صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 353
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" قَالَتْ وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَامَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَامَ عَلَيْهَا قَالَ یَقُوْلُ اَبُوْ سَلَمَۃَ قَالَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ( الَّذِیْنَ ھُْ عَلٰی صَلَاتِھِمْ دَائِمُوْنَ) (المعارد: 23)۔
سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’اتنا عمل اختیار کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس وقت تک تم سے منقطع نہیں ہوتا جب تک تم تھکاوٹ کا شکار نہیں ہو جاتے‘‘۔ سیّدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل وہ تھا ‘ جسے آپ ﷺ باقاعدگی سے سر انجام دیں ‘ اگرچہ وہ توڑا ہو نبی اکرمﷺ جب بھی کوئی ( نفل ) نماز ادا کرتے تھے ‘ تو آپ اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتےہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’اور وہ لوگ اپنی نمازیں باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں ‘‘۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’بے شک اللہ تعالیٰ تھکتا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ تم ٹھیک جاتے ہو‘‘۔ یہ لوگوں کے محاورے کے الفاظ میں سے ہیں‘ کیونکہ مخاطب شخص کو صرف اسی حوالے سے مفہوم منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مراد اس کا حقیقی مفہوم نہیں ہے۔
حَدَّثَتْنِي عَائِشَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 353
