Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4338

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حَلَفَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: لَيَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ بِتِسْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ كُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ أَوِ الْمَلِكُ: قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَنَسِيَ، وَأَطَافَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ بِتِسْعِينَ امْرَأَةً فَمَا جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ إِلَّا وَاحِدَةٌ بِشِقِّ غُلَامٍ»، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ، وَكَانَ أَدْرَكَ حَاجَتَهُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ آج کی رات اپنی نوے بیویوں کے پاس جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک خاتون ایک ایسے لڑکے کو جنم دے گی جواللہ کی راہ میں جہاد کرے گا، تو ان کے ساتھی نے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) فرشتے نے ان سے کہا آپ انشاء اللہ کہہ دیجئے ، لیکن وہ یہ کہنا بھول گئے وہ اس رات اپنی نوے بیویاں کے پاس تشریف لے گئے، لیکن ان میں صرف ایک بیوی نے نامکمل بچے کو جنم دیا۔ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: اگر وہ انشاءاللہ کہہ دیتے تو وہ حانث نہ ہوتے اور ان کی خواہش بھی پوری ہو جاتی “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← طَاوْسٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4338

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4339

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى»

قسم اٹھانے والے کے لیے اپنی قسم میں استثنیٰ کرنے کے مباح ہونے کا تذکرہ، جبکہ وہ قسم کے بعد استثنیٰ کے

«مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4339

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4340

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَثْرُودٍ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص قسم اٹھائے اور انشاء اللہ کہہ دے وہ حانث نہیں ہوتا “۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ مَثْرُودٍ الْغَافِقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4340

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4341

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الطُّرْسُوسِيُّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:184] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حلف اٹھائے اور انشاءاللہ کہہ دے تو اس نے استثناء کر لیا “۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ، [ص:184] ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الطُّرْسُوسِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4341

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4342

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ مَضَى، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حَنِثٍ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص قسم اٹھائے اور استثناء کر لے، تو اسے اختیار ہو گا اگر چاہے ، تو اسے برقرار رکھے اور اگر چاہے، تو حانث ہوئے بغیر اسے ترک کر دے “۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4342

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4343

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا، وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا»، ثُمَّ سَكَتَ فَقَالَ: «إِنْ شَاءَ اللَّهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے: ”اللہ کی قسم ! میں قریش کے ساتھ ضرور لڑائی کروں گا اللہ کی قسم ! میں قریش کے ساتھ ضرور لڑائی کروں گا اللہ کی قسم ! میں قریش کے ساتھ ضرور لڑائی کروں گا پھر نبی اکرم ﷺ کچھ دیر خاموش رہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا“۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← مِسْعَرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4343

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4344

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ*، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى مُلْكِ يَمِينِهِ أَنْ يَضْرِبَهُ، فَكَفَّارَتُهُ تَرَكُهُ، وَمَعَ الْكَفَّارَةِ حَسَنَةٌ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اپنے غلام کے بارے میں یہ قسم اٹھائے کہ وہ اس کی پٹائی کرے گا، تو اس کا کفارہ یہ ہے: وہ اس عمل کو ترک کر دے اور کفارے کے ہمراہ یہ نیکی بھی ہے “۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي مَعْبَدٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← سُفْيَانَ، ← بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4344

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4345

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى [ص:187] يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، ثُمَّ لِيَتْرُكْ يَمِينَهُ»

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور اس کے برخلاف کام کو اس سے زیادہ بہتر سمجھے تو اس وہ کام کرنا چاہئے جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کو ترک کر دینا چاہئے“۔

النَّبِيِّ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← تَمِيمَ بْنَ طَرْفَةَ الطَّائِيَّ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4345

صیح ابن حبان · کتاب الایمان ‹ كِتَابُ الْأَيْمَانِ · حديث 4346

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ، فَسَأَلَهُ نَفَقَةً، فَقَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ إِلَّا دِرْعِي وَمِغْفَرِي، فَأَكْتُبُ إِلَى أَهْلِي أَنْ تَعْطِيكَهَا، فَلَمْ يَرْضَ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يُعْطِيَهُ شَيْئًا، ثُمَّ رَضِيَ الرَّجُلُ، فَقَالَ عَدِيٌّ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «[ص:188] مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ثُمَّ رَأَى مَا هُوَ أَتْقَى لِلَّهِ مِنْهَا فَلْيَأْتِ التَّقْوَى»، مَا حَنَثْتُ

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے خرچ کا مطالبہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے صرف یہ زرہ ہے اور یہ خود ہے میں اپنے گھر والوں کی طرف کاغذ لکھ دیتا ہوں کہ وہ تمہیں کچھ دے دیں وہ شخص اس بات پر راضی نہیں ہوا تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے یہ قسم اٹھائی کہ وہ اسے کچھ نہیں دیں گے پھر وہ شخص اس بات پر راضی ہو گیا تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہونے نہ سنا ہوتا۔ ”جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر وہ (اس کے برخلاف صورت حال کو) دیکھے کہ وہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے، تو اسے وہ کام کرنا چاہئے جو پرہیزگاری والا ہو“۔ (حضرت عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر یہ حدیث نہ ہوتی) تو میں اپنی قسم نہ توڑتا۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← تَمِیْمِ بْنِ طَرَفَۃَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 4346

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حُسْنِ الْخُکُقِ · حديث 471

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ومحمد بن الحسن بن قيبة وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ فِي آخَرِينَ قَالُوا حَدَّثَنَا الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مداراة الناس صدقة" 2.

حضرت جابرؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے : ’’لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے درپیش آنا صدقہ ہے‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں : ) وہ مدارت ‘ تو مدارات کرنے والے شخص کے لئے صدقہ ہوتی ہے اس سے مراد یہ ہے :آدمی مستحسن اشیاء کو اپنے اخلاق کا حصہ بنائے۔ نیز اس کے ہمراہ اپنی ذات سے اس چیز کو پرے رکھے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا امکان ہو سکتا ہے۔ جبکہ مداہنت سے مرادآدمی کا ان خصائل کو اختیار کرنا ہے ‘ جو لوگوں کے ساتھ تعلق میں مستحسن سمجھے جاتے ہیں‘ اور ان میں ایسی چیز بھی شامل ہوتی ہے‘ جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ فِي آخَرِينَ ← محمد بن الحسن بن قيبة ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter Hassan Al-Khakak · Hadith 471

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حُسْنِ الْخُکُقِ · حديث 472

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ قال حدثنا بن الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خطوة تخطوها إلى المسجد صدقة" 1. [1: 2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’چھی بات کہنا صدقہ ہے اور مسجد کی طرف چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے ‘‘۔

"الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خطوة تخطوها إلى المسجد صدقة" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter Hassan Al-Khakak · Hadith 472

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ حُسْنِ الْخُکُقِ · حديث 473

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحِلِّ بْنِ خَلِيفَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فبكلمة طيبة" 1. [1: 2]

حضرت عدی بن حاتمؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’آگ سے بچو خواہ وہ نصف کھجور کے ذریعے ہو اور اگر تمہیں یہ بھی نہیں ملتی تو پاکیزہ بات کے ذریعے ( آگ سے بچنے کی کوشش کرو) ‘‘

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← مُحِلِّ بْنِ خَلِيفَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › Chapter Hassan Al-Khakak · Hadith 473

chevron_left Previous
1…798081…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr