Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2975

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عن عبد الله بن الحارث عن بن عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا جَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ سَبْعَ مِرَارٍ: "أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيكَ" فَإِنْ كَانَ فِي أَجَلِهِ تَأْخِيرٌ عُوفِيَ مِنْ وَجَعِهِ ذلك2. [12:5]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو آپ ﷺ اس کے سرہانے بیٹھ جاتے تھے پھر سات مرتبہ یہ پڑھتے تھے: " میں عظیم اللہ سے، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے، یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا کرے۔" تو اگر اس کے آخری وقت میں تاخیر ہوتی، تو اسے اس بیماری میں عافیت نصیب ہو جاتی تھی۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا عَادَ مَرِيضًا جَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ثُمَّ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2975

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2976

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ حَاطِبٍ يَقُولُ: انْصَبَّتْ عَلَى يَدَيْ مَرَقَةٌ فَأَحْرَقَتْهَا فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ فَأَحْفَظُ أَنَّهُ قَالَ: "أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ", وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ: "أَنْتَ الشَّافِي لا شافي إلا أنت" 1. [12:5]

حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میرے ہاتھ پر سالن گر گیا، اس نے اسے جلا دیا۔ میری والدہ مجھے لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو آپ ﷺ اس وقت کھلی جگہ پر تشریف فرما تھے مجھے یہ بات یاد ہے کہ آپ ﷺ نے یہ پڑھا تھا۔ " تو تکلیف کو دور کر دے اے لوگوں کے پر وردگار۔" اور میرا غالب علم یہی ہے کہ آپ ﷺ نے یہ پڑھا تھا: "تو شفا عطا کرنے والا ہے صرف ، تو ہی شفا عطا کر سکتا ہے۔"

مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2976

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2977

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ1 قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ2 بِنْتِ الْمُجَلِّلِ قَالَتْ: أَقْبَلْتُ بِكَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّى إِذَا كُنْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى لَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَتَيْنِ طَبَخْتُ لَكَ طَبْخَةً فَفَنِيَ الْحَطَبُ فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ فَتَنَاوَلْتَ الْقَدْرَ فَانْكَفَأَتْ عَلَى ذِرَاعِكَ فَأَتَيْتُ بِكَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ وَهُوَ أَوْلَ مَنْ سُمِّيَ بِكَ قَالَتْ فَتَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِيكَ وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِكَ وَدَعَا لَكَ وَقَالَ: "أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أنت الشافي لَا شِفَاءَ اِلَّا شِفَاؤْکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا قَالَتْ : فَمَا قُمْتُ بِکَ مِنْ عِنْدَہُ اِلَّا وَقَدْ بَرِئَتْ یَدُکَ

حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہہ اپنی والدہ سیّدہ اُمّ جمیل نبت مجلل رضی اللہ عنہا یا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں تمہیں لیک حبشہ کی سرزمین سے آئی ابھی مدینہ منورہ آئے ہوئے ایک یادوراتیں گزری تھیں کہ میں تمہارے لیے کھانا تیار کیا لکڑیاں ختم ہو گئیں میں لکڑیوں کی تلاش میں نکلی تم نے ہنڈیا کو پکڑا اور اپنی کلائی کے اوپر انڈیل لیا میں تمہیں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حا ضر ہوئی میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! یہ محمد بن حاطب ہے اور یہ پہلا بچہ ہے، جس کا نام آپ ﷺ کے اسم مبارک پر رکھا گیا ہے سیّدہ اُمّ جمیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا لعاب دہن تمہارے منہ میں ڈالاتمہار ے سر پر دست مبارک پھیر ااور تمہارے لیے دعا کی اور یہ کہا: " تو تکلیف کو دور کر دے ، اے لوگوں کے پروردگار ! ، تو شفا عطا کر دے، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے شفا وہی ہے ، جو تو عطا کرے ایسی شفا عطا کر دے جو بیماری کو نہ رہنے دے۔" سیّدہ اُمّ جمیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ابھی میں نبی اکرمﷺ کی خدمت سے تمہیں لے کر اٹھی نہیں تھی کہ تمہارا ہاتھ ٹھیک ہو گیا تھا۔

أُمِّهِ أُمِّ جَمِيلٍ2 بِنْتِ الْمُجَلِّلِ ← جَدِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَاطِبٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2977

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2978

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ عَنِ ابْنِ وَھْبٍ ، قَالَ : اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی الْمِنْھَالُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : اَخْبَرَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا عَادَ الْمَرِیضَ جَلَسَ عِنْدَ رَاْسِہٖ ، ثُمَّ قَالَ سَبْعَ مَرَّاتٍ : اَسْاَلُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ، اَنْ یَّشْفِیکَ فَاِنْ کَانَ فِیْ اَجَلِہٖ تَاْخِیرٌ عُوفِیَ مِنْ وَجَعِہٖ ذٰلِکَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو اس کے سر ہانے تشریف فرما ہوتے اور پھر سات مرتبہ یہ پڑھتے تھے۔ " میں عظیم اللہ تعالیٰ سے، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے، یہ سوال کرتا ہون کہ وہ تمہیں شفا عطا کرے۔" تو اگر اس کا آخری وقت قریب آنے میں تاخیر ہوتی، تو اسے اس بیماری سے عافیت نصیب ہو جاتی تھی۔

کَانَ رَسُوْلُ اللہِ اِذَا عَادَ الْمَرِیضَ جَلَسَ عِنْدَ رَاْسِہٖ ثُمَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2978

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3625

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ يَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَهُمْ: "مَا هَذَا؟ " قَالُوا: يَوْمٌ عَظِيمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصِيَامِهِ منكم" فصامه وأمر بصيام (1) .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکر م ﷺ (مدینہ منورہ ) تشریف لائے، تو آپ نے یہودیوں کو پایا کہ وہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا: اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ ایک عظیم دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات عطا کی تھی اور فرعون اور اس کے ماننے والوں کو ڈبو دیا تھا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے اس دن روزہ رکھا تھا، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے مقابلے میں ہم حضرت موسی ٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں اور اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور آپ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔

لهم ما هذا ← قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ فَوَجَدَ يَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3625

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3626

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ خَطَبَ بِالْمَدِينَةَ فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: "هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ" (1) .

حمید بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ مدینہ منورہ تشریف لائے۔ انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہو ئے سنا ہے۔ " یہ عاشورہ کا دن ہےاس دن روزہ رکھنا تم پر لازم قرار نہیں دیا گیا، لیکن میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو جو شخص ( اس دن میں) روزہ رکھنا پسند کرے وہ روزہ رکھ لے"۔

الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3626

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3627

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كَانَتْ يَهُودُ تَتَّخِذُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَالِفُوهُمْ، صُومُوا أَنْتُمْ" (1) .

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: یہودی عاشورہ کے دن کو عید قرار دیتے تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ان کے بر خلاف کرو تم لوگ (عاشورہ کے دن) روزہ رکھو۔

كَانَتْ يَهُودُ تَتَّخِذُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ "خَالِفُوهُمْ، صُومُوا أَنْتُمْ" ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبِي عُمَيْسٍ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3627

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3628

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیٰی ، عَنْ عَمَّتِہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ ، فَقَالَ : ھَلْ عِنْدَکِ شَیْءٌ ؟ ، قُلْتُ : لَا قَالَ : فَاِنِّیْ صَائِمٌ ، قَالَتْ : ثُمَّ اَتَانَا یَوْمًا اٰخَرَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللہِ ، اُھْدِیَ لَنَا حَیْسٌ فَخَبَّاْنَاہُ لَکَ ، فَقَالَ : اَدْنِیْہِ ، فَاَصْبَحَ صَائِمًا ، ثُمَّ اَفْطَرَ

اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھانےکےلئےکچھ ہے۔ میں نے جواب دیا : جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں پھر نبی اکرم ﷺ اسی دن میں دوسری مرتبہ میرے ہاں تشریف لائے ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہمیں"حیس" تحفے کے طور پر دیا گیا ہے وہ ہم نے آپ کے لئے سنبھال کر رکھا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسےپیش کرو، تو نبی اکرم ﷺ نے پہلے روزہ رکھا ہوا تھا پھر آ پ نے روزہ ختم کر دیا۔

ثُمَّ اَتَانَا یَوْمًا اٰخَرَ فَقُلْتُ ← فَاِنِّیْ صَائِمٌ ← دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ ھَلْ عِنْدَکِ شَیْءٌ قُلْتُ لَا ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَمَّتِہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3628

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3629

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیٰی ، عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ: کَانَ النَّنِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحِبُّ طَعَامَنَا ، فَجَائَنَا یَوْمًا ، فَقَالَ : ھَلْ عِنْدَ کُمْ مِنْ ذٰلِکَ ؟ ، فَقُلْتُ : لَا ، فَقَالَ : اِنِّیْ صَائِمٌ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ ہمارے کھانے کو پسند کرتے تھے۔ ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس ( کچھ کھانے کے لئے) ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔

«إِنِّي صَائِمٌ» ← ھَلْ عِنْدَ کُمْ مِنْ ذٰلِکَ فَقُلْتُ لَا ← کَانَ النَّنِیُّ یُحِبُّ طَعَامَنَا فَجَائَنَا یَوْمًا ← عَائِشَةَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَسَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3629

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3630

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدْخُلُ عَلَيْنَا فَيَقُولُ: "أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ"؟ فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: اِنِّیْ صَائِمٌ ، قَالَتْ : وَدَخَلَ عَلَیْنَا ذَاتَ یَوْمٍ ، فَقَالَ : ھَلْ عِنْدَ کُمْ مِنْ شَیْءٍ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، حَیْسٌ اُھْدِیَ لَنَا ، فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ اَصْبَحْتُ وَاَنَا صَائِمٌ دَعَا بِہٖ فَطَعِمَ

: اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لاتے آپ دریافت کرتے کیا تمہارے پاس (کھانے کے لئے) کچھ ہے ؟ اگر ہم جواب دیتے: جی نہیں ، تو آپ فرماتے پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں ۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! ہمیں "حیس " تحفے کے طور پر دیا گیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صبح ، تو میں نے روزہ رکھنے کی نیت کی تھی۔ پھر آ پ نے کھانا منگوایا اور اسے کھا لیا۔

صَائِمٌ دَعَا بِہٖ فَطَعِمَ ← لَقَدْ اَصْبَحْتُ ← ھَلْ عِنْدَ کُمْ مِنْ شَیْءٍ؟ قُلْتُ نَعَمْ حَیْسٌ اُھْدِیَ لَنَا ← وَدَخَلَ عَلَیْنَا ذَاتَ یَوْمٍ ← «إِنِّي صَائِمٌ» ← "أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ"؟ فَنَقُولُ: لَا، ← إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ لَيَدْخُلُ عَلَيْنَا ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3630

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3631

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: "ذَاكَ صَوْمُ سَنَةٍ" قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ يَوْمَ عَرَفَةَ قال: "يكفر السنة وما قبلها" (1) .

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! ایسے شخص کے بارےمیں آپ کی کیا رائے ہے، جو عاشورہ کےدن روزہ رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ سال بھر (روزہ رکھنے کے برابر ہے) اس نے دریافت کیا: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو عرفہ کے دن روزہ رکھتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: یہ ایک سال کے اوراس سے پہلے کے ایک سال کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔

أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3631

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3632

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إني أحتسب على الله أن يكفر السنة الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السنة التي قبله" (1)

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے یہ امید ہے کہ یہ اس سے پہلے کہ ایک سال کے اور اس کے بعد کے ایک سال کے ( اور اس ایک سال کے) گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ امید ہے کہ یہ اس سے پہلے کے ایک سال کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3632

chevron_left Previous
1…282930…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr