Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1722

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الصَّلَاةُ". قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ ثُمَّ: "الصَّلَاةُ" قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: "ثُمَّ الصَّلَاةُ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: "ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" قَالَ: فَإِنَّ لِي وَالِدَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "آمُرُكَ بِوَالِدَيْكَ خَيْرًا"، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ نَبِيًّا لَأُجَاهِدَنَّ وَلَأَتْرُكَنَّهُمَا"1. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَأَنْتَ أعلم" 2. [1: 2]

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ سے سب سے افضل عمل کے بارے میں دریافت کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز، اس نے دریافت کیا پھر کون سا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر نماز۔ اس نے دریافت کیا: پھر کون سا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر نماز۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ اس نے دریافت کیا پھر کون سا پھر آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس نے عرض کی: میرے ماں باپ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: میں تمہیں ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی ہدایت کرتا ہوں۔ اس نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو نبی بنا کر مبعوث کیا ہے میں جہاد میں ضرور حصہ لوں گا اور میں ان ماں باپ کو چھوڑ دوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم زیادہ بہتر جانتے ہو۔

رَسُولُ اللَّهِ، "فَأَنْتَ أعلم" ← وَالَّذِي بَعَثَكَ نَبِيًّا لَأُجَاهِدَنَّ وَلَأَتْرُكَنَّهُمَا"1. ← رَسُولُ اللَّهِ "آمُرُكَ بِوَالِدَيْكَ خَيْرًا"، ← فَإِنَّ لِي وَالِدَيْنِ، ← ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ← ثُمَّ مَهْ؟ ← "ثُمَّ الصَّلَاةُ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ← ثُمَّ مَهْ؟ ← ثُمَّ: "الصَّلَاةُ" ← ثُمَّ مَهْ؟ ← رَسُولُ اللَّهِ "الصَّلَاةُ". ← أفضل الأعمال ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَسَأَلَهُ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← بن وَهْبٍ ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1722

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1723

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خيثم عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ أُعِيذُكَ بِاللَّهِ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلَاةُ قُرْبَانٌ وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيَّةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ وَالنَّاسُ غَادِيَانِ فَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ وَمُوبِقُهَا يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الجنة لحم نبت من سحت" 1. [1: 2]

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے کعب بن عجرہ! میں بیوقوفوں کی حکومت سے تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو شخص ان کے پاس جائے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور وہ حوض پر میرے پاس آسکے گا اور جو شخص ان کے پاس نہیں جائے گا ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا اس کا مجھ سے تعلق ہوگا اور میرا اس سے تعلق ہوگا اور وہ عنقریب حوض پر میرے پاس آئے گا اے کعب بن عجرہ! نماز قربت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ لوگ دو طرح کی حالت میں نکلتے ہیں آدمی اپنی ذات کا سودا کرتا ہے، تو یا تو اپنی گردن کو آزاد کروالیتا ہے یا غلام بنوا لیتا ہے۔ اے کعب بن عجرہ! ایسا گوشت جنت میں داخل نہیں ہوگا، جس کی نشو ونما حرام سے ہوتی ہو۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان "اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور میرا اس سے تعلق نہیں" اس سے آپ کی مراد یہ ہے، اس فعل اور اس عمل کے حوالے سے وہ میری مثل نہیں ہے اور میں اس کی مثل نہیں ہوں۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو اہل حجاز کے محاورے کے مطابق ہیں۔ آپ کا یہ فرمان "جنت میں ایسا گوشت داخل نہیں ہوگا جس کی نشوونما حرام سے ہوئی ہو" اس سے آپ کی مراد "مخصوص جنت" ہے جو دوسری قسم کی جنت کے علاوہ ہوگی، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت کئی قسم کی ہے۔ اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی مانند ہوگی۔ "زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ جنت میں داخل نہیں ہوگا، (والدین کا) نافرمان جنت میں داخل نہیں ہوگا، احسان جتانے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا"۔ اس سے مراد ایک (قسم کی) جنت کی بجائے (دوسری قسم کی) جنت ہے۔ یہ ایک طویل باب ہے اگر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دیا اور چاہا تو ہم اس کتاب (یعنی باب) کے بعد (آگے آنے والے کسی باب میں) اس کا ذکر کریں گے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خيثم ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1723

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4281

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَإِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، فَوَاللَّهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَيْهِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: لَوْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَإِنْ قَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ افْتَحْ، فَنَزَلَتْ: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ} [النور: 6]، هَؤُلَاءِ الْآيَاتُ فِي اللِّعَانِ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْرَأَتُهُ فَتَلَاعَنَا، فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ، وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، فَلَمَّا أَخَذَتِ امْرَأَتُهُ لِتَلْتَعِنَ، قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْ»، فَالْتَعَنَتْ، فَلَمَّا أَدْبَرَتْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «[ص:113] فَلَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا»، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا، قَالَ إِسْحَاقُ: قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قُلْتُ لِجَرِيرٍ: لَمْ يَرْوِ هَذَا عَنِ الْأَعْمَشِ أَحَدٌ غَيْرُكَ، قَالَ: «لَكِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات ہم نبی اکرمﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ کی مسجد میں موجود تھے ایک صاحب نے عرض کی: آپ لوگوں کی کیا رائے ہے ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے، تو اگر وہ اس دوسرے شخص کو قتل کر دیتا ہے، توآپ لوگ اس قتل کر دیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے، تو وہ ناراضگی کے عالم میں خاموش رہے گا (یا ایسی بات پر خاموش رہے گا، جس پر غصہ کیا جانا چاہئے) اللہ کی قسم! میں اس بارے میں نبی اکرمﷺ سے ضرور دریافت کروں گا اگلے دن وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: انہوں نے کہا : اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے، تو آپ لوگ قتل کر دیں گے اگر وہ یہ الزام عائد کرتا ہے، تو آپ لوگ اسے کوڑے لگائیں گے اور اگر وہ خاموش رہتا ہے، تو ایسی بات پر خاموش رہتا ہے، جس پر غصہ کرنا چاہئے پھر نبی اکرمﷺ نے (یا اس شخص نے) دعا کی اے اللہ! تو کشادگی عطا کر تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ”اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام عائد کرتے ہیں “۔ یہ آیات لعان کے بارے میں ہیں پھر وہ شخص اور اس کی بیوی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے لعان کیا اس مرد نےچار مرتبہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہا: اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو پھر اس عورت نے لعان کرنا چاہا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: ٹھہر جاؤ، لیکن اس عورت نے لعان کیا جب وہ چلی گئی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ہو سکتا ہے، یہ عورت سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کو جنم دے (راوی کہتے ہیں) تو اس عورت کے ہاں سیاہ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اسحاق نامی راوی کہتےہیں: یحییٰ بن معین نے یہ بات بیان کی ہے میں نے جریرسے کہا آپ کے علاوہ اور کسی نے یہ روایت اعمش کے حوالے سے نقل نہیں کی ہے، تو جریرنے کہا: میں نے تو ان سے یہ روایت سنی ہوئ ہے۔

كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4281

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4282

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہﷺ! آپ کی کیا رائے ہے، اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہوں ، تو کیا میں اس شخص کو مہلت دو ں گا تا کہ پہلے چار گواہ لے آؤں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی ہاں۔

لِرَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4282

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4283

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا يَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، [ص:115] أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا مَا ذِكْرُ فِي الْقُرْآنِ مِنَ الْمُتَلَاعِنِينَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ قُضِيَ فِيكَ، وَفِي امْرَأَتِكَ»، قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْسِكُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا، فَكَانَتْ سُنَّةٌ بَعْدُ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنِينَ، فَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا

حضر ت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ایسے شخص کے بارے میں آپﷺ کی کیا رائے ہے، جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے اور اسے مار دیتا ہے، تو آپ لوگ (بدلے میں) اسے قتل کر دیں گے ایسے شخص کو کیا کرنا چاہئے (راوی کہتےہیں) تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وہ چیز ذکر کی جو لعان کرنے والوں کے حوالے سے ہے، نبی اکرمﷺ نے اس شخص سے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا گیا ہے۔ راوی کہتےہیں، تو ان دونوں نے لعان کیا میں اس وقت نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! اگر اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے، تو اس شخص نے عورت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد یہ طریقہ روایت پا گیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کرو ا دری جاتی ہے وہ خاتون حاملہ تھیں اس شخص نے اس عورت کے حمل کا انکار کیا تھا تو اس خاتون کے بچے کو اس کی ماں کے حوالے سے بلایا جاتا تھا اس کے بعد میراث میں بھی یہ طریقہ جاری ہوا کہ وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا اور وہ عورت اس بچے کی وارث بنتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے اس کا حصہ مقرر کیا تھا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: ← الزُّهْرِيِّ، ← فُلَيْحٌ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4283

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4284

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلَانِيَّ [ص:116] جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ لَوَ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَسَأَلَ عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ، جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلُهُ عَنْهَا، فَجَاءَ عُوَيْمِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا»، فَقَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ انہ بیان کرتے ہیں: حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے انہوں نے ان سے کہا: اے عاصم اس بارے میں آ پ کی کیا رائے ہے، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور شخص کو پاتا ہے، تو اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے، تو آپ لوگ اسے قتل کر دیں گے تو اس شخص کو کیا کرنا چاہئے۔ اے عاصم آپ میرے لیے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرمﷺ نے اس نوعیت کے سوالات کو ناپسند یدہ اور اسے معیوب قرار دیا۔ یہ بات حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے لیے بڑی تکلیف دہ تھی جو انہوں نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی جب عاصم اپنے گھر واپس آئے، تو عویمر ان کے پاس آئے انہوں نے کہا: اے عاصم نبی اکرمﷺ نے تم سے کیا فرمایا تو عاصم نے عویمر سے کہا تم میرے پاس بھلائی لے کر نہیں آئے۔ نبی اکرمﷺ نے اس سوال کو ناپسندیدہ قرار دیا جس کے بارے میں ، میں نے آپﷺ سے دریافت کیا تھا، تو عویمر نے کہا: اللہ کی قسم ! میں باز نہیں آؤں گا، جب تک میں خود نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت نہیں کر لیتا پھر حضرت عویمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے نبی اکرم ﷺ اس وقت لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں حکم نازل ہو گیا ہے تم جاؤ اور اسے لے آؤ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تو ان دونوں نے لعان کیا میں لوگوں کے ہمراہ نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا جب وہ دونوں لعان کر کے فارغ ہو گئے ، تو حضرت عویمر نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے، تو نبی اکرمﷺ کے انہیں کچھ ہدایت کرنے سے پہلے ہی انہوں نے اس خاتون کو تین طلاقیں دے دیں۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4284

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4285

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَكَانَ سَيِّدُ بَنِي الْعَجْلَانِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقُولُونَ فِي رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ: سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَتَى عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَأَتَى عُوَيْمِرًا، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ [ص:118] الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَى عُوَيْمِرٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ»، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا بِمَا سَمَّى اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، قَالَ: فَلَاعَنَهَا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنْ حَبَسْتُهَا فَقَدْ ظَلَمْتُهَا، قَالَ: فَطَلَّقَهَا، وَكَانَتْ سُنَّةٌ لِمَنْ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلَاعِنِينَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ، أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ، عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحْرَةٌ فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا وَقَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا»، قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، قَالَ: فَكَانَ يُنْسَبُ بَعْدُ إِلَى أُمِّهِ

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ انہ بیان کرتے ہیں: حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ حضرت عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو بنو عجلان کے سردار تھے انہوں نے کہا: ایسے شخص کے بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور مرد کو پاتا ہے، تو اگر وہ اسے قتل کر دیتا ہے، تو آپ لوگ اس شخص کو قتل کر دیں گے تو پھر اس شخص کو کیا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا: آپ میرے لیے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کریں۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نےعرض کی: یا رسول اللہﷺ! ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایک اور شخص کو پاتا ہے، تو کیا وہ اسے قتل کر دے اس طرح تو آپ اسے قتل کر دیں گے تو پھر اس شخص کو کیا کرنا چاہئے۔ نبی اکرمﷺ نے اس سوال کو ناپسندیدہ قرار دیا اور اسے معیوب قرار دیا۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ حضر عویمررضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے کہا نبی اکرمﷺ نےاس سوال کو ناپسندیدہ اور معیوب قرار دیا ہے، تو حضرت عویمر نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گا، جب تک اس بارے میں نبی اکرمﷺ سے دریافت نہیں کر لیتا تو حضرت عویمر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیا: تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں (حکم) نازل کر دیا ہے، نبی اکرمﷺ نے ان دونوں (میاں بیوی) کو ہدایت کی تو ان دونوں نے لعان کیا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے اس عورت کے ساتھ لعان کر لیا، پھر اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اگر میں اب بھی اس عورت کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں، تو میں اس کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ہو جاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں، تو انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی۔ اس کے بعد لعان کرنے والوں میں یہ طریقہ رائج ہو گیا (کہ مرد آخر میں عورت کو طلاق دے دیتا ہے) راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس بات کا دھیان رکھنا اگر اس عورت نے کالے رنگ کے کالی آنکھوں والے بڑے سرین والے اور موٹی ایڑیوں والے بچے کو جنم دیا، تو میرااندازہ ہے، عویمر نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا ہو گا اور اگر اس نے سرخ رنگ کے بچے کو جنم دیا یوں جیسے وہ چھپکلی ہوتی ہے ، توپھر مجھے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ عویمر نے اس عورت کے بارے میں غلط بیانی کی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس عورت نے اس شکل و صورت کے بچے کو جنم دیا جس کے بارے میں نبی اکرمﷺ نے یہ بیان کیا تھا کہ اس صورت میں عویمر کا سچ ہونا ثابت ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد اس بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4285

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4286

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنِينَ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟، فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فِيهِ، فَقُمْتُ مَكَانِي إِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ قَائِلٌ، فَاسْتَأْذَنْتُهُ، [ص:120] فَقَالَ الْغُلَامُ: إِنَّهُ قَائِلٌ، فَقُلْتُ: مَا بُدَّ مِنْ أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْهِ فَسَمِعَ صَوْتِي، فَعَرَفَهُ، وَقَالَ: أَسَعِيدٌ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ادْخُلْ مَا جِئْتَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا لِحَاجَةٍ، فَدَخَلْتُ، وَهُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةَ رَحْلِهِ مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوهَا لِيفٌ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، الْمُتَلَاعِنَانِ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمْ يُجِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، «فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فَدَعَا الرَّجُلَ، فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ»، فَقَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، «ثُمَّ دَعَا بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ»، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، «فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنِ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لِمَنِ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضِبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا»

لعان کے اس طریقے کا تذکرہ جو ان دو میاں بیوی کے درمیان کرنا ضروری ہے جن کی حالت ہم نے بیان کی ہے

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4286

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4287

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: «حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا» قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي؟ قَالَ: «لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ مَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے یہ فرمایا: تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے (آپﷺ نے مرد سے فرمایا) تمہارا اس عورت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے اس نے عرض کی: یارسول اللہ ﷺ! میرے مال (کا کیا بنے گا، جو میں نے اسے مہر کے طور پردیا تھا) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہیں مال نہیں ملے گا اگر تم نے اس پر سچا الزام لگایا ہے، تو تم نے اس مال کے عوض میں اس عورت کی شرم گاہ کو اپنے لیے حلال کر لیا اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے، تو پھر تو یہ اور زیادہ دور ہو جائے گا۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4287

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ اللِّعَانِ · حديث 4288

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانَ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، «فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ لعان کیا اور اس عورت کے بچے (کے نسب کی) نفی کر دی تو نبی اکرمﷺ نے ان دونوں (میاں بیوی) کے درمیان علیحدگی کروادی اور بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کر دیا۔

نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The curse section · Hadith 4288

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3641

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثلاثة أيام (1) .

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ہر مہینے کے تین چمکدار دنوں میں (یعنی تیرہ، چودہ، پندرہ تاریخ کو) روزہ رکھا کرتے تھے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← شَيْبَانَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3641

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3642

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ، اَنَّ اَعْرَابِیًّا سَاَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ الدَّھْرِ ؟ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا صَامَ وَلَا اَفْطَرَ اَوْ قَالَ : لَا اَفْطَرَ وَلَا صَامَ فَقَامَ غَیْرُہُ ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَرَاَیْتَ رَجُلًا یَصُومُ مِنْ یَوْمَ اِلاثْنَیْنِ ، قَالَ : ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُّ فِیہٖ ، وَیَومٌ اُنْزِلَ عَلَیَّ قَالَ اَرَاَیْتَ رَجُلًا یَصُومُ یَومًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا ؟ قَالَ : ذَاکَ صَوْمُ اُخِی دَاوُدَ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ سے ہمیشہ روزہ رکھنے (یعنی روزانہ نفلی روزہ رکھنے ) کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایسے شخص نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نہ اس نے روزہ چھوڑا اور نہ اس نے روزہ رکھا، پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو ہر مہینے میں تین روزے رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ہمیشہ (یعنی پورا مہینہ ) نفلی روزہ رکھنے کے متراد ف ہے۔ اس شخص نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو پیر کے دن روزہ رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے، جس میں میری پیدائش ہوئی تھی اور اسی دن میں مجھ پر (قرآن یا وحی ) نازل کیا گیا اس شخص نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو ایک روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ میرے بھائی حضرت داود علیہ السلام کا روزہ رکھنےکا طریقہ ہے۔

لَا اَفْطَرَ وَلَا صَامَ فَقَامَ غَیْرُہُ فَقَالَ ← صَوْمِ الدَّھْرِ فَقَالَ النَّبِیُّ لَا صَامَ وَلَا اَفْطَرَ اَوْ ← اَبِیْ قَتَادَۃَ، اَنَّ اَعْرَابِیًّا سَاَلَ النَّبِیَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3642

chevron_left Previous
1…383940…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr