Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3643

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ الغاز (1) اَنَّہٗ سَاَلَ عَائِشَۃَ عَنْ صِیَامِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّہُ حَتّٰی یَصِلَہُ بِرَمَضَانَ ، وَکَانَ یَتَحَرَّی صِیَامِ اِلاثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ

ربیعہ بن غاز بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم ﷺ نے (نفلی )روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا: تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم ﷺ شعبان کا تقریباً پورا مہینہ ہی نفلی روزے رکھتے تھے، یہاں تک کہ آپ اسےرمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے، البتہ آپ اہتمام کے ساتھ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔

کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّہُ حَتّٰی یَصِلَہُ بِرَمَضَانَ وَکَانَ یَتَحَرَّی صِیَامِ اِلاثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ ← صِیَامِ رَسُوْلُ اللہِ ← رَبِيعَةُ بْنُ الغاز اَنَّہٗ سَاَلَ عَائِشَۃَ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3643

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3644

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى التَّمِيمِيُّ بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: تُفْتَحُ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ کُلَّ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ ، وَتُعْرَضُ الْاَعْمَالُ فِیْ کُلِّ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر پیر اور جمعرات کے دن ( لوگوں کے ) اعمال ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) پیش کئے جاتے ہیں"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَرْعَرَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى التَّمِيمِيُّ بِالْمَوْصِلِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3644

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3645

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْخُلْقَانِيُّ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ اَبِیَ ، یَقُوْلُ : اَخْبَرَنَا اَبُوْ حَمْزَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُومُ مِنْ غَرَّۃِ کُلِّ شَھْرِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامِ ، وَقَلَّمَا یُفْطِرُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ہر مہینے کے چمکدار دنوں میں تین روزے رکھا کرتے تھے اور بہت کم ایسا ہوتا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْخُلْقَانِيُّ بِمَرْوَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3645

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3646

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عن كريب مولى بن عباس، قال: أرسلني بن عَبَّاسٍ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَسْأَلَهَا: أَيُّ الْأَيَّامِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُهَا صَوْمًا؟ فَقَالَتْ: يَوْمُ السَّبْتِ وَيَوْمُ الْأَحَدِ، فَأَتَيْتُهُمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيَّ، فَظُنُّوا أَنِّي لم أحفظ فَرَدُّونِی ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذٰلِکَ ، فَاَخْبَرْتُھُمْ فَقَامُوْا بِاَجْمَعِھِمْ ، فَقَالُوا : اِنَّا اَرْسَلْنَا اِلَیْکِ فِیْ کَذَا وَکَذَا ، فَزَعَمَ اَنَّکِ قُلْتِ کَذَا وَکَذَا ، فَقَالَتْ : صَدَقَ ، کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُومُ یَوْمَ السَّبْتِ وَیَوْمَ الْاَحَدِ اَکْثَرَ مَا کَانَ یَصُومُ مِنَ الْاَیَّامِ ، وَیَقُوْلُ : اِنَّھُمَا عِیْدَانِ لِلْمُشْرِکِیْنَ ، فَاُحِبُّ اَنْ اُخَالِفَھُمُ

کریب بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور نبی اکرم ﷺ کے چند دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے مجھے نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بھیجا ، تا کہ میں ان سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم ﷺ زیادہ کون سے دن میں روزہ رکھتے تھے، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ہفتہ کے دن اور اتوار کے دن میں ان لوگو کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو انہوں نے میری اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید میں نے بات کو صحیح طرح سے یاد نہیں رکھا۔ انہوں نے دوبارہ مجھے بھیجا، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسی کی مانند جواب دیا میں نے ان لوگوں کو آ کر بتا یا ، تو وہ سب لوگ خود اٹھے اور ( سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے) انہوں نے بتایا : ہم نے اس مسئلے کےبارےمیں (اس شخص کو) آپ کی خدمت میں بھیجا تھا اس نے یہ بات بیان کی ہے کہ آپ نے یہ جواب دیا ہے، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے نبی اکرم ﷺ زیادہ تر ہفتے کے دن اور اتوار کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ آپ یہ فرماتے تھے: یہ دونوں مشرکین کے عید کےدن ہیں( وہ ان دنوں میں کھاتے پیتے ہیں) ، تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے برخلاف کروں۔

أرسلني بن عَبَّاسٍ ← كريب مولى بْنُ عَبَّاسٍ ← أَبِي ← عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3646

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3647

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ بِجُرْجَانَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَ عَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ؟ قَالَتْ: لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يستطيع (1) ؟

علقمہ بیان کرتے ہیں : میں نے اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: میں نے کہا: اے اُمّ المومنین! نبی اکرم ﷺ کا عمل کس طرح کا ہوتا تھا۔ کیا آپ کسی دن کو خاص کر لیتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں! نبی اکرم ﷺ کا عمل باقاعد گی سے ہوتا تھا اور تم میں سے کون شخص اس کی استطاعت رکھتا جس کی استطاعت نبی اکرم ﷺ رکھتے۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3647

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3648

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ (1) صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا منه في شعبان (2) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ ( نفلی ) روزے رکھا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ آپ کوئی نفلی روزہ ترک نہیں کریں گے اور بعض اوقات آپ نفلی روزہ رکھنا چھوڑ دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ اب آپ کوئی نفلی روزے نہیں رکھیں گے۔ میں نے رمضان کے علاوہ کسی بھی مہینے میں نبی اکرم ﷺ کو شعبان سے زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3648

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2987

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدورقي حدثنا حجاج بن محمد عن بن جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ: "تَسْأَلُونِي 1 عَنِ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ يأتي عليها مائة سنة" 2. [42:3]

حضت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو وصال سے ایک ماہ پہلے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: تم لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہو اس کا علم اللہ کے پاس ہے اور میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ آج روئے زمین پر جو بھی شخص موجود ہے وہ آج سے ایک سو سال بعد زندہ نہیں ہو گا۔

قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ: "تَسْأَلُونِي ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the ages of this nation · Hadith 2987

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2988

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بن فضالة قال: سمعت الحسن1 يحدث عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَسْاَلُوْنِیْ عَنِ السَّاعَۃِ ، وَالَّذِی نَفْسِی بَیَدِہِ مَا عَلَی الْاَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَۃٌ یَاتِیْ عَلَیْھَا مَائَۃُ سَنَۃٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "تم لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہو اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس وقت روئے زمین پر موجود کوئی بھی زندہ شخص آج سے ایک سو سال بعد زندہ نہیں ہو گا۔"

تَسْاَلُوْنِیْ ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the ages of this nation · Hadith 2988

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2989

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بن عبد الرحيم البرقي حدثنا بن عُفَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنِ بن شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ1 أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ: "رَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ لَا يَبْقَى مِنْهَا مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أحد" 2. [39:3]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی حیات کے آخری دور میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جب آپﷺ نے سلام پھیرا، تو آپﷺ کھڑے ہوئے اور آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہیں اپنی اس آج کی رات کے بارے میں پتہ ہے؟ آج سے ٹھیک ایک سوسال بعد ایسا کوئی شخص باقی نہیں ہوگا ، جو اس وقت روئے زمین پر موجود ہے۔

بن شِهَابٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← بن عفير ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the ages of this nation · Hadith 2989

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2990

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا مِنْكُمْ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وهي حية" 1. [39:3]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی اکر مﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں "تم میں سے جو شخص بھی آج زندہ ہے ایک سو سال گزرنے کے بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہو گا۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the ages of this nation · Hadith 2990

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي أَعْمَارِ هَذِهِ الْأُمَّةِ · حديث 2991

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ عَنْ أَنَسِ1 بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "تَسْأَلُونَنِي عَنِ السَّاعَةِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ تأتي عليها مائة سنة" 2. [41:3]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: :"تم لو گ مجھ سے قیامت کے بارے میں دریافت کرتے ہو۔ اس ذات قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے آج روئے زمین پر موجود کوئی بھی زندہ شخص ایک سو سال کے بعد زندہ نہیں ہو گا۔"

"تَسْأَلُونَنِي ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the ages of this nation · Hadith 2991

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي ذِكْرِ الْمَوْتِ ذِكْرُ الْأَمْرِ لِلْمَرْءِ بِالْإِكْثَارِ مِنْ ذِكْرِ مُنَغِّصِ اللَّذَّاتِ نَسْأَلُ اللَّهَ بَرَكَةَ وُرُودِهِ · حديث 2992

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَيَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ قَالَا1: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَكْثِرُوا ذِكْرَ هاذم اللذات الموت" 2. [63:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "لذتوں کو ختم کرنے والی چیز موت کو کثرت سے یاد کرو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَيَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ سُلَيْمَانَ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of · Hadith 2992

chevron_left Previous
1…394041…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr