Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3735

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كالكير تنفي خبثها، وينصع طيبها" 1. [9:3]

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ۔ اس دیہاتی کو مدینہ منورہ میں بخار ہو گیا۔ (وہ مدینہ منورہ چھوڑ) کر چلا گیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " بے شک مدینہ منورہ بھٹی کی مانند ہے ، جو خرابی کو ختم کر دیتی ہے اور اچھائی کو نکھار دیتی ہے"۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3735

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3736

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ1 بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: سألت سفيان بن عيينة وهو جَالِسٌ مُسْتَقْبِلٌ الْحَجَرَ الْاَسْوَدَ ، فَاَخْبَرَنِی ، عَنِ ابْنِ جُرِیْجٍ ، عَنْ اَبِیْ الزُّبَیْرِ ، عَنْ اَبِیْ صَالَحٍ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یُوشِکُ اَنْ یَّضْرِبَ الرَّجُلُ اَکْبَادَ الْاِبِلِ فِیْ طَلَبِ الْعِلْمِ ، فَلَا یَجِدُ عَالِمًا اَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ ، قَالَ اَبُوْ مُوْسَی : بَلَغَنِیْ عَنِ ابْنِ جُرَیْجِ اَنْہُ کَانَ یَقُوْلُ : نَرَی اَنَّہٗ مَالِکُ بْنُ اَنَسٍ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِسُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ ، فَقَالَ : اِنَّمَا الْعَالِمُ مَنْ یَخْشَی اللہَ ،وَلَا نَعْلَمُ اَحَدًا کَانَ اَخْشَی لِلہِ مِنَ الْعُمَرِیِّ یُرِیدُ بِہٖ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ

حضرت : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ جب لوگ علم کے حصول کے لئے اونٹوں کے جگر پگھلا دیں گے (یعنی انتہائی زیادہ سفر کریں گے) ، لیکن انہیں کوئی ایسا عالم نہیں ملے گا جو اہل مدینہ کے عالم سے بڑا عالم ہو"۔ ابو موسیٰ نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ ابن جریج یہ فرماتے تھے: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت امام مالک رضی اللہ عنہہ ہیں۔ میں نے اس بات کا تذکرہ سفیان سے کیا، تو انہوں نے فرمایا : عالم وہ شخص ہوتا ہے ، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اور ہمیں ایسے کسی شخص کا علم نہیں ہے، جو عمری سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، اس کی مراد عبداللہ بن عبدالعزیز تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سألت سفيان بن عيينة وهو جَالِسٌ مُسْتَقْبِلٌ الْحَجَرَ الْاَسْوَدَ فَاَخْبَرَنِی ← إسحاق بن موسیٰ الأنصاري ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3736

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3737

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ في الماء" 1. [109:2]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے (جہنم کی آگ میں ) یو ں گھول دےگا، جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے"۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ أَنَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3737

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3738

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَخَافَهُ اللَّهُ" 1. [109:2]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اسے خو ف زدہ کرے گا"۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3738

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3739

أخبرنا الفضل بن الجباب، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إلا كنت له شفيعا يوم القيامة" 1. [9:3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " یہاں کی سختیوں اور شدت پر جو بھی شخص صبر کرے گا قیامت کے دن میں اس کا" شفیع " ہو ں گا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الفضل بن الجباب،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3739

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1117

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ الْيَحْصَبِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بُسْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ. وَالْمَرْأَةُ مثل ذلك" 2. 23:1

سیدہ بسرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: " جب کوئی شخص اپنی شرم گاہ کو چھو لے ، تو اسے وضو کرنا چاہئے اور عورت بھی اسی طرح کرے۔"

"إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ. وَالْمَرْأَةُ مثل ذلك" ← النَّبِيِّ ← بُسْرَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ الْيَحْصَبِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1117

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1118

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِالْفُسْطَاطِ، وَعِمْرَانُ بْنُ فَضَالَةَ الشَّعِيرِيُّ بِالْمَوْصِلِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَنَافِعِ بْنِ أَبِي نعيم القارىء، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "إذا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا ستر ولا حجاب، فليتوضأ" 2. 23:1 قَالَ أَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ: احْتِجَاجُنَا فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ بِنَافِعِ بْنِ اَبِیْ نُعَیْمٍ دُوْنَ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ النَّوْفَلِیِّ لِاَنَّ یَزِیْدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ تَبَرَّاَنَا من عھدتہ فی کتاب الضعفاء

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " جب کوئی شخص اپنا ہاتھ اپنی شرم گاہ کی طرف بڑھائے اور ان دونوں کے درمیان کوئی پردہ یا رکاوٹ حائل نہ ہو ، تو اس شخص کو وضو کرنا چاہپئے۔" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) اس روایت میں ہمارا استدلال نافع بن ابو نعیم کی نقل کردہ روایت سے ہے یزید بن عبدالملک کی روایت کردہ روایت سے نہیں ہے، کیونکہ یزید بن عبد الملک کے مستند ہونے سے ہم بری الذمہ ہیں ۔ جیسا کہ یہ بات کتاب الضعفا میں بیان کی گئی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَنَافِعِ بْنِ أَبِي نعيم القارىء، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِالْفُسْطَاطِ، وَعِمْرَانُ بْنُ فَضَالَةَ الشَّعِيرِيُّ بِالْمَوْصِلِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1118

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1119

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ: "هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ أَوْ بضعة منه" 2. 23:1

قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ وفد کی صورت میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک شخص آیا اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس شخص کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو شخص وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ ( شرم گاہ) اس کے جسم کے گوشت کا لوتھڑا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ایک ٹکڑا ہے۔

"هَلْ هُوَ إِلَّا مُضْغَةٌ أَوْ بضعة منه" ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ؟ ← خَرَجْنَا وَفْدًا إِلَى النَّبِيِّ، فَجَاءَ رَجُلٌ ← أَبِيهِ ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1119

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1120

أخبرنا بن قتيبة بعسقلان، حدثنا بن أَبِي السَّرِيِّ، أَخْبَرَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أحدنا يكون في الصلاة، فيحتك فيصيب يَدُهُ ذَكَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "وَهَلْ هُوَ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْكَ أو مضغة منك" 2. 23:1

قیس بن طلق بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی : ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے۔ ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسو ل اللہ !ہم میں سے کوئی ایک شخص نماز کی حالت میں ہوتا ہے، اور اس کا ہاتھ اس کی شرم گاہ تک پہنچ جاتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ شرم گاہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہے ، راوی کو شک ہے شاید یہ لافاظ ہیں ؛ تمہارے جسم کے گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔

كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: ← أَبِي ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← بن قتيبة بعسقلان،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1120

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1121

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ النَّيْسَابُورِيُّ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَمَسُّ ذَكَرَهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: "لَا بأس به إنه لبعض جسدك" 1. 23:1

قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ؛ نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو نماز کی حالت میں اپنی شرم گاہ کو چھو لیتا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ، اس میں کوئی حرج نہیں ، وہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے۔

"لَا بأس به إنه لبعض جسدك" ← الرَّجُلِ يَمَسُّ ذَكَرَهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، ← أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ، ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← حُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ النَّيْسَابُورِيُّ بِمَكَّةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1121

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1122

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَنَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَكَانَ يَقُولُ: "قَدِّمُوا الْيَمَامِي مِنَ الطِّينِ، فَإِنَّهُ مِنْ أَحْسَنِكُمْ2 لَهُ مَسًّا" 3. 23:1

قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ مسجد نبوی کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔ آپ یہ فرمایا کرتے تھے: " مٹی میں سے یمامی کو آگے کرو ، کیونکہ مس کرنے کے اعتبار سے یہ سب سے زیادہ عمدہ ہے۔" ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : )حضرت طلق بن علی کی روایت جو ہم نے نقل کی ہے یہ منسوخ حدیث ہے۔ حضرت طلق بن علی نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں ہجرت کے پہلے سال آئے تھے۔ جب مسلمان مسجد نبوی کی تعمیر مدینہ منورہ میں کر رہے تھے۔ جبکہ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے شرم گاہ کو چھونے پر وضو لازم ہونے کی حدیث نقل کی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے یہ بات ذکر کر چکے ہیں ، حضرت ابو ہریرہ نے سن ۷ ہجری میں اسلام قبول کیا تھا ۔ یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے ، حضرت ابو ہریرہ ؓ کی نقل کردہ روایت حضرت طلق بن علی کی روایت کردہ روایت سے سات سال بعد کی ہے۔

"قَدِّمُوا الْيَمَامِي مِنَ الطِّينِ، فَإِنَّهُ مِنْ أَحْسَنِكُمْ2 لَهُ مَسًّا" ← بَنَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ، مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَكَانَ ← أَبِيهِ ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1122

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1123

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْنَا سِتَّةً وَفْدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَمْسَةٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بَيْعَةً لَنَا، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ2 مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَتَمَضْمَضَ ، وَصَبَّ لَنَا فِیْ اِدَاوَۃٍ ، ثُمَّ قَالَ: اذْھَبُو بِھٰذَ الْمَاءِ فَاِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَکُمْ ، فَاکْسِرُوا بِیْعَتَکُمْ ،ثُمَّ النْضَحُوا مَکَانَھَا مِنْ ھٰذَا الْمَاءِ ، وَاتِّخِذُوْا مَکَانَھَا مَسْجِدًا فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، الْبَلَدُ بَعِیقدٌ ، وَالْمَاءُ یَنْشَنفُ ، قَالَ: فَاَمِدُّوہُ مِنَ الْمَاءِ ، فَاِنَّہٗ لَا یَزِیْدُہُ اِلَّا طِیبًا فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَحْنَا عَلٰی حَمْلِ الْاِدَاوَۃِ اَیُّنَا یَحْمِلُھَا ، فَجَعَلَھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، نَوْبًا لِکُلِّ رَجُلٍ مِنَّا یَوْمًا وَّلَیْلَۃً ، فَخَرَجْنَا بِھَا حَتّٰی قِدِمْنَا بَلَدَنَا فَعَمِلْنَا لَّذِیْ اَمَرَنَا ، وَرَاھِبُ ذلک القوم رَجل من طیء ، فَنَادَیْنَا بِالصَّلَاۃِ ، فَقَالَ الرَّاھِبُ: دَعْوَۃُ حَقٍّ ، ثُمّ ھَرَبَ فَلَمْ یُرَبَعْدَ۔1:23

قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم چھ افراد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، پانچ افراد کا تعلق بنو حنیفہ سے تھا اور ایک شخص کا تعلق بنو ضبیعہ بن ربیعہ سے تھا ۔ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے آپ کے دست منبارک پر اسلام قبول کیا ور آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی ۔ ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے علاقہ میں ایک گرجا گھر ہے ہم نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اپنے وضو کا بچا ہوا پانی ہمیں عنایت کریں تو نبی اکرم ﷺ نے پانی منگوایا ۔ آپ نے اس کے ذریعے وضو کیا پھر کلی کی آپ نے ہمارے لئے ایک برتن میں پانی انڈیل دیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اس پانی کو لے جاو تم اپنے علاقہ میں جاو تو گرجا گھر کو توڑ دینا اور اس جگہ پر اس پانی کو چھڑک دینا اور اس جگہ مسجد بنا دینا ۔ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا علاقہ بہت دور ہے۔ پانی خشت ہو جائے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اس میں پانی ملاتے رہنا ۔اس کے نتیجے میں اس کی پاکیزگی میں اضافہ ہی ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے تو ہمارے درمیان اس بات میں اختلاف ہو گیا ۔ پانی کے اس برتن کو کون اٹھائے گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ہم میں ہر ایک شخص کی ایک دن اور ایک رات کی باری مقرر کر دی ۔ ہم لوگ اسے لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ اپنے علاقہ میں آئے۔ ہم نے وہی کام کیا جس کی ہمیں نبی اکرم ﷺ نے ہدایت کی تھی۔ اس قوم کا راہن طے قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جب ہم نے نماز کے لئے اذان دی تو راہب نے کہا : یہ حق کی دعوت ہے، پگھر وہ بھاگ گیا۔ اس کے بعد وہ نظر نہیں آیا۔ ( اما م ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) اس روایت مین اس بات کا واضح بیان موجود ہے حضرت طلق بن علی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضری کے بعد اپنے علاقہ میں واپس چلے گئے تھے ۔ یہ اس وقت کی بات جس کا ہم نے ذکر کیا ہے ۔ اس کے بعد دوبارہ ان کے مدینہ منورہ میں آنے کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا ۔ جو شخص ان کے دوبارہ مدینہ منورہ آنے کا دعوٰی کرتا ہے اس پر یہ بات لازم ہے، وہ کوئی ایسی حدیث بیان کرے جس میں اس بات کی حراحت موجود ہو اور یہ حدیث اسے مل نہیں سکتی۔

أَبِيهِ ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْحَنَفِيِّ ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1123

chevron_left Previous
1…878889…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr