Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3718

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ1 عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطِيعًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: "لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، وَلَمْ يُدْرِكِ الْمُسْلِمُونَ أَحَدًا مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشً غَيْرَ مُطِيعٍ، وَكَانَ اسْمَهُ الْعَاصِ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم مطيعا 2. [95:2]

حضرت مطیع رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: "آج کےبعد قیامت کے دن تک کسی بھی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا"۔ اس دن مسلمانوں کو کفار مکہ سے صرف حضرت مطیع رضی اللہ عنہہ ہاتھ لگے تھے ان کا عاص تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے انکا نام مطیع رکھا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مطيعا ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3718

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3719

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ وَالْحَجَبِيُّ وَأَبُو الْوَلِيدِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، فَلَمَّا وَضَعَهُ قِيلَ: هَذَا ابْنُ خَطَلٍ متعلق بأستار الكعبة، فقال: "اقتلوه" 1. [1:4]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ کے سر پر خود تھا، تو آپ نے اسے اتارا، تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی ابن خطل کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← الْقَعْنَبِيُّ وَالْحَجَبِيُّ وَأَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3719

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3720

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ1 بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ، عَنْ مَنْصُوْرٍ ، عَنْ مُجَاھِدٍ ، عَنْ طَاوْسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : اِنَّ ھٰذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ ، حَرَّمَہُ اللہُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، لَا یُنَفَّرُ صَیْدُہٗ ، وَلَا یُعْضَدُ شَوْکَہُ ، وَالَا تُلْتَقَطُ اِلَّا مَنْ عَرَّفَھَا ، وَلَایُخْتَلٰی خَلَاؤُہُ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : اِلَّا الْاِذْخِرَ ، فَاِنَّہٗ لِبُیُوْتِھِمْ ، فَقَالَ : اِلَّا الْاِذْخِرَ ، وَلَا ھِجْرَۃَ ، وَلٰکِنْ جِھَادٌ وَلَیَّۃٌ ،وَاِذَا اسْتُنْفِرْ ثُمْ فَانْفِرُوا

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی ا کرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ شہر قابل احترام ہے اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لئے قابل احترام قرار دیا ہے یہاں تک کہ شکار کو بھگایا نہیں جائے گا یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جائے گا اور یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا، البتہ اعلان کرنے کے لئے اٹھایا جا سکتا ہے اور یہاں کے پودوں کو اکھیڑا نہیں جائے گا حضرت عباس رضی اللہ عنہہ نے عرض کی: اذخر کی اجازت دے دیں وہ گھروں میں استعمال ہوتی ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اذخر کی اجازت ہے اب ہجرت باقی نہیں رہی، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تم سے (جہاد کے لئے ) نکلنے کے لئے کہا جائے ، تو تم نکل کھڑے ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← مُفَضَّلُ بْنُ مُھَلْھِلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← الْمُفَضَّلُ1 بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3720

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3721

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحَلَبِيُّ بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، وَإِنَّهُمْ قَالُوا: يا رسول الله بن خَطَلٍ مُتَعَلَّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ؟ فَقَالَ: "اقْتُلُوهُ" فَقُتِلَ1. [1:4]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! ابن خطل کعبہ کے پردوں میں چھپا ہوا ہے نبیاکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے قتل کر دو، تو اسے قتل کر دیا گیا۔

دَخَلَ النَّبِيُّ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، وَإِنَّهُمْ ← أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الدِّمَشْقِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحَلَبِيُّ بِدِمَشْقَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3721

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2405

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي [ص:165] بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدُّئِلِ يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ، أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟ » قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ». [1: 78]

زید بن اسلم نے بنودئل سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بسربن محجن کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ وہ ایک محفل میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ موجود تھے۔ نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کی پھر آپ واپس تشریف لے آئے تو حضرت محجن اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے‘ نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا: کیا وجہ ہے‘ تم نےلوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی کیا تم مسلمان نہیں ہو۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں‘ یا رسول اللہ (ﷺ)! ( میں مسلمان ہوں ) لیکن میں اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا تھا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم آؤ تو لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کر لو اگرچہ تم پہلے نماز ادا کر چکے ہو۔

أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of returning prayer · Hadith 2405

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ اِعَادَۃِ الصَّلَاۃِ · حديث 2406

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ، قَالَ: أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا، فَجَلَسَ عَلَيْهِ، [فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ] فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِي، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، وَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، فَقَالَ: «صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَهُمْ فَصَلِّ، وَلَا تَقُلْ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي» (1) . [1: 95]

ابوالعالیہ براء بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ابن زیاد نے ایک نماز تاخیر سے ادا کی تو عبداللہ بن صامت میرے پاس تشریف لائے میں نے ان کےلئے کرسی رکھی وہ اس پر تشریف فرما ہوئے۔ میں نے ان کےسامنے ابن زیاد کے اس عمل کا تذکرہ کیا‘ تو وہ اپنے ہونٹ چبانے لگے پھر انہوں نے اپنی ہاتھ میرے زانو پر مارا اور بولے: میں نے حضرت ابوذرغفاریؓ سے ایک سوال کیا‘ تو انہوں نے میرے زانو پر اسی طرح ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہارے زانو پر ہاتھ مارا ہے‘ پھر انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرمﷺ سے سوال کیاتھا جس طرح تم نے مجھ سے سوال کیا ہے‘ تو نبی اکرمﷺ نےمیرے زانو پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تمہارے زانو پر ہاتھ مارا ہے‘ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ( اس طرح کی صورت حال میں ) تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لو اگر تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز ملے‘ تو تم اسے بھی ادا کر لو تم یہ نہ کہو‘ میں نماز ادا کر چکا ہوں اس لئے اب نہیں پڑھوں گا۔‘‘

أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of returning prayer · Hadith 2406

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2407

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيُوتِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيُوتِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيُوتِرْ بِهَا، وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِ (1) ذَلِكَ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً» (2) . [1: 42]

حضرت ابو ایوب انصاریؓ نبی اکرمؓ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ وتر حق ہیں جو شخص پانچ وتر ادا کرنا چاہے وہ ادا کر لے‘ جو شخص تین وتر ادا کرنا چاہے وہ انہیں ادا کر لے جو شخص ایک وتر ادا کرنا چاہے وہ اسے ادا کر لے اور جس شخص کےلئے اسے ادا کرنا دشواری کا باعث ہو وہ اشارے کےساتھ اسے پڑھ لے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2407

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2408

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ (3) ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ وَلَمْ يُوتِرْ فَلَا وِتْرَ لَهُ» (1) . [3: 43]

حضرت ابو سعیدخدریؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص صبح صادق کو پالے اور اس نے وتر ادا نہ کئے ہوں تو اس کے وتر نہیں ہوتے۔‘‘

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2408

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2409

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا، فَلَمْ نَزَلْ فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا، ثُمَّ دَخَلْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجَوْنَا أَنْ تُصَلِّيَ بِنَا، فَقَالَ: «إِنِّي خَشِيتُ - أَوْ كَرِهْتُ - أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ» (1) . [5: 29] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَانِ خَبَرَانِ لَفْظَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ، وَمَعْنَاهُمَا مُتَبَايِنَانِ، إِذْ هُمَا فِي حَالَتَيْنِ فِي شَهْرَيْ رَمَضَانَ (2) ، لَا فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ فِي شَهْرٍ وَاحِدٍ»

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے رمضان کےمہینے میں ہمیں آٹھ رکعات پڑھائیں پھر آپ نے وتر ادا کئے پھر جب اگلی رات آئی تو لوگ مسجد میں اکھٹے ہو گئے ہمیں یہ امید تھی‘ آپ ہمارے پاس تشریف لائیں گے۔ ہم اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہم مسجد میں اکھٹے ہوئے تھے۔ ہمیں یہ امید تھی‘ آپ ہمیں نماز پڑھائیں گے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ مجھے یہ اندیشہ ہوا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) میں نےاس بات کو ناپسند کیا تم پر وتر لازم کر دیا جائے۔‘‘ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ان دونوں روایات کے الفاظ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ان دونوں کا مفہوم ایک دوسرے سے مختلف ہے کہ یہ دو مختلف رمضانوں میں دو مختلف حالتوں میں پیش آئی تھیں ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی مہینے میں ایک ہی حالت میں واقعہ پیش آیا تھا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2409

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2410

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِثَلَاثٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ» (1) . [5: 34]

حضرت ابو ایوب انصاریؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ وتر حق میں جو شخص چاہے وہ پانچ وتر ادا کرے اور جو چاہے تین ادا کرے اور جو چاہے وہ ایک وتر ادا کرے۔‘‘

أَبِي أَيُّوبَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2410

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2411

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيُوتِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثٍ فَلْيُوتِرْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيُوتِرْ بِهَا، وَمَنْ غَلَبَهُ ذَلِكَ فَلْيُومِئْ إِيمَاءً» (2) . [5: 34]

حضرت ابو ایوب انصاریؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ وتر حق میں جو شخص پانچ وتر ادا کرنا چاہے وہ انہیں ادا کر لے اور جو تین ادا کرنا چاہے وہ انہیں ادا کر لے اور جو شخص ایک وتر ادا کرنا چاہے وہ اسے ادا کر لے اور جو شخص انہیں ادا نہ کر سکتا ہو وہ انہیں اشارے کے ساتھ پڑھ لے۔‘‘

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2411

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْوِتْرِ · حديث 2412

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ «كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ، وَيَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ» (1) . [5: 34]

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ وہ اونٹ پر ہی وتر ادا کر لیتے تھے اور یہ بات ذکر کرتے تھے‘ نبی اکرمﷺ بھی ایسا کر لیا کرتےتھے۔

ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ «كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ، وَيَذْكُرُ ← نَافِعٍ ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Prayer › The door of the tendon · Hadith 2412

chevron_left Previous
1…787980…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr