Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْأَمَلِ · حديث 2997

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي السَّفَرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَرَّ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُصْلِحُ خُصًّا لَنَا فَقَالَ: "مَا هَذَا؟ " فَقُلْنَا: خُصٌّ لَنَا وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا أَرَى الْأَمْرَ إلا أعجل من ذلك" 1. [62:2]

حضرت عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس سے گزرے ہم اس وقت اپنا چھپر درست کر رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کی: یہ ہمارا چھپر ہے اور ہم اسے ٹھیک کر رہے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں یہ سمجھتا ہوں قیامت اس سے بھی زیادہ جلدی آجائے گی۔

"مَا هَذَا؟ فَقُلْنَا: خُصٌّ لَنَا وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ ← مَرَّ بِنَا النَّبِيُّ وَنَحْنُ نُصْلِحُ خُصًّا لَنَا ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي السَّفَرِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in hope · Hadith 2997

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الْأَمَلِ · حديث 2998

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ1 عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ" وَوَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ قَفَاهُ ثُمَّ بسط يده فقال: "وثم اَمَلُہٗ وَثَمَّ اَمَلُہُ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " یہ آدم کا بیٹا ہے اور یہ اس کی موت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اپنی گدی پر رکھا اور پھر اپنے ہاتھ کو آگےلائے آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اور یہاں اس کی امید ہے اور یہاں اس کی امید ہے۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in hope · Hadith 2998

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي تَمَنِّي الْمَوْتِ · حديث 2999

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 قَالَ: أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ ثُمَّ ذَكَرَ مَنْ مَضَى مِنْ أَصْحَابِهِ أَنَّهُمْ مَضَوْا لَمْ يَأْكُلُوا مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَإِنَّمَا بَقِينَا بَعْدَهُمْ حَتَّى نِلْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا لَا يَدْرِي أَحَدُنَا مَا يَصْنَعُ بِهِ إِلَّا أَنْ يُنْفِقَهُ فِي التُّرَابِ3 وَإِنَّ الْمُسْلِمَ لَيُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا نَفَقَتَهُ فِی التُّرَابِ

قیس بن ابو حازم بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت خباب رضی اللہ عنہہ کی عیادت کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگوائے تھے۔ انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی اگر نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع نہ کیا ہوتا کہ ہم موت کی دعا کریں، تو میں اس کے لیے دعا کرتا پھر انہوں نے اپنے (دنیا سے) رخصت ہو جانے والے ساتھیوں کا ذکر کیا کہ یہ حضرات تشریف لے گئے اور انہوں نے اپنے اجر میں سے (دنیاوی فائدے کے طور پر) کچھ بھی نہیں پایا اور ان کے بعد ہم باقی رہ گئے اور ہم نے دنیا بھی حاصل کی ہم میں سے کسی ایک کو یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ اس کے ساتھ کیا کرے؟ سوائے اس کے کہ وہ اس (مال و دولت کو) مٹی میں خرچ کرے (یعنی تعمیرات کرے) اورمسلمان کو اس کی ہر چیز میں اجر دیا جائے گا، سوائے اس چیز کے، جو اس نے مٹی میں خرچ کیا ہو( یعنی تعمیرات پر خرچ کیا ہو)

أَتَيْنَا خَبَّابًا نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ سَبْعًا وَقَالَ: لَوْلَا ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on wishing for death · Hadith 2999

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي تَمَنِّي الْمَوْتِ · حديث 3000

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سعد2 عن بن شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ يَزْدَادُ خيرا وإما مسيئا فلعله يستعتب" 3. [43:2]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " تم میں سے کوئی بھی شخص موت کی آرزو ہر گز نہ کرے، کیونکہ اگر وہ نیک ہوگا ، تو ہو سکتا ہے اس کی بھلائی میں اضافہ ہو اور اگر وہ گنہگار ہو گا ، تو ہو سکتا ہے وہ تو یہ کر لے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن شِهَابٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on wishing for death · Hadith 3000

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي تَمَنِّي الْمَوْتِ · حديث 3001

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا یَتَمَنَّیَنَّ اَحَدُکُمْ الْمَوْتَ لِضُرِّ نَزَلَ بِہٖ ، فَاِنْ کَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّیًا ، فَلْیَقُلِ : اللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی ، وَتَوَفَّنِیْ مَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِی

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تم میں سے کوئی بھی شخص کسی پیش آنے والی پریشانی کی وجہ سے موت کی آرزو ہر گز نہ کرے، اگر اس نے ضرور یہ آرزو کرنی ہو، تو پھی وہ یہ کہے: اے اللہ!جب تک زند گی میرے حق میں بہتر ہو، تو مجھے زند ہ رکھ اور جب موت میرے حق میں بہتر ہو، تو مجھے موت دے دینا۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on wishing for death · Hadith 3001

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فصل في المحتضر قراءة سورة "يس" على من حضرته المنية · حديث 3002

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "اقرؤوا على موتاكم يس" 1. [102:1] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہُ : اقْرَاءُ عاعَلٰی مَوْتَاکُمْ یس ، اَرَادَ بِہٖ مَنْ حَضَرَتْہُ الْمَنِیَّۃُ لَا اَنَّ الْمَیِّتَ یُقْرَاُ عَلَیْہِ وَکَذٰلِکَ قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ

حضرت معقل بن یساررضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اپنے قریب المرگ لوگوں پر سورۃ یسٰین کی تلات کرو۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان"تم اپنے مردوں پر اسے پڑھو، اس سے مرادیہ ہے: جس شخص کا آخری وقت قریب آچکا ہو اس پر سورت یسٰین پڑھو، اس کی وجہ یہ ہے: مردوں پر تلاوت نہیں کی جاتی۔ اسی طرح نبی اکرم کا یہ فرمان:" تم اپنے مردوں کو لا الہٰ الا اللہ کی تلقین کرو" (یعنی قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کرو۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبُو عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← اَبُوْ بَکْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاھِلِیُّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended · Hadith 3002

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2357

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ، إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ» (1) . [1: 95]

حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جمائی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے‘ جب کسی شخص کو جمائی آئے‘ تو جہاں تک ہو سکے اسے روکنے کی کوشش کرے۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2357

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2358

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ، أَوْ لِيَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ، فَإِنَّهُ إِذَا تَثَاءَبَ فَقَالَ: آهْ، فَإِنَّمَا هُوَ الشَّيْطَانُ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ» (1) . [1: 29]

حضرت ابوہریرہؓ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ بیشک اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند کرتا ہے‘ تو جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے‘ تو جہاں تک ہو سکے وہ اس کو روکنے کی کوشش کرے یا پھر اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے‘ کیونکہ جب وہ جمائی لیتے ہوئے آہ کہتا ہے ‘ تو اس کے اندر شیطان ہنس رہا ہوتا ہے( جس کے نتیجہ میں یہ آواز آتی ہے)‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2358

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2359

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ التَّثَاؤُبَ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَكْظِمْ» (1) . [1: 95

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ نماز کے دوران جمائی کا آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے‘ جب کسی شخص کو یہ صورتحال محسوس ہو‘ تو وہ اسے روکنے کی کوشش کرے۔‘‘

«إِنَّ التَّثَاؤُبَ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَكْظِمْ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2359

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2360

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، [وَ] عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ» (1) . [1: 95]

حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جب کسی شخص کو جمائی آئے‘ تو وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے کیونکہ شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے۔‘‘

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ، [وَ] ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2360

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2361

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ جَدِّهِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُلْقِ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ عَصًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ» (1) . [1: 37] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ هَذَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، رَوَى عَنْهُ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، وَابْنُهُ أَبُو مُحَمَّدٍ، يَرْوِي عَنْ جَدِّهِ، وَلَيْسَ هَذَا بِعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْمَخْزُومِيِّ، ذَلِكَ لَهُ صُحْبَةٌ، وَهَذَا عَمْرُو بْنُ حُرَيْثِ بْنِ عُمَارَةَ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ، سَمِعَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ جَدَّهُ حُرَيْثَ بْنَ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» (1) .

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: حضرت ابوالقاسم ﷺ نے ارشار فرمایا ہے: ’’ جب کوئی شخص نماز ادا کرے تو اسے اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لینی چاہئے اگر اسے کوئی چیز نہیں ملتی‘ تو اپنا عصاء رکھ لے اگر عصاء بھی نہیں ملتا تو پھر ایک لکیر کھینچ لے اس کے دوسری طرف سے گزرنے والا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔‘‘ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) عمرو بن حریث نامی یہ راوہ اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والا بزرگ ہے اس کے حوالے سے سعید مقبری نے اور اس کے بیٹے ابو محمود نےروایات نقل کی ہیں اس نے اپنے دادا کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں اور یہ عمروبن حریث مخزومی نہیں ہے کیونکہ وہ صحابی ہیں یہ عمرو بن حریث بن عمار ہے جس کا تعلق بنو عذرہ سے ہے۔ ابو محمد عمرو بن حریث نے اپنے دادا حریث بن عمارہؓ کے حوالے سے حضرت ابوہریرہؓ سے احادیث کا سماع کیا ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← جَدِّهِ، ← أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2361

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2362

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُصَلِّ (2) إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ، وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنْ أَبَى فَلْتُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ» (1) . [3: 61]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ تم صرف کسی سترہ کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرواور کسی شخص کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دو، اگر وہ نہیں مانتے تو تم اس کے ساتھ جھگڑا کرو کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔‘‘

ابْنِ عُمَرَ ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2362

chevron_left Previous
1…414243…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr