Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3593

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ أغمي عليكم فاقدروا له" (1) .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "مہینہ انتس دن کا ب ہوتا ہے، اگر تم ا س وقت تک روزے رکھنا شروع نہ کرو جب تک ( پہلی کے چاند کو ) نہیں دیکھ لیتے اور اس وقت تک عیدا لفطر نہ کرو جب تک اسے دیکھ نہیں لیتے اور اگر تم پر بادل چھائے ہو ئے ہوں، تو تم گنتی پوری کر لو"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3593

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3594

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ إِمْلَاءً، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "لا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فإن حالت دونه غياية (1) فأكملوا ثلاثين" (2) .

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " رمضان سے پہلے روزے رکھنا شروع نہ کر دو اس کو (یعنی پہلی کے چاند کو ) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کر و اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کر و اور اگر اس سے پہلے بادل رکاوٹ بن جائیں ، تو تم تیس کی تعداد کر پورا کر لو"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ إِمْلَاءً،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3594

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3595

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ السِّنْجِيُّ، قَالَ: حدثنا عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدٍ ، الْکِنْدِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبُوْ خَالِدٍ الْاَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ فَاُتِیَ بِشَاۃٍ مَصْلِیَّۃٍ ، فَقَالَ :کُلُوْا ، فَتَنَحَّی بَعْضُ الْقَوْمِ ، وَقَالَ : اِنِّیْ صَائِمٌ ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ : مَنْ صَامَ الْیَوْمَ الَّذِی یَشُکُّ فِیْہِ فَقَدْ عَصَی اَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

صلہ بن زفر بیان کرتےہیں: ہم لوگ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ کے پاس موجود تھے وہاں ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی، انہوں نے فرمایا: تم لوگ کھانا کھاو، تو ایک شخص پیچھےہٹ گیا اس نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ، تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: جو شخص ایسے دن میں روز ہ رکھے جس کے بارے میں اسے شک ہو، تو اس نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔

«إِنِّي صَائِمٌ» ← كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، ← كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ السِّنْجِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3595

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3596

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ فَأُتِيَ بِشَاةٍ، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ (1) .

صلہ بن زفر بیا ن کرتےہیں: ہم حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ کے پاس ایک ایسے دن میں موجود تھے جس کے بارے میں یہ شک تھا کہ کیا یہ رمضان ہے یا نہیں۔ ایک بکر ی لائی گئی، تو ایک شخص پیچھے ہٹ گیا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: جو شخص آج کے دن میں روزہ رکھے گا اس نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔

صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3596

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3597

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ، حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ ، اَنَّہٗ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَضُوْمُوا حَتّٰی تَرَوَا الْھِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتّٰی تَرَوْہُ ، اِلَّا اَنْ یُغَمَّ عَلَیْکُمْ ، فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتےہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تم لوگ اس وقت تک روزہ رکھنا شروع نہ کر و جب تک پہلی کا چاند نہ دیکھ لو اور اس وقت تک عید الفطر نہ کرو جب تک اسے دیکھ نہ لو، البتہ اگر تم پر بادل چھایا ہوا ہو، تو حکم مختلف ہے، اگر تم پر بادل چھایا ہوا ہو، تو تم گنتی پوری کر لو"۔

ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ اَنَّہٗ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3597

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ يَوْمِ الْعِيدِ · حديث 3598

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يوم الفطر ويوم الأضحى (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتےہیں: نبی اکرم ﷺ نے دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے عید الفطر کا دن اور عید الاضحیٰ کا دن۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A season of fasting on the day of Eid · Hadith 3598

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ يَوْمِ الْعِيدِ · حديث 3599

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا صَوْمَ فِیْ یَوْمِ عِیْدٍ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " عید کے دن روزہ نہیں رکھا جائے گا"۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْمُغِيرَةِ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A season of fasting on the day of Eid · Hadith 3599

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2305

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ أَتَى جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ جَابِرٌ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ اشْتَمَلْتُ بِهِ، وَصَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَا السُّرَى يَا جَابِرُ؟» فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «يَا جَابِرُ، مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ؟» فَقُلْتُ: كَانَ ثَوْبًا وَاحِدًا ضَيِّقًا، فَقَالَ: «إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ، فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ» (1) . [1: 78]

سعد بن حارث بیان کرتے ہیں: وہ حضرت جابر بن عبداللہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ تو حضرت جابرؓ نے بتایا: میں نبی اکرمﷺ کے ہمراہ سفر کر رہا تھا۔ ایک رات میں کسی معاملے کے بارے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ تو میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا میرے جسم پر ایک کپڑا تھا جسے میں نے اشتمال کے طور پر لپیٹا ہوا تھا۔ میں آپ کے پہلو میں کھڑا ہو کر نماز اد اکرنے لگا‘ جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: تمہیں کیا کام ہے۔ میں نے آپ کو بتایا تو نبی اکرمﷺنے فرمایا: اے جابر! یہ تم نے اشتمال کے طور پر کس طرح کپڑا پہنا ہوا ہے‘ جو میں دیکھ رہا ہوں۔ میں نے عرض کی: یہ ایک تنگ کپڑا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم نماز ادا کرنے لگو اور تمہارے جسم پر ایک کپڑا ہو‘ تو وہ کشادہ ہو‘ تو تم اسے التحاف کے طور پر پہن لو اگر وہ تنگ ہو‘ تو تم اس کا تہبند باندھ لو۔

سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحٌ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2305

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2306

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ، وَأَيُّوبُ، وَحَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ: «أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ» فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: «إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ فَوَسِّعُوا، جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ فَصَلَّى الرَّجُلُ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ» (1) . قَالَ هِشَامٌ نَحْسَبُهُ قَالَ: «وَتُبَّانٍ» . [3: 65]

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سے ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تما میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں؟ جب حضرت عمر بن خطابؓ کا عہد خلافت آیا‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے گنجائش عطا کر دی ہے‘ تو تم لوگ گنجائش کو اختیار کرو۔ آدمی اپنے کپڑوں کو جمع کر لے ( یعنی دو مختلف طرح کی چیزیں پہنے ) آدمی تہبند اور چادر میں‘ یا تہبند اور قمیض میں ‘ یا تہبند اور قباء میں نماز ادا کرے یا شلوار اور قباء میں نماز ادا کرے یا شلوار اور قمیض میں‘ یا شلوار اور قباء میں نماز ادا کرے۔ ہشام نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال لے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں پاجامے ( نماز ادا کرے )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلُ، وَأَيُّوبُ، وَحَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، وَهِشَامٌ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2306

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2307

أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، «أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ يُصَلِّي عَلَى حَصِيرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ» (2) . [4: 1]

حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں:وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی اکرمﷺ کو ایک چٹائی پر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ اس پر سجدہ کر رہے تھے۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2307

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2308

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: «يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟» وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا، فَصَلَّى عَلَيْهِ (1) . [4: 1]

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ ہمارے ساتھ گھل مل جایا کرتے تھے‘ یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے یہ فرمایا کرتے تھے۔ اے ابوعمیر! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے۔ ہم نے اپنی چٹائی آپ کے لئے بچھا دی تو آپ نے اس پر نماز ادا کی۔

كَانَ رَسُول الله يخالطنا حَتَّى ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2308

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ مَا یُکْرَہُ لِلْمُصَلِّیْ، وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 2309

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم زَارَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ طَعَامًا فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَمَرَ بِمَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَنُضِحَ لَهُ عَلَى بِسَاطٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُمْ (1) . [4: 1]

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ انصار کے گھر میں ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کے ہاں کھانا کھایا جب آپ نے وہاں سے واپس آنے کا ارادہ کیا‘ تو آپ کے حکم کے تحت گھر کے ایک حصے میں آپ کےلئے چٹائی بچھائی گئی۔ آپ نے اس پر نماز ادا کی اور ان ( گھر والوں کےلئے ) دعا کی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored · Hadith 2309

chevron_left Previous
1…121314…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr