Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4273

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «يَا عَبَّاسُ، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ شِدَّةِ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمِنْ شِدَّةِ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا»، فَقَالَ لَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ»، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ»، قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بریرہ کا شوہر ایک غلام تھا اس کا نام مغیث تھا یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ اس کے پیچھے روتا ہوا جا رہا تھا اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، تو نبی اکرمﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس کیا آپ کو حیرانگی نہیں ہو رہی کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث کو کتنا نا پسند کرتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا: اگر تم اس سے رجوع کر لو (تو یہ مناسب ہو گا)، کیونکہ یہ تمہاری اولاد کا باپ ہے اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ مجھے اس بارے میں حکم دے رہے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں صرف سفارش کر رہا ہوں ، تو اس خاتون نے کہا : مجھے اس کے ساتھ رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Divorce Book · Hadith 4273

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الرَّجْعَةُ · حديث 4274

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا أَرَدْتَ بِهَا؟ »، قَالَ: وَاحِدَةً، قَالَ: «آللَّهِ؟ »، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: «هِيَ عَلَى مَا أَرَدْتَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ هَذَا هُوَ الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أُمُّهُ: حَمَادَةُ بِنْتُ يَعْقُوبَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، مَاتَ فِي وِلَايَةِ أَبِي جَعْفَرٍ»

عبداللہ بن علی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاق بتہ دے دی وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم نے اس کے ذریعے کیا مراد لی تھی انہوں نے جواب دیا: ایک (طلاق) نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا اللہ کی قسم! (ایسا ہی ہے) انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم ! (ایسا ہی ہے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ اس کے مطابق شمار ہو گی جو تم نے ارادہ کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) زبیربن سعید نامی راوی زبیر بن سعید بن سلیمان بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ہیں ان کی والدہ حمادہ بنت یعقوب بن سعید بن نوفل بن حارث بن عبدالمطب ہیں ان کا انتقال خلیفہ ابو جعفر کے عہد خلافت میں ہوا تھا۔

"هِيَ عَلَى مَا أَرَدْتَ" ← اللہُ ← اللہُ ← «وَاحِدَةً» ← «مَا أَرَدْتَ بِهَا؟ ← جَدِّهِ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، ← الزبير بن سعيد ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Return door · Hadith 4274

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الرَّجْعَةُ · حديث 4275

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، بِعُكْبَرَا، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، «أَنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةُ، ثُمَّ رَاجَعَهَا»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلا ق دے دی تھی پھر آپﷺ نے ان سے رجوع کر لیا تھا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← صَالِحٍ، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، بِعُكْبَرَا،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Return door · Hadith 4275

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الرَّجْعَةُ · حديث 4276

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ، لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَكِ، إِنَّهُ قَدْ كَانَ طَلَّقَكِ، ثُمَّ رَاجَعَكِ مِنْ أَجْلِي، فَأَيْمُ اللَّهِ لَئِنْ كَانَ طَلَّقَكِ لَا كَلَّمْتُكِ كَلِمَةً أَبَدًا»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے وہ رو رہی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو؟ شاید نبی اکرمﷺ نےتمہیں طلاق دے دی ہے، اگر نبی اکرمﷺ نے تمہیں طلاق دے بھی دی ہے، تو میری وجہ سے وہ تم سے رجوع کر لیں گے۔ اللہ کی قسم! اگر نبی اکرمﷺ تمہیں طلاق دے دیں (یعنی ایسی طلاق جس میں رجوع کی گنجائش نہ ہو) تو میں تمہارے ساتھ کبھی بات نہ کرتا۔

دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي، ← ابْنِ عُمَرَ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Return door · Hadith 4276

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْإِيلَاءِ · حديث 4277

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، ثُمَّ نَزَلَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آلَيْتَ شَهْرًا، قَالَ: «الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کے ساتھ ایلاء کر لیا آپ کی ٹانگ پر بھی چوٹ آئی ہوئی تھی، تو نبی اکرمﷺ انتیس دن تک بالا خانے میں مقیم رہے پھر آپ اس سے نیچے اترے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے ایک ماہ کے لیے ایلاء کیا تھا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: مہینہ (کبھی ) انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The door of Elia · Hadith 4277

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْإِيلَاءِ · حديث 4278

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلَالًا، وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے اپنی ازواج کے ساتھ ایلاء کر لیا آپﷺ نے حرام کو حلال کیا (یعنی اس سے رجوع کر لیا) اور قسم کا کفارہ ادا کیا۔

«آلَى رَسُولُ اللَّهِ مِنْ نِسَائِهِ، فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلَالًا، وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً» ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The door of Elia · Hadith 4278

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الظِّهَارِ · حديث 4279

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ، قَالَتْ: فِي وَاللَّهِ وَفِي أَوْسِ بْنِ الصَّامِتِ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا صَدْرَ سُورَةِ الْمُجَادِلَةِ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَهُ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ سَاءَ خُلُقُهُ، وَضَجِرَ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا فَرَاجَعْتُهُ فِي شَيْءٍ، فَغَضِبَ، وَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، ثُمَّ خَرَجَ، فَجَلَسَ فِي نَادِي قَوْمِهِ سَاعَةً، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيَّ، فَإِذَا هُوَ يُرِيدُنِي عَلَى نَفْسِي، قَالَتْ: قُلْتُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسُ خُوَيْلَةَ بِيَدِهِ، لَا تَخْلُصُ إِلَيَّ، وَقَدْ قُلْتَ مَا قُلْتَ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فِينَا بِحُكْمِهِ، قَالَتْ: فَوَاثَبَنِي، فَامْتَنَعْتُ مِنْهُ، فَغَلَبَتْهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الشَّيْخَ الضَّعِيفَ، فَأَلْقَيْتُهُ تَحْتِي، ثُمَّ خَرَجْتُ [ص:108] إِلَى بَعْضِ جَارَاتِي، فَاسْتَعَرْتُ مِنْهَا ثِيَابًا، ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ مَا لَقِيتُ مِنْهُ، فَجَعَلْتُ أَشْكُو إِلَيْهِ مَا أَلْقَى مِنْ سُوءِ خُلُقِهِ، قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَا خُوَيْلَةُ، ابْنُ عَمِّكِ شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَاتَّقِي اللَّهَ فِيهِ»، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ، فَتَغَشَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَغْشَاهُ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: «يَا خُوَيْلَةُ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ»، قَالَتْ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ} [المجادلة: 1]، إِلَى قَوْلِهِ: {وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: 104]، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً»، قَالَتْ: وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَهُ مَا يَعْتِقُ، قَالَ: «فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ»، قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ، مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ، قَالَ: «فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ»، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا ذَلِكَ عِنْدَهُ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّا سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ»، قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَأُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ، فَقَالَ: «أَصَبْتِ، وَأَحْسَنْتِ، فَاذْهَبِي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَنْهُ، ثُمَّ اسْتَوْصِي بِابْنِ عَمِّكِ خَيْرًا»، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ

سیّدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے میرے اور (میرے شوہر) اوس بن صامت کے بارے میں سورۃ مجادلہ کی ابتدائی آیات نازل کی تھیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں ان کی بیوی تھی وہ ایک بڑی عمر کے بزرگ آدمی تھےجن کے اخلاق اچھے نہیں تھے وہ ڈانٹ ڈپٹ کیا کرتے تھے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: ایک دن وہ میرے ہاں تشریف لائے میں نے (لڑائی کے دوران) کسی بات کا جواب دیا: تو وہ غصے میں آ گئے اور بولے: تم میرے لیے میری ماں کی پشت کی طرح (قابل احترام) ہو پھر وہ گھر سے باہر چلے گئے وہ اپنی قوم کی چوپال میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر میرے ہاں تشریف لائے وہ میری قربت حاصل کرنا چاہتے تھے وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نےکہا: ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں خویلہ کی جان ہے آپ جو بات کہہ چکے ہیں اس کی وجہ سے اب آپ میرے پاس اس وقت تک نہیں آ سکتے جب تک اللہ اور اس کا رسول اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں دے دیتے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: انہوں نے مجھ پر حملہ کر دیا میں نے ان سے بچنے کی کوشش کی وہ خاتون اس پر اتنا غالب آ گئی جتنی کوئی عورت ایک بوڑھے عمر رسیدہ شخص پر غالب آ سکتی ہے میں نے انہیں اپنے نیچے کر لیا، پھر میں اپنی پڑوسن کے گھر آ گئی میں نے اس سے چادر عاضی استعمال کے لیے لی پھر میں وہاں سے نکلی، یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں آپ کے سامنے بیٹھ گئی میں نے آپ کے سامنے ساری صورت حال کا ذکر کیا اور میں نے آپ کے سامنے اس بات کی بھی شکایت کی مجھے ان کی طرف سے برے اخلاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ خاتون بیان کرتی ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خویلہ تمہارے چچا زاد بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں تم ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ خاتون نے عرض کی: اللہ کی قسم ! میں ابھی وہیں تھی، یہاں تک کہ قرآن کا حکم نازل ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ کے اوپر وہ خاص کیفیت طاری ہوئی(جو وحی کے نزول کے وقت ہوتی تھی) پھر آپﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خویلہ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہارے شوہر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے میرے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ ”اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات کو سن لیا ہے، جو اپنے شوہر کے بارے میں تمہارے ساتھ بحث کر رہی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کر رہی تھی “۔ ”یہ آیت یہاں تک ہے کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے“۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے (یعنی اپنے شوہر کو) کہو کہ وہ کوئی گردن آزاد کرے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جسے وہ آزاد کریں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر وہ مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: اللہ کی قسم! یا رسول اللہﷺ! وہ بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں ان میں روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھجوروں کا یک وسق کھلائے میں نے عرض کی: اللہ کی قسم ! یا رسول اللہﷺ! ان کے پاس یہ بھی نہیں ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم کھجوروں کے ایک عرق کے ذریعے اس کی مد د کریں گے وہ خاتو ن بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں ایک اور عرق کے ذریعے ان کی مدد کروں گی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے اور تم نے اچھا کیا ہے تم جاؤ اور ان کی طرف سے صدقہ کر دو اور اپنے چچازاد کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو، تو وہ خاتون کہتی ہیں، تو میں نے ایسا ہی کیا۔

خُوَيْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ، ← يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › Noon door · Hadith 4279

صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ بَابُ الْخُلْعِ · حديث 4280

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَوَجَدَ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ عَلَى بَابِهِ فِي الْغَلَسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا شَأْنُكِ؟ »، فَقَالَتْ: لَا أَنَا، وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ - لِزَوْجِهَا -، فَلَمَّا جَاءَ ثَابِتٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذِهِ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ، قَدْ ذَكَرَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَذْكُرَ»، قَالَتْ حَبِيبَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ مَا أَعْطَانِي عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ: «خُذْ مِنْهَا»، فَأَخَذَ مِنْهَا، وَجَلَسَتْ فِي أَهْلِهَا

سیّدہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ حضرت ثابت بن قیس شماس رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں نبی اکرمﷺ صبح کی نماز کے لیے گھر سے نکلے، تو انہوں نے اندھیرے میں حبیبہ بن سہل کو اپنے دروازے پر موجود پایا ، نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس خاتون نے جواب دیا: میرا اور ثابت بن قیس کا گزارا نہیں ہو سکتا یعنی اس نے اپنے شوہر کے بارے میں یہ بات کہی جب ثابت آئے، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل اس نے جو اللہ کو منظور تھا وہ ذکر کیا ہے، تو سیّدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! انہوں نے جو بھی (مہرکے طور پر) دیا تھا وہ میرے پاس ہے۔ نبی اکرمﷺ نے حضرت ثابت بن قیس سے فرمایا: وہ تم اس سے لے لو، وہ انہوں نے اس سے لے لیا اور وہ خاتون اپنے میکے واپس چلی گئی۔

عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The door of divorce · Hadith 4280

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 371

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بن بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي جديذكر الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ تَفَرَّدَ بِهِ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ [371] أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ سعيد بن بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي جدي عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِیْ قَوْلِہٖ:( اِنَّا فَتَحْنَالَکَ فَتْحًا مُبِینًا) اَنَّھَا نَزَلَتْ عَلٰی نَبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرْجَعَہٗ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَاَصْحَابُہٗ قَدْ خَالَبَھُمْ الْحُزْنُ وَالْکَآبَۃُ قَدْ حِیْلَ بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ مَسْالَتِھِمْ وَنَحَرُوا الْبُدْنَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقَدْ نَزَلَتْ عَلَیَّ اٰیَۃٌ ھِیَ اَحَتُّ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا جَمِیْعًا فَقَرَاَھَا عَلَیْھِمْ اِلٰی اٰخِرِ الْاٰیَۃِ فقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ھَنِیئًا مَرِیئًا لَکَ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ بَیَّنَ اللہُ لَکَ مَاذَا یَفْعَلُ بِکَ فَمَاذَا یَفْعَلُ بِنَا فَاَنْزَلَ اللہُ (لِیُدْخِلَ الْمُوْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتِ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ) إلی اٰخر الآیۃ (64:3)

حضرت انس ؓ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے بارے میں نقل کرتےہیں ۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’بیشک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کی ‘‘۔ ’’ یہ آیت نبی اکرمﷺ پر حدیبیہ سے واپسی کے موقع پر نازل ہوئی تھی جبکہ آپ کے اصحاب کو غم اور تکلیف کا سامنا تھا‘ کیونکہ وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے تھے اور اہوں نے حدیبیہ میں ہی اپنے قربانی کے جانور قربان کر دئیے تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : مجھ پر ایسی آیت نازل ہوئی جو میرے نزدیک ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے یہ پوری آیت لوگوں کے سامنے تلاوت کی ‘ تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے لئے مبارک باد ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کر دیا ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا سلوک کرے گا‘ لیکن وہ ہمارے ساتھ کیا کرے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن خواتین کو ایسی جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘‘۔

جَدِّي، ← الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بن بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 371

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 372

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ2 بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ الْقَيْسِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الله بن عمرو مَنْ جَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللہِ وَمَنْ عَادَ مَرِیضًا کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللہِ وَمَنْ غَدَا اِلٰی مَسْجِدٍ اَوْرَاحَ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللہِ وَمَنْ دَخَلَ عَلٰی اِمَامٍ یُعَزِّزُہُ کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللہِ وَمَنْ جَلَسَ فِیْ لَمْ یَغْتَبْ اِنْسَانًا کَانَ ضَامِنًا عَلَی اللہِ ۔(2:1)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ ‘ حضرت معاذ بن جبل ؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے ‘ تو وہ اللہ کے ذمے ہوتا ہے او ر جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے ‘ تو وہ بھی اللہ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص صبح یا شام کے وقت مسجد کی طرف جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ذمے ہوتا ہے اور جو شخص حاکم اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے اور کسی انسان کی غیبت نہیں کرتا وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہوتاہے ۔ (یعنی اس کی امان میں ہوتا ہے ) ‘‘۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ الْقَيْسِيِّ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِي ← سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 372

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 373

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلَ الْعَبْدُ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ "يُؤْمِنُ بِاللَّهِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمَلًا قَالَ يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللَّهُ قُلْتُ وَإِنْ كَانَ مُعْدَمًا لَا شَيْءَ لَهُ قَالَ يَقُولُ مَعْرُوفًا بلسانه قال قلت وإن كَانَ عَيِيًّا لَا يُبْلِغُ عَنْهُ لِسَانُهُ قَالَ فَيُعِينُ مَغْلُوبًا قُلْتُ فَإِنْ كَانَ ضَعِيفًا لَا قُدْرَةَ لَهُ قَالَ فَلْيَصْنَعْ لِأَخْرَقَ قُلْتُ وَإِنْ كان أخرق قال فالتفت إلي وقال مَا تُرِيدُ أَنْ تَدَعَ فِي صَاحِبِكَ شَيْئًا مِنَ الْخَيْرِ فَلْيَدَعِ النَّاسَ مِنْ أَذَاهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ كَلِمَةُ تَيْسِيرٍ فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا يُرِيدُ بِهَا مَا عِنْدَ اللَّهِ إِلَّا أَخَذَتْ بيده يوم القيامة حتى تدخله الجنة"

۔ ابو کثیر یحمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :میں نے حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے سوال کیا میں نے کہا : آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے کہ بندہ جب اسے کر لے ‘ تو وہ جنت میں داخل ہو جائے ۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ نے بتایا میں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے۔ حضرت ابو ذر ؓ کہرے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ایمان کے ہمراہ کوی عمل بھی ہو گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بندے کو جو رزق دیا ہے وہ اس میں سے تھوڑا سا ( اللہ کی راہ میں بھی ) دے ‘ میں نے عرض کیا اگر وہ کوئی ایسا شخص ہو ‘ جس کے پاس کوئی بھی چیز نہ ہو۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ اپنی زبان کے ذریعے نیکی کی بات کہے میں نے عرض کی : اگر وہ ایسا معذور ہو کہ اپنی زبان کے ذریعے کچھ نہ پہنچا سکتا ہو ‘ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ مغلوب شخص کی مدد کرے میں نے عرض کی : اگر وہ ایسا کمزور ہو کہ وہ اس کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر وہ بھی کسی معذور کے لئے کوی کام کرے میں نے عرض کی : اگر وہ خود معذور ہو نبی اکرمﷺ نے میری طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا : اگر تم اس شخص کے بارے میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہنے دینا چاہتے تو پھر وہ شخص لوگوں کو اپنی اذیت سے محفوظ رکھے۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! کیا یہ کلمات آسانی فراہم کرنے کے لئے ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ُ جوکوئی بندہ ان میں سے جو بھی کام کرے گا اور وہ اس کےذریعے اللہ تعالیٰ کے ہاں اجروثواب کا ارادہ کرے گا تو یہ عمل قیامت کے دن اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ امام ابن حبان فرماتے ہیں: ابو کثیر یحمی کا نام یزید بن عبد الرحمٰن اذینہ ہے اور یہ یمامہ کے رہنے والے ‘‘ثقہ ‘‘ راویوں میں سے ایک ہیں۔

أَبِيهِ ← أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 373

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 374

اَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ مُوْسٰی عَنْ عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ طَلْحَۃَ الْیَامِیِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِّمْنِیْ عَمَلًا یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ قَالَ لَئِنْ کُنْتَ اَقْصَرْتَ الْخُطْبَۃَ فَقَدْ اَعْرَضْتَ الْمَسْاُلَۃَ أَعْتِقِ النَّسْمَۃَ الرَّقَبَۃَ قَالَ أَوْلَیْسَتَا بِوَاحِدَۃٍ قَالَ لَا عِتْقُ النَّسَمِۃِ اَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِھَا وَفَکُّ الرَّقَبَۃِ اَنْ تُعْطِی فِیْ ثَمَنِھَا وَالْمِنْحَۃُ الْوَکْوفُ وَالْفَیْءُ عَلٰی ذِی الرَّحِمِ الْقَاطِعِ فَاِنْ لَمْ تُطِقْ ذَاکَ فَاَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْہُ عَنِ الْمُنْکَرِ فَاِنْ لَمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَکُفَّ لِسَانَکَ اِلَّا مِنْ خَیْرِ۔(2:1)

حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں : بیاک دیہاتی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر د ے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے مختصر الفاظ استعمال کئے ہیں اور بڑی بات دریافت کی ہے ‘ تم جان ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرو اور گردن کو چھڑاؤں اس نے دریافت کیا : یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : نہیں جان کو آزاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ تم صرف اسے آزاد کرو اور گردن کو چھڑانے سے مراد یہ ہے کہ تم اس کی قیمت ادا کرو ( اور دوسرے شخص کے غلام کو آزاد کر دو ) ایسا عطیہ دینا جو مسلسل جاری ہو اور رشتے داری کے حقوق کا خیال نہ رکھنے والے رشتے دار پر خرچ کرنا اور اگر تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ‘ تو تم بھوکے کو کھانا کھلا دو اور پیاسے کو کچھ پلا دو نیکی کا حکم دو برائی سے منع کردو اگر تم اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے ‘ تو تم بھلائی کی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روک کے رکھو۔

جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ فَقَالَ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْسَجَۃَ ← طَلْحَۃَ الْیَامِیِّ ← عِیْسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عُبَیْدُ اللہِ مُوْسٰی ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 374

chevron_left Previous
1…293031…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr