صیح ابن حبان · کتاب رضاعت ‹ كِتَابُ الطَّلَاقِ · حديث 4273
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: «يَا عَبَّاسُ، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ شِدَّةِ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ، وَمِنْ شِدَّةِ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا»، فَقَالَ لَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ»، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَأْمُرُنِي بِهِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا أَنَا شَافِعٌ»، قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بریرہ کا شوہر ایک غلام تھا اس کا نام مغیث تھا یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ اس کے پیچھے روتا ہوا جا رہا تھا اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے تھے، تو نبی اکرمﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس کیا آپ کو حیرانگی نہیں ہو رہی کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث کو کتنا نا پسند کرتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا: اگر تم اس سے رجوع کر لو (تو یہ مناسب ہو گا)، کیونکہ یہ تمہاری اولاد کا باپ ہے اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ مجھے اس بارے میں حکم دے رہے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں صرف سفارش کر رہا ہوں ، تو اس خاتون نے کہا : مجھے اس کے ساتھ رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · Breastfed Book › The Divorce Book · Hadith 4273
