبِهُهَا

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں : مہاجر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انصاری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مارا، تو انصاری نے کہا:اے انصار(میری مدد کیلئے آجاؤ)مہاجر نے کہا:اے مہاجرین (میری مدد کیلئے آجاؤ) راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آواز سنی،تو فرمایا یہ کیا زمانہ جاہلیت کے بلانے کا طریقہ ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)!مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کومارا ہے۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: اسے چھوڑ دو یہ بدبو دار چیز ہے ۔ اس پر (منافقین کے سردار)عبداللہ بن ابی نے کہا:ان لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب ہم مدینہ جائیں گے ، تو وہاں سے عزت دارلوگ کو باہر نکال دیں گے۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑادوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:اسے چھوڑ دو!ورنہ لوگ یہ کہیں گے محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کروادیتے ہیں۔

«مَا بَالُ دَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ؟ ← النَّبِيُّ ذَاكَ، ← الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لِلْمُهَاجِرِينَ، ← الْأَنْصَارِيُّ: يَا لِلْأَنْصَارِ، ← كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › The door of storytelling · Hadith 5990

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ بَابُ القِصَاصِ · حديث 5991

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابُورَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت انس ؓبیان کرتے ہیں :ایک یہودی نے ایک ہار کی وجہ سے ایک لڑکی کو قتل کر دیا ، تو نبی اکرمﷺ نے اس (یہودی کو ) قتل کروادیا

أَنَسٍ: «أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ، فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابُورَ، ← الْحُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانَ بِالرَّقَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › The door of storytelling · Hadith 5991

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ بَابُ القِصَاصِ · حديث 5992

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّاجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، [ص:333] قَتَلَهَا بِحَجَرٍ، قَالَ: فَجِيءَ بِهَا، وَبِهَا رَمَقٌ، قَالَ لَهَا: «أَقَتَلَكِ فُلَانٌ»؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا الثَّانِيَةَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، ثُمَّ سَأَلَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، وَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا فَقَتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی نے ایک لڑکی کو ہار کی وجہ سے قتل کردیا اس نے پتھر کے ذریعے اسے قتل کیا اس لڑکی کو لایا گیا اس میں تھوڑی سی زندگی موجود تھی۔ نبی اکرمﷺ نے اس لڑکی سے دریافت کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کر کے جواب دیا :جہ نہیں پھر اس سے دوسری مرتبہ دریافت کیا اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کیا جہ نہیں پھر اس سے تیسرے شخص کے بارے میں دریافت کیا ، تو اس نے اپنے سرکے ذریعے ا شارہ کرکے جواب دیا : جی نہیں ، تو نبی اکرمﷺ نے اس (یہودی قاتل )کا سردو پتھروں کے درمیان رکھو ا کے اسے قتل کروادیا

فَجِيءَ بِهَا، وَبِهَا رَمَقٌ، ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا، قَتَلَهَا بِحَجَرٍ، ← هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّاجِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › The door of storytelling · Hadith 5992

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ بَابُ القِصَاصِ · حديث 5993

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ [ص:334] الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقَالُوا لَهَا: مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ؟ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟ حَتَّى ذُكِرَ رَجُلٌ يَهُودِيٌّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَأَقَرَّ، «فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : ایک لڑکی ایسی حالت میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچلا گیا تھا لوگوں نے اس لڑکی سے دریافت کیا تمہارے ساتھ ایسا کس نے کیا : کیا کہا فلاں نے ؟فلاں نے ، یہاں تک کہ ایک یہودی شخص کا ذکر کیاگیا، تو اس نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کرکے کہا(اس نے کیا ہے) اس یہودی لڑکی کو پکڑ لیا گیا اس نے اقرار کر لیا ،تو نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اس کا سر پتھر کے ذریعے کچل دیاگیا

لَهَا: مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ؟ فُلَانٌ وَفُلَانٌ؟ حَتَّى ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ [ص:334] الْقَيْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › The door of storytelling · Hadith 5993

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ بَابُ القِصَاصِ · حديث 5994

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ،میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے:

«إِنَّ أَعَفَّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › The door of storytelling · Hadith 5994

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ بَابُ القِصَاصِ · حديث 5995

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ أَبِي: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ، وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُشْبِهُ النَّاسَ فَإِذَا لَهُ وَفْرَةٌ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي، ثُمَّ أَخَذَ يُحَدِّثُنَا سَاعَةً، قَالَ: «ابْنُكَ هَذَا»؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ: «أَمَا إِنَّ ابْنُكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ»، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164] ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السِّلْعَةِ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كَأَطَبِّ الرِّجَالِ، أَلَا أُعَالِجُهَا؟ قَالَ: «طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «اسْمُ أَبِي رِمْثَةَ: رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ التَّيْمِيُّ تَيْمُ الرَّبَابِ، وَمَنْ قَالَ: إِنَّ أَبَا رِمْثَةَ هُوَ الْخَشْخَاشُ الْعَنْبَرِيُّ فَقَدْ وَهِمَ»

حضرت ابو رمثہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا ،تو میرے والد نے دریافت کیا : یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم میرے والد نے بتایا یہ اللہ کے رسول ہیں جب انہوں نے یہ بات کہی ، تومجھ پرکپکپی طاری ہوگئی میرا یہ خیال تھا کہ اللہ کے رسول لوگوں کی طرح شکل وصورت کے نہیں ہوں گے ۔ نبی اکرمﷺ کےلمبے بال تھے جن میں کچھ مہندی لگی ہوئی تھی آپ ﷺ نے سبز رنگ کی دو چادریں اوڑھی ہوئی تھیں ۔ میرے والد نے آپ ﷺ کو سلام کیا پھر آپ ﷺ ہمارے ساتھ کچھ بات چیت کرتے رہے پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا یہ تمہار ا بیٹا ہے میرے والد نے جواب دیا: جہ ہاں رب کعبہ کی قسم میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارا بیٹا تمہارے کئے ہوئے جرم کی سزا نہیں بھگتے گا اور تم اس کے کئے ہوئے جرم کی سزا نہیں بھگتو گے نبی اکرمﷺ نے یہ آیت تلاوت کی۔ "کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔" پھر میرے والد نبی اکرمﷺ کے دو کندھوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ ابھری ہوئی دیکھی ، تو انھوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں حکمت کاکام بھی کرتا ہوں میں اس کا علاج نہ کرون ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس کا علاج وہ ذات کرے گی، جس نے اسے پیدا کیاہے۔ (امام صاحبان ؒفرماتے ہیں )حضرت ابورمثہؓ کا نام رفاعہ بن یثربی تیمی ہے، یہ تیم رباب سے تعلق رکھتے ہیں ، جس شخص نے یہ کہا ہےکہ حضرت ابورمثہ ؓ کانام خشخاش عنبری ہے اسے غلط فہمی ہوئی ہے۔

ذَلِكَ، وَكُنْتُ أَظُنُّ ← هَذَا رَسُولُ اللَّهِ فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ ← أَبِي: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، ← انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ ← أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › The door of storytelling · Hadith 5995

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ بَابُ القِصَاصِ · حديث 5996

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، بِمَرْوَ، وَبِقَرْيَةِ سِنْجَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْهَيَّاجِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سِنَانِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتْ خُزَاعَةُ حُلَفَاءٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ بَنُو بَكْرٍ، رَهْطٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ حُلَفَاءً لِأَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: وَكَانَتْ بَيْنَهُمْ مُوَادَعَةٌ أَيَّامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَغَارَتْ بَنُو بَكْرٍ عَلَى خُزَاعَةَ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ، فَبَعَثُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِدُّونَهُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمِدًّا لَهُمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ قُدَيْدًا ثُمَّ أَفْطَرَ، وَقَالَ: «لِيَصُمِ النَّاسُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُوا، فَمَنْ صَامَ أَجْزَأَ عَنْهُ صَوْمُهُ، وَمَنْ أَفْطَرَ وَجَبَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ» فَفَتَحَ اللَّهُ مَكَّةَ، فَلَمَّا دَخَلَهَا أَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ: «كُفُّوا السِّلَاحَ، إِلَّا خُزَاعَةَ عَنْ بَكْرٍ»، حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قُتِلَ رَجُلٌ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا الْحَرَمَ حَرَامٌ عَنْ أَمْرِ اللَّهِ، لَمْ يَحِلَّ لِمَنْ كَانَ قَبْلِي، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ بَعْدِي، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً وَاحِدَةً، وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُشْهِرَ فِيهِ سِلَاحًا، وَإِنَّهُ لَا يَخْتَلِي خَلَاهُ، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا [ص:341] رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخَرَ، فَإِنَّهُ لِبُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَّا الْإِذْخَرَ، وَإِنَّ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ: مَنْ قَتَلَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ، أَوْ قَتَلَ لِذَحْلِ الْجَاهِلِيَّةِ» فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلَانٍ، وَإِنَّهَا وَلَدَتْ لِي، فَأْمُرْ بِوَلَدِي فَلْيُرَدَّ إِلَيَّ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بِوَلَدِكَ، لَا يَجُوزُ هَذَا فِي الْإِسْلَامِ، وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ أَوْلَى بِالْيَمِينِ، إِلَّا أَنْ تَقُومَ بَيِّنَةٌ، الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ، وَبِفِي الْعَاهِرِ الْأَثْلِبُ»، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَمَا الْأَثْلِبُ؟ قَالَ: «الْحَجَرُ، فَمَنْ عَهَرَ بِامْرَأَةٍ لَا يَمْلِكُهَا، أَوْ بِامْرَأَةِ قَوْمٍ آخَرِينَ فَوَلَدَتْ، فَلَيْسَ بِوَلَدِهِ، لَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ وَالْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَوَّلُهُمْ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، وَلَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ وَلَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تُسَافِرُ ثَلَاثًا مَعَ غَيْرِ ذِي مَحْرَمٍ وَلَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ»

حضرت عبداللہ بن عمرؓبیان کرتےہیں : خزاعہ قبیلے کےلوگ نبی اکرمﷺ کے حلیف تھے جبکہ بنو کنانہ کا ایک گروہ بنو بکر ، سفیان (یعنی مشرکین مکہ ) کے حلیف تھے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر ان کے درمیان معاہدہ کیلئے پیغام بھجویا نبی اکرمﷺ ان کی مدد کرنے کیلئے رمضان کے مہینے میں روانہ ہوئے آپ ﷺ نے روزہ رکھا ہوا تھا ، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ قدید کے مقام پر پہنچے ،تو آپ نے روزہ ختم کر دیا آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: لوگوں کو سفر کے دوران روزہ رکھ بھی لینا چاہئے اور ترک بھی کر دینا چاہئےجو شخص روزہ رکھ لے گا اس کا روزہ دوست ہوگا اورجو شخص نہیں رکھے گا اس پر قضاء کرنا لازم ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مکہ کو فتح کردیا جب آپ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے ، تو ٓآپ ﷺ نے اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگائی اور ارشاد فرمایا: اپنے ہتھیاروں کو روک لو، البتہ خزاعہ قبیلے کےلوگ بنو بکر(سے بدلہ لے سکتے ہیں)، یہاں تک کہ ایک شخص آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)!مزدلفہ میں ایک شخص قتل ہوگیاہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ حر م ہے اور اللہ تعالیٰ کےحکم کے تحت قابل احترام ہے مجھ سے پہلے یہ کسی کےلیے حلال قرار نہیں دیاگیا اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا اور میرے لیے بھی تھوڑی سی دیر کےلیے اسے حلال قراردیا گیا ہے کسی بھی مسلمان کےلیےیہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اس میں ہتھیار نکال کرچلے ، یہاں کے کانٹے کو کاٹا نہیں جائے گا یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جائے گا یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جائےگا ۔ ایک صاحب نےعرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! اذخر (کی اجازت دیدیجئے ) کیونکہ وہ ہمارے گھروں اور قبرستان میں استعمال ہوتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اذخر کا حکم مختلف ہے اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ نافرمان تین لوگ ہیں وہ شخص جو اللہ کے حرم میں کسی کو قتل کرے یا جو شخص اپنے قاتل کے علاوہ (یعنی قصاص کے بدلے کےعلاوہ) کسی کو قتل کرے یا جو شخص زمانہ جایلیت کی دشمنی کی بنیاد پر کسی کو قتل کرے ۔ ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ﷺ میں نے بنو فلاں کی کنیز کے ساتھ صحبت کی تھی ،تو اس کے ہاں بچہ ہوگیا آپ ﷺ میرے بچے کے بارے میں حکم دیجئے کہ وہ مجھے دیا جائے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ تمہاری اولاد (شمار نہیں ہوگا)کیونکہ اسلام میں یہ بات جائز نہیں ہے،جس شخص کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہو وہ قسم اٹھانے کی زیادم حق دارہے ماسوائے اس صورت کے کہ ثبوت کے ذریعے ثابت ہوجائے بچہ صاحب فرش کاہوتا ہے اور زنا کرنے والے کے منہ میں پتھر ہوں گے ۔ ایک صاحب نےعرض کی: اے اللہ کےک نبی ﷺ اثلب کے کیا مراد ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پتھر ، جو شخص کسی ایسی عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوتا ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو یا کسی دوسری قوم کی عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ عورت بچے کو جنم دیتی ہے ، تو وہ اس شخص کا بچہ شمار نہیں ہوگا نہوہ اس کا وارث بنے گا اور نہ ہی اسے اس کا وارث بنا یا جائے گا۔ اہل ایمان اپنے علاوہ سب لوگوں کےلیے ایک ہاتھ کی مانند ہیں ان کی جانیں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں ان کے آگے کا کوئی فرد اگر پناہ دیدیتا ہے ،تو سب سے پیچھےوالا بھی اسے پورا کرے گا کسی مومن کی کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں جائے گا اور نہ کسی ذمی کو اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے دوران (قتل کیاجائے گا) دومذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر، یا ا س کی خالہ پر نکاح نہیں جائےگا اورکوئی محرم کےبغیر تین دن سے زیادہ کا سفر نہیں کرے گا اور تم لوگ فجر کے بعد اس وقت تک (کوئی نفل نماز )ادا نہیں کرو گے ،جب سورج نکل نہیں آتا اور عصر کے بعد اس وقت تک ادا نہیں کرو گے ، جب تک سورج غروب نہیں ہوجاتا۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← سِنَانِ بْنِ الْحِارِثِ بْنِ مُصَرِّفٍ ← القاسم بن الوليد ← عُبَيْدَةَ بن الأسود ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْهَيَّاجِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، بِمَرْوَ، وَبِقَرْيَةِ سِنْجَ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › The door of storytelling · Hadith 5996

chevron_left Previous
1…551552553…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr