Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 409

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا رَقِيَ عَتَبَةً قَالَ آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً أُخْرَى فقَالَ آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً ثَالِثَةً فقَالَ آمِينَ ثُمَّ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ فقَالَ يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ قَالَ وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ فقَالَ وَمَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْ آمِينَ فَقُلْتُ آمين" 1.

مالک بن حسن اپنے والد کے حوالے سے اپنے داد ا ( حضرت مالک بن حورث ؓ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ منبر پر چڑھے جب آپ نے پہلے زینے پر قدم رکھا ‘ تو آپ نے کہا :آمین اورج ب آپ نے دوسرے زینے پر قدم رکھا ‘ تو آپ نے کہا:آمین جب آپ تیسرے زینے پر قدم رکھا ‘ تو آپ نےکہا : آمین پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے آئے اور انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ﷺ ! جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس کی مغفت نہ ہو‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے‘ تو میں نے کہا :مین ، جبرائیل نے کہا: جو شخص اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر بھی جہنم میں داخل ہو جائے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کرے ‘ تو میں نے کہا :آمین ، جبرائیل نے کہا : جس شخص ک سامنے آپ کا تذکرہ ہو اور وہ آپ درود نہ بھیجے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے ) دور کر دے ‘ آپ آمین کہیں‘ تو میں نے آمین کہا۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آدمی کے لئے یہ بات مستحب ہے کہ اپنی ذات کے لئے مدد حاصل کرنے کو ترک کر دے خصوصًا اس صورت میں جب آدمی ایسی شخصیت کا مالک ہو ‘ جس کے فعل کی پیروی کی جاتی ہو اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرمﷺ سےجب حضرت جبرائیلؑ نے یہ کہا ’’جو شخص رمضان کا مہینہ پا لے اور اس کی مغفرت نہ ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی مغفرت سے دور کر دے‘‘۔ تو نبی اکرمﷺ نے جلدی سے یہ کہا : آمین۔ اسی طرح جب حضرت جبرائیل ؑ نے یہ کہا : ’’جو شخص اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سےکسی ایک کو پائے اور جہنم میں داخل ہو جائے‘ تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کر دے‘‘۔ (تو نبی اکرمﷺ نےفورًامین کہہ دیا ) لیکن جب حضرت جبرائیل ؑ نے آپ کے سامنے یہ کہا : جس شخص کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے ‘ اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے ( اپنی رحمت سے دور کر دے ) ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فورًا آمین نہیں کہا ۔ کیونکہ اس جملے میں آپ کی ذات کا حصہ موجود تھا۔ یہاں تک کہ حضرت جبرائیل ؑ نے آپ سےگزارش کی کہ کے آمین کہیں‘ تو نبی اکرمﷺ فرماتےہیں : میں نے آمین کہہ دیا۔ نبی اکرمﷺ کی اس سے مراد یہ تھی : اس بارےمیں آپ اسوہ قائم کریں کہ اپنی ذات کے لئے کسی دوسرے سے مدد حاصل نہیں کرنی ہے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میںاپنے دوستوں کا مددگارہے ‘ اگر چہ وہ دنیا میں لوگوں کی مدد کو ناپسند کرتےہیں۔

وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ ← يَا مُحَمَّدُ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ قُلْتُ آمِينَ ← أَتَانِي جِبْرِيلُ ← آمِينَ ثُمَّ ← آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً ثَالِثَةً ← آمِينَ ثُمَّ رَقِيَ عَتَبَةً أُخْرَى ← صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا رَقِيَ عَتَبَةً ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ أَبَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْبُخَارِيُّ بِبَغْدَادَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 409

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 410

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عَطَاءٍ عن عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُ أَبَاهُ فِي دَيْنٍ عَلَيْهِ فقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أنت ومالك لأبيك" 1.

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس نے اپنے والد کے ذمےلازم قرض کی وجہ سے اپنے والد کے ساتھ جھگڑا کیا تھا‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کی ملکیت ہے ‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں: ) اس کا مطلب یہ ہے : نبی اکرمﷺ نے اس شخص کو اس چیز سے منع کیا ہےکہ وہ باپ کے ساتھ اسا طرز عمل اختیار کرے جس طرح کو سلوک اجنبی لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے‘ اور نبی اکرمﷺ نے اسے اپنے والد کے ساتھ بھلائی کرنے اور زبان اور فعل کے حوالے سے نرمی کرنے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ آپ نے اس کے مال کو اس کے والد کے ساتھ ملا دیا ہے‘ اور آپ نے اس سے فرمایا: ’’تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کی ملکیت ہے ‘‘۔ لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ بیٹے کے مال کامالک باپ بن جاتا ہے ‘جبکہ بیٹا زندہ ہو اور بیٹے کی یہ خواہش بھی یہ ہو کہ (اس کا باپ اس کی مرضی کےبغیر اس مال کو استعمال کرے)

عَطَاءٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← حُصَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْمَرْوَزِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 410

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حَقِّ الْوَالِدَیْنِ · حديث 411

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إبراهيم عن حميد بن عبد الرحمنذكر الزَّجْرِ عَنِ السَّبَبِ الَّذِي يَسُبُّ الْمَرْءُ وَالِدَيْهِ بِهِ [411] أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ من الْکَبَائِرِ اَنْ یَّسُبَّ الرَّجُلُ وَالِدَیْہٖ قِیْلَ وَکَیْفَ یَسُبُّ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ قَالَ یَتَعَرَّضُ لِلنَّاسِ فَیَسُبُّ والدیہ ۔(109:2)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ ‘ روایت کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’کبیرہ گناہوں میں سے ایک چیز یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو برا کہے عرض کی گئی: کوئی شخص اپنے ماں باپ کو کیسے برا کہہ سکتا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ لوگوں کے ماں باپ کے در پے ہوتا ہے اور وہ اس کےماں با پ کو برا کہتے ہیں‘‘

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ من الْکَبَائِرِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ← السَّبَبِ الَّذِي يَسُبُّ الْمَرْءُ وَالِدَيْهِ بِهِ ← الزَّجْرِ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter on the right of parents · Hadith 411

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1724

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ" قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: "لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ"، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ"، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ: "لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ"، قَالَ: وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: "لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ"، قَالَ: فأدبر الرجل وهو يقول: وَاللہِ لَا اَزِیدُ عَلٰی ھٰذَا وَلَا اَنْقُصُ مِنْہُ شَیئًا ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ۔(2:1)

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ نجد سے تعلق رکھتا تھا اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی۔ وہ کیا کہہ رہا ہے یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوگیا۔ وہ اسلام کے بارے میں دریافت کر رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ دن اور رات میں پانچ نمازیں ادا کرنی ہیں۔ اس نے دریافت کیا کہ کیا ان (کے علاوہ کوئی اور نماز) بھی مجھ پر لازم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ البتہ تم نفل (نماز ادا کرلو تو یہ مناسب ہے) راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا (لازم ہیں) اس نے دریافت کیا کہ ان کے علاوہ (کوئی اور روزہ رکھنا) مجھ پر لازم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں البتہ اگر تم نفل (روزہ رکھ لو) تو یہ بہتر ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا تذکرہ کیا، تو اس نے یہی دریافت کیا کہ اس کے علاوہ کوئی اور ادائیگی بھی مجھ پر لازم ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں البتہ اگر تم نفلی طور پر (صدقہ دو تو یہ بہتر ہے) راوی بیان کرتے ہیں پھر وہ شخص یہ کہتے ہوئے چل دیا اللہ کی قسم! میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی چیز کی کمی کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر یہ سچ کہہ رہا ہے، تو یہ کامیاب ہوگا۔

أَبِيهِ ← عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1724

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1725

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خمس مرات" 1. [1: 2]

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ عَدِيٍّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1725

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1726

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِتُسْتَرَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ مَا تَقُولُونَ هَلْ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا قَالُوا لَا يَبْقَى من درنه شيء قال "ذلك مثل الصوات الخمس يمحو الله به الخطايا" 1. [1: 2]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ الْهَادِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِتُسْتَرَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1726

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1727

أخبرنا بْنِ سَلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ تَوَضَّأْتَ حِينَ اَقْبَلْتَ ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: صَلَّیْتَ مَعَنَا ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَاذْھَبْ فَاِنَّ اللہَ قَدْ غَفَرَلک۔

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے آپ مجھ پر حد قائم کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا۔ پھر نماز قائم کی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے مجھ پر اسے قائم کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ کیا جب تم آئے تھے، تو تم نے وضو کیا تھا۔ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت کردی ہے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1727

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1728

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ والأسود عن بن مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَخَذْتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ فَأَصَبْتُ مِنْهَا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَنْكِحْهَا فَافْعَلْ بِي مَا شِئْتَ فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَیْئًا ثُمَّ دَعَاہُ فَقَرَاَ عَلَیْہِ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ:( وَاَقِمِ الصَّلَاۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنْ اللَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ)( ھود 114)۔(2:1)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: میں نے ایک باغ میں ایک عورت کو پکڑ لیا اور میں نے اس کے ساتھ صحبت کرنے کے علاوہ ہر عمل کیا۔ اب آپ جو چاہیں میرے ساتھ سلوک کریں۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہیں کیا۔ آپ نے اسے بلایا اور اس کے سامنے اسے تلاوت کیا۔ "دن کے دونوں کناروں میں، رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) عرب بعض اوقات کسی چیز کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جس کا نام کئی اجزاء اور شعبوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پھر عرب ان اجزاء میں سے کسی ایک جزء کا ذکر ، اس پوری چیز کے نام سے کر دیتے ہیں، محظو رات کی تمام اقسام کے ارتکاب سے بندوں کو منع کیا گیا ہے۔ اور ان سب پر لفظ " معصیت" کا اطلاق ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک زنا ہے جو اپنے مرتکب پر حد کو واجب کردیتا ہے۔ اس کی کچھ اسباب ہیں، جو اس کی طرف لے جاتے ہیں، تو یہاں ایک سبب کا اطلاق پورے فعل پر کر دیا گیا ہے اور وہ سبب بوسہ لینا اور چھونا ہے، صحبت کرنا مراد نہیں ہے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← بن مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1728

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1729

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِالصُّغْدِ1، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عن ابن مَسْعُوْدٍ اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ اَنَّہٗ اَصَابَ مِنَ امْرَاَۃٍ قُبْلَۃً کَاَنَّہٗ یَسْاَلُ عَنْ کَفَّارَتِھَا فَاَنْزَلَ اللہُ جل وعلا:( وَاَقِمِ الصَّلَاۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنْ اللَّیْلِ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْریٰ لِلذَّاکِرِینَ)( ھود 114) قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: اَلِیْ ھٰذِہِ قَالَ: ھِیَ لمن عمل بھا من أمتی۔(2:1)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا کفارہ دریافت کرنا چاہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: "دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو بے شک نیکیاں گناہوں کوختم کر دیتی ہیں یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے نصیحت ہے"۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص نے دریافت کیا کہ کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میری امت کے ہر اس شخص کیلئے ہے، جو اس پر عمل کرے"۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبُو عُثْمَانَ ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1729

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1730

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَقِيتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ وَقَبَّلْتُهَا وَبَاشَرْتُهَا وَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا. فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جل وعلا: {وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَىِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [هود:114] قَالَ: فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ فَقَالُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بل للناس كافة" 1. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ایک باغ میں ایک عورت کو ملا اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا میں نے اس کا بوسہ لیا میں نے اس کے ساتھ مباشرت کی میں نے اس کے ساتھ ہر کام کیا لیکن میں نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ "دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو۔ بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں، تو یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے نصیحت ہے"۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس کے سامنے اسے تلاوت کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کہ کیا یہ حکم اس کیلئے خاص ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جی نہیں) بلکہ تمام لوگوں کیلئے ہے۔

رَجُلٌ: ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1730

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1731

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنِ بن مُحَيْرِيزٍ عَنِ الْمُخْدَجِيِّ1 - وَهُوَ أَبُو رُفَيْعٍ-، أَنَّهُ قَالَ لِعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ- رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ- يَزْعُمُ أَنَّ الْوِتْرَ حَقٌّ قَالَ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ جَاءَ بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ قَدْ أَكْمَلَهُنَّ لَمْ يَنْقُصْ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ" 2. [1: 2]

۔ ابو رفیع بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہا: اے ابو ولید! حضرت ابو محمدیہ انصار تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے، جو صحابی تھے وہ اس بات کے قائل ہیں: وتر لازم ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت نے کہا: ابو محمد نے یہ غلط کہا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، جو شخص پانچ نمازیں ادا کرتا ہے اور انہیں مکمل ادا کرتا ہے وہ ان کے حق میں کوئی کمی نہیں کرتا تو اللہ کی بارگاہ میں اس شخص کیلئے یہ عہد ہے، اللہ تعالیٰ اسے کوئی عذاب نہیں دے گا اور جو شخص انہیں ادا کرتا ہے، لیکن ان کے حق میں سے کسی چیز کی کمی کرتا ہے، تو ایسے شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے۔ اگروہ چاہے گا، تو اس پر رحم کرے گا اور اگر چاہے گا، تو اس کو عذاب دے گا۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو محمد نامی راوی کا نام مسعود بن زید بن سبیع انصاری ہے، یہ بنود ینار بن نجار سے تعلق رکھتے ہیں، یہ صحابی ہیں، انہوں نے شام میں سکونت اختیار کی تھی۔

الْمُخْدَجِيِّ1 وَهُوَ أَبُو رُفَيْعٍ-، ← بن محيريز ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1731

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4289

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، «أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ حضرت ابو عمروبن حفص بن مغیرہ کی اہلیہ تھیں انہوں نے اس خاتون کو تین طلاقیں دے دیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں: وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی اکرمﷺ سے اپنے گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا: تو نبی اکرم ﷺ نے اسے یہ ہدایت کی کہ وہ حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ جو نابینا ہیں ان کے ہاں منتقل ہو جائے۔

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4289

chevron_left Previous
1…444546…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr