Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1127

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ، وَأَنْ نُصَلِّيَ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ2. 1:4

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس بات کی ہدایت کی تھی کہ ہم اونؔٹوں کا گوشت کھا کر وضو کریں اور بکری کا گوشت کھا کر وضو نہ کریں ، اور اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نی کریں اور بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کریں۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1127

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1128

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ: أَنُصَلِّي فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: "لَا". قِيلَ أَنُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قِيلَ: أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: "نَعَمْ". قِيلَ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: "لَا" 1. 110:1 قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الله تعالى عنه: في سؤال السائل عن الوضوء مِنْ لُحُومِالْاِبِلِ ، وَعَنِ الصَّلَاۃِ فِیْ اَعْطَانِھَا ، وَتَفْرِیقِ النَّبِیِّ ، صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بَیْنَ الْجَوَابَیْنِ: اَرَی الْبَیَانَ اَنَّہٗ اَرَادَ الْوُضُوْءَ الْمَفْرُوضَ لِلصَّلَاۃِ دُونَ غَسلِ الْیَدَیْنِ ، وَلَوْ کَانَ ذٰلِکَ غَسْلَ الْیَدَیْنِ مِنَ الْغَمْرِ لَاسْتَوَی فِیْہِ لُحُومُ الْاِبِلِ وَالْغَنَمِ جَمِیعًا ، وَقَدْ کَانَ تَرْکُ الْوُضُوْءِ مِمَّا مَسَّتْہُ النَّارُ ، وَبَقِیَ الْمُسْلِمُوْنَ عَلَیْہِ مّدَّۃً ، ثُمَّ نُسِخُ ذٰلِکَ ، وَبَقِیَ لُحُومُ الْاِبِلِ مُسْتَثْنًی من جملۃ ما أبیح بعد الخطر الذی تقدم ذکرنالہ۔

حضرت براء ؓ بیا ن کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ہم اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کریں ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ۔ عرض کی گئی کیا ہم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لیا کریں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ؛ جی ہاں۔عرض کی گئی کیا ہم بکری کا گوشت کھا کر وضو کر لیا کریں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی نہیں ۔ ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) سائل کے سوال میں اونٹوں کا گوشت کھا کر وضو کرنے اور اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کا تذکرہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دونوں جوابوں میں فرق کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں آپ کی پراد یہ ہے ، وہ وضو جو فرض نماز کے لئے کیا جاتا ہے۔ اس سے مراد دونوں ہاتھ دھونا نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے بو کی وجہ سے دونوں ہاتھ دھونا مراد ہوتا ہے۔ تو اس بارے میں اونٹوں کے گوشت اور بکریون کے گوشت کا حکم برابر ہوتا ہے۔ پہلے یہ حکم تھا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے پر سے وضو ٹوٹ جاات ہے۔ یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اونٹوں کا گوشت کا حکم مستثنٰی طور پر باقی رہا ۔ جس کا استثنٰا ان چیزوں سے کیا گیا تھا ، جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔

الْبَرَاءِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1128

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1129

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَضَرٍ الْخَلْقَانِيُّ بِمَرْوَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ عَلَى قِدْرٍ، فَانْتَشَلَ مِنْهَا عظما، فأكله ثم صلى ولم يتوضأ3. 1:4

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک ہنڈیا کے پاس سے گزرے ، آپ نے اس میں سے ایک ہڈی والا گوشت کھایا پھر آپ نے نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا ۔ امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہ بیان کہ پھر ٓاپ نے اسے کھا لیا اس سے مراد وہ گوشت جو ہڈیوں پر لگا ہوا تھا ۔ ہدی کھانا مراد نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَضَرٍ الْخَلْقَانِيُّ بِمَرْوَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1129

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1130

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرزاق، قال: أخبرنا بن جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلَهُ وَدَعَا بِوَضُوءٍ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ ولم يتوضأ، ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ؟ فَلَمْ يَجِدُوا، فَقَالَ: أَيْنَ شَاتُكُمُ الْوَالِدُ؟ فَأَمَرَنِي بِهَا. فَاعْتَقَلْتُهَا فَحَلَبْتُ لَهُ، ثُمَّ صَنَعَ لَنَا طَعَامًا فَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّى قَبْلَ أن يتوضأ، ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ، فَوَضَعْتُ جَفْنَةً فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ، فَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّيْنَا قَبْلَ أَنْ نتوضأ1. 1:4

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں روٹی اور گوشت پیش کیا گیا آپ نے اسے کھا لیا پھر آپ نے وضو کا پانین منگوایا پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے باقی بچے ہوئے کھانے کو کھا لیا پھر آپ نے عصر کی نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا ۔ میں حضرت ابو بکر ؓ کے ہمراہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے دریافت کیا : کیا کوئی چیز ہے، تو انہیں کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہاری وہ بکری کہاں ہے جو بچہ دینے والی تھی، پھر آپ نے اس کے بارے میں مجھے حکم دیا میں نے اسے کھول لیا اور اس کا دودھ دوہ لیا ، پھر آپ نے کھانا تیار کروایا، آپ نے اسے کھایا پھر آپ نے وضو کرنے سے پہلے ہی نماز ادا کر لی۔ میں حضرت عمر کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ایک پیالہ رکھا جس میں روٹی اور گوشت موجود تھا ۔ ہم نے اسے کھا لیا پھر ہم نے از سر نو وضو کئے بغیر نماز ادا کی ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت جابر ؓ سے منقول ہے

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1130

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1131

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَكَلَ مِنْ كَتِفٍ -أَوْ قَالَ: تَعَرَّقَ مِنْ ضِلَعٍ- ثم صلى ولم يتوضأ2. 20:5

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ( جانور ) کے شانے کا گوشت کھایا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) پسلی کا گوشت کھایا آپ نے نماز ادا کی اور ازسر نو وضو نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1131

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1132

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ قَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَحْمٍ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، ثُمَّ قَامُوا إِلَى الصف ولم يتوضؤوا. قَالَ جَابِرٌ: ثُمَّ شَهِدْتُ أَبَا بَكْرٍ أَكَلَ طَعَامًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. ثُمَّ شَهِدْتُ عُمَرَ أَكَلَ مِنْ جَفْنَةٍ، ثُمَّ قام فصلى ولم يتوضأ1. 1:4

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کوشت کھایا ، آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بھی تھے ، پھر یہ حضرات صف کی طرف اٹھ گئے ۔ انہوں نے از سر نو وضو نہیں کیا ۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں ؛ پھر میں حضرت ابو بکر ؓ کے ساتھ بھی تھا ۔ انہوں نے گوشت کھایا پھر نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور از سر نو وضو نہیں کیا پھر ایک مرتبہ حضرت عمر کے ساتھ بھی موجود تھا ۔ انہوں نے پیالے میں سے کھایا اور اٹھ کر نامز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا ۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1132

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3748

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَبِسَ ثِيَابَهُ، ثُمَّ خَرَجَ. قَالَتْ: فَأَمَرْتُ بَرِيرَةَ جَارِيَتِي تَتْبَعُهُ، فَتَبِعَتْهُ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعُ فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ، فَأَخْبَرَتْنِي، فَلَمْ أَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحْتُ، ثُمَّ إِنِّي ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: "إِنِّي بُعِثْتُ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عليهم" 1. [7:3]

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک رات نبی اکرم ﷺ اٹھے آپ نے کپڑے پہنے (یعنی چادر اوڑھی) اور باہر تشریف لے گئے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اپنی کنیزہ بریرہ کو نبی اکرم ﷺ کے پیچھے جانے کی ہدایت کی وہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے گئی۔ نبی اکرم ﷺ بقیع تشریف لائےوہاں اللہ کو منظو ر تھا آپ ٹھہرے رہے۔ پھر آپ واپس تشریف لے گئے، تو بریرہ آپ سے پہلے آ گئی۔ اس نے مجھے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے کچھ ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ جب صبح ہوئی، تو میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا، تا کہ میں ان کے لئے دعا ء رحمت کروں"۔

أُمِّهِ أَنَّهَا ← عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3748

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3749

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حدثنا بن مَهْدِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "قَوَائِمُ الْمِنْبَرِ رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ" 1. [2:1]

سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: " میرے اس (منبر ) کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں"۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← بن مَهْدِيٍّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3749

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3750

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ومنبري على حوضي" 1. [2:1]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " میرے گھر اور میرے منبر کی درمیانی جگہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہو گا"۔ ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): ان دونوں روایات میں جو الفاظ منقو ل ہیں اس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کرچکے ہیں کہ عرب اپنے محاورے میں بعض اوقات کسی مقصود چیز کا اسم اس کے سبب کے لئے استعمال کر لیتے ہیں۔ جب کوئی مسلمان نبی اکرم ﷺ کے منبر کے پاس اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کر کے اس کا قرب حاصل کرتا ہے اور اس کی قبولیت کی امید ہوتی ہے اور اس کا ثواب جنت ملنے کی امید ہوتی ہے اور اس کا ثواب جنت ملنے کی اُمید ہوتی ہے، تو یہاں مقصود کے اسم کو جو جنت ہے اس کے سبب کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور وہ منبر ہے اسی طرح نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " جنت کے باغوں میں سے ایک باغ " اسی طرح نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " میرا منبر میرے حوض پر ہے" اس سے مراد یہی ہے کہ آدمی کو یہ اُمید رکھنی چاہئے کہ وہ حوض کو ثر سے مشروب حاصل کرے گا اور جنت کے باغات میں پہنچے گا۔ دنیا میں اس جگہ پر اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی وجہ سے (وہاں پہنچے گا) یہ نبی اکرم ﷺ کے ا س فرمان کی مانند ہو گا" بیمار کی عیادت کرنے والا جنت کے باغ میں ہوتا ہے۔" تو جب بیمار کی عیادت کرنے والا شخص اپنی عیادت کے وقت میں ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کے لئے جنت کے باغ میں پہنچنے کی اُمید کی جا سکتی ہے اور یہی مقصود ہے، تو یہاں مقصود کا اسم اس کے سبب کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس کی مثال نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے" جنت تلواروں کے سائے تلے ہے" اس کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں، جنہیں ہم عنقریب اس کتا ب میں آگے چل کر نقل کریں گے۔ اگر اللہ نے چاہا۔

"مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ومنبري على حوضي" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3750

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3751

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ بن شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةَ مَا ذَعَرْتُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حرام" 1. [2:2]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ فرماتے ہیں: اگر میں مدینہ منورہ میں کسی ہرن کو چرتا ہوا دیکھوں ، توا سے پکڑنے کی کو شش نہیں کروں گا، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " یہ دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ حرم ہے"۔

لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةَ مَا ذَعَرْتُهَا، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3751

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3752

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا محمد بن بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ ثُمَّ الرَّبْعِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: لَنَا غَنَمٌ وَغِلْمَانٌ وَهُمْ يُخَبِّطُونَ عَلَى غَنَمِهِمْ هَذِهِ الثَّمَرَةَ الْحُبْلَةَ وَهِيَ ثَمَرَةُ السَّمُرِ، فَقَالَ جَابِرُ: لَا، ثُمَّ قَالَ: لَا يُخْبَطُ وَلَا يُعْضَدُ مُحْرِمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ هُشُّوا هَشًّا ثُمَّ قَالَ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لينهانا عن نقطع المسد ومردود البكرة 1 2. [81:2]

حارث بن رافع بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہہ سے سوال کیا وہ بولے : ہماری بکریاں بھی ہیں اور بال بچے بھی ہیں، تو ان بال بچوں نے اپنی ان بکریوں کو پتے توڑ کر دینے ہوتے ہیں اور جو اس سمر کے درخت کے ہوتے ہیں، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر انہوں نے فرمایا: یہاں کے پتوں کو توڑا نہیں جائےگا اور یہاں کے ( درخت کو) کاٹا نہیں جائے گا ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے اسے حرم قرار دیا ہے ، البتہ تم لوگ آرام سے جھاڑسکتے ہو۔

أَبِيهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ الْجُهَنِيِّ ثُمَّ الرَّبْعِيِّ ← خَارِجَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← محمد بن بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3752

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3753

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهِ، لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حتى لا يبقى فيها إلا مسلم" 1. [60:3]

حضرت عمر رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہ گیا ، تو میں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دونگا، یہان تک کہ اس میں صرف مسلمان باقی رہ جائیں گے"۔

النَّبِيِّ ← عُمَرَ، ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3753

chevron_left Previous
1…919293…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr