صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2331
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُخْتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَأَلَهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُهَا فِيهِ؟ فَقَالَتْ: «نَعَمْ، إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى» (1) . [4: 1]
حضرت معاویہ بن ابوسفیانؓ اپنی بہن سیدہ اُمّ حبیبہؓ جو نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے ان سے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ اسی کپڑے میں نماز ادا کرلیتے تھے جس میں آپ نے اس خاتون کے ساتھ صحبت کی ہوتی تھی‘ تو سیّدہ ام حبیبہؓ نے جواب دیا: جی ہاں ( اس وقت ) جب آپ کو اس میں کوئی نجاست نظر نہیں آتی تھی۔
مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ: ← سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2331
