Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4290

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ، فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكَ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا: «لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ»، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: «تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ حَيْثُ شِئْتِ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي»، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ»، قَالَتْ: فَكَرِهْتُ، ثُمَّ قَالَ: «انْكِحِي أُسَامَةَ»، فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت ابوعمرو بن حضص رضی اللہ عنہ انہیں طلاق بتہ دے دی وہ اس وقت (مدینہ منورہ) میں موجود نہیں تھے اور شام میں تھے انہوں نے اس خاتون کی طرف اپنے وکیل کو کچھ ”جو “ دے کر بھیجا اس خاتون نے اس وکیل پر ناراضگی کا اظہار کیا، تو اس وکیل نے کہا: اللہ کی قسم ! تمہارے لیے ہمارے ذمہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا: تمہیں خرچ دینا اس پر لازم نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ وہ سیّدہ ام شریک رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت بسر کرے پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ تو ایک ایسی خاتون ہیں جس کے ہاں میرے اصحاب آتے جاتے رہتے ہیں تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت بسر کرو، کیونکہ وہ نابینا شخص ہے تم جہاں چاہو اپنی چادر وغیرہ اتار سکتی ہو جب تمہاری عدت ختم ہو جائے ، تو تم مجھے اطلاع دے دینا وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب میری عدت پوری ہو گئی تو میں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کی کہ حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا جہاں تک ابو جہم کا تعلق ہے، تو وہ اپنی گردن سے عصا کو رکھتا نہیں ہے اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے، تو وہ کنگال شخص ہے اس کے پاس مال نہیں ہے تم اسامہ بن زید کے ساتھ شادی کر لو وہ خاتون کہتی ہیں: مجھے یہ بات پسند نہیں آئی پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسامہ کے ساتھ شادی کر لو تو میں نے ان ک ساتھ شادی کر لی اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی بھلائی رکھی کہ مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4290

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4291

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لَيْسَ لَهَا سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةٌ»

سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جس عورت کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں اسے رہائش اور خرچ نہیں ملے گا“۔

«الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا لَيْسَ لَهَا سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةٌ» ← النَّبِيِّ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4291

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4292

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانَ، وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ، فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي، فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَنْزِلٍ يَمْلِكُهُ، وَلَا نَفَقَةَ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»، فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ، أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، دَعَانِي، أَوْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ قُلْتِ؟ »، قَالَتْ: فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، فَقَالَ: «امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ»، قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَاتَّبَعَهُ، وَقَضَى بِهِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، «وَالْقَدُومُ: مَوْضِعٌ بِالْحِجَازِ، وَهُوَ الْمَوْضِعُ الَّذِي رُوِيَ فِي بَعْضُ الْأَخْبَارِ: أَنَّ إِبْرَاهِيمَ اخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ»

سیّدہ زینب بنت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیّدہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا جو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں انہوں نے اس خاتون کو بتایا کہ وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپﷺ سے یہ درخواست کی کہ وہ خاتون اپنے میکے بنو خدرہ میں منتقل ہو جائے، کیونکہ ان کا شوہر اپنے کچھ مفرور غلاموں کی تلاش میں نکلا تھا اور طرف قدوم کے مقام پر اس نے ان غلاموں کو پکڑ لیا تھا اور ان غلاموں نے اس قتل کر دیا تھا وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ سے یہ سوال کیا کہ میں اپنے میکے واپس چلی جاتی ہوں کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے کوئی ایسا گھر نہیں چھوڑا جس کا وہ مالک ہو اور نہ ہی خرچ کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ٹھیک ہے میں وہاں سے روانہ ہوئی ابھی میں حجرے میں ہی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) مسجد میں ہی تھی کہ نبی اکرمﷺ نے مجھے بلایا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نبی اکرمﷺ نے میرے بارے میں حکم دیا، تو مجھے بلا کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم نے کیا بیان کیا تھا وہ خاتون کہتی ہیں میں نے نبی اکرمﷺ کو پورا واقعہ بیان کیا جو میں نے اپنے شوہر کی صورت حال کے بارے میں آپﷺ کو بتایا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھر میں ٹھہری رہو جب تک تمہاری عدت پوری نہیں ہو جاتی۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں، تو میں نے اس گھر میں چار ماہ دس دن تک عدت گزاری۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہا (کا عہد خلافت آیا) انہوں نے مجھے پیغام بھیجا اور مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے اس کی پیروی کی اور اس کے مطابق فیصلہ لیا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) یہ روایت زہری کے حوالے سے امام مالک نے نقل کی ہے اور ”قدوم “ حجاز میں ایک جگہ کا نام ہے یہ وہ جگہ ہے، جس کے بارے میں بعض روایات میں یہ بات منقول ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قدوم کے مقام پر ختنہ کیا تھا۔

سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4292

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4293

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّتَهُ زَيْنَبَ، تُحَدِّثُ عَنْ فُرَيْعَةَ، أَنَّ زَوْجَهَا كَانَ فِي قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْمَدِينَةِ، وَأَنَّهُ تَبَعَ أَعْلَاجًا، فَقَتَلُوهُ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتِ الْوَحْشَةِ، وَذَكَرَتْ [ص:130] أَنَّهَا فِي مَنْزِلٍ لَيْسَ لَهَا، وَأَنَّهَا اسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ تَأْتِيَ إِخْوَتَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَأَذِنَ لَهَا، ثُمَّ أَعَادَهَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا: «امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي جَاءَ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ»

سیّدہ فریعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان کے شوہر مدینہ منورہ کے کسی دیہات میں تھے وہ اپنے (کچھ مفرور) غلاموں کے پیچھے گئے ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا وہ خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آبادی سے دور رہنے کی وجہ سے) اپنی وحشت کا تذکرہ کیا اس خاتون نے یہ بات ذکر کی کہ وہ ایک ایسے گھر میں رہتی ہے، جو اس کی ملکیت نہیں ہے۔ اس خاتون نے نبی اکرمﷺ سے یہ اجازت مانگی کہ وہ مدینہ منورہ میں اپنے بھائیوں کے ہاں آ جائے، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے اجازت دے دی پھر نبی اکرمﷺ نے اسے صورت حال دہرانے کے لیے کہا پھر آپﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا: تم اپنے اس گھر میں ٹھہری رہو جہاں اس کے انتقال کی اطلاع آئی تھی اس وقت تک جب تک تمہاری عدت پوری نہیں ہو جاتی۔

سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4293

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4294

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ، كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيَّ، أَنِ ادْخُلْ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ، فَاسْأَلْهَا عَمَّا أَفْتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَمْلِهَا، قَالَ: فَدَخَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَهَا، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَوَلَدَتْ قَبْلَ أَنْ يَمْضِيَ لَهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ مِنْ وَفَاةِ بَعْلِهَا، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا، دَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ فَرَآهَا مُتَجَمِّلَةً، [ص:131] فَقَالَ لَهَا: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ النِّكَاحَ قَبْلَ أَنْ يَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٍ، قَالَتْ: فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ أَبِي السَّنَابِلِ، جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ، وَاسْتَفْتَيْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ حَلَلْتِ حِينَ وَضَعْتِ حَمْلَكِ»

عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ کو خط لکھا کہ تم سیّدہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے اس بارے میں دریافت کرو جو نبی اکرمﷺ نے ان کے حمل کے بارے میں فتویٰ دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں ، تو عمر بن عبداللہ وہاں گئے انہوں نے اس خاتون سے دریافت کیا: تو اس خاتون نے انہیں بتایا کہ وہ حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہا ۔۔۔۔ تھیں جو نبی اکرمﷺ کے صحابی تھے جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ان کا انتقال حجۃ الوداع کے موقع پر ہو گیا تو اس خاتون نے اپنے شوہر کے انتقال کے چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی بچے کو جنم دے دیا جب وہ نفاس سے پاک ہو گئی تو بنو عبدالدار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب ابو سنابل بن بعکک ان کے پاس آئے انہوں نے اس خاتون کو بنے سنورے دیکھا تو اس خاتون سے کہا شاید تم چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہو۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب میں نے ابونابل کی زبانی یہ بات سنی تو میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے آپﷺ کو یہ بات بتائی اور مسئلہ دریافت کیا: تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب تم نے بچے کو جنم دیا تھا تو اس وقت تمہاری عدت ختم ہو گئی تھی۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4294

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4295

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «آخِرَ الْأَجَلَيْنِ»، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَقُلْتُ: أَمَا قَالَ اللَّهُ: {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: 4]، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي» - يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ - فَأَرْسَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ كُرَيْبًا إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْأَلَهُنَّ، هَلْ سَمِعْتُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ سُنَّةً؟، فَأَرْسَلْنَ إِلَيْهِ «أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

ابو سلمہ بیان کرتے ہیں: حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا گیا: جو اپنے شوہر کے انتقال کے چالیس دن بعد بچے کو جنم دے دیتی ہے، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دونوں طرح کی عدت میں سے جو بعد میں پوری ہو گی وہ اس کے مطابق عدت گزارے گی۔ ابو سلمہ کہتے ہیں میں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے۔ ”حمل والی عورتوں کی عدت اس وقت ختم ہو گی جب وہ بچے کو جنم دے دیں “۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنے بھتیجے یعنی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کریب کو نبی اکرم ﷺ کی ازواج کی طرف بھجوایا تا کہ وہ ان سے س بارے میں دریافت کریں کہ کیا آپ نے اس بارے میں نبی اکرمﷺ کی زبانی کوئی حدیث سن رکھی ہے، تو ان ازواج نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہعنہ کو یہ جواب بھجوایا کہ سیّدہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے چالیس دن بعد بچے کو جنم دیا تھا تو نبی اکرمﷺ نے (چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے ہی) ان کی شادر کروا دی تھی۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← اللَّهُ: {وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ} [الطلاق: ← أَبُو سَلَمَةَ: فَقُلْتُ: أَمَا ← ابْنُ عَبَّاسٍ: «آخِرَ الْأَجَلَيْنِ»، ← امْرَأَةٍ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ← سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4295

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4296

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تَنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «آخِرَ الْأَجَلَيْنِ»، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِذَا نُفِسَتْ فَقَدْ حَلَّتْ، قَالَ: فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي - يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ - فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمْ، فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا: «قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي»

سیلمان بن یسار بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کے درمیان ایسی خاتون کے بارے میں اختلاف ہو گیا جو اپنے شوہر کے انتقال کے کچھ دن بعد بچے کو جنم دے دیتی ہے، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو عدت بعد میں ختم ہوگی (وہ عورت اس کے مطابق عدت گزارے گی) ابو سلمہ نے کہا: جیسے ہی وہ نفاس والی ہو گی (یعنی بچے کو جنم دے گی) تو وہ حلال ہو جائے گی (یعنی اس کی عدت ختم شمار ہو گی) راوی بیان کرتے ہیں: اسی دوران حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے انہوں نے فرمایا: میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہوں یعنی ابو سلمہ کے ساتھ ہوں ان لوگوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے غلام کریب کو سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا جو نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں اس نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا: اور پھر ان حضرات کے پاس واپس آ کر انہیں یہ بتایا کہ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے: سبیعہ اسلمیہ نامی عورت نے اپنے شوہر کے انتقال کے کچھ دن بعد بچے کو جنم دیا اس خاتون نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا، تو نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا: تمہاری عدت ختم ہو گئی ہے تم (دوسرا ) نکاح کر لو۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4296

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3657

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ (1) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرتے تھے ( راوی خاتون کہتی ہیں) میں نے دریافت کیا: کون سے دن میں ، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ کون سا دن ہے۔

لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ؟ ← عَائِشَةَ ← مُعَاذَةَ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3657

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3658

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عياض عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ:۔ اَتَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَاَلْتُہُ عَنِ الصَّوْمِ ، فَقَالَ صُمْ : یَوْمًا مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ وَّلَکَ اَجْرُ مَابِقِیَ ،قُلْتُ : اِنِّیْ اُطِیقُ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ ، قَالَ : صُمْ یَوْمَیْنِ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ وَّلَکَ اَجْرُمَا بَقِیَ ، قُلْتُ : اِنِّیْ اُطِیقُ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ ، قَالَ : صُمْ ثَلَاثَۃُ اَیَّامٍ مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ وَّلَکَ اَجْرُ مَا بِقِیَ ، قُلْتُ : اِنِّیْ اُطِیقُ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ ، قَالَ : اِنَّ اَحَبَّ الصِّیَامِ اِلَی اللہِ صَوْمُ دَاوُدَ ، وَکَانَ یَصُومُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : صُمْ یَوْمًا مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ وَّلَکَ اَجْرُ مَا بَقِیَ یُرِیدُ اَجْرَمَا بَقِیَ مِنَ الْعِشْرِیْنِ ،وَکَذٰلِکَ فِی الثَّلَاثِ اِذْ مُحَالٌ اَنَّ کَدَّہُ کُلَّمَا کَثُرَ کَانَ اَنْقُصَ لِاَجْرِہٖ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں نے آپ سے روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا: تو آپ نے فرمایا: تم ہر مہینے میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں باقی کا اجر مل جائے گا۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لو تمہیں باقی کا اجر مل جائے گا۔ میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزہ رکھنے کا سب سے پسندیدہ طریقہ حضرت داود علیہ السلام کا طریقہ ہے وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " تم ہر مہینے میں ایک دن روزہ رکھ لو تم کو باقی کا اجر مل جائے گا۔" اس سے مراد یہ ہے : تیس دنوں میں جو باقی رہ جائے گا اس کا اجر مل جائے گا اور ان کا بھی اس طرح حکم ہو گا کیونکہ یہ بات ممکن نہیں ہے کہ آدمی کی محنت جیسے، جیسے زیادہ ہوتی جائے اس کا اجر اتنا ہی کم ہوتا جائے۔

الصوم ← أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّه فَسَأَلْتُهُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عِيَاضٍ، ← زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3658

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3659

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا نَزَلُوا وَوُضِعَتِ (2) السَّفَرَةُ بَعَثُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَلَمَّا كَادُوا أَنْ يَفْرُغُوا، جَاءَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِهِمْ، فَقَالَ: مَا تنظرون إلي قد وَاللہِ اَخْبَرَنِیْ اَنَّہٗ صَائِمٌ ، فَقَالَ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ ، صَدَقَ ، سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ : مَنْ صَامَ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ فَقَدْ صَامَ الشَّھْرَ کُلَّہُ ، وَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ ، وَاِنِّی الشَّھْرَ کُلَّہُ صَائِمٌ ، وَوَجَدْتُّ تَصْدِیقَ ذٰلِکَ فِیْ کِتَابِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا ( مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ اَمْثَالِھَا الأنعام:160)

ابو عثمان بیان کرتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ سفر کر رہے تھے جب ان لوگوں نے پڑاو کیا اور دسترخوان بچھا دیا گیا، تو لوگوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ کو بلانے کے لئے کسی کی بھیجا وہ اس وقت نماز ادا کر رہےتھے۔ انہوں نے بتایا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے جب وہ لوگ کھانے سے فارغ ہو گئے تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ تشریف لے آئے۔ انہوں نے کھانا شروع کر دیا۔ لوگوں نے اپنے پیغام رساں کی طرف بھیجا۔ اس نے کہا: آپ لوگ میری طرف کیا دیکھ رہے ہیں اللہ کی قسم! انہوں نے، تو مجھے یہ کہا تھا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: اس نے سچ کہا تھا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " جو شخص ہر مہینے کے تین روزےرکھ لے، تو یہ پورا مہینہ روزے رکھنے کے برابر ہیں"۔ تو میں ہر مہینے کے تین روزے رکھتا اس طرح میں پورا مہینہ روزہ رکھ لیتا ہوں اور میں نے اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بھی پائی ہے(ارشاد باری تعالیٰ ہے) "جس شخص نے ایک نیکی کی، تو اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا"۔

أَبِي عُثْمَانَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3659

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3660

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَقُولُ: وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ، وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ، فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قُلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ، صُمْ، وَاَفْطِرْ ، وَنَمْ وَقُمْ ، وَصُمْ مِنَ الشَّھْرِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ فَاِنَّ الْحَسَنَۃَ بَعَشْرِ اَمْثَالِھَا ، وَذٰلِکَ مِثْلُ صِیَامِ الدَّھْرِ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کو یہ بات بتائی گئی کہ میں یہ کہتا ہوں: اللہ کی قسم! میں جب تک زندہ رہا روزانہ روزہ رکھا کروں گا اور روزانہ رات کے وقت نفل پڑھتا رہوں گا، میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں نے یہ بات کہی ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس کی استطاعت نہیں رکھ سکو گے تم روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو۔ سو بھی جایا کرو اور نفل بھی پڑھ لیا کرو۔ ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے تو یہ پورا مہینہ روزے رکھنے کے مترادف ہو گا۔

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3660

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3661

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ، فَنُقِضَ، ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَأُعِيدَ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: "إِنَّهَا أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ، وَإِنِّي خَرَجْتُ لِأُبِينَهَا لَكُمْ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ فَنُسِّيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ". قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، فَأَيُّ لَيْلَةٍ التَّاسِعَةُ وَالسَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ، قَالَ: إِذَا كَانَ لَيْلَةُ وَاحِدٍ وَعِشْرِينَ ثُمَّ دَعْ لَيْلَةً، ثُمَّ الَّتِي تَلِيهَا هِيَ السَّابِعَةُ، ثُمَّ دَعْ لَيْلَةً وَالَّتِي تَلِيهَا هِيَ الْخَامِسَةُ. قَالَ الْجُرَيْرِيُّ: وَحَدَّثَنِي أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: والثالثة (1) . قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : الْاَمْرُ بِالْتِمَاسِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ فِی اللَّیَالِی الْمَعْلوْمَۃِ الْمَذْکُورَۃِ فِی الْخَبَرِ اَمُرُ نَفْلٍ ، اُمِرَ مِنْ اَجْلِ سَبَبٍ ، وَھُوَ مُصَادَفَۃُ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ، فَمَتٰی صُودِفَتْ فِیْ اِحْدَی اللَّیَالِی الْمَذْکُورَۃِ سَقَطَ عَنْہُ طَلَبُھَا فِیْ سَائِرِ اللَّیَالِی

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا آپ شب قدر تلاش کر رہے تھے پھر آپ کے حکم کے تحت خیمے کو اتار لیا گیا۔ پھر نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ بات واضح ہوئی کہ شب قدر آخری عشرے میں ہوگی، تو آپ کے حکم کے تحت دوبارہ خیمہ لگا دیا گیا۔ آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا: میرے لیے شب قدر کے بارے میں یہ خیمہ لگایا گیا تھا میں اس لیے باہر آیا تھا کہ تمہیں اس کے بارے میں بتاوں ، لیکن دو آدمی آپس میں بحث کر رہے تھے ، تو یہ مجھے بھلا دی گئی، تو اسے نویں، ساتویں، اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے (حضرت) ابو سعید( رضی اللہ عنہہ)! آپ گنتی کے بارے میں ہم سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ نویں، ساتویں اور پانچویں رات سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جب اکیسویں رات ہو گی، تو پھر ایک رات کو چھوڑ دو۔ پھر اس کے بعد والی رات ہو گی، تو وہ ساتویں ہو گی۔ پھر تم ایک رات کو چھوڑ دو، تو اس بعد والی پانچویں ہو گی۔ جریری نامی راوی کہتے ہیں: ایک اور سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم ﷺ نے یہ لفظ بھی ارشاد فرمائے تھے: "تیسری رات میں"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : اس روایت میں مذکور متعین راتوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کا حکم نفل حکم ہے ۔ اور یہ حکم سبب کی وجہ سے دیا گیا ہے اور وہ (سبب ) شب قدر کا ملنا ہے۔ تو ان مذکورہ راتوں میں سے جب بھی شب قدر آ جائے تو باقی راتوں میں اسے تلاش کرنے کا حکم آدمی سے ساقط ہو جائے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3661

chevron_left Previous
1…454647…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr