Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 346

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ ابْنِ أَخِي الْحَجَّاجِ بْنِ الْمِنْهَالِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الجنة" 1. [3: 30]

سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’بعض اوقات ایک شخص اہل جنت کا سا عمل کرتا رہتا ہے ‘ حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے بعض اوقات ایک شخص ایسے جہنم کاسا عمل کرتا رہتا ہے ‘ حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے ‘‘۔

عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ ابْنِ أَخِي الْحَجَّاجِ بْنِ الْمِنْهَالِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 346

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ · حديث 3583

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَیْبَۃَ ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ مُّطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، عَنْ اَبِیْہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَامَ الْاَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا اَفْطَرَ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَامَ الْاَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا اَفْطَرَ ،یُرِیْدُ بِہِ ، مَنْ صَامَ الْاَبَدَ وَفِیْہِ الْاَیَّامُ الَّتِی نُھِیَ عَنْ صِیَامِھَا مِثْلُ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ مِنَ الْعِیْدَیْنِ فَلَا صَامَ وَلَاا اَفْطَرَ ، یُرِیْدُ بِہٖ فَلَا صَامَ الدَّھرَ کُلَّہُ فَیُؤْجَرَ عَلَیْہِ مِنْ غَیْرِ مُفَارَقَتِہِ الْاِثْمَ الَّذِی ارْتَکَبَہُ بِصَوْمِ الْاَیَّامِ الَّتِی نُھِیَ عَنْ صِیَامِھَا ، وَلِھذَا قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ الدَّھْرَ ضُیِّقَ عَلَیْہِ جَھَنَّمُ ھٰکَذَا وَعَقَدَ عَلَیْہِ تِسْعِینَ ، یُرِیْدُ بِہِ ضُیِّقَ عَلَیْہِ جَھَنَّمْ بِصَوْمِہِ الْاَیَّامَ الَّتِی نُھِیَ عَنْ صِیَامِِھَا فِیْ دَھْرِہِ

مطرف بن عبداللہ اپنے والد کےحوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فر مان نقل کرتے ہیں: " جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ ) نفلی روزہ رکھے ا س نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان" جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔" اس سے مراد یہ ہے : جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس میں وہ دن بھی آ جائیں جس میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ جیسے ایام تشریق اور عیدین کے دن( روایت کے یہ الفاظ) اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی چھوڑا۔" اس سے مراد یہ ہے: اس نے نہ تو ہمیشہ روزہ رکھا کہ اس کو اس بات پر اجر دیا جائے کیونکہ وہ اس گناہ سے نہیں بچ سکا جس کا ارتکاب اس نے ممنوعہ دنوں میں روزہ رکھنے سے کیا ہے۔ اس لئے نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ " جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس پر جہنم اس طرح تنگ ہو جاتی ہے" نبی اکرم ﷺ نے نوے کا عدد بنا کر یہ بات بتائی۔ اس کے ذریعے آپ کی مرادیہ ہے: جہنم اس کےان دنوں میں روزہ رکھنے کی وجہ سے تنگ ہوتی ہے جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے"۔

أَبِيهِ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عُبَیْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A season of eternal fasting · Hadith 3583

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ · حديث 3584

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ یَسَارٍ ، عَنْ اَبِیْ تَمِیمَۃَ الْھُجَیْمِیِّ ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَامَ الدَّھْرَ ضُیِّقَتْ عَلَیْہِ جَھَنَّمُ ھٰکَذَا وَعَقَدَ تِسْعِینَ ، اَخْبَرَنَاہُ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ مَرَّۃً اُخْرٰی ، قَالَ : وَضَمَّ عَلٰی تِسْعِینَ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : الْقَصْدُ فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ صَوْمُ الدَّھْرِ الَّذِی فِیْہِ اَیَّامُ التَّشْرِیْقِ وَالْعِیْدَیْنِ ، وَاَوْقَعَ التَّغْلِیظَ عَلٰی مَنْ صَامَ الدَّھْرَ مِنْ اَجْلِ صَوْمِہِ الْاَیَّامَ الَّتِی نُھِیَ عَنْ صِیَامِھَا ، لَا اَنَّہٗ اِذَا صَامَ الدَّھْرَ وَقَوِیَ عَلَیْہِ مِنْ غَیْرِ الْاَیَّامِ الَّتِی نُھِیَ عَنْ صِیَامِھَا یُعَذَّبُ فِی الْقِیَامَۃِ ، وَاَبُوْ تَمِیْمَۃَ الْھُجَیْمِیُّ اسْمُہٗ : طَرِیفُ بْنُ مُجَالِدٍ بَصْرِیٌ مَاتَ سَنَۃَ خَمْسِ وَّتِسْعِینَ

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ نفلی روزہ) رکھے اس پر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا"۔ نبی اکرم ﷺ نے نو ے کا ہندسہ بنا کر یہ با ت بتائی۔ فضل نامی راوی نے دوسری مرتبہ یہ الفاظ نقل کئے" نبی اکرم ﷺ نے نوے پر مٹھی کو بند کر لیا"۔ ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں ہمیشہ روزہ رکھنے سے مراد یہ ہے: ایام تشریق اور عیدین کے دن بھی روزہ رکھ لیا جائے اور اس شخص کی شدید مذمت کی گئی ہے، جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اور ان دنوں میں بھی روزہ رکھ لیتا ہے جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے، جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے۔ اور وہ اس کی قوت بھی رکھتا ہے لیکن وہ ا ن میں روزہ نہیں رکھتا جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، تو اسے بھی قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔ ابو تمیمہ ہجیمی کا نام طریف بن مجاہد ہے یہ بصرہ کا رہنے والا ہے ۔ اس کا انتقال 95 ہجری میں ہوا۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← الضَّحَّاكِ بْنِ يَسَارٍ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A season of eternal fasting · Hadith 3584

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3585

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: حدثنا أبو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ فَقَالَ: كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، وَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: مَنْ صام اليوم الذي يشك فيه، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم (1) .

صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ کے پاس موجود تھے۔ ان کی خدمت میں بھجی ہوئی بکری لائی گئی۔ انہوں نے فرمایا: آگےآ جاو ، تو ایک صاحب پیچھے ہٹ گئے۔ انہوں نے بتایا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: جو شخص اس دن میں روزہ رکھے جس کے بارے میں یہ شک ہو ( کہ وہ رمضان کا دن ہے یا نہیں)، تو اس شخص نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔

«إِنِّي صَائِمٌ» ← كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، ← كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3585

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3586

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا تَقَدَّمُوا صِیَامَ شَھْرِ رَمَضَانَ بِصِیَامِ یَوْمٍ اَوْ یَوْمَیْنِ ، اِلَّا رَجُلٌ کَانَ یَصُوْمُ صِیَامًا فَلْیَصُمْہُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ایک دن یا دو دن روزے نہ رکھو ما سوائے اس شخص کے جو ( کسی اور معمول کے مطابق ) روزے رکھتا ہو، تو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3586

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3587

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہٗ اَوْلِرَجُلٍ : اَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ ھٰذَا الشَّھْرِ شَیْئًا ؟ ، قَالَ : لَا، قَالَ فَاِذَا اَفْطَرْتَ فَصُمْ یَوْمًا اَوْ یَوْمَیْنِ

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ان سے یا شاید کسی اور شخص سے فرمایا: کیا تم نے اس مہینے کے آخر میں سے کچھ روزے رکھے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم (کسی مہینے میں کوئی نفلی روزہ ) نہ رکھو، تو ایک یا دو دن روزہ رکھ لیا کرو۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفٍ ← ثَابِتٍ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3587

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3588

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قال له ولرجل: "أَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ شَيْئًا؟ " قَالَ: لَا، قال: "فإذا أفطرت فصم يومين" (1) . قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ ھٰذَا الشَّھْرِ لَفْظَۃُ اسْتِخْبَارٍ عَنْ فَعَلٍ مُرَادُھَا الِعْلامَ بِنَفِیِ جَوَازِ اسْتِعْمَالِ ذٰلِکَ الْفِعْلِ الْمُسْتَخْبَرِ عَنْہُ کَالْمُنْکِرِ عَلَیْہِ لَوْ فَعَلَہٗ وَھٰذَا کَقَوْلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَۃَ اَتَسْتُرِیْنَ الْجِدَارَ اَرَادَ بِہِ الاِنْکَارِ عَلَیْھَا بَلَفْظِ الاسْتِخْبَارِ وَاَمَرَہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَیْنِ مِنْ شَوَّالٍ اَرَادَ بِہٖ اَنَّھَا السِّرَارُ وَذٰلِکَ اَنَّ الشَّھْرَ اِذَا کَانَ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ یَسْتَتِرُ الْقَمَرُ یَوْمًا وَاحَدً وَاِذَا کَانَ الشَّھْرُ ثَلَاثِینَ یَسْتَتِرُ الْقَمَرُ یَوْمیْنِ وَالُوَقْتُ الَّذِی خَاطَبَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِھٰذَا الْخِطَابِ یُشْبِہُ اَنْ یَّکُوْنَ عَدَدُ شَعْبَانَ کَانَ ثَلَاثِینَ مِنْ اَجْلِہٖ اَمَرَ بِصَوْمِ یَوْمَیْنِ مِنْ شَوَّالِ

حضرت عمراں بن حصین رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ان سے یا کسی اور شخص سے یہ فرمایا: کیا تم نے شعبان کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم روزہ نہ رکھو، تو دو دن روزے رکھ لیا کرو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان کیا تم نے اس مہینے کے اختتامی دنوں کے روزے رکھیں ہیں۔ ا س میں لفظی طور پر کسی فعل کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: اس فعل پر عمل کرنے کے جائز ہونے کی نفی کی جائے جس کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے یعنی اگر کسی نے اس فعل کا ارتکاب کیا ہو تو اس کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ یہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کی طرح ہو گا جو آپ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا:" کیا تم دیوار کو رکاوٹ بنا رہی ہو" تو یہاں دریافت کرنے کے الفاظ کے ذریعے ان کا انکار کرنا مراد تھا۔اس طرح نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب کو شوال کے دو روزے رکھنے کا حکم دیا تو اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ تھی کہ یہ سرا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے : مہینہ جب 29 دن کا ہو تو چاند دو دن تک پوشیدہ رہتاہے۔ وہ وقت جس میں نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس موقع پر شعبا ن 30 دن کا ہو۔ اس وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے شوال کے دو دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3588

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3589

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ (1) بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، قَالَ: حدثنا یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَبِیبِ بْنِ نُدْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ،عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: اِذَا کَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ ، فَاَفْطِرُوا حَتّٰی یَجِیءَ رمَضَانُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب شعبان کا نصف ہو جائے، تو روزے رکھنا ترک کر د و، یہاں تک کہ رمضان آ جائے"۔

اِذَا کَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَاَفْطِرُوا حَتّٰی یَجِیءَ رمَضَانُ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْحَسَنُ بْنُ حَبِیبِ بْنِ نُدْبَۃَ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3589

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3590

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَتَدْنُوَنَّ، قُلْتُ: فَحَدِّثْنِي، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّھْرَ اسْتِقْبَالًا ، صُوْمُوا لِرُؤْیَتِہٖ ، وَاَفْطِرُو الِرُؤْیَتِہٖ ، فَاِنْ حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہٗ غَبَرَۃُ سَحَابٍ ، اَوْ قَتَرَۃٌ فَاَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلَاثِینَ

سماک بن حرب بیان کرتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں یہ شک تھا کہ کیا یہ رمضان کا دن ہے وہ اس دن کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: آگے آو ار کھانا کھاو میں نے کہا: میں نے، تو روزہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم ضرور آگے آگ گے۔ میں نے کہا: پھر آپ (اس بارے میں ) مجھے کوئی حدیث بیان کریں، تو انہوں نے بتایا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " (رمضان کے) مہینے سے پہلے اس کا استقبال نہ کرو (یعنی اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو) اس کو (یعنی پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کر و اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کرو اگر تمہارے درمیان اور اس (چاند) کے درمیان بادل کی رکاوٹ آ جائے، یا (چاند کو دیکھنے میں) دشواری ہو تو تم تیس کی تعداد کو پورا کر لو"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← والله لتدنون، قلت: ← ادن فكل. قلت: إني صائم، ← دخلت على عكرمة في اليوم الذي يشك فيه من رمضان وهو يأكل، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3590

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 981

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا , فَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْمَقَابِرِ، فَأَمَرَنَا فَجَلَسْنَا، ثُمَّ تَخَطَّى الْقُبُورَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَبْرٍ مِنْهَا فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَنَاجَاهُ طَوِيلًا، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاكِيًا، فَبَكَيْنَا لِبُكَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَالَ: مَا الَّذِي أَبْكَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَدْ أَبْكَيْتَنَا وَأَفْزَعْتَنَا؟ فَأَخَذَ بِيَدِ عُمَرَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «أَفْزَعَكُمْ بُكَائِي؟» قُلْنَا: نَعَمْ , فَقَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ الَّذِي رَأَيْتُمُونِي أُنَاجِي قَبْرُ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي الِاسْتِغْفَارَ لَهَا، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، فَنَزَلَ عَلَيَّ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة: 113] , فَأَخَذَنِي مَا يَأْخُذُ الْوَلَدُ لِلْوَالِدِ مِنَ الرِّقَةِ، فَذَلِكَ الَّذِي أَبْكَانِي، أَلَا وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُرَغِّبُ فِي الْآخِرَةِ» (1) . [5: 5]

حضرت عب داللہ بن مسعود ؓ باین کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ہم بھی آپ کے ساتھ آئے جب ہم قبرستان پہنچے، تو آپ نے ہمیں حکم دیا تو ہم لوگ بیٹھ گئے پھر نبی اکرم ﷺ قبروں کا پھلانگتے ہوئے ، ان میں سے ایک قبر پر تشریف لے گئے آپ اس کے پاس بیٹھ گئے اور آپ نے طویل مناجات کی۔ نبی اکرم واپس تشریف لائے تو آپ رورہے تھے۔۔ نبی اکرم ﷺ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے۔ نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئےحضرت عمر ؓ آپ کے سامنے تھے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ آپ نے ہمیں بھی رلا دیا ہے اور ہمیں گریہ و زاری کا شکار کر دیا ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر کا ہاتھ پکڑا اور ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : کیا تم لوگ میرے رونے کی وجہ سے گھبرا گئے ہو ، ہم نے عرض کی : جی ہاں۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ قبر جسے تم نے دیکھا ہے، میں وہاں مناجات کر رہا تھا وہ ( میری والدہ ) آمنہ بنت وہب کی قبر تھی میں نے اپنے پروردگار سے ان کی مغفرت کا سوال کیا ، تو مجھے اجازت نہیں دی مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ " نبی اور اہل ایمان کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے، کہ وہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کریں۔" تو مجھ پر وہی کیفیت طاری ہو گئی، جو کسی بچے کی اپنی ماں کے لئے رقت ہوتی ہے۔ اسی بات نے مجھے رلا دیا۔ خبردار! میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منو کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہیں اور آخرت کی طرف راغب کرتی ہیں ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، ← أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 981

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 982

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَمِّ، قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدْ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ» ، قَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟، قَالَ: فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ حَتَّى قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ» , فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ} [التوبة: 113] , وَأُنْزِلَتْ فِي أَبِي طَالِبٍ: {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ} (1) [القصص: 56] . [5: 5]

سعد بن مسیب اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں : جب جناب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا، تو نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اس وقت جناب ابو طالب کے پاس ابو جہل اور عبد اللہ بن ابو امیہ بھی موجود تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے چچا جان ! آپ " لا الہالا اللہ " پڑھ لیجئے اس کلمے کی وجہ سے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کی گواہی دوں گا ، ابو جہل اور عبداللہ بن ابو امیہ بولے: اے ابو طالب ! کای تم عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ رہے ہو؟ راوی باین کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ مسلسل ان کے سامنے یہی پیشکش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ جناب ابو طالب نے ان لوگوں کے ساتھ جو آخری بات کی تھی وہ یہ تھی۔ کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں ۔ انہوں نے " لا الہ الا اللہ " پڑھنے سے انکار کر دیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: " میں آپ کے لئے تب تک دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک مجھے منع نہیں کر دیا جاتا۔" تو یہ آیت نازل ہوئی: " نبی اور اہل ایمان کے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے ، وہ مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کریںاگرچہ وہ ان کے قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہوں اس کے بعد کہ لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہو چکی ہو کہ وہ جہنمی ہیں ۔" (راوی بیان کرتے ہیں) یہ آیت جناب ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ " بے شک تم اسے ہدایت نہیں دیتے ، جسے تم پسند کرتے ہو، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے، اسے ہدایت دیتا ہے۔ وہ ہدایت پانے والوں کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔"

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ← أَبِي: إِنْ ← أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْكَ الْمَقَالَةَ حَتَّى ← مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ ← أَبُو جَهْلٍ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← لَمَّا حَضَرَ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 982

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 983

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَمَا إِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنَّهُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، ثُمَّ رُزِقَا وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ» (1) . [1: 2]

حضرت عبداللہ بن عباس ب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے، تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہئے۔ " اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے، ( میں یہ عمل کرنے لگا ہوں ) اے اللہ! تو شیطان کو ہم سے دور رکھنا اور شیطان کو اس چیز سے بھی دور رکھنا جو تو ہمیں رزق ( یعنی اولاد عطا کرے گا) " نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ) پھر اگر انہیں اولاد عطا کر دی جائے تو شیطان اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 983

chevron_left Previous
1…789…625
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr