صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2975
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عن عبد الله بن الحارث عن بن عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَادَ مَرِيضًا جَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ سَبْعَ مِرَارٍ: "أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيكَ" فَإِنْ كَانَ فِي أَجَلِهِ تَأْخِيرٌ عُوفِيَ مِنْ وَجَعِهِ ذلك2. [12:5]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو آپ ﷺ اس کے سرہانے بیٹھ جاتے تھے پھر سات مرتبہ یہ پڑھتے تھے: " میں عظیم اللہ سے، جو عظیم عرش کا پروردگار ہے، یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا کرے۔" تو اگر اس کے آخری وقت میں تاخیر ہوتی، تو اسے اس بیماری میں عافیت نصیب ہو جاتی تھی۔
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا عَادَ مَرِيضًا جَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ ثُمَّ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ
Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2975
