Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 375

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ وَيُسِرُّهُ فَإِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ سَرَّهُ قَالَ " له أجران أجر السر وأجر العلانية" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک شخص کوئی عمل کرتا ہے اور اسے پوشیدہ رکھتا ہے ‘ لیکن جب اس کا عمل ظاہر ہو جاتا ہے ‘ تو کیا یہ بات اسے اچھی لگتی چاہئے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ایسے شخص کو دو اجر ملیں گے ۔ ایک پوشیدہ رکھنے کا اجر اور ایک ظاہر ہونے کا اجر۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں :) روایت کے یہ الفاظ : ’’ بے شک ایک شخص ایک عمل کرتا ہے ‘ اور وہ اسے پسندآتا ہے ‘ اور وہ جب اس پر مطلع ہوا جائے ‘ تو یہ چیز اسے اچھی لگتی ہے ‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے : آدمی اس بات پہ خوش ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس عمل کی توفیق دی ہے ‘ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس بارے میں اس کی پیروی کی جائے ‘ تو جب اس طرح کی صورتحال ہو ‘ تو اسے دو طرح کا اجر ملے گا ‘ اور جب آدمی کو ہ بات اس لئے اچھی لگے تاکہ لوگ اس کی تعظیم کریں گے یا اس کے طرف مائل ہو ں گے ‘ یہ ریا کی ایک قسم ہے ایسے شخص کو دگنا اجر نہیں ملے گا بککہ اسے ایک اجر بھی نہیں نہیں ملے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا ← اَبِیْ صَالِحٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ أَبُو سِنَانٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 375

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 376

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا تَقَرَّبَ عَبْدِي مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا وَإِذَا تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وإذا أتاني مشيا أتيته هرولة وإن هرولة سعيت إليه والله أوسع بالمغفرة" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جب میرا بندہ ایک بالشت میر ے قریب ہوتا ہے ‘ تو میں ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ ایک ذراع میرے قریب ہوتا ہے ‘ تو میں نے ایک باع اس کے قریب ہوتا ہوں او ر جب وہ چلتا ہوا میرے پاس آتا ہے ‘ تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس جاتا ہوں اور اگر وہ دوڑتا ہوا آتا ہے ‘ تو میں زیادہ تیزی سے چل کر اس کی طرف جاتا ہوں اور اللہ تعالیٰ وسیع مغفرت کرنے والا ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 376

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 377

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ فَأَمَّا الكافر فيطعم بحسناته في الدنيا فإذاذكر الْبَيَانِ بِأَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا قَدْ يُجَازِي الْمُؤْمِنَ عَلَى حَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا كَمَا يُجَازِي عَلَى سَيِّئَاتِهِ فِيهَا [377] أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ فَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَطْعَمُ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا فَإِذَا اَفْضٰی اِلَی الْاٰخِرَۃِ لَمْ تَکُنْ لَہٗ حَسَنَۃٌ یعطی بھا خیرا ۔(66:3)

حضرت انس بن مالک ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’بیشک اللہ تعالیٰ کسی مومن پر نیکی کے حوالے سے ظلم نہیں کرتا وہ دنیا میں اسے رزق عطا کرتا ہے اور آخرت میں اس نیکی کا بدلہ عطا کرے گا جہاں تک کافر کا تعلق ہے ‘ تو وہ دنیا میں اپی نیکیوں کا پھل کھا لیتا ہے اور جب وہ آخرت کی طرف جائے گا ‘ تو اس کے پاس کئی نیکی نہیں ہو گی ‘ جس کے عوض میں اسے کوئی بھلائی دی جائے ‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 377

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 378

أخبرنا بن قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ وَزِيرٍ الْغَزِّيُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "تَعَبَّدَ عَابِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَعَبَدَ اللَّهَ فِي صَوْمَعَتِهِ سِتِّينَ عَامًا فَأَمْطَرَتِ الْأَرْضُ فَاخْضَرَّتْ فَأَشْرَفَ الرَّاهِبُ مِنْ صَوْمَعَتِهِ فقَالَ لَوْ نَزَلْتُ فَذَكَرْتُ اللَّهَ لَازْدَدْتُ خَيْرًا فَنَزَلَ وَمَعَهُ رَغِيفٌ أَوْ رَغِيفَانِ فَبَيْنَمَا هُوَ فِي الْأَرْضِ لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهَا وَتُكَلِّمُهُ حَتَّى غَشِيَهَا ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ الْغَدِيرَ يَسْتَحِمُّ فَجَاءَهُ سَائِلٌ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَأْخُذَ الرَّغِيفَيْنِ أَوِ الرَّغِيفَ ثُمَّ مات فوزنت عبادة ستين سنة بتلك الزينة فرجحت الزنية بحسناته ثم وضع الرغيفذكر الْخَبَرِ الدَّالِّ عَلَى أَنَّ الْحَسَنَةَ الْوَاحِدَةَ قَدْ يُرْجَى بِهَا لِلْمَرْءِ مَحْوُ جِنَايَاتٍ سَلَفَتْ مِنْهُ [378] أخبرنا بن قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ وَزِيرٍ الْغَزِّيُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "تَعَبَّدَ عَابِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَعَبَدَ اللَّهَ فِي صَوْمَعَتِهِ سِتِّينَ عَامًا فَأَمْطَرَتِ الْأَرْضُ فَاخْضَرَّتْ فَأَشْرَفَ الرَّاهِبُ مِنْ صَوْمَعَتِهِ فقَالَ لَوْ نَزَلْتُ فَذَكَرْتُ اللَّهَ لَازْدَدْتُ خَيْرًا فَنَزَلَ وَمَعَهُ رَغِيفٌ أَوْ رَغِيفَانِ فَبَيْنَمَا هُوَ فِي الْأَرْضِ لَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُهَا وَتُكَلِّمُهُ حَتَّى غَشِيَهَا ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ الْغَدِيرَ يَسْتَحِمُّ فَجَاءَهُ سَائِلٌ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يَأْخُذَ الرَّغِيفَيْنِ أَوِ الرَّغِيفَ ثُمَّ مات فوزنت عبادة ستين سنة بتلك الزينة فَرَجَحَتِ الزَّنْيَةُ بِحَسَنَاتِهِ ثُمَّ وُضِعَ الرَّغِيفُ اَفْضٰی اِلَی الْاٰخِرَۃِ لَمْ تَکُنْ لَہٗ حَسَنَۃٌ یعطی بھا خیرا ۔(66:3)

حضرت ابو ذر غفاری ؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے : ’’ بنی اسرائیل سے تعلق رکھنےوالے ایک عباد گزار شخص عبادت کیا کرتا تھا۔ اس نےاپنی عبادت گاہ میں ساٹھ برس تک عبادت کی ایک مرتبہ بارش ہوی اور زمین سر سبزو شاداب ہو گئی۔ اس راہب نے اپنی عبادت گاہ سے باہر جھانک کر دیکھا ‘ تو اس نے سوچا اگر میں نیچے جا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں ‘ تو میں زیادہ بھلائی حاصل کر لوں گا۔ پھر وہ وہاں سے نیچے اتر آیا اس کے ساتھ یا شاید دو روٹیاں تھیں۔ ابھی وہ زمین میں پہنچا تھا کہ ایک عورت سے اس کی ملاقات ہوئی۔ وہ راہب اس عورت سے بات چیت کرنے لگا۔ وہ عورت اس شخص کے ساتھ بات چیت کرنے لگی ‘ یہاں تک کہ اس شخص نے اس عورت کے ساتھ زنا کر لیا پھر اس پر مدہوشی طاری ہوئی ‘ تو وہ غسل کرنے کے لئے کنویں میں اتر گیا۔ اسی دوران ایک مانگنے والا اس کے پاس آیا ‘ تو اس نےاپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا کہ ان دو روٹیوں ‘ یا ایک روٹی کو لے لو‘ پھر وہ راہب رفوت ہو گیا‘ تو اس کی ساٹھ سال کی عبادت کا وزن اس ایک مرتبہ زنا کرنے کے ساتھ کیا گیا‘ تو وہ زنا کرنا اس کی نیکیوں سے زیادہ وزنی تھا پھر وہ ایک یا دو روٹیاں اس کی نیکیوں کے ساتھ رکھی گئیں ‘ تو اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا اور اس شخص کی مغفرت ہو گئی‘‘۔ امام ابن حبان فرماتے ہیں : یہ روایت غالب بن وزیر نامی راوی نے وکیع نامی راوی سے بیت المقدس میں سنی تھی۔ انہوں نے یہ روایت عراق میں بیان نہیں کی یہ ان روایات میں سے ایک ہے جنہیں اہل فلسطین ‘ وکیع کے حوالے سے نقل کرنے میں منفرد ہیں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← غَالِبُ بْنُ وَزِيرٍ الْغَزِّيُّ ← بن قتيبة

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 378

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3633

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ، قَالَ: انْتَھَیْتُ اِلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ وَّھُوَ مُتَوَسِّدٌ رَدَائَہٗ عِنْدَ زَمْزَمَ ، فَجَلَسْتُ اِلَیْہِ ، وَنِعْمَ الْجَلِیْسُ کَانَ ، فَسَاَلْتُہٗ عَنْ عَاشُوْرَاءَ ؟ ، فَاسْتَوٰی جَالِسًا ، ثُمَّ قَالَ : عَنْ اَیِّ بَابِہٖ تَسْاَلُ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : عَنْ صِیَامِہٖ ، اَیَّ یَوْمٍ نَصُوْمُہٗ ؟ ، قَالَ اِذَا رَاَیْتَ ھِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ،ثُمَّ اَصْبِحُ مِنْ تَاسِعِہٖ صَائِمًا ، قُلْتُ : اَکَذٰلِکَ کَانَ یَصُوْمُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ نَعَمْ

حکم بن اعرج بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت زمزم کے کنویں کے پاس اپنی چاد ر کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا وہ بڑے بہترین ہم نشین تھے میں نے ان سے عاشورہ کے بارے میں دریافت کیا: تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ پھر انہوں نے دریافت کیا: تم اس کے بارے میں کسی حوالے سے پوچھنا چاہتے ہو میں نے دریافت کیا: اس کے روزے کے بارے میں کہ کون سے دن ہمیں روزہ رکھنا چاہئے، تو انہوں نے فرمایا: جب تم محرم کا چاند دیکھ لو، تو گنتی شروع کر دو پھر تم اس کی نو تاریخ کو روزہ رکھنا میں نے کہا: کیا حضرت محمد ﷺ بھی اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں۔

الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، ← حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3633

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3634

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، اَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِیْ صَفْوَانُ بْنُ سُلَیْمٍ ، وَسَعْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِیِّ ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ، عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، وَاَتْبَعَہٗ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ ، فَذٰلِکَ صَوْمُ الدَّھْرِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو یہ ہمیشہ (یعنی سال بھر ) روزہ رکھنے کے مترادف ہے"۔

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَاَتْبَعَہٗ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ فَذٰلِکَ صَوْمُ الدَّھْرِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِیِّ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَیْمٍ وَسَعْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3634

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3635

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَقَدْ صام السنة" (2) .

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہہ جو نبی اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص رمضان کے روزے کے روزے رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھے، تو اس نے سال بھر روزے رکھے"۔

"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَقَدْ صام السنة" ← رَسُولِ اللَّهِ ← ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ← يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3635

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3636

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَھْرِ رَمَضَانَ شَھْرُ اللہِ الْمُحَرَّمُ ، وَاَفْضَلُ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْفَرِیضَۃِ صَلَاۃُ اللَّیْلِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " رمضان کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کے وقت ادا کی جانے والی نماز ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3636

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3637

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عن عبد الله بن أبي لبيد، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، ثُمَّ يُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ، وَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا (1) .

ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، تا کہ ان سے نبی اکرم ﷺ کے روزہ رکھنے معمول کے بارے میں دریافت کروں ، تو انہوں بتا یا: نبی اکرم ﷺ (کسی مہینے میں )اتنے نفلی روزے رکھتے تھے کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے پھر آپ (کسی مہینے میں) نفلی روزے ترک کر دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم یہ سو چتے تھے کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو رمضان کے علاوہ اور کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ نبی اکرم ﷺ شعبان کے کچھ دنوں میں روزہ نہیں رکھتے تھے باقی پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے۔

صِيَامِ النَّبِيِّ ← أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← ابْنُ كَاسِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3637

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3638

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكَرْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا سليم بن حيان، حدثنا سعيد بن ميناء، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ صَوْمُ الدَّهْرِ" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: "صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا" قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يَقُولُ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ أخذت الرخصة (1) .

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! مجھے پتہ چلا ہے کہ تم روزانہ نفلی روزہ رکھ لیتے ہو۔ رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو۔ تم ایسا نہ کرو تمہارے جسم کا تم پر حق ہے۔ تمہار ی جان کا تم پر حق ہے۔ تم ( نفلی ) روزہ رکھا بھی کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو۔ تم ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو، تو یہ ہمیشہ (یعنی پورا مہینہ) روزہ رکھنے کے مترادف ہو جائے گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! میں قوت کو پاتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تم حضرت داود علیہ السلام کے طریقے کے مطابق روزہ رکھو۔ تم ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن نہ رکھا کرو۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ فرماتے ہیں: کاش میں نےرخصت کو اختیار کر لیا ہوتا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← سعيد بن ميناء، ← سليم بن حيان، ← عَفَّانُ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكَرْخِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3638

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3639

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى،حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ تَصُومُ؟ قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عُمَرُ قَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضِبِ اللَّهِ وَغَضِبِ رَسُولِهِ، وَجَعَلَ يُرَدِّدُهَا حَتَّى سَكَنَ مِنْ غَضِبِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: "وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ"؟ قَالَ: فَكَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: "ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ" قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: "وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَاكَ" (1) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَمْ يَكُنْ غَضَبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَةِ هَذَا السَّائِلِ عَنْ كَيْفِيَّةِ الصَّوْمِ، وَإِنَّمَا كَانَ غَضَبُهُ صَلَّى الله عليه وسلم، لأن السائل سَاَلَہُ ، قَالَ : یَا نَبِیَّ اللہِ کَیْفَ تَصُومُ ؟ ، قَالَ : فَکَرِہَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَخْبَارَہُ عَنْ کَیْفِیَّۃِ صَوْمِہٖ مِخَافَۃَ اَنْ لَوَ اَخْبَرَہُ یَعْجِزُ عَنْ اِتْیَانِ مِثْلِہٖ ، اَوْ خَشِیّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّائِلِ وَاُمِّتِہِ جَمِیْعًا اَنْ یَّفْرِضَ عَلَیْھِمْ ذٰلِکَ فَیَعْجِزُوا عَنْہُ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ! آپ کیسے روزہ رکھتے ہیں؟ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے یہ صورتحال دیکھی، تو انہوں نے عرض کی: ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہیں( یعنی اس پر ایمان رکھتے ہیں) اور ہم اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ مسلسل یہ بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کا غصہ ختم ہوا۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتا۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا کوئی ایسا کر سکتا ہے؟ انہوں نے دریافت کیا: ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ میرے بھائی حضرت داود علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے دریافت کیا: ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور دو دن روزہ نہیں رکھتا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ مجھ میں اس کی طاقت ہو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ اس سائل کے روزے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کرنے کی وجہ سے غضب ناک نہیں ہوئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ اس بات پر غضب ناک ہوئے تھے کہ اس سائل نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ اے اللہ کے نبی آپ کیسے روزے رکھتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے اس چیز کو ناپسند کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے روزے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کرے۔ نبی اکرم ﷺ کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر آپ نے اس کو اس بارے میں بتا دیا تو وہ اس کی مانند روزہ نہیں رکھ سکے گا یا پھر نبی اکر اس سائل اور آپ کی اُمت کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں یہ ان لوگوں پر لازم نہ ہو جائے اور وہ اسے ادا نہ کر پائیں گے۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3639

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3640

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَهُ صَوْمِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ، وَأَلْقَيْتُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ، وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقَالَ: "أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثٌ"؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "خَمْسٌ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "سَبْعٌ"، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "تِسْعٌ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "إِحْدَى عَشْرَةَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ، شَطْرُ الدَّهْرِ صِيَامُ يَوْمٍ وإفطار يوم" (1) .

ابو ملیح بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے میرے (نفلی) روزہ رکھنے کا ذکر کیا گیا ، تو آپ میرے پاس تشریف لائے میں نے چمڑے کا بنا ہو تکیہ پیش کیا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ زمین پر تشریف فرما ہوئے وہ تکیہ میرے اور آپ کے درمیان تھا آپ نے دریافت کیا: تمہارے لیے ہر مہینے میں تین روزے رکھنا کافی نہیں ہیں؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! (مزید کی اجازت دیجئے )نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سات۔ میں نےعرض کی: یا رسول اللہﷺ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :نو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: گیارہ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی کے اکرم ﷺ نے فرمایا: حضرت داود علیہ السللام کے روزہ رکھنے کے طریقے سے زیادہ روزہ نہیں رکھا جا سکتا جو نصف زمانہ ہو گا ۔ ایک دن روزہ ہو گا اور ایک دن روزہ نہیں ہو گا۔

دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَحَدَّثَنَا ← أَبِي الْمَلِيحِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3640

chevron_left Previous
1…303132…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr