صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 375
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ وَيُسِرُّهُ فَإِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ سَرَّهُ قَالَ " له أجران أجر السر وأجر العلانية" 1.
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص کوئی عمل کرتا ہے اور اسے پوشیدہ رکھتا ہے ‘ لیکن جب اس کا عمل ظاہر ہو جاتا ہے ‘ تو کیا یہ بات اسے اچھی لگتی چاہئے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ایسے شخص کو دو اجر ملیں گے ۔ ایک پوشیدہ رکھنے کا اجر اور ایک ظاہر ہونے کا اجر۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں :) روایت کے یہ الفاظ : ’’ بے شک ایک شخص ایک عمل کرتا ہے ‘ اور وہ اسے پسندآتا ہے ‘ اور وہ جب اس پر مطلع ہوا جائے ‘ تو یہ چیز اسے اچھی لگتی ہے ‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے : آدمی اس بات پہ خوش ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس عمل کی توفیق دی ہے ‘ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس بارے میں اس کی پیروی کی جائے ‘ تو جب اس طرح کی صورتحال ہو ‘ تو اسے دو طرح کا اجر ملے گا ‘ اور جب آدمی کو ہ بات اس لئے اچھی لگے تاکہ لوگ اس کی تعظیم کریں گے یا اس کے طرف مائل ہو ں گے ‘ یہ ریا کی ایک قسم ہے ایسے شخص کو دگنا اجر نہیں ملے گا بککہ اسے ایک اجر بھی نہیں نہیں ملے گا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا ← اَبِیْ صَالِحٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 375
