صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابٌ فَضْلُ مَكَّةَ · حديث 3718
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ1 عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطِيعًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: "لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، وَلَمْ يُدْرِكِ الْمُسْلِمُونَ أَحَدًا مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشً غَيْرَ مُطِيعٍ، وَكَانَ اسْمَهُ الْعَاصِ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم مطيعا 2. [95:2]
حضرت مطیع رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: "آج کےبعد قیامت کے دن تک کسی بھی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا"۔ اس دن مسلمانوں کو کفار مکہ سے صرف حضرت مطیع رضی اللہ عنہہ ہاتھ لگے تھے ان کا عاص تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے انکا نام مطیع رکھا۔
رَسُولِ اللَّهِ ← مطيعا ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The best of Makkah · Hadith 3718
