صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْعِدَّةِ · حديث 4290
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ، فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكَ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا: «لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ»، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: «تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ حَيْثُ شِئْتِ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي»، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ»، قَالَتْ: فَكَرِهْتُ، ثُمَّ قَالَ: «انْكِحِي أُسَامَةَ»، فَنَكَحْتُهُ، فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ
سیّدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: حضرت ابوعمرو بن حضص رضی اللہ عنہ انہیں طلاق بتہ دے دی وہ اس وقت (مدینہ منورہ) میں موجود نہیں تھے اور شام میں تھے انہوں نے اس خاتون کی طرف اپنے وکیل کو کچھ ”جو “ دے کر بھیجا اس خاتون نے اس وکیل پر ناراضگی کا اظہار کیا، تو اس وکیل نے کہا: اللہ کی قسم ! تمہارے لیے ہمارے ذمہ اور کوئی چیز نہیں ہے۔ وہ خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا: تمہیں خرچ دینا اس پر لازم نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ وہ سیّدہ ام شریک رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت بسر کرے پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ تو ایک ایسی خاتون ہیں جس کے ہاں میرے اصحاب آتے جاتے رہتے ہیں تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت بسر کرو، کیونکہ وہ نابینا شخص ہے تم جہاں چاہو اپنی چادر وغیرہ اتار سکتی ہو جب تمہاری عدت ختم ہو جائے ، تو تم مجھے اطلاع دے دینا وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب میری عدت پوری ہو گئی تو میں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کی کہ حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو جہم رضی اللہ عنہ نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا جہاں تک ابو جہم کا تعلق ہے، تو وہ اپنی گردن سے عصا کو رکھتا نہیں ہے اور جہاں تک معاویہ کا تعلق ہے، تو وہ کنگال شخص ہے اس کے پاس مال نہیں ہے تم اسامہ بن زید کے ساتھ شادی کر لو وہ خاتون کہتی ہیں: مجھے یہ بات پسند نہیں آئی پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسامہ کے ساتھ شادی کر لو تو میں نے ان ک ساتھ شادی کر لی اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی بھلائی رکھی کہ مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔
فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،
Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The section of the kit · Hadith 4290
